<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments for Sadia saher</title>
	<atom:link href="http://sadiasaher.wordpress.pk/comments/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://sadiasaher.wordpress.pk</link>
	<description>keep your fears to yourself,but share your inspiration with others.</description>
	<lastBuildDate>Sun, 14 Mar 2010 08:22:48 +0500</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.pk/?v=2.8.5.2</generator>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
		<item>
		<title>Comment on ایک نغمہ ۔۔۔۔۔ تو میرا پاکستان by Syed Adnan Ali  Naqvi</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/14/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%ba%d9%85%db%81-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%d8%aa%d9%88-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/comment-page-1/#comment-2316</link>
		<dc:creator>Syed Adnan Ali  Naqvi</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 08:22:48 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=415#comment-2316</guid>
		<description>اسلام و علیکم،
عزیزم ہمشیرہ، اللہ پاک وطن کی اس محبت کو برقرار رکھے، اور ہم سب کو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے کی توفیق عطا فرماے۔ امین۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اسلام و علیکم،<br />
عزیزم ہمشیرہ، اللہ پاک وطن کی اس محبت کو برقرار رکھے، اور ہم سب کو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے کی توفیق عطا فرماے۔ امین۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on ایک نغمہ ۔۔۔۔۔ تو میرا پاکستان by Asif</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/14/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%ba%d9%85%db%81-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%d8%aa%d9%88-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/comment-page-1/#comment-2314</link>
		<dc:creator>Asif</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 00:34:25 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=415#comment-2314</guid>
		<description>سالاام</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>سالاام</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on عید میلاد النبی کیسے منانی چاھیے &#8211; کیا ھم مقصد سے ھٹ رھے ھیں by محمد  طارق راحیل</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/02/28/%d8%b9%db%8c%d8%af-%d9%85%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%86%d8%a7%da%be%db%8c%db%92-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%be/comment-page-1/#comment-2308</link>
		<dc:creator>محمد  طارق راحیل</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 10:24:11 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=408#comment-2308</guid>
		<description>قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں نے جشنِ میلاد کیوں نہیں منایا؟

محبوبِ ربّ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت باسعادت پر اِظہارِ مسرت کرنا، محافلِ میلاد منعقد کرنا اور جشنِ عید منانا ایک مومن کے لیے سب سے بڑی سعادت ہے، مگر شومیء قسمت کہ بعض لوگ اس عظیم سعادت کو خلافِ شریعت عمل قرار دیتے ہیں۔ وہ لوگ اس کے عدمِ جواز پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جشنِ میلاد قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں کے عمل سے ثابت نہیں، اس کا آغاز بعد کے اَدوار میں ہوا ہے۔ نیز یہ کہ حضور ختمی مرتبت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وِصال مبارک کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جشنِ میلاد کیوں نہ منایا؟ زیرِ نظر باب میں ہم اُس دور کے معروضی حالات کی روشنی میں اِس کے اَسباب کی توضیح بیان کریں گے۔
1۔ صحابہ رضی اللہ عنھم کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سانحۂ اِرتحال اِنتہائی غم اَنگیز تھا

حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت مسلمانانِ عالم کے لیے دنیا کی تمام خوشیوں اور مسرتوں سے بڑھ کر ہے۔ قرنِ اَوّل کے مسلمانوں کے لیے بالعموم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لیے بالخصوص اِس دنیائے آب و گل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے بڑی اہم خبر اور کیا ہو سکتی تھی! صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق اور جاں نثار تھے ان سے بڑھ کر اس نعمتِ عظمیٰ کا قدردان اور کون ہو سکتا تھا! اس پر اِظہارِ فرحت و مسرت جس طرح وہ کر سکتے تھے آج کے دور کے مسلمان اس کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد اگر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یومِ ولادت تزک و اِحتشام سے نہیں منایا تو اس کی ایک خاص وجہ تھی۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یومِ ولادت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کا دن بھی تھا، سرکارِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر غم و آلام کا ایک کوہِ گراں ٹوٹ گیا، اس لیے جب ان کی زندگی میں بارہ ربیع الاول کا دن آتا تو وصال کے صدمے تلے ولادت کی خوشی دب جاتی اور جدائی کا غم اَز سرِ نو تازہ ہو جاتا۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی یادوں کے جَلَو میں بارہ ربیع الاول کا دن آتا تو خوشی و غم کی کیفیتیں مل جاتیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم وصالِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد کر کے صدمہ زدہ دلوں کے ساتھ خوشی کا اظہار نہ کر سکتے تھے۔ سو وہ ولادت کی خوشی میں جشن مناتے نہ وصال کے غم میں اَفسردہ ہوتے۔
اِنسانی فطرت لمحاتِ غم میں خوشی کا کھلا اِظہار نہیں کرنے دیتی

روز مرّہ کا مشاہدہ ہے کہ جب کسی گھر میں کسی عزیز کی وفات ہو جائے جب کہ چند دنوں کے بعد اسی گھر میں شادی کی تقریب بھی منعقد ہونے والی ہو تو عام دستور یہی ہے کہ اُس غم کے باعث شادی ملتوی کردی جاتی ہے۔ اگر شادی کی تقریب ملتوی نہ بھی کی جائے تو نہایت سوگوار ماحول میں سادگی کے ساتھ منعقد ہوتی ہے۔ لیکن اسی گھر میں اگر اس سوگوار واقعہ کے پانچ، دس سال بعد شادی ہو تو بالعموم یہی دیکھا گیا ہے کہ شادی کا اہتمام رسم و رواج کے مطابق دھوم دھام سے کیا جاتا ہے اور اس موقع پر کوئی یہ نہیں کہتا کہ چند سال پہلے ان کا والد فوت ہوا تھا اب وہ دھوم دھام سے شادی کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کے مطابق ایک عرصہ تک غم و اندوہ کا پہلو صبر و ضبط پر غالب رہتا ہے اور جوں جوں زمانہ بیت جاتا ہے صدمے کا اثر زائل ہو جاتا ہے جس کے باعث حالات معمول پر آتے ہی زندگی پرانی ڈگر پر رواں دواں ہو جاتی ہے۔
2۔ کیفیاتِ غم کی شدت قرونِ اُولیٰ میں جشن منانے میں مانع تھی

بشری تقاضوں کے مطابق قرنِ اَوّل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کے غم کا پہلو زیادہ اثر آفریں تھا۔ ولادت اور وفات کا دن ایک ہونے کے باعث جب یومِ میلاد آتا تو ان پر غم کی کیفیات خوشی کی نسبت بڑھ جاتی تھیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ایثار و قربانی کی ایک زندہ و تابندہ مثال تھے۔ وہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنبشِ اَبرو پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے۔ معیارِ ایمان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے غایت درجہ محبت تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یومِ وصال ان کے لیے سب سے عظیم سانحہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کی اَلم ناک خبر کس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر قیامت بن کر ٹوٹی ہوگی، لمحاتِ غم کی شدت میں غلاموں نے کس طرح اپنے آپ کو سنبھالا ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ وہ تو ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے آقا کی جدائی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُن کے جذباتی اور عشقی تعلق کی کیفیت یہ تھی کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ظاہری حیاتِ مبارکہ سے پردہ فرما گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جری اور قوی دل صحابی یہ صدمہ برداشت نہ کر سکنے کے باعث خود پر قابو نہ رکھ سکے۔

صحابہ کرام اور اہلِ بیتِ اَطہار رضی اللہ عنھم کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کی خبر اندوہ ناک اور ہوش رُبا تھی کیوں کہ ان کا محبوب ان سے جدا ہو گیا تھا۔ اپنی محبوب ترین ہستی کے بچھڑ جانے پر جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا یہ ردِ عمل ایک فطری اَمر تھا، اس لیے کہ انہوں نے اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنا وطن، عزیز و اَقارب، مال و دولت، بیوی بچے، الغرض سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ جب وہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے درمیان ظاہری طور پر نہ دیکھتے تھے تو ان کی کیفیت دگرگوں ہو جاتی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسا کاری زخم بھی لگ سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جن جذبات اور احساسات کا اظہار کیا ان کی ایک جھلک ذیل میں دیکھی جا سکتی ہے:
(1) سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات کا سبب فراقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد اِمامِ عشاقانِ مصطفیٰ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہر وقت اپنے محبوب کے ہجر میں تڑپتے تھے، اور آپ کی وفات کا سبب بھی محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کا غم تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں :

کان سبب موت أبي بکر موت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما زال جسمه يجري حتٰي مات.

’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا سبب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال (کا غم) تھا، یہی وجہ ہے کہ فراق میں آپ کا جسم نہایت ہی کمزور ہو گیا تھا حتی کہ آپ کا اِنتقال ہو گیا۔‘‘

1. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 3 : 63، 64، رقم : 4410
2. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 263
3. سيوطي، مسند أبي بکر الصديق : 198، رقم : 631

حضرت زیاد بن حنظلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

کان سبب موت أبي بکر الکمد علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.

’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا سبب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال پر ہونے والا حزن و اَلم تھا۔‘‘

سيوطي، مسند أبي بکر الصديق : 198، رقم : 632
(2) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ردِ عمل

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کی خبر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی مضبوط قوتِ اِرادی کی حامل جری و بہادر شخصیت کے خرمنِ ہوش پر بجلی کی طرح گری۔ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور شدتِ غم سے کہنے لگے : ’’اگر کسی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما گئے ہیں تو میں اُس کا سر قلم کر دوں گا۔‘‘(1) اِس موقع پر اُنہوں نے جن جذبات کا اِظہار کیا کتبِ سیر و تاریخ میں اس کے اَلفاظ یوں وارِد ہوتے ہیں :

طبري، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 233

إن رجالاً من المنافقين يزعمون : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قد توفي، وإن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما مات، ولکنه ذهب إلي ربه کما ذهب موسي بن عمران، فقد غاب عن قومه أربعين ليلة، ثم رجع إليهم بعد أن قيل : مات، وواﷲ! ليرجعَنّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کما رجع موسي، فليقطعن أيدي رجال و أرجلهم زعموا : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم مات.

’’منافق گمان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے ہیں، حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات نہیں پائی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُسی طرح اپنے رب کی طرف چلے گئے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام گئے تھے۔ وہ اپنی قوم سے چالیس راتیں غائب رہے، پھر وہ ان کی طرف اس حال میں لوٹے کہ ان کے وصال کی خبر پھیلا دی گئی تھی۔ خدا کی قسم! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح لوٹ آئیں گے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام لوٹ آئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور اُن لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹیں گے جنہوں نے یہ گمان کیا ہوگا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت واقع ہوگئی ہے۔‘‘

1. ابن اسحاق، السيرة النبوية : 713
2. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 196، رقم : 13051
3. ابن حبان، الصحيح، 14 : 588، رقم : 6620
4. ابن هشام، السيرة النبوية : 1134
5. ابن سعد، الطبقات الکبري، 2 : 270
6. ابن أثير، الکامل في التاريخ، 2 : 187
7. سهيلي، الروض الأنف في تفسير السيرة النبوية لابن هشام، 4 : 443
8. سيوطي، الدر المنثور في التفسير بالماثور، 2 : 377

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ ردِ عمل اگرچہ جذباتی تھا لیکن اسے ہرگز غیر فطری نہیں کہا جا سکتا، کیوں کہ اپنی جان سے زیادہ محبوب ہستی کی جدائی کے صدمہ میں وقتی طور پر کسی انسان کا جذبات سے مغلوب ہو جانا ایک فطری اَمر ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے عہدِ خلافت میں رعایا کی خبر گیری کے لئے راتوں کو گشت کیا کرتے تھے۔ اس طرح آپ آخرت میں جواب دہی کا احساس اپنے اندر ہر وقت زندہ رکھتے تھے۔ حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ایک رات آپ عوام کی خدمت کے لیے رات کو نکلے تو آپ نے دیکھا کہ ایک گھر میں چراغ جل رہا ہے اور ایک بوڑھی خاتون اُون کاتتے ہوئے ہجر و فراق میں ڈوبے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہی ہے :

علي محمد صلاةُ الأبرار
صلي عليک المصطفون الأخيار
قد کنتَ قَواماً بکي الأسحار
يا ليتَ شِعري والمنايا أطوار
هل تَجمَعني وحَبِيبِي الدَّار

1. ابن مبارک، الزهد : 362، 363، رقم : 1024
2. قاضي عياض، الشفا بتعريف حقوق المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 569
3. ملا علي قاري، شرح الشفا، 2 : 42، 43

(محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صالحین کا درود ہو۔ منتخب اور بہترین لوگوں نے اُن پر درود بھیجا (اور بھیج رہے ہیں)۔ آپ راتوں کو اللہ کی یاد میں کثیر قیام کرنے والے اور آخرِ شب (یادِ اِلٰہی میں) آنسو بہانے والے تھے۔ ہائے افسوس! اَسبابِ موت متعدد ہیں، کاش! مجھے یقین ہوجائے کہ روزِ قیامت مجھے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب نصیب ہوسکے گا۔)

یہ اَشعار سن کر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جیسے بہادر انسان کی آنکھیں بھی اَشک بار ہوگئیں۔ یادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تڑپانے لگی۔ اِمامِ اَعظم ابو حنیفہ (80۔ 150ھ) کے شاگرد، اِمام بخاری (194۔ 256ھ) کے اُستاد اور امیر المؤمنین فی الحدیث ’’اِمام عبد اﷲ بن مبارک (118۔ 181ھ)‘‘ لکھتے ہیں :

فجلس عمر يبکي فما زال يبکي حتي قرع الباب عليها، فقالت : من هذا؟ قال : عمر بن الخطاب. فقالت : ما لي ولعمر؟ وما يأتي بعمر هذه الساعة؟ فقال : افتحي، رحمکِ اﷲ، ولا بأس عليک، ففتحت له، فدخل. وقال : ردّي علي الکلمات التي قلت آنفا، فردّته عليه، فلما بلغت آخره، قال : أسألکِ أن تدخلني معکما. قالت : وعمر، فاغفرله يا غفار. فرضي عمر ورجع.

’’پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ کر رونے لگے، اور روتے رہے یہاں تک کہ اُنہوں نے دروازہ پر دستک دی۔ خاتون نے پوچھا : کون ہے؟ آپ نے کہا : عمر بن خطاب۔ خاتون نے کہا : میرا عمر کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ رات کے اِن اَوقات میں عمر کو یہاں کیا کام؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تجھ پر رحم فرمائے، تو دروازہ کھول، تجھے کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ تو اس نے آپ کے لیے دروازہ کھولا، آپ اندر داخل ہوگئے اور کہا : جو اَشعار تو ابھی پڑھ رہی تھی انہیں دوبارہ پڑھ۔ پس اس نے دوبارہ وہ اَشعار پڑھے اور جب آخر پر پہنچی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ان دونوں کے ساتھ مجھے بھی شامل کرلے۔ اُس نے کہا : اے غفار! تو عمر کی بھی مغفرت فرما۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ اِس پر راضی ہوگئے اور واپس لوٹ آئے۔‘‘

1. ابن مبارک، الزهد : 362، 363، رقم : 1024
2. خفاجي، نسيم الرياض في شرح شفاء القاضي عياض، 4 : 428، 429

بقول قاضی سلیمان منصور پوری سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے بعد چند دن تک صاحبِ فراش رہے(1) اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کی عیادت کے لئے آتے رہے۔

منصور پوري، رحمة للعالمين صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 343
(3) سیدۂ کائنات فاطمۃ الزہراء سلام اﷲ علیھا کا اِظہارِ غم

خاتونِ جنت، سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ الزہراء سلام اﷲ علیھا کو یہ لازوال اعزاز حاصل ہے کہ وہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لختِ جگر تھیں۔ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے حد محبت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انہیں اپنی جان کا حصہ قرار دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر سیدہ کائنات سلام اﷲ علیھا کی بے قراری و سوگواری کے واقعات تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں :

(1) حضرت مسور بن مخرمہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

فاطمة بضعة منّي.

’’فاطمہ میری جان کا حصہ ہے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب المناقب، باب مناقب قرابة رسول اﷲ، 3 : 1361، رقم : 3510
2. بخاري، الصحيح، کتاب المناقب، باب مناقب فاطمة، 3 : 1347، رقم : 3556
3. مسلم، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب فاطمة بنت النبي، 4 : 1903، رقم : 2449

1۔ سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اﷲ علیہا کا وِصال حضور نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اہلِ بیت میں سے سب سے پہلے ہوا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اِس بارے میں مختلف روایات ہیں : سیدۂ کائنات سلام اﷲ علیہا کا وِصال حضور نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال مبارک کے چھ (6) ماہ بعد ہوا۔ بعضوں نے آٹھ (8) ماہ کہا ہے، بعضوں نے سو (100) دن اور بعضوں نے (70) دن کہا ہے، جب کہ صحیح قول چھ (6) ماہ کا ہی ہے۔ وِصال کے وقت سیدۂ کائنات سلام اﷲ علیہا کی عمر مبارک اُنتیس (29) سال تھی۔ آپ نے منگل کی رات 3 رمضان المبارک 11ھ کو وفات پائی۔ سیدۂ کائنات سلام اﷲ علیہا کی اِتنی کم عمری میں وفات کا سبب یہ ہے کہ آپ اپنے ابا جان تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کا غم برداشت نہ کر سکیں، آپ اکثر غمگین رہتیں اور حضور نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کے بعد کبھی آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور حق بھی یہی تھا۔

1. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 3 : 176، رقم : 4761
2. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي : 101
3. ابن جوزي، صفة الصفوة، 2 : 8، 9
4. ابن اثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة ث، 7 : 221

(2) 1. دولابي، الذرية الطاهرة : 111، رقم : 212
2. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربيٰ : 103
3. ابن اثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة ث، 7 : 221
4. ابن رجب حنبلي، لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف : 214

2۔ اِمام بخاری (194۔ 256ھ) کی الصحیح میں بیان کی گئی روایت کے مطابق حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ کائنات سلام اﷲ علیھا کو اپنے والد گرامی کی جدائی اتنی شاق گزری کہ بے ساختہ پکار اٹھیں :

يا أبتاه! أجاب رباً دعاه
يا أبتاه! مَن جنةُ الفردوس مأواه
يا أبتاه! إلي جبريل ننعاه

’’اے ابا جان! آپ نے (اپنے) رب کا بلاوا قبول فرمایا۔ اے ابا جان! آپ جنت الفردوس میں قیام پذیر ہیں۔ اے ابا جان! میں اس غم کی خبر جبرئیل علیہ السلام کو سناتی ہوں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب المغازي، باب مرض النبي صلي الله عليه وآله وسلم ووفاته، 4 : 1619، رقم : 4193
2. أحمد بن حنبل، 3 : 197، رقم : 13054
3. دارمي، السنن، 1 : 41، رقم : 88
4. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 416، رقم : 1029
5. ابن کثير، البداية والنهاية، 4 : 254

3۔ ابن ماجہ (209۔ 273ھ) کی السنن میں بیان کی گئی روایت کے مطابق سیدہ فاطمہ سلام اﷲعلیھا نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر درج ذیل اَشعار کہے :

وا أبتاه! إلي جبرائيل أنعاه
وا أبتاه! مِن ربه ما أدناه
وا أبتاه! جنة الفردوس مأواه
وا أبتاه! أجاب رباً دعاه

’’ہائے اباجان! میں اس غم کی خبر جبرئیل علیہ السلام کو سناتی ہوں۔ ہائے اباجان! آپ اپنے رب کے کتنے نزدیک ہوگئے۔ ہائے اباجان! آپ جنت الفردوس میں قیام پذیر ہیں۔ ہائے اباجان! آپ نے (اپنے) رب کا بلاوا قبول فرما لیا۔‘‘

1. ابن ماجه، السنن، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته ودفنه صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 103، رقم : 1630
2. نسائي، السنن، کتاب الجنائز، باب في البکاء علي الميت، 4 : 12، رقم : 1844
3. ابن حبان، الصحيح، 14 : 591، 592، رقم : 6622
4. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 1 : 537، رقم : 1408
5. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 3 : 61، رقم : 4396
6. ابن سعد، الطبقات الکبري، 2 : 311
7. ذهبي، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام (السيرة النبوية)، 1 : 562

4۔ اِمام بخاری (194۔ 256ھ) الصحیح میں روایت کرتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے تو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیھا فرطِ رنج و اَلم سے بے ساختہ اُن سے کہنے لگیں :

يا أنس! أطابت أنفسکم أن تحثوا علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم التراب.

’’اے انس! کیا تمہارے دلوں نے اِس بات کو گوارا کر لیا کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹی ڈالو؟‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب المغازي، باب مرض النبي صلي الله عليه وآله وسلم ووفاته، 4 : 1619، رقم : 4193
2. أبو يعلي، المسند، 6 : 110، رقم : 3379
3. عبد بن حميد، المسند، 1 : 402، رقم : 1364
4. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 1 : 537، رقم : 1408
5. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 416، رقم : 1029
6. بيهقي، السنن الکبري، 3 : 409، رقم : 6519

5۔ اِمام احمد بن حنبل (164۔ 241ھ) المسند میں روایت کرتے ہیں کہ سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیھا نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ کہا :

يا أنس! أطابت أنفسکم أن دفنتم رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في التراب ورجعتم.

’’اے انس! کیا تمہارے دلوں نے اس بات کو گوارا کر لیا کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مٹی میں دفن کرکے واپس چلے آؤ۔‘‘

1. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 204، رقم : 13139
2. ابن کثير، البداية والنهاية، 4 : 254
3. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 3 : 493

 حضرت حماد رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور مشہور تابعی حضرت ثابت البنانی رضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کرتے تو :

بکي حتي تختلف أضلاعه.

’’وہ اتنا روتے کہ ان کی پسلیاں اپنی جگہ سے ہل جایا کرتی تھیں۔‘‘

ابن جوزي، الوفاء بأحوال المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم : 803

6۔ اِمام طبرانی (260۔ 360ھ) المعجم الکبیر میں روایت کرتے ہیں :

فلما انصرف الناس قالت فاطمة لعليّ رضی الله عنه : يا أبا الحسن! دفنتم رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ قال : نعم. قالت فاطمة رضي اﷲ عنها : کيف طابت أنفسکم أن تحثوا التراب علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ أما کان في صدورکم لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الرحمة؟ أما کان معلم الخير؟ قال : بلي، يا فاطمة! ولکن أمر اﷲ الذي لا مرد لهز فجعلت تبکي وتندب، وهي تقول : يا أبتاه! الآن انقطع جبريل عليه السلام، وکان جبريل يأتينا بالوحي من السماء.

’’جب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تدفین کے بعد) واپس آئے تو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیھا نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : تمہارے دلوں نے کیسے گوارا کر لیا کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ کیا تمہارے دلوں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے رحمت نہیں تھی؟ کیا وہ بھلائی کی تعلیم دینے والے نہیں تھے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے فاطمہ! کیوں نہیں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تمام خوبیوں کا جامع تھے)، لیکن خدا کا حکم کوئی نہیں ٹال سکتا۔ پس سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیھا نے رونا شروع کر دیا، آپ کی ہچکی بندھ گئی، اور یہ کہتے جاتی تھیں : اے ابا جان! اب جبریل علیہ السلام کی آمد کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا ہے جو آسمان سے وحی لے کر اترتے تھے۔‘‘

1. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 64، رقم : 2676
2. ابو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 4 : 79

7۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بالعموم مغموم رہتے، حتی کہ بعض نے مسکرانا ہی ترک کر دیا۔ حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ سیدہ عالم حضرت فاطمۃ الزہراء رضي اﷲ عنھا کے بارے میں بیان کرتے ہیں :

ما رأيت فاطمة رضي اﷲ عنها ضاحکة بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.

’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال مبارک کے بعد کبھی بھی حضرت فاطمۃ الزہراء رضي اﷲ عنھا کو مسکراتے نہیں دیکھا۔‘‘

ابن جوزي، الوفاء بأحوال المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم : 803

8۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیھا آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزارِ اَقدس پر حاضر ہوتیں تو آپ کی کیفیت اس طرح ہوتی کہ

أخذت قبضة من تراب القبر، فوضعته علي عينيها، فبکت وانشأت تقول :

ماذا ممن شم تربة أحمد
أن لا يشم مدي الزمان خواليا

صبت عليّ مصائب لو أنها
صبت علي الأيام صرن لياليا

’’قبرِ اَنور کی مٹی مبارک اُٹھا کر آنکھوں پر لگا لیتیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد میں رو رو کر یہ اَشعار پڑھتیں :

(جس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزارِ اَقدس کی خاک کو سونگھ لیا ہے اسے زندگی میں کسی دوسری خوشبو کی ضرورت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کی وجہ سے مجھ پر جتنے عظیم مصائب آئے ہیں اگر وہ دنوں پر اُترتے تو وہ راتوں میں بدل جاتے۔)

1. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 2 : 134
2. ابن قدامة، المغني، 2 : 213

اِس غم ناک صورت حال میں جب سیدہ کائنات سلام اﷲ علیہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے موت کو خوش دلی سے قبول کیا کیونکہ موت انہیں ربِ ذُوالجلال اور اپنے ابا جان سے ملانے والی تھی۔ اس کیفیت کا ذکر اَئمہ و محدثین نے یوں کیا ہے :

عن أم سلمة رضي اﷲ عنها قالت : اشتکت فاطمة سلام اﷲ عليها شکواها التي قبضت فيه، فکنت أمرضها فأصبحت يوما کأمثل ما رأيتها في شکواها تلک، قالت : وخرج عليّ لبعض حاجته، فقالت : يا أمه، اسکبي لي غسلاً، فسکبت لها غسلاً فاغتسلت کأحسن ما رأيتها تغتسل، ثم قالت : يا أمه، أعطيني ثيابي الجدد، فأعطيتها فلبستها، ثم قالت : يا أمه، قدمي لي فراشي وسط البيت، ففعلت واضطجعت واستقبلت القبلة وجعلت يدها تحت خدها، ثم قالت : يا أمه، إني مقبوضة الآن وقد تطهرت، فلا يکشفني أحد فقبضت مکانها، قالت : فجاء عليّ فأخبرته.

’’حضرت ام سلمیٰ رضي اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدۂ فاطمہ سلام اﷲ علیہا اپنی مرضِ موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی۔ مرض کے اس پورے عرصہ کے دوران میں جہاں تک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے۔ سیدہ نے کہا : امی جان! میرے غسل کرنے کے لیے پانی لائیں۔ میں پانی لائی، آپ نے اچھی طرح غسل کیا۔ پھر فرمایا : امی جان! مجھے نیا لباس دیں۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ اسے آپ نے زیبِ تن فرمایا اور قبلہ رُخ ہو کر لیٹ گئیں، ہاتھ مبارک رُخسار مبارک کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا : امی جان! اب میری وفات ہوگی، میں پاک ہو چکی ہوں، لہٰذا کوئی مجھے (غسل دینے کے لیے) بے پردہ نہ کرے۔ پس اسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی۔ حضرت اُم سلمیٰ کہتی ہیں : بعد ازاں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ تشریف لائے اور میں نے انہیں سیدہ کے وِصال کی اطلاع دی۔‘‘

1. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 461، 462، رقم : 27656
2. أحمد بن حنبل، فضائل الصحابة، 2 : 629، 725، رقم : 1074، 1243
3. دولابي، الذرية الطاهرة : 113
4. هيثمي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 9 : 211
5. زيلعي، نصب الراية لأحاديث الهداية، 2 : 250
6. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربيٰ : 103
7. ابن أثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة ث، 7 : 221

اَصحابِ سیر و تاریخ نے لکھا ہے کہ سیدۂ کائنات سلام اﷲ علیہا کی وفات مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں ہوئی۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو رات کے وقت دفن کیا گیا اور سیدنا علی، سیدنا عباس اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنھم نے آپ کو لحد میں اتارا۔ یوں آپ اپنے ابا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملیں۔

1. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 3 : 177، 178، رقم : 4763 - 4765
2. ابن أبي شيبة، المصنف، 3 : 31، رقم : 11826
3. ابن أبي شيبة، المصنف، 7 : 25، رقم : 33938
4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 4 : 31
5. محب طبري، الرياض النضرة في مناقب العشرة، 1 : 175، 176
6. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربيٰ : 104
7. شيباني، الآحاد والمثاني، 5 : 355، رقم : 2937
8. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 8 : 29
9. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 2 : 8
10. ابن أثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة ث، 7 : 221

جب محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی پر غم و اندوہ اور اِضطرابِ دل کی یہ کیفیت ہو اور یہی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا بھی ہو تو کس کے اندر اتنی تاب ہو سکتی تھی کہ وہ جشن ولادت منانے کا سوچے؟
(4) حضرت اَنس رضی اللہ عنہ کے اِحساساتِ غم

حضرت اَنس رضی اللہ عنہ دس سال تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت پر مامور رہے، پیغمبرِ انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و کردار سے اتنے متاثر ہوئے کہ ہر وقت عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضائے کیف و سرور میں گم رہتے۔ جب تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ پر بھی قیامت ٹوٹ پڑی۔ جس شفیق ہستی کا ایک لمحہ کے لئے بھی آنکھوں سے اوجھل ہونا دل پر شاق گزرتا تھا، اس عظیم ہستی کی یاد میں آنکھیں اَشک بار رہتیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تبرکات کی زیارت کرتے تو دل کو اطمینان ہوتا۔ ذکرِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل سجاتے، خود بھی تڑپتے اور دوسروں کو بھی تڑپاتے۔

ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ تاجدارِ کائنات حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان فرما رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمانے لگے :

ولا مَسِسْتُ خزّة ولا حريرَة ألين من کف رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، ولا شَمِمْتُ مسکة ولا عبيرة أطيب رائحة من رائحة رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.

’’اور میں نے آج تک کسی دیباج اور ریشم کو مَس نہیں کیا جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور نہ کہیں ایسی خوشبو سونگھی جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اَطہر کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب الصوم، باب ما يذکر من صوم النبي صلي الله عليه وآله وسلم وأفطاره، 2 : 696، رقم : 1872
2. مسلم، الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي صلي الله عليه وآله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 : 1814، رقم : 2330
3. دارمي، السنن، المقدمة، باب في حسن النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 45، رقم : 61
4. ابن حبان، الصحيح، 14 : 211، رقم : 6303
5. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 107

حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اکثر خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوتی۔ مثنی بن سعید روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کویہ کہتے سنا :

ما من ليلة إلاّ وأنا أري فيها حبيبي، ثم يبکي.

’’(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کے بعد) کوئی ایک رات بھی ایسی نہیں گزری جس میں میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نہ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ زار و قطار رونے لگے۔‘‘

1. ابن سعد، الطبقات الکبري، 7 : 20
2. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 3 : 403

حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ میں آمد اور وصال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

لما کان اليوم الذي دخل فيه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم المدينة أضاء منها کل شيء، فلما کان اليوم الذي مات فيه أظلم منها کل شيء.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری پر اُس کی ہر شے روشن ہو گئی، لیکن جس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو مدینہ کی ہر شے (میرے لیے) تاریک ہوگئی۔‘‘

1. ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في فضل النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، 6 : 13، رقم : 3618
2. ابن ماجه، السنن، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته ودفنه صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 522، رقم : 1631
3. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 268، رقم : 13857
4. ابن حبان، الصحيح، 14 : 601، رقم : 6634
5. أبو يعلي، المسند، 6 : 51، 110، رقم : 3296، 3378
6. مقدسي، الأحاديث المختارة، 4 : 418، 419، رقم : 1592، 1593

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یوں محسوس کیا کہ وہ شہر جس میں ہم صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نہ ہونے کے باعث تاریک نظر آنے لگا۔

شیخ اِبراہیم بیجوری حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اِس قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

استنار من المدينة الشريفة کل شيء نوراً حسياً ومعنوياً، لأنه صلي الله عليه وآله وسلم نور الأنوار والسراج الوهاج ونور الهداية العامة ورفع الظلمة التامة، وقوله : أظلم منها کل شيء، أي لفقد النور والسراج منها فذهب ذالک النور بموته.

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مدینہ کی ہر شے نورِ ظاہری اور نورِ باطنی سے روشن ہوگئی، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس تمام انوار کا سرچشمہ، روشن چراغ، تمام عالم کے لیے نورِ ہدایت اور تمام ظلمات کے رفع کرنے کا مرکز ہے۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کی وجہ سے (کائنات کا) نور اور چراغ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا لہٰذا تمام روشنی تاریکی میں بدل گئی۔‘‘

بيجوري، المواهب اللدنيه علي الشمائل المحمدية : 287
(5) فراقِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی کیفیتِ غم

مؤذنِ رسول و عاشق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی فراقِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برداشت نہ کر سکے اور مدینہ منورہ سے ہجرت کرکے شام کے شہر حلب کی طرف چلے گئے، کہ شہر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں رہتے ہوئے انہیں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں گزرے ہوئے شب و روز یاد آجاتے اور گلی کوچوں میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خرام ناز کے مناظر بے اختیار آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے، جس کی وہ تاب نہ لا سکتے تھے۔

شارحِ صحیح البخاری اِمام کرمانی (717۔ 786ھ) نقل کرتے ہیں کہ جب آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے قلبِ مضطر کی وجہ سے شہر مدینہ چھوڑنے کاارادہ کر لیا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اس ارادے کا علم ہوا تو آپ نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ پہلے کی طرح مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اذان دیتے رہیں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے جواباً عرض کیا :

إني لا أريد المدينة بدون رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ولا أتحمل مقام رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خالياً عنه.

’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر اب مدینہ میں جی نہیں لگتا اور نہ ہی مجھ میں ان خالی و افسردہ مقامات کو دیکھنے کی قوت ہے جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔‘‘

کرماني، الکواکب الدراري في شرح صحيح البخاري، 15 : 24

صحیح البخاری میں آپ رضی اللہ عنہ کا جواب ان الفاظ میں منقول ہے :

يا أبا بکر! إن کنت إنما اشتريتني لنفسک فأمسکني، وإن کنت إنما اشتريتني ﷲ فدعني.

’’اے ابوبکر! اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا تھا تو مجھے روک لیں، اور اگر اللہ کی رضا کی خاطر خریدا تھا تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة ث، باب مناقب بلال بن رباح ص، 3 : 1371، رقم : 3545
2. ابن أبي شيبة، المصنف، 6 : 396، رقم : 32336
3. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 337، رقم : 1010
4. ابن سعد، الطبقات الکبري، 3 : 238
5. مقريزي، إمتاع الأسماع بما للنبي صلي الله عليه وآله وسلم من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع، 10 : 132، 133
6. محب طبري، الرياض النضرة في مناقب العشرة، 2 : 24
7. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1 : 481

موسیٰ بن محمد بن حارث تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :

لمّا توفي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أذن بلال ورسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لم يقبر، فکان إذا قال : أشهد أن محمداً رسول اﷲ انتحب الناس في المسجد. قال : لما دفن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال له أبوبکر : أذن، فقال : إن کنت إنما أعتقتني لأن أکون معک فسبيل ذلک، وإن کنت اعتقتني ﷲ فخلني ومن أعتقتني له، فقال : ما أعتقتک إلا ﷲ. قال فإني لا أؤذن لأحد بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم .

’’جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اُس وقت اذان کہی کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن بھی نہ ہوئے تھے۔ جب انہوں نے اشھد ان محمدا رسول اﷲ کہا تو لوگوں کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن کر دیے گئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا : اذان کہیں۔ اُنہوں نے کہا : اگر آپ نے مجھے اس لئے آزاد کیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو اس کا راستہ یہی ہے، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کے لئے آزاد کیا ہے تو مجھے اور اُسے چھوڑ دیجیے جس کے لئے آپ نے مجھے آزاد کیا ہے۔ تو اُنہوں نے کہا : میں نے تمہیں محض اللہ کے لئے آزاد کیا ہے۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : تو پھر میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کے لئے اذان نہ کہوں گا۔‘‘

1. بيهقي، السنن الکبري، 1 : 419، رقم : 1828
2. ابن سعد، الطبقات الکبري، 3 : 236، 237
3. أزدي، الجامع، 11 : 234
4. أبونعيم، حلية الأوليا وطبقات الأصفياء، 1 : 150، 151
5. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 439
6. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 10 : 361

اِس رِوایت کو عربی زبان کی معروف لغت ’’القاموس المحیط‘‘ کے مؤلف یعقوب فیروز آبادی (729۔ 817ھ) کامل سند کے ساتھ ذِکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

کذا ذکره ابن عساکر في ترجمة بلال رضی الله عنه، وذکره أيضاً في ترجمة إبراهيم بن محمد بن سليمان بسند آخر إلي محمد بن الفيض، فذکره سواء، وابن الفيض روي عن خلائق، وروي عنه جماعة، منهم : أبو أحمد بن عدي وأبو أحمد الحاکم، وأبوبکر ابن المقري في معجمه وآخرون.

’’جیسا کہ یہ روایت ابن عساکر نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حالات میں ذکر کی ہے اور اسے ابراہیم بن محمد بن سلیمان کے حالات میں ایک اور سند کے ساتھ بیان کیا اور وہ سند مشہور محدث محمد بن فیض تک جا پہنچتی ہے۔ ابن فیض نے یہ روایت کثیر محدثین سے نقل کی اور آگے ابن الفیض سے روایت کرنے والے بھی کثیر محدثین ہیں، جیسے : ابو احمد بن عدی، ابو احمد الحاکم، ابو بکر بن المقری اور دیگر محدثین۔‘‘

فيروز آبادي، الصلات و البشر في الصلاة علیٰ خير البشر : 187، 188

چنانچہ یہ کہہ کر کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، آپ شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ تقریباً چھ ماہ بعد خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زِیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

ما هذه الجفوة، يا بلال! أما آن لک أن تزورني؟

’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا کیوں چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘

خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر ’’لبیک یا سیدي یا رسول اﷲ‘‘ کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آ کر مل جاؤ، غلام حلب سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر اَنوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے : بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیوں کہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے مشورہ کیا کہ حسنین کریمین رضی اﷲ عنھما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

يا بلال! نشتهي نسمع أذانک الذي کنت تؤذن به لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في المسجد.

’’اے بلال! آج ہم آپ سے وُہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اِس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘

اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اُسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :

فلما أن قال : اﷲ أکبر، اﷲ أکبر، ارتجَّت المدينة، فلما أن قال : أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ، ازداد رجّتها، فلما قال : أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ، خرجت العواتق من خدورهن، و قالوا : بعث رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فما رُئي يوم أکثر باکياً ولا باکية بالمدينة بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من ذالک اليوم.

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بہ آوازِ بلند) اَﷲُ اَکْبَرُ اﷲُ اَکْبَرُ کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اِضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کے کلمات ادا کئے تو گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رِقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا)۔ لوگوں نے کہا : رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔‘‘

1. سبکي، شفاء السقام في زيارة خير الأنام صلي الله عليه وآله وسلم : 39، 40
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 7 : 97
3. ذهبي، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، 3 : 204، 205
4. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 358
5. فيروز آبادي، الصلات و البشر في الصلاة علي خير البشر صلي الله عليه وآله وسلم : 187

6۔ ھیتمی نے ’’الجوہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبوی المکرم المعظم (ص : 27)‘‘ میں کہا ہے کہ یہ واقعہ جید سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔

7. سخاوي، التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة : 221

8۔ شامی نے ’’سبل الھدیٰ و الرشاد فی سیرۃ خیر العباد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (12 : 359)‘‘ میں کہا ہے کہ یہ واقعہ ابن عساکر نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

9. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون، 2 : 308، 309

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اَذانِ بلال کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

اذاں اَزل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اِک بہانہ بنی

 اِقبال، کلیات (اُردو)، بانگِ درا : 81
(6) حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما کی کیفیتِ غم

کتب احادیث و سیر میں ان کے حوالے سے ایک روایت ہے :

ما ذکر ابن عمر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إلا بکي، و لا مرّ علي ربعهم إلا غمض عينيه.

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے رو پڑتے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ٹھکانوں پر گزرتے آنکھیں بند کر لیتے تھے۔‘‘

1. بيهقي، المدخل إلي السنن الکبري، 1 : 148، رقم : 113
2. عسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، 4 : 187
3. ذهبي، تذکرة الحفاظ، 1 : 38
(7) فراقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی بینائی جاتی رہی

حضرت عبداللہ بن زیدص کے بارے میں منقول ہے کہ جب انہیں ان کے بیٹے نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کی خبر دی تو اُس وقت وہ اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کی خبر سن کر غمزدہ ہوگئے اور بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر اُنہوں نے اُسی وقت یہ دعا مانگی :

اللهم! أذهب بصري حتي لا أدري بعد حبيبي محمداً أحداً.

’’اے اللہ! میری بینائی اُچک لے کیونکہ میں اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو دیکھنا نہیں چاہتا۔‘‘

1. قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 3 : 279
2. زرقاني، شرح المواهب اللدنية، 9 : 84، 85

پس اُس صحابی کی دعا قبول ہوئی اور ان کی بینائی لے لی گئی۔

حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

إن رجلاً من أصحاب محمد ذهب بصره فعادوه.

’’حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے ایک صحابی کی بینائی (فراقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) جاتی رہی تو لوگ ان کی عیادت کے لئے گئے۔‘‘

جب ان کی بینائی ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا گیا تو وہ کہنے لگے :

کنتُ أريدهما لأنظر إلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فأما إذا قُبض النبي، فواﷲ ما يسّرني أن بهما بظبي من ظباء تبالة.

’’میں ان آنکھوں کو فقط اس لئے پسند کرتا تھا کہ ان کے ذریعے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار نصیب ہوتا تھا۔ اب چوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے اس لئے اگر مجھے چشمِ غزال (ہرن کی آنکھیں) بھی مل جائیں تو کوئی خوشی نہ ہو گی۔‘‘

بخاري، الأدب المفرد، 1 : 188، رقم : 533
(8) وصالِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اِظہارِ غم کے دیگر واقعات

1۔ امام آلوسی نقل کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد تڑپاتی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار فرحت آثار کے لیے نکل کھڑے ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبارک حجروں میں تلاش کرتے۔

فجاء إلي ميمونة رضي اﷲ عنها، فأخرجت له مرأته، فنظر فيها، فرأي صورة رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ولم ير صورة نفسه.

’’پھر وہ حضرت میمونہ رضي اﷲ عنھا کے ہاں آ جاتے۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذاتی آئینہ اُس صحابی رضی اللہ عنہ کو دے دیتیں (جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنا چاہتا)۔ جب وہ صحابی رضی اللہ عنہ اُس آئینہ مبارک میں دیکھتا تو اسے اپنی صورت کی بجائے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت نظر آتی۔‘‘

آلوسي، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، 22 : 39

2۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے بارے منقول ہے :

أنه کان إذا سمع الحديث أخذه العويل والزويل.

’’جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنتے تو ان کی حالت غیر ہو جاتی اور چیخ چیخ کر روتے۔‘‘

(3) قاضي عياض، الشفا بتعريف حقوق المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 598

3۔ ایک روایت میں ہے :

أن امرأة قالت لعائشة : اکشفي لي قبر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، فکشفته لها، فبکت حتي ماتت.

’’ایک عورت نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے کہا : مجھے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اَنور کا دروازہ کھول دیں، (میں مزارِ اَقدس کی زیارت کرنا چاہتی ہوں)۔ پس سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا نے اس کے لیے کھول دیا، وہ عورت (ہجرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدمے سے) بہت روئی حتی کہ واصل بہ حق ہوگئی۔‘‘

1. قاضي عياض، الشفا بتعريف حقوق المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 570
2. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 2 : 204، رقم : 203
3. ملا علي قاري، شرح الشفا، 2 : 44

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اِسی سوز و گداز کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

قوتِ قلب و جگر گردد نبی
اَز خدا مح</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں نے جشنِ میلاد کیوں نہیں منایا؟</p>
<p>محبوبِ ربّ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت باسعادت پر اِظہارِ مسرت کرنا، محافلِ میلاد منعقد کرنا اور جشنِ عید منانا ایک مومن کے لیے سب سے بڑی سعادت ہے، مگر شومیء قسمت کہ بعض لوگ اس عظیم سعادت کو خلافِ شریعت عمل قرار دیتے ہیں۔ وہ لوگ اس کے عدمِ جواز پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جشنِ میلاد قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں کے عمل سے ثابت نہیں، اس کا آغاز بعد کے اَدوار میں ہوا ہے۔ نیز یہ کہ حضور ختمی مرتبت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وِصال مبارک کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جشنِ میلاد کیوں نہ منایا؟ زیرِ نظر باب میں ہم اُس دور کے معروضی حالات کی روشنی میں اِس کے اَسباب کی توضیح بیان کریں گے۔<br />
1۔ صحابہ رضی اللہ عنھم کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سانحۂ اِرتحال اِنتہائی غم اَنگیز تھا</p>
<p>حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت مسلمانانِ عالم کے لیے دنیا کی تمام خوشیوں اور مسرتوں سے بڑھ کر ہے۔ قرنِ اَوّل کے مسلمانوں کے لیے بالعموم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لیے بالخصوص اِس دنیائے آب و گل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے بڑی اہم خبر اور کیا ہو سکتی تھی! صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق اور جاں نثار تھے ان سے بڑھ کر اس نعمتِ عظمیٰ کا قدردان اور کون ہو سکتا تھا! اس پر اِظہارِ فرحت و مسرت جس طرح وہ کر سکتے تھے آج کے دور کے مسلمان اس کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد اگر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یومِ ولادت تزک و اِحتشام سے نہیں منایا تو اس کی ایک خاص وجہ تھی۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یومِ ولادت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کا دن بھی تھا، سرکارِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر غم و آلام کا ایک کوہِ گراں ٹوٹ گیا، اس لیے جب ان کی زندگی میں بارہ ربیع الاول کا دن آتا تو وصال کے صدمے تلے ولادت کی خوشی دب جاتی اور جدائی کا غم اَز سرِ نو تازہ ہو جاتا۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی یادوں کے جَلَو میں بارہ ربیع الاول کا دن آتا تو خوشی و غم کی کیفیتیں مل جاتیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم وصالِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد کر کے صدمہ زدہ دلوں کے ساتھ خوشی کا اظہار نہ کر سکتے تھے۔ سو وہ ولادت کی خوشی میں جشن مناتے نہ وصال کے غم میں اَفسردہ ہوتے۔<br />
اِنسانی فطرت لمحاتِ غم میں خوشی کا کھلا اِظہار نہیں کرنے دیتی</p>
<p>روز مرّہ کا مشاہدہ ہے کہ جب کسی گھر میں کسی عزیز کی وفات ہو جائے جب کہ چند دنوں کے بعد اسی گھر میں شادی کی تقریب بھی منعقد ہونے والی ہو تو عام دستور یہی ہے کہ اُس غم کے باعث شادی ملتوی کردی جاتی ہے۔ اگر شادی کی تقریب ملتوی نہ بھی کی جائے تو نہایت سوگوار ماحول میں سادگی کے ساتھ منعقد ہوتی ہے۔ لیکن اسی گھر میں اگر اس سوگوار واقعہ کے پانچ، دس سال بعد شادی ہو تو بالعموم یہی دیکھا گیا ہے کہ شادی کا اہتمام رسم و رواج کے مطابق دھوم دھام سے کیا جاتا ہے اور اس موقع پر کوئی یہ نہیں کہتا کہ چند سال پہلے ان کا والد فوت ہوا تھا اب وہ دھوم دھام سے شادی کی خوشیاں منا رہے ہیں۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کے مطابق ایک عرصہ تک غم و اندوہ کا پہلو صبر و ضبط پر غالب رہتا ہے اور جوں جوں زمانہ بیت جاتا ہے صدمے کا اثر زائل ہو جاتا ہے جس کے باعث حالات معمول پر آتے ہی زندگی پرانی ڈگر پر رواں دواں ہو جاتی ہے۔<br />
2۔ کیفیاتِ غم کی شدت قرونِ اُولیٰ میں جشن منانے میں مانع تھی</p>
<p>بشری تقاضوں کے مطابق قرنِ اَوّل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کے غم کا پہلو زیادہ اثر آفریں تھا۔ ولادت اور وفات کا دن ایک ہونے کے باعث جب یومِ میلاد آتا تو ان پر غم کی کیفیات خوشی کی نسبت بڑھ جاتی تھیں۔</p>
<p>صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ایثار و قربانی کی ایک زندہ و تابندہ مثال تھے۔ وہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنبشِ اَبرو پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے۔ معیارِ ایمان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے غایت درجہ محبت تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یومِ وصال ان کے لیے سب سے عظیم سانحہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کی اَلم ناک خبر کس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر قیامت بن کر ٹوٹی ہوگی، لمحاتِ غم کی شدت میں غلاموں نے کس طرح اپنے آپ کو سنبھالا ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ وہ تو ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے آقا کی جدائی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُن کے جذباتی اور عشقی تعلق کی کیفیت یہ تھی کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ظاہری حیاتِ مبارکہ سے پردہ فرما گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جری اور قوی دل صحابی یہ صدمہ برداشت نہ کر سکنے کے باعث خود پر قابو نہ رکھ سکے۔</p>
<p>صحابہ کرام اور اہلِ بیتِ اَطہار رضی اللہ عنھم کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کی خبر اندوہ ناک اور ہوش رُبا تھی کیوں کہ ان کا محبوب ان سے جدا ہو گیا تھا۔ اپنی محبوب ترین ہستی کے بچھڑ جانے پر جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا یہ ردِ عمل ایک فطری اَمر تھا، اس لیے کہ انہوں نے اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنا وطن، عزیز و اَقارب، مال و دولت، بیوی بچے، الغرض سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ جب وہ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے درمیان ظاہری طور پر نہ دیکھتے تھے تو ان کی کیفیت دگرگوں ہو جاتی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسا کاری زخم بھی لگ سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جن جذبات اور احساسات کا اظہار کیا ان کی ایک جھلک ذیل میں دیکھی جا سکتی ہے:<br />
(1) سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات کا سبب فراقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا</p>
<p>حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد اِمامِ عشاقانِ مصطفیٰ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہر وقت اپنے محبوب کے ہجر میں تڑپتے تھے، اور آپ کی وفات کا سبب بھی محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کا غم تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں :</p>
<p>کان سبب موت أبي بکر موت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما زال جسمه يجري حتٰي مات.</p>
<p>’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا سبب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال (کا غم) تھا، یہی وجہ ہے کہ فراق میں آپ کا جسم نہایت ہی کمزور ہو گیا تھا حتی کہ آپ کا اِنتقال ہو گیا۔‘‘</p>
<p>1. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 3 : 63، 64، رقم : 4410<br />
2. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 263<br />
3. سيوطي، مسند أبي بکر الصديق : 198، رقم : 631</p>
<p>حضرت زیاد بن حنظلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :</p>
<p>کان سبب موت أبي بکر الکمد علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.</p>
<p>’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا سبب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال پر ہونے والا حزن و اَلم تھا۔‘‘</p>
<p>سيوطي، مسند أبي بکر الصديق : 198، رقم : 632<br />
(2) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ردِ عمل</p>
<p>حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کی خبر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی مضبوط قوتِ اِرادی کی حامل جری و بہادر شخصیت کے خرمنِ ہوش پر بجلی کی طرح گری۔ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور شدتِ غم سے کہنے لگے : ’’اگر کسی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصال فرما گئے ہیں تو میں اُس کا سر قلم کر دوں گا۔‘‘(1) اِس موقع پر اُنہوں نے جن جذبات کا اِظہار کیا کتبِ سیر و تاریخ میں اس کے اَلفاظ یوں وارِد ہوتے ہیں :</p>
<p>طبري، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 233</p>
<p>إن رجالاً من المنافقين يزعمون : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قد توفي، وإن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما مات، ولکنه ذهب إلي ربه کما ذهب موسي بن عمران، فقد غاب عن قومه أربعين ليلة، ثم رجع إليهم بعد أن قيل : مات، وواﷲ! ليرجعَنّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کما رجع موسي، فليقطعن أيدي رجال و أرجلهم زعموا : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم مات.</p>
<p>’’منافق گمان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے ہیں، حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات نہیں پائی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُسی طرح اپنے رب کی طرف چلے گئے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام گئے تھے۔ وہ اپنی قوم سے چالیس راتیں غائب رہے، پھر وہ ان کی طرف اس حال میں لوٹے کہ ان کے وصال کی خبر پھیلا دی گئی تھی۔ خدا کی قسم! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح لوٹ آئیں گے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام لوٹ آئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور اُن لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹیں گے جنہوں نے یہ گمان کیا ہوگا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت واقع ہوگئی ہے۔‘‘</p>
<p>1. ابن اسحاق، السيرة النبوية : 713<br />
2. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 196، رقم : 13051<br />
3. ابن حبان، الصحيح، 14 : 588، رقم : 6620<br />
4. ابن هشام، السيرة النبوية : 1134<br />
5. ابن سعد، الطبقات الکبري، 2 : 270<br />
6. ابن أثير، الکامل في التاريخ، 2 : 187<br />
7. سهيلي، الروض الأنف في تفسير السيرة النبوية لابن هشام، 4 : 443<br />
8. سيوطي، الدر المنثور في التفسير بالماثور، 2 : 377</p>
<p>حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ ردِ عمل اگرچہ جذباتی تھا لیکن اسے ہرگز غیر فطری نہیں کہا جا سکتا، کیوں کہ اپنی جان سے زیادہ محبوب ہستی کی جدائی کے صدمہ میں وقتی طور پر کسی انسان کا جذبات سے مغلوب ہو جانا ایک فطری اَمر ہے۔</p>
<p>حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے عہدِ خلافت میں رعایا کی خبر گیری کے لئے راتوں کو گشت کیا کرتے تھے۔ اس طرح آپ آخرت میں جواب دہی کا احساس اپنے اندر ہر وقت زندہ رکھتے تھے۔ حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ایک رات آپ عوام کی خدمت کے لیے رات کو نکلے تو آپ نے دیکھا کہ ایک گھر میں چراغ جل رہا ہے اور ایک بوڑھی خاتون اُون کاتتے ہوئے ہجر و فراق میں ڈوبے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہی ہے :</p>
<p>علي محمد صلاةُ الأبرار<br />
صلي عليک المصطفون الأخيار<br />
قد کنتَ قَواماً بکي الأسحار<br />
يا ليتَ شِعري والمنايا أطوار<br />
هل تَجمَعني وحَبِيبِي الدَّار</p>
<p>1. ابن مبارک، الزهد : 362، 363، رقم : 1024<br />
2. قاضي عياض، الشفا بتعريف حقوق المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 569<br />
3. ملا علي قاري، شرح الشفا، 2 : 42، 43</p>
<p>(محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صالحین کا درود ہو۔ منتخب اور بہترین لوگوں نے اُن پر درود بھیجا (اور بھیج رہے ہیں)۔ آپ راتوں کو اللہ کی یاد میں کثیر قیام کرنے والے اور آخرِ شب (یادِ اِلٰہی میں) آنسو بہانے والے تھے۔ ہائے افسوس! اَسبابِ موت متعدد ہیں، کاش! مجھے یقین ہوجائے کہ روزِ قیامت مجھے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب نصیب ہوسکے گا۔)</p>
<p>یہ اَشعار سن کر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جیسے بہادر انسان کی آنکھیں بھی اَشک بار ہوگئیں۔ یادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تڑپانے لگی۔ اِمامِ اَعظم ابو حنیفہ (80۔ 150ھ) کے شاگرد، اِمام بخاری (194۔ 256ھ) کے اُستاد اور امیر المؤمنین فی الحدیث ’’اِمام عبد اﷲ بن مبارک (118۔ 181ھ)‘‘ لکھتے ہیں :</p>
<p>فجلس عمر يبکي فما زال يبکي حتي قرع الباب عليها، فقالت : من هذا؟ قال : عمر بن الخطاب. فقالت : ما لي ولعمر؟ وما يأتي بعمر هذه الساعة؟ فقال : افتحي، رحمکِ اﷲ، ولا بأس عليک، ففتحت له، فدخل. وقال : ردّي علي الکلمات التي قلت آنفا، فردّته عليه، فلما بلغت آخره، قال : أسألکِ أن تدخلني معکما. قالت : وعمر، فاغفرله يا غفار. فرضي عمر ورجع.</p>
<p>’’پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ کر رونے لگے، اور روتے رہے یہاں تک کہ اُنہوں نے دروازہ پر دستک دی۔ خاتون نے پوچھا : کون ہے؟ آپ نے کہا : عمر بن خطاب۔ خاتون نے کہا : میرا عمر کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ رات کے اِن اَوقات میں عمر کو یہاں کیا کام؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تجھ پر رحم فرمائے، تو دروازہ کھول، تجھے کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ تو اس نے آپ کے لیے دروازہ کھولا، آپ اندر داخل ہوگئے اور کہا : جو اَشعار تو ابھی پڑھ رہی تھی انہیں دوبارہ پڑھ۔ پس اس نے دوبارہ وہ اَشعار پڑھے اور جب آخر پر پہنچی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ان دونوں کے ساتھ مجھے بھی شامل کرلے۔ اُس نے کہا : اے غفار! تو عمر کی بھی مغفرت فرما۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ اِس پر راضی ہوگئے اور واپس لوٹ آئے۔‘‘</p>
<p>1. ابن مبارک، الزهد : 362، 363، رقم : 1024<br />
2. خفاجي، نسيم الرياض في شرح شفاء القاضي عياض، 4 : 428، 429</p>
<p>بقول قاضی سلیمان منصور پوری سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے بعد چند دن تک صاحبِ فراش رہے(1) اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کی عیادت کے لئے آتے رہے۔</p>
<p>منصور پوري، رحمة للعالمين صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 343<br />
(3) سیدۂ کائنات فاطمۃ الزہراء سلام اﷲ علیھا کا اِظہارِ غم</p>
<p>خاتونِ جنت، سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ الزہراء سلام اﷲ علیھا کو یہ لازوال اعزاز حاصل ہے کہ وہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لختِ جگر تھیں۔ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے حد محبت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی انہیں اپنی جان کا حصہ قرار دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر سیدہ کائنات سلام اﷲ علیھا کی بے قراری و سوگواری کے واقعات تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں :</p>
<p>(1) حضرت مسور بن مخرمہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :</p>
<p>فاطمة بضعة منّي.</p>
<p>’’فاطمہ میری جان کا حصہ ہے۔‘‘</p>
<p>1. بخاري، الصحيح، کتاب المناقب، باب مناقب قرابة رسول اﷲ، 3 : 1361، رقم : 3510<br />
2. بخاري، الصحيح، کتاب المناقب، باب مناقب فاطمة، 3 : 1347، رقم : 3556<br />
3. مسلم، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب فاطمة بنت النبي، 4 : 1903، رقم : 2449</p>
<p>1۔ سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اﷲ علیہا کا وِصال حضور نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اہلِ بیت میں سے سب سے پہلے ہوا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اِس بارے میں مختلف روایات ہیں : سیدۂ کائنات سلام اﷲ علیہا کا وِصال حضور نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال مبارک کے چھ (6) ماہ بعد ہوا۔ بعضوں نے آٹھ (8) ماہ کہا ہے، بعضوں نے سو (100) دن اور بعضوں نے (70) دن کہا ہے، جب کہ صحیح قول چھ (6) ماہ کا ہی ہے۔ وِصال کے وقت سیدۂ کائنات سلام اﷲ علیہا کی عمر مبارک اُنتیس (29) سال تھی۔ آپ نے منگل کی رات 3 رمضان المبارک 11ھ کو وفات پائی۔ سیدۂ کائنات سلام اﷲ علیہا کی اِتنی کم عمری میں وفات کا سبب یہ ہے کہ آپ اپنے ابا جان تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کا غم برداشت نہ کر سکیں، آپ اکثر غمگین رہتیں اور حضور نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کے بعد کبھی آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور حق بھی یہی تھا۔</p>
<p>1. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 3 : 176، رقم : 4761<br />
2. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي : 101<br />
3. ابن جوزي، صفة الصفوة، 2 : 8، 9<br />
4. ابن اثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة ث، 7 : 221</p>
<p>(2) 1. دولابي، الذرية الطاهرة : 111، رقم : 212<br />
2. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربيٰ : 103<br />
3. ابن اثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة ث، 7 : 221<br />
4. ابن رجب حنبلي، لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف : 214</p>
<p>2۔ اِمام بخاری (194۔ 256ھ) کی الصحیح میں بیان کی گئی روایت کے مطابق حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ کائنات سلام اﷲ علیھا کو اپنے والد گرامی کی جدائی اتنی شاق گزری کہ بے ساختہ پکار اٹھیں :</p>
<p>يا أبتاه! أجاب رباً دعاه<br />
يا أبتاه! مَن جنةُ الفردوس مأواه<br />
يا أبتاه! إلي جبريل ننعاه</p>
<p>’’اے ابا جان! آپ نے (اپنے) رب کا بلاوا قبول فرمایا۔ اے ابا جان! آپ جنت الفردوس میں قیام پذیر ہیں۔ اے ابا جان! میں اس غم کی خبر جبرئیل علیہ السلام کو سناتی ہوں۔‘‘</p>
<p>1. بخاري، الصحيح، کتاب المغازي، باب مرض النبي صلي الله عليه وآله وسلم ووفاته، 4 : 1619، رقم : 4193<br />
2. أحمد بن حنبل، 3 : 197، رقم : 13054<br />
3. دارمي، السنن، 1 : 41، رقم : 88<br />
4. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 416، رقم : 1029<br />
5. ابن کثير، البداية والنهاية، 4 : 254</p>
<p>3۔ ابن ماجہ (209۔ 273ھ) کی السنن میں بیان کی گئی روایت کے مطابق سیدہ فاطمہ سلام اﷲعلیھا نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال پر درج ذیل اَشعار کہے :</p>
<p>وا أبتاه! إلي جبرائيل أنعاه<br />
وا أبتاه! مِن ربه ما أدناه<br />
وا أبتاه! جنة الفردوس مأواه<br />
وا أبتاه! أجاب رباً دعاه</p>
<p>’’ہائے اباجان! میں اس غم کی خبر جبرئیل علیہ السلام کو سناتی ہوں۔ ہائے اباجان! آپ اپنے رب کے کتنے نزدیک ہوگئے۔ ہائے اباجان! آپ جنت الفردوس میں قیام پذیر ہیں۔ ہائے اباجان! آپ نے (اپنے) رب کا بلاوا قبول فرما لیا۔‘‘</p>
<p>1. ابن ماجه، السنن، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته ودفنه صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 103، رقم : 1630<br />
2. نسائي، السنن، کتاب الجنائز، باب في البکاء علي الميت، 4 : 12، رقم : 1844<br />
3. ابن حبان، الصحيح، 14 : 591، 592، رقم : 6622<br />
4. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 1 : 537، رقم : 1408<br />
5. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 3 : 61، رقم : 4396<br />
6. ابن سعد، الطبقات الکبري، 2 : 311<br />
7. ذهبي، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام (السيرة النبوية)، 1 : 562</p>
<p>4۔ اِمام بخاری (194۔ 256ھ) الصحیح میں روایت کرتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے تو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیھا فرطِ رنج و اَلم سے بے ساختہ اُن سے کہنے لگیں :</p>
<p>يا أنس! أطابت أنفسکم أن تحثوا علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم التراب.</p>
<p>’’اے انس! کیا تمہارے دلوں نے اِس بات کو گوارا کر لیا کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹی ڈالو؟‘‘</p>
<p>1. بخاري، الصحيح، کتاب المغازي، باب مرض النبي صلي الله عليه وآله وسلم ووفاته، 4 : 1619، رقم : 4193<br />
2. أبو يعلي، المسند، 6 : 110، رقم : 3379<br />
3. عبد بن حميد، المسند، 1 : 402، رقم : 1364<br />
4. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 1 : 537، رقم : 1408<br />
5. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 416، رقم : 1029<br />
6. بيهقي، السنن الکبري، 3 : 409، رقم : 6519</p>
<p>5۔ اِمام احمد بن حنبل (164۔ 241ھ) المسند میں روایت کرتے ہیں کہ سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیھا نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ کہا :</p>
<p>يا أنس! أطابت أنفسکم أن دفنتم رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في التراب ورجعتم.</p>
<p>’’اے انس! کیا تمہارے دلوں نے اس بات کو گوارا کر لیا کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مٹی میں دفن کرکے واپس چلے آؤ۔‘‘</p>
<p>1. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 204، رقم : 13139<br />
2. ابن کثير، البداية والنهاية، 4 : 254<br />
3. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 3 : 493</p>
<p> حضرت حماد رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور مشہور تابعی حضرت ثابت البنانی رضی اللہ عنہ یہ روایت بیان کرتے تو :</p>
<p>بکي حتي تختلف أضلاعه.</p>
<p>’’وہ اتنا روتے کہ ان کی پسلیاں اپنی جگہ سے ہل جایا کرتی تھیں۔‘‘</p>
<p>ابن جوزي، الوفاء بأحوال المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم : 803</p>
<p>6۔ اِمام طبرانی (260۔ 360ھ) المعجم الکبیر میں روایت کرتے ہیں :</p>
<p>فلما انصرف الناس قالت فاطمة لعليّ رضی الله عنه : يا أبا الحسن! دفنتم رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ قال : نعم. قالت فاطمة رضي اﷲ عنها : کيف طابت أنفسکم أن تحثوا التراب علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ أما کان في صدورکم لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الرحمة؟ أما کان معلم الخير؟ قال : بلي، يا فاطمة! ولکن أمر اﷲ الذي لا مرد لهز فجعلت تبکي وتندب، وهي تقول : يا أبتاه! الآن انقطع جبريل عليه السلام، وکان جبريل يأتينا بالوحي من السماء.</p>
<p>’’جب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تدفین کے بعد) واپس آئے تو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیھا نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : تمہارے دلوں نے کیسے گوارا کر لیا کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ کیا تمہارے دلوں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے رحمت نہیں تھی؟ کیا وہ بھلائی کی تعلیم دینے والے نہیں تھے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے فاطمہ! کیوں نہیں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تمام خوبیوں کا جامع تھے)، لیکن خدا کا حکم کوئی نہیں ٹال سکتا۔ پس سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیھا نے رونا شروع کر دیا، آپ کی ہچکی بندھ گئی، اور یہ کہتے جاتی تھیں : اے ابا جان! اب جبریل علیہ السلام کی آمد کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا ہے جو آسمان سے وحی لے کر اترتے تھے۔‘‘</p>
<p>1. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 64، رقم : 2676<br />
2. ابو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 4 : 79</p>
<p>7۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بالعموم مغموم رہتے، حتی کہ بعض نے مسکرانا ہی ترک کر دیا۔ حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ سیدہ عالم حضرت فاطمۃ الزہراء رضي اﷲ عنھا کے بارے میں بیان کرتے ہیں :</p>
<p>ما رأيت فاطمة رضي اﷲ عنها ضاحکة بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.</p>
<p>’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال مبارک کے بعد کبھی بھی حضرت فاطمۃ الزہراء رضي اﷲ عنھا کو مسکراتے نہیں دیکھا۔‘‘</p>
<p>ابن جوزي، الوفاء بأحوال المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم : 803</p>
<p>8۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیھا آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزارِ اَقدس پر حاضر ہوتیں تو آپ کی کیفیت اس طرح ہوتی کہ</p>
<p>أخذت قبضة من تراب القبر، فوضعته علي عينيها، فبکت وانشأت تقول :</p>
<p>ماذا ممن شم تربة أحمد<br />
أن لا يشم مدي الزمان خواليا</p>
<p>صبت عليّ مصائب لو أنها<br />
صبت علي الأيام صرن لياليا</p>
<p>’’قبرِ اَنور کی مٹی مبارک اُٹھا کر آنکھوں پر لگا لیتیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد میں رو رو کر یہ اَشعار پڑھتیں :</p>
<p>(جس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزارِ اَقدس کی خاک کو سونگھ لیا ہے اسے زندگی میں کسی دوسری خوشبو کی ضرورت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کی وجہ سے مجھ پر جتنے عظیم مصائب آئے ہیں اگر وہ دنوں پر اُترتے تو وہ راتوں میں بدل جاتے۔)</p>
<p>1. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 2 : 134<br />
2. ابن قدامة، المغني، 2 : 213</p>
<p>اِس غم ناک صورت حال میں جب سیدہ کائنات سلام اﷲ علیہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے موت کو خوش دلی سے قبول کیا کیونکہ موت انہیں ربِ ذُوالجلال اور اپنے ابا جان سے ملانے والی تھی۔ اس کیفیت کا ذکر اَئمہ و محدثین نے یوں کیا ہے :</p>
<p>عن أم سلمة رضي اﷲ عنها قالت : اشتکت فاطمة سلام اﷲ عليها شکواها التي قبضت فيه، فکنت أمرضها فأصبحت يوما کأمثل ما رأيتها في شکواها تلک، قالت : وخرج عليّ لبعض حاجته، فقالت : يا أمه، اسکبي لي غسلاً، فسکبت لها غسلاً فاغتسلت کأحسن ما رأيتها تغتسل، ثم قالت : يا أمه، أعطيني ثيابي الجدد، فأعطيتها فلبستها، ثم قالت : يا أمه، قدمي لي فراشي وسط البيت، ففعلت واضطجعت واستقبلت القبلة وجعلت يدها تحت خدها، ثم قالت : يا أمه، إني مقبوضة الآن وقد تطهرت، فلا يکشفني أحد فقبضت مکانها، قالت : فجاء عليّ فأخبرته.</p>
<p>’’حضرت ام سلمیٰ رضي اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدۂ فاطمہ سلام اﷲ علیہا اپنی مرضِ موت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی۔ مرض کے اس پورے عرصہ کے دوران میں جہاں تک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے۔ سیدہ نے کہا : امی جان! میرے غسل کرنے کے لیے پانی لائیں۔ میں پانی لائی، آپ نے اچھی طرح غسل کیا۔ پھر فرمایا : امی جان! مجھے نیا لباس دیں۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ اسے آپ نے زیبِ تن فرمایا اور قبلہ رُخ ہو کر لیٹ گئیں، ہاتھ مبارک رُخسار مبارک کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا : امی جان! اب میری وفات ہوگی، میں پاک ہو چکی ہوں، لہٰذا کوئی مجھے (غسل دینے کے لیے) بے پردہ نہ کرے۔ پس اسی جگہ آپ کی وفات ہوگئی۔ حضرت اُم سلمیٰ کہتی ہیں : بعد ازاں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ تشریف لائے اور میں نے انہیں سیدہ کے وِصال کی اطلاع دی۔‘‘</p>
<p>1. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 461، 462، رقم : 27656<br />
2. أحمد بن حنبل، فضائل الصحابة، 2 : 629، 725، رقم : 1074، 1243<br />
3. دولابي، الذرية الطاهرة : 113<br />
4. هيثمي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 9 : 211<br />
5. زيلعي، نصب الراية لأحاديث الهداية، 2 : 250<br />
6. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربيٰ : 103<br />
7. ابن أثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة ث، 7 : 221</p>
<p>اَصحابِ سیر و تاریخ نے لکھا ہے کہ سیدۂ کائنات سلام اﷲ علیہا کی وفات مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں ہوئی۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو رات کے وقت دفن کیا گیا اور سیدنا علی، سیدنا عباس اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنھم نے آپ کو لحد میں اتارا۔ یوں آپ اپنے ابا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملیں۔</p>
<p>1. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 3 : 177، 178، رقم : 4763 &#8211; 4765<br />
2. ابن أبي شيبة، المصنف، 3 : 31، رقم : 11826<br />
3. ابن أبي شيبة، المصنف، 7 : 25، رقم : 33938<br />
4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 4 : 31<br />
5. محب طبري، الرياض النضرة في مناقب العشرة، 1 : 175، 176<br />
6. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربيٰ : 104<br />
7. شيباني، الآحاد والمثاني، 5 : 355، رقم : 2937<br />
8. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 8 : 29<br />
9. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 2 : 8<br />
10. ابن أثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة ث، 7 : 221</p>
<p>جب محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی پر غم و اندوہ اور اِضطرابِ دل کی یہ کیفیت ہو اور یہی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا بھی ہو تو کس کے اندر اتنی تاب ہو سکتی تھی کہ وہ جشن ولادت منانے کا سوچے؟<br />
(4) حضرت اَنس رضی اللہ عنہ کے اِحساساتِ غم</p>
<p>حضرت اَنس رضی اللہ عنہ دس سال تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت پر مامور رہے، پیغمبرِ انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و کردار سے اتنے متاثر ہوئے کہ ہر وقت عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضائے کیف و سرور میں گم رہتے۔ جب تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ پر بھی قیامت ٹوٹ پڑی۔ جس شفیق ہستی کا ایک لمحہ کے لئے بھی آنکھوں سے اوجھل ہونا دل پر شاق گزرتا تھا، اس عظیم ہستی کی یاد میں آنکھیں اَشک بار رہتیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تبرکات کی زیارت کرتے تو دل کو اطمینان ہوتا۔ ذکرِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل سجاتے، خود بھی تڑپتے اور دوسروں کو بھی تڑپاتے۔</p>
<p>ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ تاجدارِ کائنات حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان فرما رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمانے لگے :</p>
<p>ولا مَسِسْتُ خزّة ولا حريرَة ألين من کف رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، ولا شَمِمْتُ مسکة ولا عبيرة أطيب رائحة من رائحة رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.</p>
<p>’’اور میں نے آج تک کسی دیباج اور ریشم کو مَس نہیں کیا جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور نہ کہیں ایسی خوشبو سونگھی جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اَطہر کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔‘‘</p>
<p>1. بخاري، الصحيح، کتاب الصوم، باب ما يذکر من صوم النبي صلي الله عليه وآله وسلم وأفطاره، 2 : 696، رقم : 1872<br />
2. مسلم، الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي صلي الله عليه وآله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 : 1814، رقم : 2330<br />
3. دارمي، السنن، المقدمة، باب في حسن النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 45، رقم : 61<br />
4. ابن حبان، الصحيح، 14 : 211، رقم : 6303<br />
5. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 107</p>
<p>حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اکثر خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوتی۔ مثنی بن سعید روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کویہ کہتے سنا :</p>
<p>ما من ليلة إلاّ وأنا أري فيها حبيبي، ثم يبکي.</p>
<p>’’(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال کے بعد) کوئی ایک رات بھی ایسی نہیں گزری جس میں میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نہ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ زار و قطار رونے لگے۔‘‘</p>
<p>1. ابن سعد، الطبقات الکبري، 7 : 20<br />
2. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 3 : 403</p>
<p>حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ میں آمد اور وصال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :</p>
<p>لما کان اليوم الذي دخل فيه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم المدينة أضاء منها کل شيء، فلما کان اليوم الذي مات فيه أظلم منها کل شيء.</p>
<p>’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری پر اُس کی ہر شے روشن ہو گئی، لیکن جس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو مدینہ کی ہر شے (میرے لیے) تاریک ہوگئی۔‘‘</p>
<p>1. ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في فضل النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، 6 : 13، رقم : 3618<br />
2. ابن ماجه، السنن، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته ودفنه صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 522، رقم : 1631<br />
3. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 268، رقم : 13857<br />
4. ابن حبان، الصحيح، 14 : 601، رقم : 6634<br />
5. أبو يعلي، المسند، 6 : 51، 110، رقم : 3296، 3378<br />
6. مقدسي، الأحاديث المختارة، 4 : 418، 419، رقم : 1592، 1593</p>
<p>حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یوں محسوس کیا کہ وہ شہر جس میں ہم صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نہ ہونے کے باعث تاریک نظر آنے لگا۔</p>
<p>شیخ اِبراہیم بیجوری حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اِس قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :</p>
<p>استنار من المدينة الشريفة کل شيء نوراً حسياً ومعنوياً، لأنه صلي الله عليه وآله وسلم نور الأنوار والسراج الوهاج ونور الهداية العامة ورفع الظلمة التامة، وقوله : أظلم منها کل شيء، أي لفقد النور والسراج منها فذهب ذالک النور بموته.</p>
<p>’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مدینہ کی ہر شے نورِ ظاہری اور نورِ باطنی سے روشن ہوگئی، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس تمام انوار کا سرچشمہ، روشن چراغ، تمام عالم کے لیے نورِ ہدایت اور تمام ظلمات کے رفع کرنے کا مرکز ہے۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کی وجہ سے (کائنات کا) نور اور چراغ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا لہٰذا تمام روشنی تاریکی میں بدل گئی۔‘‘</p>
<p>بيجوري، المواهب اللدنيه علي الشمائل المحمدية : 287<br />
(5) فراقِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی کیفیتِ غم</p>
<p>مؤذنِ رسول و عاشق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی فراقِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برداشت نہ کر سکے اور مدینہ منورہ سے ہجرت کرکے شام کے شہر حلب کی طرف چلے گئے، کہ شہر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں رہتے ہوئے انہیں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں گزرے ہوئے شب و روز یاد آجاتے اور گلی کوچوں میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خرام ناز کے مناظر بے اختیار آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے، جس کی وہ تاب نہ لا سکتے تھے۔</p>
<p>شارحِ صحیح البخاری اِمام کرمانی (717۔ 786ھ) نقل کرتے ہیں کہ جب آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے قلبِ مضطر کی وجہ سے شہر مدینہ چھوڑنے کاارادہ کر لیا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اس ارادے کا علم ہوا تو آپ نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ پہلے کی طرح مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اذان دیتے رہیں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے جواباً عرض کیا :</p>
<p>إني لا أريد المدينة بدون رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ولا أتحمل مقام رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خالياً عنه.</p>
<p>’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر اب مدینہ میں جی نہیں لگتا اور نہ ہی مجھ میں ان خالی و افسردہ مقامات کو دیکھنے کی قوت ہے جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔‘‘</p>
<p>کرماني، الکواکب الدراري في شرح صحيح البخاري، 15 : 24</p>
<p>صحیح البخاری میں آپ رضی اللہ عنہ کا جواب ان الفاظ میں منقول ہے :</p>
<p>يا أبا بکر! إن کنت إنما اشتريتني لنفسک فأمسکني، وإن کنت إنما اشتريتني ﷲ فدعني.</p>
<p>’’اے ابوبکر! اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا تھا تو مجھے روک لیں، اور اگر اللہ کی رضا کی خاطر خریدا تھا تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔‘‘</p>
<p>1. بخاري، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة ث، باب مناقب بلال بن رباح ص، 3 : 1371، رقم : 3545<br />
2. ابن أبي شيبة، المصنف، 6 : 396، رقم : 32336<br />
3. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 337، رقم : 1010<br />
4. ابن سعد، الطبقات الکبري، 3 : 238<br />
5. مقريزي، إمتاع الأسماع بما للنبي صلي الله عليه وآله وسلم من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع، 10 : 132، 133<br />
6. محب طبري، الرياض النضرة في مناقب العشرة، 2 : 24<br />
7. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1 : 481</p>
<p>موسیٰ بن محمد بن حارث تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :</p>
<p>لمّا توفي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أذن بلال ورسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لم يقبر، فکان إذا قال : أشهد أن محمداً رسول اﷲ انتحب الناس في المسجد. قال : لما دفن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال له أبوبکر : أذن، فقال : إن کنت إنما أعتقتني لأن أکون معک فسبيل ذلک، وإن کنت اعتقتني ﷲ فخلني ومن أعتقتني له، فقال : ما أعتقتک إلا ﷲ. قال فإني لا أؤذن لأحد بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم .</p>
<p>’’جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اُس وقت اذان کہی کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن بھی نہ ہوئے تھے۔ جب انہوں نے اشھد ان محمدا رسول اﷲ کہا تو لوگوں کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن کر دیے گئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا : اذان کہیں۔ اُنہوں نے کہا : اگر آپ نے مجھے اس لئے آزاد کیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو اس کا راستہ یہی ہے، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کے لئے آزاد کیا ہے تو مجھے اور اُسے چھوڑ دیجیے جس کے لئے آپ نے مجھے آزاد کیا ہے۔ تو اُنہوں نے کہا : میں نے تمہیں محض اللہ کے لئے آزاد کیا ہے۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : تو پھر میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کے لئے اذان نہ کہوں گا۔‘‘</p>
<p>1. بيهقي، السنن الکبري، 1 : 419، رقم : 1828<br />
2. ابن سعد، الطبقات الکبري، 3 : 236، 237<br />
3. أزدي، الجامع، 11 : 234<br />
4. أبونعيم، حلية الأوليا وطبقات الأصفياء، 1 : 150، 151<br />
5. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 1 : 439<br />
6. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 10 : 361</p>
<p>اِس رِوایت کو عربی زبان کی معروف لغت ’’القاموس المحیط‘‘ کے مؤلف یعقوب فیروز آبادی (729۔ 817ھ) کامل سند کے ساتھ ذِکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :</p>
<p>کذا ذکره ابن عساکر في ترجمة بلال رضی الله عنه، وذکره أيضاً في ترجمة إبراهيم بن محمد بن سليمان بسند آخر إلي محمد بن الفيض، فذکره سواء، وابن الفيض روي عن خلائق، وروي عنه جماعة، منهم : أبو أحمد بن عدي وأبو أحمد الحاکم، وأبوبکر ابن المقري في معجمه وآخرون.</p>
<p>’’جیسا کہ یہ روایت ابن عساکر نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حالات میں ذکر کی ہے اور اسے ابراہیم بن محمد بن سلیمان کے حالات میں ایک اور سند کے ساتھ بیان کیا اور وہ سند مشہور محدث محمد بن فیض تک جا پہنچتی ہے۔ ابن فیض نے یہ روایت کثیر محدثین سے نقل کی اور آگے ابن الفیض سے روایت کرنے والے بھی کثیر محدثین ہیں، جیسے : ابو احمد بن عدی، ابو احمد الحاکم، ابو بکر بن المقری اور دیگر محدثین۔‘‘</p>
<p>فيروز آبادي، الصلات و البشر في الصلاة علیٰ خير البشر : 187، 188</p>
<p>چنانچہ یہ کہہ کر کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، آپ شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ تقریباً چھ ماہ بعد خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زِیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :</p>
<p>ما هذه الجفوة، يا بلال! أما آن لک أن تزورني؟</p>
<p>’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا کیوں چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘</p>
<p>خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر ’’لبیک یا سیدي یا رسول اﷲ‘‘ کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آ کر مل جاؤ، غلام حلب سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر اَنوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے : بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیوں کہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے مشورہ کیا کہ حسنین کریمین رضی اﷲ عنھما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :</p>
<p>يا بلال! نشتهي نسمع أذانک الذي کنت تؤذن به لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في المسجد.</p>
<p>’’اے بلال! آج ہم آپ سے وُہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اِس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘</p>
<p>اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اُسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :</p>
<p>فلما أن قال : اﷲ أکبر، اﷲ أکبر، ارتجَّت المدينة، فلما أن قال : أشهد أن لا إلٰه إلا اﷲ، ازداد رجّتها، فلما قال : أشهد أنّ محمداً رسول اﷲ، خرجت العواتق من خدورهن، و قالوا : بعث رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فما رُئي يوم أکثر باکياً ولا باکية بالمدينة بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من ذالک اليوم.</p>
<p>’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بہ آوازِ بلند) اَﷲُ اَکْبَرُ اﷲُ اَکْبَرُ کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اِضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کے کلمات ادا کئے تو گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رِقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا)۔ لوگوں نے کہا : رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔‘‘</p>
<p>1. سبکي، شفاء السقام في زيارة خير الأنام صلي الله عليه وآله وسلم : 39، 40<br />
2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 7 : 97<br />
3. ذهبي، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، 3 : 204، 205<br />
4. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 358<br />
5. فيروز آبادي، الصلات و البشر في الصلاة علي خير البشر صلي الله عليه وآله وسلم : 187</p>
<p>6۔ ھیتمی نے ’’الجوہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبوی المکرم المعظم (ص : 27)‘‘ میں کہا ہے کہ یہ واقعہ جید سند کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔</p>
<p>7. سخاوي، التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة : 221</p>
<p>8۔ شامی نے ’’سبل الھدیٰ و الرشاد فی سیرۃ خیر العباد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (12 : 359)‘‘ میں کہا ہے کہ یہ واقعہ ابن عساکر نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔</p>
<p>9. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون، 2 : 308، 309</p>
<p>علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اَذانِ بلال کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :</p>
<p>اذاں اَزل سے ترے عشق کا ترانہ بنی<br />
نماز اُس کے نظارے کا اِک بہانہ بنی</p>
<p> اِقبال، کلیات (اُردو)، بانگِ درا : 81<br />
(6) حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما کی کیفیتِ غم</p>
<p>کتب احادیث و سیر میں ان کے حوالے سے ایک روایت ہے :</p>
<p>ما ذکر ابن عمر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إلا بکي، و لا مرّ علي ربعهم إلا غمض عينيه.</p>
<p>’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے رو پڑتے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ٹھکانوں پر گزرتے آنکھیں بند کر لیتے تھے۔‘‘</p>
<p>1. بيهقي، المدخل إلي السنن الکبري، 1 : 148، رقم : 113<br />
2. عسقلاني، الإصابة في تمييز الصحابة، 4 : 187<br />
3. ذهبي، تذکرة الحفاظ، 1 : 38<br />
(7) فراقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی بینائی جاتی رہی</p>
<p>حضرت عبداللہ بن زیدص کے بارے میں منقول ہے کہ جب انہیں ان کے بیٹے نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کی خبر دی تو اُس وقت وہ اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کی خبر سن کر غمزدہ ہوگئے اور بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر اُنہوں نے اُسی وقت یہ دعا مانگی :</p>
<p>اللهم! أذهب بصري حتي لا أدري بعد حبيبي محمداً أحداً.</p>
<p>’’اے اللہ! میری بینائی اُچک لے کیونکہ میں اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو دیکھنا نہیں چاہتا۔‘‘</p>
<p>1. قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 3 : 279<br />
2. زرقاني، شرح المواهب اللدنية، 9 : 84، 85</p>
<p>پس اُس صحابی کی دعا قبول ہوئی اور ان کی بینائی لے لی گئی۔</p>
<p>حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :</p>
<p>إن رجلاً من أصحاب محمد ذهب بصره فعادوه.</p>
<p>’’حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے ایک صحابی کی بینائی (فراقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) جاتی رہی تو لوگ ان کی عیادت کے لئے گئے۔‘‘</p>
<p>جب ان کی بینائی ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا گیا تو وہ کہنے لگے :</p>
<p>کنتُ أريدهما لأنظر إلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فأما إذا قُبض النبي، فواﷲ ما يسّرني أن بهما بظبي من ظباء تبالة.</p>
<p>’’میں ان آنکھوں کو فقط اس لئے پسند کرتا تھا کہ ان کے ذریعے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار نصیب ہوتا تھا۔ اب چوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے اس لئے اگر مجھے چشمِ غزال (ہرن کی آنکھیں) بھی مل جائیں تو کوئی خوشی نہ ہو گی۔‘‘</p>
<p>بخاري، الأدب المفرد، 1 : 188، رقم : 533<br />
(8) وصالِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اِظہارِ غم کے دیگر واقعات</p>
<p>1۔ امام آلوسی نقل کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد تڑپاتی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار فرحت آثار کے لیے نکل کھڑے ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبارک حجروں میں تلاش کرتے۔</p>
<p>فجاء إلي ميمونة رضي اﷲ عنها، فأخرجت له مرأته، فنظر فيها، فرأي صورة رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ولم ير صورة نفسه.</p>
<p>’’پھر وہ حضرت میمونہ رضي اﷲ عنھا کے ہاں آ جاتے۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذاتی آئینہ اُس صحابی رضی اللہ عنہ کو دے دیتیں (جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنا چاہتا)۔ جب وہ صحابی رضی اللہ عنہ اُس آئینہ مبارک میں دیکھتا تو اسے اپنی صورت کی بجائے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت نظر آتی۔‘‘</p>
<p>آلوسي، روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، 22 : 39</p>
<p>2۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے بارے منقول ہے :</p>
<p>أنه کان إذا سمع الحديث أخذه العويل والزويل.</p>
<p>’’جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنتے تو ان کی حالت غیر ہو جاتی اور چیخ چیخ کر روتے۔‘‘</p>
<p>(3) قاضي عياض، الشفا بتعريف حقوق المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 598</p>
<p>3۔ ایک روایت میں ہے :</p>
<p>أن امرأة قالت لعائشة : اکشفي لي قبر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، فکشفته لها، فبکت حتي ماتت.</p>
<p>’’ایک عورت نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے کہا : مجھے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اَنور کا دروازہ کھول دیں، (میں مزارِ اَقدس کی زیارت کرنا چاہتی ہوں)۔ پس سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا نے اس کے لیے کھول دیا، وہ عورت (ہجرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدمے سے) بہت روئی حتی کہ واصل بہ حق ہوگئی۔‘‘</p>
<p>1. قاضي عياض، الشفا بتعريف حقوق المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 570<br />
2. ابن جوزي، صفوة الصفوة، 2 : 204، رقم : 203<br />
3. ملا علي قاري، شرح الشفا، 2 : 44</p>
<p>علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اِسی سوز و گداز کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :</p>
<p>قوتِ قلب و جگر گردد نبی<br />
اَز خدا مح</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by محمد  طارق راحیل</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2307</link>
		<dc:creator>محمد  طارق راحیل</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 10:23:34 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2307</guid>
		<description>پاکستان میں سکون ایسا ہی ہوتا ہے
آ سکتی ہیں تو آجائیں
بعد مین حالات اس سے بھی گئے گزرے ہو سکتے ہیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں سکون ایسا ہی ہوتا ہے<br />
آ سکتی ہیں تو آجائیں<br />
بعد مین حالات اس سے بھی گئے گزرے ہو سکتے ہیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by SHUAIB</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2305</link>
		<dc:creator>SHUAIB</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 04:59:21 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2305</guid>
		<description>صحیح بات کہی عبداللہ،
ہندوستان اور پاکستانی لوگوں کے خیالات اور حالات ایک جیسے ہی لگتے ہیں اور ہاں
ایکدوسرے کو نیچ گردانے پر ماہر بھی ہیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>صحیح بات کہی عبداللہ،<br />
ہندوستان اور پاکستانی لوگوں کے خیالات اور حالات ایک جیسے ہی لگتے ہیں اور ہاں<br />
ایکدوسرے کو نیچ گردانے پر ماہر بھی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by عبداللہ</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2303</link>
		<dc:creator>عبداللہ</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Mar 2010 22:42:42 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2303</guid>
		<description>ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بھارت میں جو ہندو غریب ہیں وہ سب نیچی زات سے تعلق رکھتے ہیں اور بھارت میں ہندو مسلم فساد اونچی ذات والے کرواتے ہیں تاکہ نیچی ذات کے ہندو اور مسلمانوں کو ایک ہونے سے روکا جاسکے،
اور یہاں پاکستان میں یہی کام وڈیرے،جاگیردار،سردار خان اور انکے حالی موالی کرواتے ہیں غریب مسلمانوں کو ایک ہونے سے روکنے کے لیئے!</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بھارت میں جو ہندو غریب ہیں وہ سب نیچی زات سے تعلق رکھتے ہیں اور بھارت میں ہندو مسلم فساد اونچی ذات والے کرواتے ہیں تاکہ نیچی ذات کے ہندو اور مسلمانوں کو ایک ہونے سے روکا جاسکے،<br />
اور یہاں پاکستان میں یہی کام وڈیرے،جاگیردار،سردار خان اور انکے حالی موالی کرواتے ہیں غریب مسلمانوں کو ایک ہونے سے روکنے کے لیئے!</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by عبداللہ</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2302</link>
		<dc:creator>عبداللہ</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Mar 2010 16:09:01 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2302</guid>
		<description>شعیب لگتا تو نہیں ہے لیکن شائد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>شعیب لگتا تو نہیں ہے لیکن شائد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by اظفر</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2301</link>
		<dc:creator>اظفر</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Mar 2010 09:19:38 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2301</guid>
		<description>تقدیر کے قاضی کا فتویٰ ہے یہ ازل سے۔
 ہے  جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

جب تک پاکستانی خود کچھ نہیں کرتے یہ سب ایسے ہی رہے گا۔ اس وقت تو یہی چل رہا ہے کہ  ہر الجھن کو مغربی ممالک کی سازش کہہ دیا جاتا ہے۔ 
شاید ہم ایسے ہی رہنا چاہتے ہیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>تقدیر کے قاضی کا فتویٰ ہے یہ ازل سے۔<br />
 ہے  جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات</p>
<p>جب تک پاکستانی خود کچھ نہیں کرتے یہ سب ایسے ہی رہے گا۔ اس وقت تو یہی چل رہا ہے کہ  ہر الجھن کو مغربی ممالک کی سازش کہہ دیا جاتا ہے۔<br />
شاید ہم ایسے ہی رہنا چاہتے ہیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by SHUAIB</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2300</link>
		<dc:creator>SHUAIB</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Mar 2010 05:30:48 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2300</guid>
		<description>عبداللہ،
میں جھگڑا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنا اظہار خیال کیلئے یہاں آیا
تعجب کی بات ہی ہے کہ بھارت میں ہندو مسلمان لڑتے ہیں مگر
پاکستان میں مسلمان اور پھر مسلمان ۔

گجرات کے دنگا فساد سیاسی تھے نا کہ ہندو مسلم
بھارت میں اکثر ہندو مسلمان کے بیچ فسادات ہوتے ہی رہتے ہیں اور اسکے پیچھے سیاست ہے۔
تم یہاں آکے دیکھو، ہندوؤں کے ریسٹورنٹ میں مسلمان اور مسلمانوں کے ریسٹورنٹ میں ہندو ہر دن کھانا کھانے آتے ہیں۔ اور یہاں مندر کے بازو میں مسجد اور مسجد کے بازو میں مندر ہوتے ہیں۔ صرف بتانا یہ تھا کہ پاکستانی اخبارات ہندوستانی مسلمانوں کو بے بس اور اقلیت بتاتے ہیں حالانکہ سلم ایریا میں بھی ہندو اور مسلمان ہیں اور امیری غریبی دونوں‌ میں ہندو مسلمان برابر ہیں ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>عبداللہ،<br />
میں جھگڑا کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنا اظہار خیال کیلئے یہاں آیا<br />
تعجب کی بات ہی ہے کہ بھارت میں ہندو مسلمان لڑتے ہیں مگر<br />
پاکستان میں مسلمان اور پھر مسلمان ۔</p>
<p>گجرات کے دنگا فساد سیاسی تھے نا کہ ہندو مسلم<br />
بھارت میں اکثر ہندو مسلمان کے بیچ فسادات ہوتے ہی رہتے ہیں اور اسکے پیچھے سیاست ہے۔<br />
تم یہاں آکے دیکھو، ہندوؤں کے ریسٹورنٹ میں مسلمان اور مسلمانوں کے ریسٹورنٹ میں ہندو ہر دن کھانا کھانے آتے ہیں۔ اور یہاں مندر کے بازو میں مسجد اور مسجد کے بازو میں مندر ہوتے ہیں۔ صرف بتانا یہ تھا کہ پاکستانی اخبارات ہندوستانی مسلمانوں کو بے بس اور اقلیت بتاتے ہیں حالانکہ سلم ایریا میں بھی ہندو اور مسلمان ہیں اور امیری غریبی دونوں‌ میں ہندو مسلمان برابر ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by عبداللہ</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2296</link>
		<dc:creator>عبداللہ</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Mar 2010 00:45:36 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2296</guid>
		<description>شعیب یہ کالم بھی پڑھ لو اور پھر بتاؤ کہ سچ کیا ہے میرا بھارت مہان ہے یا یورپ اور امریکہ کی سستی ترین منڈی!
http://www.jang-group.com/jang/mar2010-daily/08-03-2010/col12.htm</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>شعیب یہ کالم بھی پڑھ لو اور پھر بتاؤ کہ سچ کیا ہے میرا بھارت مہان ہے یا یورپ اور امریکہ کی سستی ترین منڈی!<br />
<a href="http://www.jang-group.com/jang/mar2010-daily/08-03-2010/col12.htm" rel="nofollow">http://www.jang-group.com/jang/mar2010-daily/08-03-2010/col12.htm</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by ماموں</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2295</link>
		<dc:creator>ماموں</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 17:55:23 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2295</guid>
		<description>پاکستان کو کھچہ نہیں ہوا بس چور لیڑے اور ڈاکو حمکراں بن کر ہم پر حمکرانی کر رہے ہیں اور اپنے جیسے لوگوں کو بڑے بڑے عٰہدووں سے نواز رہے ہیں-
یہ بچہ جہاں سے اغوا ہوا ہے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ علاقے کے ایس ایچ او یا ٹی پی او کو نہ پتا ہو - مگر جب ملک کا سب سے بڑا بیٹھا ہو مال بنا رہا ہے اور کوی مای کا لال ابھی تک باہر کے بنیکوں سے عوام کا لوٹا ہوا ہوا مال نہیں نکلوا سکا تو وہ بھی یہ ہی کر رہا ہے-</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان کو کھچہ نہیں ہوا بس چور لیڑے اور ڈاکو حمکراں بن کر ہم پر حمکرانی کر رہے ہیں اور اپنے جیسے لوگوں کو بڑے بڑے عٰہدووں سے نواز رہے ہیں-<br />
یہ بچہ جہاں سے اغوا ہوا ہے سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ علاقے کے ایس ایچ او یا ٹی پی او کو نہ پتا ہو &#8211; مگر جب ملک کا سب سے بڑا بیٹھا ہو مال بنا رہا ہے اور کوی مای کا لال ابھی تک باہر کے بنیکوں سے عوام کا لوٹا ہوا ہوا مال نہیں نکلوا سکا تو وہ بھی یہ ہی کر رہا ہے-</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by عبداللہ</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2294</link>
		<dc:creator>عبداللہ</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 14:57:55 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2294</guid>
		<description>ہم تو اپنے زخموں کا ادراک کرکے  ان کے علاج کی فکر کررہے ہیں،
آپ اپنے ناسوروں کی فکر کرو جو مختلف علاقں میں علیحدگی پسندی کی تحریکوں کی شکل میں ابھر رہے ہیں!</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ہم تو اپنے زخموں کا ادراک کرکے  ان کے علاج کی فکر کررہے ہیں،<br />
آپ اپنے ناسوروں کی فکر کرو جو مختلف علاقں میں علیحدگی پسندی کی تحریکوں کی شکل میں ابھر رہے ہیں!</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by عبداللہ</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2293</link>
		<dc:creator>عبداللہ</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 14:55:04 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2293</guid>
		<description>شعیب،
اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت 
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ
گجرات اور احمد آباد کے واقعے کو ابھی ذیادہ دن نہیں گزرے ہیں،کیا وہاں کے مسلمان بھی پاکستان کے ذکوات صدقات اور فطرات پر ذندہ تھے؟ہم نے تو سنا ہے کہ وہ بے انتہا خوش حال تھے اور یہ خوش حالی ہی ان کی تباہی کا باعث بنی!</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>شعیب،<br />
اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت<br />
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ<br />
گجرات اور احمد آباد کے واقعے کو ابھی ذیادہ دن نہیں گزرے ہیں،کیا وہاں کے مسلمان بھی پاکستان کے ذکوات صدقات اور فطرات پر ذندہ تھے؟ہم نے تو سنا ہے کہ وہ بے انتہا خوش حال تھے اور یہ خوش حالی ہی ان کی تباہی کا باعث بنی!</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by SHUAIB</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2291</link>
		<dc:creator>SHUAIB</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 10:16:44 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2291</guid>
		<description>ایک بات بولنا بھول گیا تھا

یہاں ہندو لوگ شاہ رخ خان کی فلموں کو پسند نہیں کرتے، یہ اپنی ہر نئی فلم کی شہرت کیلئے داؤد ابراہیم وغیرہ کی مدد سے کچھ بھی اوٹ پٹانگ حرکتیں کر بیٹھتا ہے مگر اسکی فلمیں ہٹ ہوتی ہیں صرف بیرونی ممالک میں جیسے پاکستان اور خلیجی ممالک ۔

یہ اداکار عامر خان سے بہت جلتا ہے کیونکہ اسکی ہر فلم بغیر شہرت کے بھی ہندو مسلمان سبھی میں ہٹ جاتی ہیں شاہ رخ خان کی فلمیں ناکام ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ایک بات بولنا بھول گیا تھا</p>
<p>یہاں ہندو لوگ شاہ رخ خان کی فلموں کو پسند نہیں کرتے، یہ اپنی ہر نئی فلم کی شہرت کیلئے داؤد ابراہیم وغیرہ کی مدد سے کچھ بھی اوٹ پٹانگ حرکتیں کر بیٹھتا ہے مگر اسکی فلمیں ہٹ ہوتی ہیں صرف بیرونی ممالک میں جیسے پاکستان اور خلیجی ممالک ۔</p>
<p>یہ اداکار عامر خان سے بہت جلتا ہے کیونکہ اسکی ہر فلم بغیر شہرت کے بھی ہندو مسلمان سبھی میں ہٹ جاتی ہیں شاہ رخ خان کی فلمیں ناکام ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by SHUAIB</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2290</link>
		<dc:creator>SHUAIB</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 10:01:52 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2290</guid>
		<description>میرا نام سعیب نہیں تین نختے لگانا بھول گئیں، صحیح یہ ہے &quot;شعیب&quot;

صرف انسانیت کے لحاظ سے پاکستانیوں سے ہمدردی ہے
شاہ رخ خان انتہا پسندی کا نشانہ نہیں
اگر آپ باشعور ہوں تو سمجھ سکتی ہیں
شاہ رخ، میڈیا اور بال ٹھاکرے نے ملکر اسکی فلم کا پبلسٹی کیا ہے
بالکل جیسے سوائن فلو اور چکن فلو کا میڈیا اور کمپنی والوں نے دوائیوں کا کاروبار کیا تھا۔
شاہ رخ اور دیگر ہندوستانی مسلمان اداکار صرف نامی مسلمان ہیں ۔ 

صرف کشمیری مسلمان آفت میں ہیں کیونکہ یہ باہری چندہ، عطیہ، فطرہ اور ذکواۃ پر جیتے ہیں۔ شکر نہیں مناتے کہ اتنے خوبصورت ریاست میں رہتے اور آزاد بھی ہیں ۔ باقی ہندوستانی مسلمان ارب پتی، کھرب پتی اور کروڑپتی بھی ہیں۔ کوئی بھوکا نہیں ۔ ہندوستان کے مایاناز اور سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی &quot;وپرو&quot; کے بانی عظیم پریم جی مسلمان ہیں، ہندوستان اور بیرونی ممالک کے مالدار لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔

اور بھی کئی مثالیں ہیں مگر بات صرف یہ کہ آپ کے پاکستانی اخبارات اکثر ہندوستانی مسلمانوں کو نیچ، کمزور اور بھوکا و تنہا، لاچاور دکھاتے ہیں ۔ 

شاہ رخ خان کیا چیز ہے؟
یہ کچھ بھی نہیں ۔ اس سے بھی بڑے امیر ترین مسلمان پورے بھارت میں خوشحال ہیں ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میرا نام سعیب نہیں تین نختے لگانا بھول گئیں، صحیح یہ ہے &#8220;شعیب&#8221;</p>
<p>صرف انسانیت کے لحاظ سے پاکستانیوں سے ہمدردی ہے<br />
شاہ رخ خان انتہا پسندی کا نشانہ نہیں<br />
اگر آپ باشعور ہوں تو سمجھ سکتی ہیں<br />
شاہ رخ، میڈیا اور بال ٹھاکرے نے ملکر اسکی فلم کا پبلسٹی کیا ہے<br />
بالکل جیسے سوائن فلو اور چکن فلو کا میڈیا اور کمپنی والوں نے دوائیوں کا کاروبار کیا تھا۔<br />
شاہ رخ اور دیگر ہندوستانی مسلمان اداکار صرف نامی مسلمان ہیں ۔ </p>
<p>صرف کشمیری مسلمان آفت میں ہیں کیونکہ یہ باہری چندہ، عطیہ، فطرہ اور ذکواۃ پر جیتے ہیں۔ شکر نہیں مناتے کہ اتنے خوبصورت ریاست میں رہتے اور آزاد بھی ہیں ۔ باقی ہندوستانی مسلمان ارب پتی، کھرب پتی اور کروڑپتی بھی ہیں۔ کوئی بھوکا نہیں ۔ ہندوستان کے مایاناز اور سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی &#8220;وپرو&#8221; کے بانی عظیم پریم جی مسلمان ہیں، ہندوستان اور بیرونی ممالک کے مالدار لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔</p>
<p>اور بھی کئی مثالیں ہیں مگر بات صرف یہ کہ آپ کے پاکستانی اخبارات اکثر ہندوستانی مسلمانوں کو نیچ، کمزور اور بھوکا و تنہا، لاچاور دکھاتے ہیں ۔ </p>
<p>شاہ رخ خان کیا چیز ہے؟<br />
یہ کچھ بھی نہیں ۔ اس سے بھی بڑے امیر ترین مسلمان پورے بھارت میں خوشحال ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on اب سیاست پہ نہیں لکھنا by ابوشامل</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/02/10/%d8%a7%d8%a8-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d9%be%db%81-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%84%da%a9%da%be%d9%86%d8%a7/comment-page-1/#comment-2288</link>
		<dc:creator>ابوشامل</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 08:09:28 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=389#comment-2288</guid>
		<description>جون 2007ء میں سانحۂ لال مسجد ہوا تھا۔ 
(دیر سے جواب پر معذرت، نظر آج پڑی)</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جون 2007ء میں سانحۂ لال مسجد ہوا تھا۔<br />
(دیر سے جواب پر معذرت، نظر آج پڑی)</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by sadiasaher</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2287</link>
		<dc:creator>sadiasaher</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 08:06:41 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2287</guid>
		<description>محترم سعیب جی 

پاکستان بین الاقوامی سیاست کا شکار ھے اسے بہت سے مسائل درپیش ھیں ۔۔۔ پاکستان کے عوام با شعور ھیں اپنے مسائل ڈسکس کرتے ھیں انھیں آزادی ھے ۔۔۔  پاکستانی عوام کے مسائل پہ  انڈینز کی طرح بالی وڈ کی مویز اور بڑے محلوں اور بنگلوں میں بنے ھوئے ڈرامے بنا کر پردے نہیں ڈالے جاتے ھم اپنے زخم خود دیکھ سکتے ھیں ان پہ مرھم لگا سکتے ھیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے نہیں رھتے ۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں صرف مسلمان ھی نہیں عیسائ ھندو سکھ بھی رھتے ھیں 
یہاں کشمیر کی طرح بے نام قبریں نہیں ھیں ان قبروں کے بارے میں کیا کہنا ھے ؟؟ شاہ رخ خان جس کا دنیا میں نام ھے اس کے بارے میں جو پروپیگیڈا ھندو انتہا پسند کر رھے ھیں اس ملک میں عام مسلمانوں کے ساتھ کیا ھوتا ھوگا اس کا اندازہ 
لگایا جا سکتا ھے 

 

سلام سب کو ابھی کہیں جانا ھے سب کے تبصروں کا جواب آکر دونگی</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محترم سعیب جی </p>
<p>پاکستان بین الاقوامی سیاست کا شکار ھے اسے بہت سے مسائل درپیش ھیں ۔۔۔ پاکستان کے عوام با شعور ھیں اپنے مسائل ڈسکس کرتے ھیں انھیں آزادی ھے ۔۔۔  پاکستانی عوام کے مسائل پہ  انڈینز کی طرح بالی وڈ کی مویز اور بڑے محلوں اور بنگلوں میں بنے ھوئے ڈرامے بنا کر پردے نہیں ڈالے جاتے ھم اپنے زخم خود دیکھ سکتے ھیں ان پہ مرھم لگا سکتے ھیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے نہیں رھتے ۔۔۔۔۔۔<br />
پاکستان میں صرف مسلمان ھی نہیں عیسائ ھندو سکھ بھی رھتے ھیں<br />
یہاں کشمیر کی طرح بے نام قبریں نہیں ھیں ان قبروں کے بارے میں کیا کہنا ھے ؟؟ شاہ رخ خان جس کا دنیا میں نام ھے اس کے بارے میں جو پروپیگیڈا ھندو انتہا پسند کر رھے ھیں اس ملک میں عام مسلمانوں کے ساتھ کیا ھوتا ھوگا اس کا اندازہ<br />
لگایا جا سکتا ھے </p>
<p>سلام سب کو ابھی کہیں جانا ھے سب کے تبصروں کا جواب آکر دونگی</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by SHUAIB</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2285</link>
		<dc:creator>SHUAIB</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 06:09:22 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2285</guid>
		<description>آپ کے پاکستانی اخبارات جھوٹ بولتے ہیں اور باقی میڈیا بھی کہ
ہندوستانی مسلمان لاوارث ہیں
کبھی خود ہندوستان آؤ
اور دیکھو کہ
یہاں کے مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی وغیرہ
بس میں، ٹرین میں، پلین میں اور ریسٹورنٹس میں
سبھی ایک ساتھ بیٹھتے ہیں
عید و تیوہار میں ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دیتے ہیں
یہ ہے ہمارا ہندوستان، بھارت اور انڈیا
جئے ہند</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>آپ کے پاکستانی اخبارات جھوٹ بولتے ہیں اور باقی میڈیا بھی کہ<br />
ہندوستانی مسلمان لاوارث ہیں<br />
کبھی خود ہندوستان آؤ<br />
اور دیکھو کہ<br />
یہاں کے مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی وغیرہ<br />
بس میں، ٹرین میں، پلین میں اور ریسٹورنٹس میں<br />
سبھی ایک ساتھ بیٹھتے ہیں<br />
عید و تیوہار میں ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دیتے ہیں<br />
یہ ہے ہمارا ہندوستان، بھارت اور انڈیا<br />
جئے ہند</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by SHUAIB</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2284</link>
		<dc:creator>SHUAIB</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Mar 2010 05:57:33 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2284</guid>
		<description>افسوس ہے پاکستانی حالات پر
ترس بھی آتا ہے
62 سال بعد بھی
حالانکہ وہاں ایک مذہب ہے
مگرہمارے  بھارت میں
ہزار مذاہب ہیں
ہزاروں زبانیں
سب خوش ہیں
ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں
لڑتے بھی ہیں
فسادات بھی ہیں
مگر سب کے سب
آزاد ہیں
پوری آزادی سے سانس لیتے ہیں ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>افسوس ہے پاکستانی حالات پر<br />
ترس بھی آتا ہے<br />
62 سال بعد بھی<br />
حالانکہ وہاں ایک مذہب ہے<br />
مگرہمارے  بھارت میں<br />
ہزار مذاہب ہیں<br />
ہزاروں زبانیں<br />
سب خوش ہیں<br />
ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں<br />
لڑتے بھی ہیں<br />
فسادات بھی ہیں<br />
مگر سب کے سب<br />
آزاد ہیں<br />
پوری آزادی سے سانس لیتے ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا by Syed Adnan Ali  Naqvi</title>
		<link>http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/03/06/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a7%d8%aa%db%92-%da%be%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%a8-%da%88%d8%b1-%d9%84%da%af%db%92-%da%af%d8%a7/comment-page-1/#comment-2282</link>
		<dc:creator>Syed Adnan Ali  Naqvi</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 07 Mar 2010 14:25:32 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://sadiasaher.wordpress.pk/?p=412#comment-2282</guid>
		<description>جناب ڈفر کیلیے،
جناب ہم چند دوست اور احباب مل کر اپنی چھوٹی سی کوشش کر ریے ہیں، آپ نے لکھا کہ اگر آپ کو وزیرستان میں بھی نوکری ملے تو آپ پاکستان آنے کیلیے تیار ہیں۔ جناب ہم آپ کو کو یئ مستقل روزگار تو نہی دے سکتے مگراگر آپ ہماری ٹیم کے ساتھ کچھ وقت وزیرستان میں گزارنا چاہیں، اور آی ڈی پیز کے ساتھ کچھ خوشیاں بانٹ سکیں تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ھیں۔
رابٹہ کیلیے آپ میرے لنک پر کلک کر کے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
جزاک اللہ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جناب ڈفر کیلیے،<br />
جناب ہم چند دوست اور احباب مل کر اپنی چھوٹی سی کوشش کر ریے ہیں، آپ نے لکھا کہ اگر آپ کو وزیرستان میں بھی نوکری ملے تو آپ پاکستان آنے کیلیے تیار ہیں۔ جناب ہم آپ کو کو یئ مستقل روزگار تو نہی دے سکتے مگراگر آپ ہماری ٹیم کے ساتھ کچھ وقت وزیرستان میں گزارنا چاہیں، اور آی ڈی پیز کے ساتھ کچھ خوشیاں بانٹ سکیں تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ھیں۔<br />
رابٹہ کیلیے آپ میرے لنک پر کلک کر کے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔<br />
جزاک اللہ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
