سوال اب بھی وہی ھے

5، February 2010 کو sadiasaher نے شائع کيا.

عافیہ صدیقی مجرم قرار پائ کیا یہ پہلے سے طے نہیں تھا یا لوگوں نے کچھ اور سوچا ھوا تھا کہ فیصلہ سے سے ھٹ کر ھوگا اگر کسی نے ایسا سوچا ھوگا تو وہ کافی خوش فہم ھوگا جب سے مقدمہ عدالت میں آیا میڈیا کے سامنے وہ ھی آتا رھا جتنا امریکی حکومت چاھتی تھی

مسلمان ھونے والی برطانیوی صحافی خاتون ریڈلی کے بیان کے بعد میڈیا میں طوفان آیا تھا وہ قیدی نمبر 650 کون ھے ممکن ھے وہ عافیہ صدیقی ھے جو عرصہ دراز سے لاپتہ ھے جب یہ سوال ھر طرف گونجنے لگا تو ایک دم عافیہ صدیقی میڈیا سے سامنے ایک مجرم کی صورت میں آئیں امریکی عدالت میں اس بات پہ بحث نہیں ھوئ وہ اتنے سال کہاں رھی اس سے عدالت کو کوئ غرض نہیں کیونکہ وہ پاکستانی شہری ھے وہ کہیں بھی آجا سکتی ھے امریکی عدالت  صرف اس بات کا جواب چاھتی تھی عافیہ نے فوجیوں پہ حملہ کیا یا نہیں جس کو کسی نہ کسی طرح ثابت کیا گیا وہ مجرم ھے

چلیں مان لیا عافیہ صدیقی مجرم ھے مگر سوال پھر وہی ھے

اگر عافیہ صدیقی قیدی نمبر 650 نہیں تو وہ کون تھی اب کہاں ھے اور کس حال میں ھے وہ کوئ مسلمان ھے کوئ امریکن عورت نہیں ھو سکتی اس کا جرم کیا ھے زندہ ھے تو اسے اب تک  میڈیا کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا

اگر عافیہ صدیقی پیچھلے سال افغانستان گئ تھی تو وہ اتنے سال اپنے بچوں سمیت کہاں تھی ایک دم وہ فوجی اڈے پہ آسمان سے نازل ھوئ تھی یا زمین سے نکلی تھی  عدالت نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا مگر سوال ابھی تک ویہں ھے اس کا جواب کون دے گا

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: Uncategorized

آراء

1 رائے برائے تحرير ”سوال اب بھی وہی ھے“

  1. admin بتاريخ February 28، 2010 بوقت 7:29 am

    1. یاسر عمران مرزا بتاريخ February 5، 2010 بوقت 8:20 pm

    جی، لوگ کہتے ہیں امریکہ میں قانون و انصاف کی حکمرانی ہے، ڈاکڑ عافیہ کو مجرم ٹھہرانے کے بعد ان لوگوں کو عقل آ جانی چاہیے مگر نہیں انہیں‌اب بھی نہیں آنی
    2. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ February 6، 2010 بوقت 8:23 pm

    پوٹھوہاری کا ایک محاورہ ہے ۔ سرہاندی سو یا پواندی سو دہڑ وشکار ای ریسی ۔ امریکا کے سامنے جو بھی جواز پیش کیا جائے فیصلہ وہی ہو گا جو صیہونی کریں گے
    3. کامران اصغر کامی بتاريخ February 7، 2010 بوقت 3:34 am

    امریکہ کو کوسنے سے پہلے سوچیں ان مسلمانہم وطنوں کا جو وطن سے دور اور وطن میں عیاشی کی زندگی گزار رہین ہیں اپنی بہنوں کا سودا کر کے کاش یہ سوچتے کہ انکی بھی بہن ہے ۔
    4. sadiasaher بتاريخ February 7، 2010 بوقت 3:53 am

    سلام یاسر

    امریکہ میں عام لوگوں کو انصاف میسر ھے مگر جہاں بات سیاست کی آتی ھے حکومت کی پالیسیوں اور مستقبل کے پلان کی اتی ھے تو
    وہ اپنوں کے ساتھ بھی زیادتی کر جاتے ھیں جو انھوں نے سوچا ھوا ھے وہ ھر حال میں کرینگے

    سلام اجمل جی

    کمزور کو ھر کوئ مارتا ھے جب اسلام کے عروج کا زمانہ تھا
    کسی بھی مسلم ملک کے طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے وھئے بھی دشمن سوچتا تھا اب ھم لوگ کمزور ھو چکے ھیں اور میر جعفر
    بہت سے ھیں

    سلام کامی

    مجھے اب نام یاد نہیں آرھا ایک امریکی نے کہا تھا پیسوں کے لیے پاکستانی اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ھیں سابق حکمران اپنے ملک کے لوگوں کو بیچ کر سکون سے رہ رھے ھیں کوئ ان پہ ھاتھ ڈلانے کا سوچ بھی نہین سکتا

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو