اے قائد ھم شرمندہ ھیں

December 25، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

محمد علی جناح جنھیں ھم قائد اعظم کہتے ھیں پاکستانی سب رہنماؤں کے رہنما ۔ ھمارے قائد جنھوں نے ھمیں ایک آزاد ملک کا تحفہ دیا ۔ بدلے میں ھم نے ھر نوٹ پہ ان کی تصویر لگا دی مگر رشوت لیتے یا دیتے ھوئے کبھی شرمندہ نہیں ھوتے غبن کرتے ھوئے ملکی دولت کو لوٹتے ھوئے نوٹوں پہ کبھی ان کی تصویر پہ نظر نہیں جاتی ۔ ان کی پارٹی مسلم لیگ کے ٹکڑے کر دیے اپنی سیاست چمکانے کے لیے بیان ان کے اصولوں اور نظریوں کے خلاف دیتے ھیں مگر دیوار پر ان کی تصویر لگا کر رکھتے ھیں جیسے ان کے اصولوں کے پاسبان صرف ھم ھیں
پچھلے سال سے اور نئ حکومت کے بعد قائداعظم کی تصویر کے ساتھ بے نظیر کی تصویر نے جگہ لے لی اور اب بے نظیر کی برسی پہ دس روپے کا سکہ بنایا جا رھا ھے مگر ملک میں کہیں پر نہ قائد اعظم کی سیاست نظر آرھی ھے نہ بے نظیر کی
قائداعظم کی سالگرہ پہ ان کی تقریریں ان کے اقوال دہرائے جانے چاھیے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ھورھا
اے قائد ھم شرمندہ ھیں ھم پاکستان کو وہ پاکستان نہیں بنا سکے جس کا خواب سب نے دیکھا تھا جس کے لیے سب نے قربانیاں دیں تھیں ۔ ھم اپنے مقصد کو بھول گئے اپنے اندھیرے دور کرنے کے بجائے ھر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگنے لگے آج ھماری پہچان ھماری خوداری کہاں کھو گئی ۔ اتنے سال میں ھم ایک قائد پیدا نہ کر سکے اپنے قائد کے رہنما اصولوں کی حفاظت نہ کر سکے اے قائد ھم شرمندہ ھیں

Share This Post

4 آراء»

قرض دار اور خواجہ سرا

December 24، 2009 کو sadiasaher نے idhar udhar se کے تحت شائع کيا.

خواجہ سرا اور قرض دار ابھی ایک خبر پڑھی جس میں چیف جسٹس نے خیال ظاہر کیا ھے قرضے وصول کرنے کے خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کی جائیں

زرا تصور کریں خواجہ سرا ھنستے گاتے تالیاں بجاتے قرضہ وصول کرنے جا رھے ھیں بہت سے وزیروں کو تو پہچاننا مشکل ھو جائے گا وزیر کون سا ھے اور خواجہ سرا کون سا

میرے خیال میں تو یہ ایک اچھا فیصلہ ھے انڈیا میں بھی قرضہ داروں سے نمٹنے کے لیے خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کی گئ تھیں عام فیملی والوں کو دھمکیاں کی جاتی ھیں جان سے مارنے کبھی بچوں کو اٹھوانے کی ایسے لوگوں کے لیے ایسے لوگ ھی ٹھیک ھیں خواجہ سراؤں کو بھی گلی گلی ناچنے کے بجائے کوئ روزگار مل جائے گا آپ کا کیا خیال ھے


Share This Post

9 آراء»

چھ سالہ بچے کی معلم کے ھاتھوں موت

December 18، 2009 کو sadiasaher نے مذہب اور ھم کے تحت شائع کيا.

ابھی ٹی وی پہ خبر دیکھی ایک چھ سالہ بچے کو معلم نے تشدد کر کے مار دیا اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنا سبق یاد نہین کیا تھا کیا یہ اتنا بڑا قصور ھے جس کی سزا میں ایک چھوٹے سے بچے کے ڈنڈے گھونسے لاتیں مار مار کر جان سے ھی مار دیا جائے

بچے کے ایک ساتھی سے کہا گھر والوں سے کہے کہ بچے کو خون کی الٹی آئی تھی جس کی وجہ سے اس کی موت ھو گئ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ھو چکے ھیں کئ بار قرآن کی تعلیم دینے والے مولوی حضرات کے بارے میں پتا چلا وہ بچوں سے زیادتی کرتے رھے ھیں بہت کم واقعات میڈیا کے سامنے آتے ھیں جو واقعات سامنے آتے ھیں انھیں بھی نظر انداز کر دیا جاتا ھے

کیا یہ واقعات اس قابل ھیں کہ انھیں نظر انداز کر دیا جائے ؟؟؟

کیا کسی غریب بچے کی جان کی کوئ حیثیت نہیں ؟؟؟

کسی معلم کی قابلیت چیک کرنے کا کیا معیار ھے اگر کسی مولوی یا کسی ملا کے بارے میں کچھ کہا جاتا ھے تو بہت سے حضرات لٹھ لے کر کھڑے ھو جاتے ھیں ان کا فرمانا ھے یہ مولوی نہ ھوتے تو کون پیدائش کے بعد کان میں آذان دیتا کون قرآن کی تعلیم دیتا کون مسجدوں میں اذان دیتا کون مرنے کے بعد جنازہ پڑھاتا پھر بھی لوگ ان کی عزت نہیں کرتے

کیا کوئ بھی قرآن پڑھانا شروع کر دے اس کو چیک کرنا ضروری نہیں اکثر ایسے لوگوں کی بہت تعظیم کی جاتی ھے اگر ان کے بارے میں کوئ بات سنیں بھی تو کہا جاتا ھے وہ تو قرآن پڑھاتے ھیں نیک انسان ھیں

کیا سب پہ آنکھیں بند کر کے اعتبار کرنا چاھیے جب کوئ ایسا واقعہ ھوتا ھے وقتی شور اٹھتا ھے مگر کیا کچھ بھی نہیں جاتا اس خبر پہ بھی ایک دن تبصرہ کیا جائے گا ٹی وی والے  چند بار دیکھائینگے پھر نئ خبروں میں یہ خبر بھی گم ھو جائے گی

معذرت میں ھرمولوی یا ھر داڑھی والے کو قابل ِ احترام نہیں سمجھتی اسلام دل میں ھوتا ھے داڑھی میں نہیں

Share This Post

6 آراء»

وہ زخم آج بھی رستا ھے

December 16، 2009 کو sadiasaher نے بیتی باتیں کے تحت شائع کيا.

آخری وقت تک دادی جان کے لبوں پہ ایک ھی بات تھی میرا بشیر آئے گا تایا بشیر فوج میں تھے مشرقی پاکستان میں تعینات تھے 1971 کے بعد ان کا کچھ پتا نہیں چلا وہ کہاں ھیں ان کی فیملی تھی بیٹی اور بیٹا تھا کسی نے کہا وہ جنگ میں شہید ھو گئے تھے

مشرقی پاکستان بہت سے لوگوں کو مارا گیا زندہ جلایا گیا وہ اور ان کی فیلمی زندہ تھی یا نہیں مگر دادی جان نے انھیں مرنے نہیں دیا کوئ دن ایسا نہیں ھوتا تھا جب ان کا زکر نہیں ھوتا تھا مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ھوا کہ مین ان سے نہیں ملی تھی ان کے بچوں کو میں نے نہیں دیکھا تھا ایسے لگتا تھا جیسے میرا بچپن ان کے ساتھ کھیلتے ھوئے گزرا ھو رات کو جب دادی جان کے پاس سوتی تھی تو تایا بشیر کی باتیں شروع ھوجاتیں وہ بچپن میں کیسے تھے ان کو بچے کیا کرتے تھے جب وہ گئے تھے اب کے بیٹے کو بولنا بھی نہین آتا تھا دادای جان حساب لگاتیں وہ اب کتنے بڑے ھو گئے ھوں گے کون سی کلاس میں پڑھ رھے ھونگے دادی جان نے جو خاکہ بنایا تھا بچپن میں میں‌ سڑک پہ چلتے ھوئے ان لوگوں کو کھوجا کرتی تھی

ایک بار گھر بیچنے کی بات ھوئ تو دادی جان نے یہ کہہ کہ انکار کر دیا تایا بشیر کو اس گھر کا پتا ھے انھوں نے اپنے بچوں کو اسی گھر کا پتا دیا ھو گا وہ واپس آئیں گے تو کیا کریں گے دادی جان کی آس کبھی ٹوٹی نہیں تایا جان نے جاتے ھوئے کہاں تھا اماں میں جلد ھی بچوں کے لے کر آؤں گا اور دادی جان مرتے دم تک انتظار کرتی رھیں

ان کی وفات کے بعد میں پتا چلا تایا بشیر میرے سگے تایا نہیں تھے وہ دادی جان کی مرحومہ بہن کے بیٹے تھے جنھیں مرتے وقت دادی جان کی گود میں دیا تھا اور وعدہ لیا تھا وہ انھیں اپنے بچوں کی طرح پیار کریں گی انھوں نے ااپنا وعدہ نبھایا اپنے بچوں سے بڑھ کر نہ صرف خود پیار کیا بلکہ وہ پیار اپنے آنے والی نسل میں بھی منتقل کیا

میرا سارا بچپن ان کے ساتھ گزرا دادای جان کی آنکھوں سے ھم نے انھیں شرارتیں کرتے جوان ھوتےدیکھا دادای جان کے ساتھ ھم نے بھی ان کا انتظار کیا – کسی اپنے سے بچھڑنے کا دکھ کیا ھوتا ھے وہ میں جانتی ھوں دادای جان کو میں نے گھولتے دیکھا ھے جب پاکستان سے لاپتہ افراد کے بارے میں پڑھتی ھوں تو ان کے خاندان کی حالات کا دلی کیفیت کا اندازہ لگا سکتی ھوں انسان آس کے دئیے کو بجھنے نہیں دیا یادوں کے چراغ جلائے رکھتا ھے مگر ان چراغوں کے ساتھ خود بھی جلتا ھے کچھ زخم کبھی نہیں بھرتے ان زخموں سے خون ھمیشہ رستا رھتا ھے

Share This Post

6 آراء»

ایک دل کو چھونے والا خوبصورت گیت

December 15، 2009 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.

YouTube Preview Image Share This Post

9 آراء»

آخر کب تک —–

December 14، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

پیپلز پارٹی کے کسی بھی ممبر سے پوچھا جائے حالات کب سدھریں گے مسائل کب حل ھوں گے مسائل بڑھتے جا رھے ھیں تو ان کا جواب ھوتا ھے یہ مسائل ھمارے پیدا کردہ نہیں ھیں یہ ھمیں وراثت میں ملے ھیں پیچھلی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ھے

اگر سب کچھ پیچھلی حکومت کا کیا دھرا ھے تو موجودہ حکومت پیچھلے دو سال سے کیا کر رھی ھے ان کی پالیسیوں کو کوئ نتیجہ سامنے کیوں نہیں آرھا پیچھلی حکومت کی پالیسیاں چینج کیوں نہیں ھورھیں آخر کب تک موجودہ حکومت پیچھلی حکومت پہ سارا الزام دے کر اپنا آپ بچاتی رھے گی

Share This Post

6 آراء»

کیا یہ میرا خواب تھا ؟؟

December 11، 2009 کو sadiasaher نے کالم کے تحت شائع کيا.

آج ایک نئ زرعی یونیورسٹی کا افتتاح کرنے وزیرِ اعظم تشریف لا رھے تھے سب کے چہرے خوشی سے دمک رھے تھے وزیرِاعظم سادہ شلوار قمیض زیبِ تن کیا ھوا تھا کسی نے ان سے پوچھا پہلے وزیرِاعظم زیادہ ترتھری سوٹ پہنتے تھے تو انھوں نے مسکرا کر کہا شلوار قمیض پاکستان کا قومی لباس ھے اور مجھے اس لباس سے اچھا کوئ لباس نہیں لگتا مجھے اپنے پاکستانی ھونے پہ فخر ھے چھ مہینوں میں یہ چوتھی زرعی یونیورسٹی تھی جس کا افتتاح ھورھا تھا زریرِاعظم فرما رھے تھے پاکستان ایک زرعی ملک ھے یہ بات ھمارے لیے قابل ِ شرم ھے کہ ایک زرعی ملک کے رھنے والوں کو دو وقت کا کھانا نہیں مل رھا یہ ٹھیک ھے اب حالات پہلے جیسے خراب نہیں ابھی زراعت کے میدان میں ھمیں بہت تحقیق کی ضرورت ھے یہ بہت ھی خوش آئند بات ھے غیر ممالک میں بہت سے پاکستان جو اس میدان میں کام کر سکتے ھیں وہ ملک واپس آئے اور ملک کی خدمت کر رھے ھیں

کھانے میں صرف دو کھانے اور سادہ پانی تھا ایک اخباری رپورٹر نے کہا ھم سمجھے تھے وزیرِاعظم کے ساتھ کھانا بہت پر تکلف ھوگا تو انھوں نے مسکراتے ھوئے کہا قومی خزانہ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دیتا وہ بہت کم بات کر رھے تھے زیادہ لوگوں کو سن رھے تھے ان کی رائے جاننا چاہ رھے تھے وہ اپنی چھوٹی سی کار میں آئے تھے

یہ انقلاب اس وقت آیا جب ملک میں ذخیرہ اندوزی رشوت بے ایمانی قومی خزانے کی لوٹ مار دھشت گردی بڑھ گئ تھی تو عدالت نے انقلابی فیصلے کیے ملکی خزانے کو لوٹنے والوں ذخیرہ اندوزوں کی سخت سزائیں دیں جب ایک روٹی چوری کرنے والے کو سزا ھو سکتی ھے تو بجلی چوری کرنے والوں کو کیسے معاف کیا جا سکتا ھے چوری چاھے کسی چیز کی بھی ھو چوری ھوتی ھے ملک کے بہت سے نامی گرامی لوگوں کو عمر قید اور قید با مشقت کی سزائیں ھوئیں قومی خزانی لوٹنے والوں کے ھاتھ کاٹے گئے غلط پالیسی بنانے والوں سابق حکمرانوں اور ذخیرہ اندوزوں اور رشوت لینے والوں کو سرِ عام کوڑے مارے گئے اس کے بعد کوئ بھی عام آدمی غلط کام کرنے سے پہلے سوچنے لگا اگر اتنے بڑے لوگوں کو سزا ھو سکتی ھے تو ھمیں کون معاف کرے گا صدر صاحب نے فارم ھاؤس کلچر ختم کیا تمام زمینیں غریب کسانوں میں تقسیم کی آٹھویں تک تعلیم لازمی قرار دی اس کے بعد جتنے بھی ذھین طالب علم ھیں اس کی تعلیم کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی سارے ملک میں ایک تعلیمی نظام لازمی قرار دیا ایک وزیر ھو یا ایک غریب مزدور کا بیٹا اسے ترقی کے ایک سے مواقع ملنے چاھیے – چھوٹی صنعتوں کو فروغ کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے غریب مزدوروں اور کاریگروں کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا محنت کش کسی بھی ملک کے لیے ریڈھ کی ھڈی کی حیثیت رکھتے ھیں

چند سالوں میں ملک کے حالات تیزی سے بدلے تھے میں نے اپنے کمرے سے شاہ رخ اور بریڈ پٹ کی تصویریں اتار کر اپنے وزیرِ اعظم اور صدر کی تصاویر لگا دیں ھمارے اصل ھیرو تو یہی ھیں ایک دم میری آنکھ کھولی ٹی وی خبر آرھی تھی پشارو میں دھماکہ درجنوں زِخمی اور بہت سے لوگ مارے گئے نیچے بریکینگ نیوز چل رھی تھیں ٹرین پٹری سے اتر گئ – ایک خاندان کے پانچ لوگوں نے حالات سے تنگ آکر خود کشی کر لی ڈاکٹروں کی لاپرواھی سے تین سال کی بچی اپنی زندگی سے ھاتھ دھو بیٹھی میں نے جلدی سے آنکھیں بند کر لیں کیا یہ خواب ھے یا حقیقت — اگر حقیقت ھے تو بہت خوفناک حقیقت ھے —- کیا وہ میرا خواب تھا ؟ کیا وہ ھمیشہ خواب رھے گا — کیا وہ کبھی حقیقت بن سکے گا ؟؟ یہ میرا ھی نہیں سولہ کروڑ عوام کا سوال ھے

Share This Post

4 آراء»

یہ ملک کس کا ھے ؟؟؟؟

December 9، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

کل ایک خبر پڑھی جو چھوٹی سی تھی مگر اس کے پڑھنے کے بعد بہت سے سوالات میرے ذہن میں اٹھنے لگے لاھور میں پولیس نے ایک کار کو روکا تلاشی کے لی کہا مگر انھوں نے شیشے نیچے نہیں کیے اس میں چار غیر ملکی سوار تھے پولیس والوں کی کسی بات کا ان پہ کوئ اثر نہیں ھوا نا انھوں نے ان کی کوئ بات مانی اس طرح کا واقعہ پہلے اسلام آباد میں بھی پیش آیا تھا وہ بھی امریکن سفارتکار تھے

میں سوچ رھی تھی یہ ملک کس کا ھے ؟؟

اس ملک میں کس کا قانون چلتا ھے ؟؟

ھماری پولیس کی کیا حیثیت ھے ؟؟

ھمارے قانون کی کیا حیثیت ھے ؟؟

اگر امریکہ میں کوئ ایسے کرتا تو اس کا کیا حال ھوتا ؟؟

ھم اتنے بے بس کیوں ھیں ؟؟؟

ھم اور کتنا جھکے گے اگر اب مذید جھکے تو ھم ٹوٹ جائیں گے ملکی حالات جیسےھیں کوئ بھی مشکوک انسان ھو کسی بھی طرح کی گاڑی میں ھو اس کی تلاشی لازمی ھے چاھے وہ کوئ وزیر ھو یا کسی بھی ملک کا سفارتکار


Share This Post

10 آراء»

میرا آئیڈیل ——- زرداری

December 7، 2009 کو sadiasaher نے طنزومزاح کے تحت شائع کيا.

بے نظیر زندہ تھی تو بس وہی دکھتی تھیں ان کے پیچھے ھاتھ باندھے کھڑے زرداری پہ کبھی نظر ھی نہیں پڑی تھی بے نظیر کی زندگی میں میں انھیں مسٹر بے نظیر کہا کرتی تھی بے نظیر کی وفات کے بعد انھوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ بلند کیا اور سیاست میں ایسا قدم رکھا کہ ساری قوم کو کھپا دیا

پہلی بار مجھے جس بات نے ان کی طرف متوجہ کیا وہ وعدے حدیث نہیں ھوتے کا بیان تھا میں سوچا واؤ پکا ایمان والا مسلمان ھے صحیح بات ھے حدیث حدیث ھے اب زرداری کوئ کافر تو نہیں جو ایک عام بات کو حدیث کا درجہ دے دے

پھر نواز شریف کی بانھوں میں بانھیں ڈالے گانے گاتے ھوئے ایک ایک قدم آگے بڑھے جیسے شطرنج کا کھلاڑی اپنی چال چلتا ھے ایک ایک کر کے پرانے پیپلز پارٹی کے ممبرز کو ھٹاتے ھوئے خود کو ھر مقدمے سے بری کرتے ھوئے صدر کی کرسی پہ بیٹھے ان کے ساتھ ھی ملکی معیشت بھی بیٹھ گئ

خیر ان سب باتوں سے اندازہ ھوا وہ ایک زبردست سیاست دان ھیں بے نظیر کی قد آور شخصیت کے پیچھے ان کی شخصیت چھپی ھوئ تھی وہ اب کھل کر سامنے آرھی ھے ان کے بہت سے دشمن ھیں مگر وہ خاموشی اپنی چال چلتے ھیں اور اپنے قصرِ صدرات میں رھتے ھیں کسی سے کچھ نہیں کہتے جب ملک میں کوئ مشکل ھوتی ھے تو غیر ملکی دوروں پہ چلے جاتے ھیں یہ بہت ھی اچھی عادت ھے میں بھی ایسے کرتی ھوں جب کہیں کوئ لڑائ ھونے لگتی ھے چھپکے سے وہاں سے کھسک جاتی ھوں

اب جو جلتے ھوئے ملک پہ انھوں نے اجرک پھینکی ھے وہ قابل ِ تعریف عمل ھے زرداری میرے آئیڈیل ھیں دل کرتا ھے ان کا پتلا بنا کر اپنے گھر کے لان میں لگوا دوں اور دن رات دیکھا کروں

Share This Post

10 آراء»

کالمی لوٹے

December 3، 2009 کو sadiasaher نے سیاست، کالم کے تحت شائع کيا.

میرے جیسے کتنے لوگ ھوں گے جو پاکستان سے دور ھیں ملکی حالات جاننے کے لیے صبح صبح مختلف اخبارات کے کالم کا مطالعہ کرتے ھیں میری طرح وہ بھی سمجھتے ھیں کالم نگار جو بھی کہہ رھا ھے سچ کہہ رھا ھے اس کی ھر بات پہ یقین کر لیتے ھیں جس سیاست دان کے بارے میں لکھا جاتا ھے وہ ایمان دار ھے لوگ اسے ایسا ھی سمجھنے لگتے ھیں

کچھ کالم نگار سیاستدانوں کے خاموش سفیر ھوتے ھیں سیاستدانوں کی سیاست کا دارومدار کالمی لوٹوں کے کالم پر ھوتا ھے پہلے میں سمجھتی تھی صرف سیاست میں ھی لوٹے ھوتے ھیں مگر جب سے اخبارات کا مطالعہ شروع کیا مختلف کالم نگاروں کو بغور پڑھنا شروع کیا تو احساس ھوا ادب کی دنیا میں بھی لوٹے وافر مقدار میں پائے جاتے ھیں لوٹے چند ایک ھیں جو وقت بدلنے پہ اپنا سیاسی لیڈر بدل لیتے ھیں

میں اکثر سوچتی تھی یہ سیاسی لوٹے اتنا عرصہ سیاست میں کیسے ٹکے رہ سکتے ھیں اس کی ایک ھی وجہ ھے سیاسی لوٹوں کا سیاست کا سفر کالمی لوٹوں کی بدولت چلتا ھے جن کی بنا پر کالمی لوٹوں کو نوازا جاتا ھے جو وہ کہتے ھیں سچ کہتے ھیں اور ڈنکے کی چوٹ پہ کہتے ھیں وہ اور بات ھے وقت کے ساتھ ان کا سچ بدل جاتا ھے اور سچ بولنے کی قیمت بھی

ایک کالم نگار شروع میں مشروف کو ایک مسیحا کہتے تھے جنھو ں نے اتنے مشکل وقت میں ملک کو سہارا دیا پاکستان کو مشکل وقت سے نکالا اپنی جان کی پرواہ کیے بنا اس وقت پاکستان کو ایسے ھی کسی بہادر سیاسی لیڈر کی ضرورت تھی پھر وقت نے کروٹ لی بے نظیر کی واپسی ھوئ تو ان کا کالم آیا پاکستان کی تقدیر بے نظیر — بے نظیر کے بعد وہ نواز شریف اور زرداری کے گن گانے لگے کیونکہ انھیں نہیں پتا تھا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا –

زرداری کے صدر بننے کے بعد انھوں نے دعویٰ کیا نھیں پہلے ھی احساس تھا زرداری ایک بہترین لیڈر ھیں بہترین سیاست دان ھیں انھوں نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا جب پاکستان کے وجود کو خطرہ تھا اگر زرداری یہ نعرہ نہیں لگتےتو پتا نہیں پاکستان کا کیا حال ھوتا پاکستان کے صدر بننے کا حق دار ان سے بڑھ کر کوئ نہیں ھو سکتا انھیں پاکستان کے حالات بدلتے ھوئے نظر آنے لگے جو ایک آمر کے دورِ حکومت میں نا گفتہ بہ ھو چکے تھے

پھر مشرف کے احتساب کا نعرہ بلند ھوا تو ان کے کالم اِحتساب پہ تھے احتساب بہت ضروری ھے ایک ایسے شخص کا جس نے ملک کی بیٹی کو دشمنوں کے حوالے کیا معصوم فرشتوں جیسی بچیوں کا جلا دیا ایک سفاک انسان کو ایسی سزا ملنی چاھیے تو آنے والوں کے لیے عبرت ھو

کل ان کا ایک کالم پڑھا نواز شریف کی خاموشی میں انھیں ایک بہت ھی زہین انسان چھپا ھوا نظر آرھا ھے بصیرت سے بھرپور جس نے اتنے سالوں میں بہت کچھ سیکھا ھے

یہ دنیا کے لوگ کتنے رنگ بدلتے ھیں سامنے کی تصویر بدلتے ھی ان کی سوچ بدل جاتی ھے پاکستان میں لوگوں کے ایمان ھی نہیں قلم بھی بک جاتے ھیں  اب کس پہ یقین کریں کس پہ نہ کریں


Share This Post

16 آراء»

کون ایسے بول سکتا ھے ؟؟

December 2، 2009 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.

YouTube Preview Image Share This Post

7 آراء»

میری طرف سے سب کو عید مبارک

November 27، 2009 کو sadiasaher نے Uncategorized کے تحت شائع کيا.

YouTube Preview Image

عید مبارک سب کو

Share This Post

5 آراء»

دولت مند ۔۔ حکمران ۔۔۔۔۔۔ اور توکل اللہ

November 25، 2009 کو sadiasaher نے idhar udhar se کے تحت شائع کيا.

جس امیر کبیر انسان کو دیکھو وہ دولت اکٹھا کرنے مین مصروف ھے دو سے چار کیسے اور چار سے سولہ کیسے کرنے ھیں دولت کے انبار لگا رھے ھیں کچھ لوگوں کے پاس اتنی دولت ھے جس کا انھیں خود بھی علم نہیں کس کس بنک میں کتنے اکاؤنٹ ھیں کس اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ھیں اپنے نام پہ جائداد ھے اپنے ھر بچے کے نام پہ اتنی دولت کس لیے اکٹھی کر رھے ھیں اپنی آنے والی نسل کے لیے ؟؟؟

ان کا کیا خیال ھے ان کی آنی والی نسل جسمانی طور پہ معذور ھوگی ؟

کیا ذہنی طور پہ ایب نارمل ھوگی ؟؟؟

کیا ان کے پاس خود کوئ ھنر نہیں ھوگا ؟؟

اللہ انھیں کسی صلاحیت سے نہیں نوازے گا ؟؟

وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے دولت تو چھوڑ کر جانا چاھتے ھیں مگر شرافت نیک نامی ان کی خاندانی پہچان نہیں چھوڑنا چاھتے ایسی نسل چھوڑنا چاھتے ھیں جو ان کی دولت پہ عیاشی کرے اس کے لیے وہ ھر ناجائز کام کرتے ھیں کاش وہ ایسے کام کریں کہ ان کی آنے والی نسلیں ان کے کاموں پہ فخر کریں صرف دولت اکٹھا کرنے اور دو سے چار کرنے پہ اپنی زندگی نہ گزاریں بلکہ انسانیت کے لیے کچھ کریں مگر پاکستان میں شاید ھی کوئ دولت مند ھوگا جو ایسا سوچتا ھوگا اللہ کو بھول کر صبر اور قناعت کو بھول کر اللہ پہ توکل کو چھوڑ کر خود کو خدا سمجھتے ھیں اپنی آنے والی نسلوں خود کچھ کرنا چاھتے ھیں مگر کیا دولت ھی سب کچھ ھوتی ھے ؟؟؟؟

Share This Post

10 آراء»

ایک بار بلاگرز کو بھی آزمانا چاھیے

November 23، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

باسٹھ سال ھو گئے پاکستان کو بنے ھوئے

اتنے عرصے میں قوم نے جمہوریت کو آزمایا

جاگیر داروں آزمایا

صعنتکاروں کو بھی موقعہ دیا

وڈیرے بھی آئے

مارشل لاء بھی — آمریت کو بھی دیکھ لیا

یہ سب لوگ پڑھے لکھے اتنے تھے کہ بی اے کی ڈگری ان کو جعلی لینی پڑی

ویسے ھر کسی کو آزما چکے ھیں

ھمارے پاس قیادت کا بحران ھے

لوگ چاھتے ھیں نئے چہرے سامنے آئیں

نئ سوچ کی پاکستان کو ضرورت ھے

مگر یہ نئے لوگ آئینگے کہاں سے

بلاگ پہ کچھ لوگوں نے کہا تھا وہ صدر بننا چاھتے ھیں اگر انھیں موقعہ دیا جائے تو وہ بہت کچھ کر سکتے ھیں جب سب کو کو آزما لیا تو ایک بار بلاگرز کو بھی ازمانے لینے میں کیا ھرج ھے

بلاگرز محب الوطن ھیں

پرسکون ممالک میں بیٹھ کر بھی پاکستان کے لیے پریشان رھتے ھیںاپنا خون جلاتے ھیں

دو چار جماعتیں پاس بھی ھیں

خاندانی حریص بھی نہیں ھیں

لوٹے بھی نہیں ھیں

تھالی کے بینگن بھی نہیں

عام لوگ ھیں عام لوگوں کے مسائل سمجھتے ھیں

پہلے کئ بار آزمائے ھوئے کو کتنی بارآزمائیں گے ؟؟

کیا خیال ھے بلاگرز کو بھی ایک موقعہ ملنا چاھیے ؟؟

Share This Post

31 آراء»

زندگی کا سفر ———-

November 21، 2009 کو sadiasaher نے میری ڈائری کے تحت شائع کيا.

زندگی کا سفر بھی کیسا ھے انسان سفر کا آغاز کرتا ھے ڈوبتا ھے سمبھلتا ھے کئ طوفانوں کا سامنا کرتا ھے کبھی ھمت ھار دیتا ھے کبھی نئے حوصلے سے سفر کو آگے بڑھاتا ھے کبھی تھک کر رک جاتا ھے کبھی تیز چلنے لگتا ھے کبھی سفر بہت خوشگوار ھوتا ھے کبھی کالے بادل ساتھ ساتھ رھتے ھیں زندگی کی ناؤ ڈوبتی ھوئ نظر آتی ھے پھر دور سے ساحل نظر آتا ھے تو انسان خوش ھو جاتا ھے منزل سامنے آگئ جب ساحل پہ پہنچتا ھے تو سامنے موت کھڑی ھوتی ھے پتا چلتا ھے زندگی کی منزل موت ھے

انسان زندگی میں تیز تیز بھاگتا گے صرف ایک موت کو پانے کے لیے ۔

اسے یہ احساس ہی نہیں ھوتا وہ ھر لمحہ موت سے قریب ھو رھا ھے

ھر گزرنے والا دن ھمیں زندگی سے دور اور موت سے قریب کر رھا ھے

وہ زندگی کے لیے آسائیشیں اکھٹا کرنے میں مصروف رھتا ھے

زندہ ھوتا ھے مگر زندگی کو نہیں جیتا

وہ نہیں بھاگ رھا ھوتا زندگی بھاگ رھی ھوتی ھے

وہ زندگی نہیں گزارتا زندگی اسے گزار رھی ھوتی ھے

بے جان چیزوں کی چاھت میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو نظر انداز کرتا ھے

مگر وہ بے جان چیزیں نا اس کے ساتھ جاتی ھیں

نا مرنے کے بعد اسے یاد رکھتی ھیں

ھمارے لفظ باقی رہ جاتے ھیں

وہ محبتیں جو ھم نے کسی کو دی ھوتی ھیں

میری ڈائری 2009-11-20

Share This Post

6 آراء»

ایک سوال— اگر افغانستان امریکہ کا ھمسائیہ ملک ھوتا تو

November 20، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

ابھی ایک بات سوچ رھی تھی اگر افغانستان امریکہ کا ھمسائیہ ملک ھوتا تو

کیا گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ افغانستان پہ ایسے حملہ کرتا ؟؟

کیا وہ اتنی جلدی اپنی سرحد پہ خود آگ لگاتا ؟؟

جو آج پاکستان پہ خود کش حملے ھو رھے ھیں کیا پھر ھوتے ؟؟

کیا پاکستان میں ایسی آگ تب بھی لگی ھونی تھی ؟

یہ جنگ آج امریکہ سے زیادہ ھماری بنی ھوئ ھے تب یہ کس کی جنگ ھونی تھی ؟؟

دھشت گردی کے ِخلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ھو رھا ھے گیارہ ستمبر کے واقعہ میں ساڑھے تین ھزار امریکن مارے گئے آج تک کتنے پاکستانی مارے گئے ھیں اس کا حساب کس کے پاس ھے

Share This Post

10 آراء»

کیا ھر شوہر مجازی خدا کہلانے کا حقدار ھوتا ھے ؟؟؟

November 16، 2009 کو sadiasaher نے idhar udhar se کے تحت شائع کيا.

ٹی وی پہ ایک ڈرامہ آرھا تھا جس میں غلطی عورت کی نہیں ھوتی اسے پھر بھی جھکنے پہ مجبور کیا جاتا ھے اس لیے کے مرد مرد ھے وہ مجازی خدا ھے

میں سوچ رھی تھی خدا کیا ھوتا ھے

وہ کون سے خوبیاں ھیں جن کی وجہ سے ایک مرد کو مجازی خدا کہا گیا

ایک ایسا مرد جو عورت کو جھکانا چاھتا اس کی ذات کی نفی کرتا ھے اس کی خواھشات کو نظر انداز کرتا ھے ایک کمتر چیز سمجھتا ھے خود کو اس سے بہت اعلیٰ اور ارفع سمجھتا ھے کیا ھر شوہر مجازی خدا کہلانے کے لائق ھوتا ھے ؟؟

خدا رحمان رحیم معاف کرنے والا درگزر کرنے والا ھر حال میں نوازنے والا خدا جس کی خوبیاں بیان کرنے لگو تو دن سے رات ھو جائے کیا ایک انسان میَں اتنی خوبیاں ھو سکتی ھیں ؟؟

کہا جاتا ھے اگر اللہ کے بعد کسی کو سجدے کا کرنے کا حکم ھوتا تو شوہر کو جائز تھا مگر کیا ھر شوہر کو ؟؟

ایک عورت جو محنت مزدوری کرتی ھے اور شوھر اس کی محنت سے کمائ ھوئ رقم جوئے میں ھار دیتا ھے یا نشے میں اڑا دیتا ھے ایک مرد جو بات بات پہ ھاتھ اٹھاتا ھے گالی گلوچ کرتا ھے کیا وہ مرد مجازی خدا کہلانے کا لائق ھے ؟؟

خدا بننا نا ممکن ھے انسان فرشتہ بھی نہیں بن سکتا وہ انسان ھی بن جائے تو بہت ھے

عورت کو کمزور بھی سمجھنا اور اس پہ ظلم بھی کرنا اس کو ایک کمتر چیز سمجھنا اس غلط نہ ھونے کے باوجود جھکنے پہ مجبور کرنا یہ سوچ صرف ان پڑھ اور غریب طبقے میں ھی نہیں بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں میں‌ بھی پائ جاتی ھے مرد کو فضلیت حاصل ھے — عورت جسمانی طور پہ کمزور ھوتی ھے جس سے محبت کرتی ھیں ان رشتون کے لیے جلد جذباتی ھو جاتی ھے مگر اس کے باوجود میرا سوال پھر وہی ھے کیا ھر شوہر مجازی خدا کہلانے کا لائق ھوتا ھے ؟؟؟

Share This Post

14 آراء»

خوشی اور خوشحالی

November 15، 2009 کو sadiasaher نے میری ڈائری کے تحت شائع کيا.

پاکستان میں بہت سے لوگ اس لیے خوش نہیں زندگی بسر کرنے کے لیے جو بنیادی چیزیں ضروری ھیں وہ انھیں میسر نہیں ان کے لیے زندگی صرف امتحان ھے ایک وقت کے کھانے کے بعد دوسرے وقت کی فکر کبھی بیماری کبھی کوئ اور آزمائش زندگی سے تنگ آکر کچھ خود کشی کرتے ھیں اپنے بچے اپنے اعضاء بیچتے ھیں زندگی کو انجوائے کرنے کا وقت نہیں ھی نہیں ملتا کچھ لوگ خوشی کو پیسے سے مشروط کرتے ھیں کیا خوشی وہیں ھوتی ھے جہاں پیسہ ھو اگر ایسی بات ھے تو یورپ میں لوگ خود کشی کیوں کرتے ھیں جو بظاہر بہت خوش حال اور زندگی میں بہت کامیاب ھوتے ھیں مگر وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں ھوتے خوشی کیا ھے ؟ میرے خیال میں تو خوشی دل کا سکون ھے کبھی انسان نمک مرچ کھا کر بھی خوش رھتا ھے کبھی محلوں میں بھی سکون نہیں ملتا خوشی کو ھم الفاظ میَن بیان نہیَن کر سکتے بلکہ کسی بھی َکوبصورت چیز کو الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ھے محبت کو ھم اپنے دل میں محسوس کرتے ھیں مگر الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے خوشبو کے محسوس کر سکتے ھیں مگر بیان نہیں کر سکتے چاند کی چاندنی یا ھوا کی تازگی چاھے پھولوں کی مہک ھو لوگ برسوں سے ان کے بارے میں لکھ رھے ھیں مگر کوئ نہیں کہہ سکتا اصل میں یہ کیا ھیں ان کی مکمل تعریف کیا ھے آپ کا خیال میں خوشی کیا ھے ؟؟

Share This Post

7 آراء»

اس میں نئ خبر کیا ھے ؟؟

November 13، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

ایک فرانسیسی اخبار کے مطابق پاک بحریہ نے 1994ء میں تین فرانسیسی سب میرین خریدی تھیں ۔ صدر زرداری نے ان سب میرینوں کی خریداری پر 43 لاکھ ڈالرز وصول کیےاس میں نئ خبر کیا ھے
وہ صدر بننے سے پہلے ساری دنیا میں مسٹر ٹن پرسینٹ مشہور تھے جب صدر بنے تو بہت سے اخبارات نے ایک سوال کیا تھا کیا پاکستان میں کوئ شفاف کردار کا انسان نہیں ھے جو ساری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کر سکے – پاکستان کے عوام اس وقت بہت جذباتی تھے بی بی کا زخم ابھی تازہ تھا
ایک بات میری سمجھ مین ابھی تک نہیں آسکی کیا بے نظیر پاکستان کی صدر تھیں ؟ کیا اس عہدے کے لیے ان کی فیملی کا کوئ جانشین حقدار تھا ؟بلاول زرداری بھٹو ابھی زیرِ تعلیم ھیں زرداری سر پرست ھیں پہلے وہ پارٹی کی صدرات کے حق دار بنے ان کے بعد کیا بلاول پیپلز پارٹی کا صدر ھوگا ؟؟ کیا یہ جمہوریت ھے – کیا جمہوریت ھے وراثت کا کوئ تصور ھے ؟
دو دن پہلے ایک کالم پڑھا جس مین لکھا تھا دنیا کے سپر پاور کے صدر کے پاس کل 26 لاکھ ڈالر کی جائداد ھے ان میں سے تین لاکھ نقد ھیں ایک گھر جو قسطوں پہ ھے جس کی ابھی تیرہ لاکھ کی ادائیگی ھونا باقی ھے گویا ابھی ان کے پاس کل تیرہ لاکھ ھیں ان کی بیوی کی تنخواہ بھی اچھی خاصی ھے – اور ھمارے صدر جو سالانہ چند ھزار ٹیکس ادا کرتے ھیں جن کی جائداد 8۔1 ارب ڈالر ھے چند سالوں میں اتنی جائداد کہاں سے آئ ان کے پاس کوئ جواب نہیں صدر بنتے ھی سب مقدمے ختم ھوگئے اب کوئ ان کی طرف کوئ انگلی نہیں اٹھا سکتا پاکستان میں کوئ ان کا نام لے کر کوئ کچھ نہین کہہ سکتا مگر بین الاقوامی اخبارات کو کون روک سکتا ھے پاکستانی عوام کو تو وہ صفائ دیں گے نہیں مگر پاکستان نے وقار کو سلامت رکھنے کے لیے ان کا فرض ھے وہ بین الاقوامی میڈیا
کے سامنے اس بات کو کلئیر کریں
جرمنی کی ایک وزیر نے سرکاری گاڑی استعمال کی تین سو کیلومیٹر کا سفر کیا پٹرول سرکاری خزانے سے ڈلوایا گیا تھا سارے اخبارات نے ھنگامہ کر دیا پارلیمنٹ میں معاملہ پیش ھوا سرکاری خزانہ کوئ اپنی ذات پہ خرچ نہیں کر سکتا سرکاری خزانے پہ عوام کا حق ھے وہ ٹیکس ادا کرتے ھیں ھر وزیر کو ذاتی خرچ کے لیے تنخواہ دی جاتی ھے – اس وزیر نے معذرت کی اپنی غلطی کو تسلیم کیا اس نے ایک ناجائز کام کیا اور استیفیٰ دے دیا
ایسا کیا کبھی پاکستان میں ھوگا ؟
کیا کبھی پاکستان میں ایسا ھوگا جب ملکی خزانے کے ایک ایک پیسے کو عوام کی امانت سمجھا جائے گا ؟؟
پاکستان میں اربوں آتے ھیں چاھے وہ امداد کی صورت میں ھو یا قرض کی صورت میں وہ کہاں جاتے ھیں کیا حکومت کے پاس کوئ حساب ھے چاھے وہ موجودہ حکومت ھو یا کوئ سابقہ حکومت

کیا پاکستان میں کبھی ایسا ھوگا ھمارے کوئ وزیر اعظم یا صدر ٹونی بلئیر کی طرح اپنے عہدے سے برخاست ھونے کے بعد ٹرین میں گھر جائے گا ؟؟

یا ھماری پارلیمنٹ خود کھاؤ اور دوسرے کو کھانے دو کے اصول پہ چلتی رھے گی اور ملک میں رشوت اور بے ایمانی کا دور دورہ رھے گا ؟؟

Share This Post

3 آراء»

یار ڈاڈھی آتش ———

November 12، 2009 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.

YouTube Preview Image Share This Post

7 آراء»

« سابقہ تحاريرنئي تحارير »