یہ عرب ھمارے کعبہ و قبلہ کے رکھوالے

28، January 2010 کو sadiasaher نے شائع کيا.

میں ابھی کچھ لکھنا نہیں چاہ رھی تھی ابھی ایک خبر پڑھی جس نے مجھے لکھنے پہ مجبور کر دیا عرب جن کے لیے ھمارے دل میں بہت عزت ھے وہ ھمارے کعبہ و قبلہ کے رکھوالے ھیں یہ اس سر زمین پہ رھتے ھیں جہاں سرورِ کائنات ھمارے نبی نے جنم لیا اپنی زندگی بسر کی ان پہ نور برسا جس سے ساری دنیا منور ھوئ قرآن نازل ھوا جو رھتی دنیا تک سب کے لیے ھدایت کا سر چشمہ ھے وہ کعبہ اس پاک سر زمین پہ ھے جس کی طرف منہ کر کے دنیا کے مسلمان نماز پڑھتے ھیں دعائیں کرتے ھیں اپنی رھنمائ کے لیے آج بھی مسلمان عرب کے مفتیوں کی طرف دیکھتے ھیں ان کی رائے کا احترام کیا جاتا ھے

اونٹ صحرا میں سواری کا بہترین زریعہ ھے عرب شیخ اعلیٰ نسل کے اونٹ پالتے ھیں ان کی دوڑیں لگواتے ھیں جس میں بڑے عزت دار شہزادے حصہ لیتے ھیں اور لطف اندوز ھوتے ھیں اونٹوں کی ریس کوئ ایسا قبیح فعل نہیں مگر کیا آپ جانتے ھیں اونٹوں کو تیز بھگانے کے لیے کیا کیا جاتا ھے اونٹوں پہ تین چار سال کے چھوٹے چھوٹے باندھ دیئے جاتے ھیں اونٹ بھاگتے ھیں بچہ ڈر کر چینختا ھے بچے کی چینخیں‌ سن کر اونٹ اور تیز بھاگتا ھے جسے دیکھ کر شہزادے نعرے لگاتے ھیں کبھی کبھی بھاگتے ھوئے اونٹ سے بچہ گر جاتا ھے مگر کھیل نہیں رکتا بچہ پیچھے آنے والے اونٹوں کے قدموں تلے روندھا جاتا ھے مگر خوشیوں بھرے نعرے جاری رھتے ھیں جام چلتے رھتے ھیں‌

ریس ختم ھو جانے کے بعد بہت سے بچے خوف سے اپنا ذہنی توازن کھو دیتے ھیں نقصان کس کا ھوتا ھے یہ بچے کس کے ھوتے ھیں ان کے وارث کہاں کے رہنے والے ھیں کیا یہ عرب کے بچے ھیں ان کا مستقبل ھیں نہیں یہ دنیا کے واحد مسلم ایٹمی طاقت کے بچے ھیں جو عرب ممالک میں اسمگل ھوتے ھیں یہ نہیں کہ عرب شیخ‌ بے حس ھوتے ھیں انھیں ان بچوں کی جانوں کا احساس نہیں ھوتا وہ جانتے ھیں انسانی جان کی کیا قیمت ھے اور پاکستانی بھوک سے مرنے والے بچوں کی کیا قیمت ھونی چاھیے وہ پوری قیمت ادا کر رھے ھیں

زرا اس خبر پہ نظر ڈالیں یو اے ای کی حکومت نے اپنے ملک میں اونٹ دوڑ میں استعمال۔۔ ہونے والے کم سن پاکستانی بچوں کی تلافی کی خاطر حکومت پاکستان کو چودہ لاکھ ڈالر دیئے۔ یہ بات جمعہ کو وزیرداخلہ نے پاکستان میں تعینات اس ملک کے سفیر کیساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کو بتائیوزیر داخلہ نے اسی ملک کے صدر اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انکے اس اقدام سے پاکستان کے غریب عوام کی جن کے بچے اونٹ دوڑ میں’’استعمال‘‘ ہوئے دلجوئی ہو گی اور اچھے جذبات پیدا ہوں گے‘‘۔

اس خبر میں دکھ والی کیا بات ھے اگر ان میں سے کوئ بچہ ڈاکٹر عبدالقدیر بن سکتا تھا مگر بن کر بھی کیا کرنا تھا اپنے ھی ملک میں قیدی کی زندگی بسر کرنی تھی اگر فوج میں جاتا تو اپنے ھی ملک میں جنگ کرتے ھوئے شہید ھو جاتا یا اپنی زندگی کے ایک بڑا حصہ پڑھنے میں گزارتا لوڈ شیڈینگ اور دھشت گردی سے فیکٹریاں اور کام بند ھا جانے سے نوکری نہ ملتی جگہ جگہ دھکے کھاتا زندگی سے مایوس ھو کر یا تو ھتیار اٹھا لیتا یا خود کشی کر لیتا چلو اچھا ھوا اتنی تکلیفیں سہنے کے بجائے بچپن میں ھی اس دنیا سے چلے گئے جاتے جاتے چودہ کروڑ ڈالر دے گئے یہ کوئ ایسا کھاٹے کا سودا نہیں ھے

یہ کافر لوگ زمین سے خزانے ڈھونڈ رھے ھیں اسمانوں میں نئ زندگی تلاش کر رھے ھیں بیماریوں کو شکست دینے کے لیے تحقیق کر رھے ھیں ھر گزرنے والے دن میں اپنی طاقت بڑھا رھے ھیں اور مسلم ممالک میں اونٹوں کی دوڑ ھو رھی ھے باز پالے جا رھے ھیں کہیں مرغے لڑائے جا رھے ھیں کہیں کتوں اور ریچھوں کی لڑ ائ ھورھی ھے کہیں کبوتر بازی کی جا رھی ھے

تف ھے ایسے مسلمانوں پہ جو اپنا دل بہلانے انسانی زندگیوں سے کھیل جاتے ھیں

تف ھے ایسے حکمرانوں پہ جو پیسوں کے لیے اپنے ملک کے مسقتبل سودا کرتے ھیں

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: Uncategorized

آراء

1 رائے برائے تحرير ”یہ عرب ھمارے کعبہ و قبلہ کے رکھوالے“

  1. admin بتاريخ February 28، 2010 بوقت 7:27 am

    # ابن سعید بتاريخ January 28، 2010 بوقت 9:34 pm

    کچھ ملامتیں میری جانب سے بھی۔ گو کہ میں خود اس قابل نہیں کہ کسی کی مذمت کر سکوں۔
    # ماموں بتاريخ January 28، 2010 بوقت 9:36 pm

    شکر ہے ابھی اونٹوں کی ریس تک کا پتا چلا ہے ِ؟؟؟؟؟؟
    # sadiasaher بتاريخ January 28، 2010 بوقت 9:39 pm

    سلام ابن سعید جی

    یہ خبر بہت سے لوگوں نے پڑھی ھوگی مگر لگتا ھے مجھے کچھ زیادہ ھی غصہ آتا ھے بلاگ پہ جب لگ جاتا ھے پھر سوچتی ھوں کچھ زیادہ ھی لکھ دیا – مگر جہ بھی لکھا ھے صحیح لکھا ھے
    # اسماء پيرس بتاريخ January 28، 2010 بوقت 9:44 pm

    ابھی آتے ہيں ہمارے بھائی بندے اسکو يہود و ہنود کی سازش قرار دينے، ميں جو کہتی ہوں کہ پاکستانی اخلاقی لحاظ سے دنيا کی سب سےگری ہوئی قوم ہيں تو يہ غلط نہيں، اب تو بہت کم عمر بچوں پر پابندی لگ چکی ہے مگر کبھی آپ انکی کہانياں سنيں اور برنی اور ايدھی کے پاس ايسے بچوں کی حالت ديکھيں تو سو سو لعنتيں بھيجيں ان کے ماں باپ پر، کئی بچوں کو ابھی تک ياد ہے کہ انکے گھر کے حالات ايسے برے نہ تھے ماں کی الٹی سيدھی خواہشوں کی خاطر ماں باپ نے بچوں کو بيچا ، يہ ہے پاکستانی عظيم ماں جس کی ياد ميں ايسے ايسے قصيدے لکھے جاتے ہيں کہ دنيا کی بہترين ماں پاکستانی ہے تو ميرا دل کھول اٹھتا ہے
    # سعد بتاريخ January 28، 2010 بوقت 10:25 pm

    ان عیاش عربوں اور ہمارے حکمرانوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں
    # محمداسد بتاريخ January 28، 2010 بوقت 10:45 pm

    عربوں کے شوق ہمیشہ سے ہی نرالے رہے ہیں۔ سنا تو یہاں تک ہے کہ اسلام کے جامہ میں سب سے زیادہ غیر اسلامی کام یہیں ہوتے ہیں۔ لیکن لوگ عقیدت میں اتنے غرق ہیں کہ ان کی مغلظات کو بھی دعائیں سمجھتے ہیں۔
    اونٹوں کی ریسوں میں اکثریت تو اغواء شدہ بچوں کی ہوتی ہے۔ لیکن ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک ہی تو جاتا ہے یہ پڑھ کر کےان کے ملک کا مستقبل اس طرح بے دریغ زندہ درگور ہورہا ہے۔ مجھے تو حیرت ہے کہ کس طرح یہ چیک جناب وزیر داخلہ نے لیا ہوگا۔ کیا ایک لمحہ کے لیے انہوں نے سوچا ہوگا کہ وہ اپنا بچہ اس پیسوں میں فروخت کرتے وقت کیا محسوس کریں گے۔
    # اسماء پيرس بتاريخ January 28، 2010 بوقت 11:36 pm

    عربوں کی تو بات ہی نہ کريں دنيا کو سدھارنے اور بچپن سے ہر جگہ ُفلاں کرنا چائيے` فلاں نہيں کرنا چائيے` يہ چائيے چائيے کی تعليم دينے والی پاکستانی قوم وہ سب سے بڑی قوم ہے جسکے بچے کيمل جوکيز بنتے ہيں کچھ تعداد بھارتی مسلمانوں کی اور کچھ بنگلہ ديش والوں کی ہے بنگلہ ديش اور بھارت کے مسلمان چونکہ پاکستان کے سرحدی بھائی مسلمان ہيں اسليے جينيٹک اثر ڈاليوٹ ہو کرو ادھر بھی چلا گيا ہے باقی دنيا ميں بھی غربت ہے افريقہ کو ہی لے ليں بچے بيچنے ہمارے والے سب سے آگے ہوتے ہيں بچے ہمارے ہاں پيدا ہی کمائی کی غرض سے کيےجاتے ہيں اب کيمل جوکيز پر پابندی لگی ہے تو بازار ميں ليکر کے آ جاتے ہيں اور تو اور فرانس ميں بھی جس پاکستانی کو ديکھو آٹھ سے اوپر بچے ہيں حيرت کا اظہار کرو تو مشورہ ديتے ہيں تم بھی کر لو گھر بيٹھے بٹھائے ہزار يورو سے اوپر ہر ماہ مفت مل جايا کريں گے ياد رہے فرانس ميں ہر بچے کے ليے ماہانہ خرچہ دی گريٹ گونمنٹ آف فرانس فراہم کرتی ہے بس پاکستانی قوم کے بارے ميں ميں يہی کہوں گی اونٹ رے اونٹ تيری کونسی کل سيدھي، چونکہ ہم پاکستانی جنيٹکلی ايسے ہيں تو مجھے اسکا يہ حل نظر آتا ہے کہ ايک پوری پاکستانی نسل کی شادی کسی دوسری نسل سے خصوصا يورپی نسل سے ہونا چائيے تاکہ جينيٹک پول ميں کچھ تبديلی آئے مگر اس کڑوی گولی کو نگلنے کے ليے کونسی قوم يا ملک تيار ہو گا؟
    # sadiasaher بتاريخ January 29، 2010 بوقت 2:49 am

    سلام اسماء

    ھماری سب سے بری عادت جو ھے ھم اپنی کمزوریوں پہ نظر نہیں رکھتے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی کمزوریوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ھوتے رھتے اپنے دل کو تسلی دیتے ھیں برائیاں صرف ھم میں ھی نہیں باقی مذاہب کے ماننے والوں میں بھی ھیں

    آج تک کبھی میرا خود غرض ماؤں سے سامنا نہیں ھوا میں پاکستان میں اپنی خواہشوں کی قربان کرنے والی درجنوں مائیں دیکھی ھیں خود غرض ماؤں کے بارے میں کافی کہانیاں‌پڑھی ھیں کچھ نہ کچھ تو کہانیوں میں‌سچ ھوتا ھے دنیا میں‌ ھر طرح کے لوگ بستے ھیں

    سلام سعد

    ھمارے حکمران بے ایمان ھیں عرب شیخ عیاش ھیں

    سلام محمد اسد

    میں نے اخبارات میں کچھ واقعات پڑھے کراچی میں ساحلِ سمندر پہ کچھ لوگوں نے عرب شیخوں کی پٹائ کی پتا چلا وہ لوگ کچھ عرصہ وہاں کام کر چکے ھیبں ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا رھا اور سلوک بھی جانوروں جیسا کرتے رھے عرب ممالک میں کسی شیخ کو کچھ کہنے کی ھمت تو ان میں نہیں تھی پاکستان میں انھوں نے اپنا غصہ نکالا سنا تو یہی ھے عرب ممالک میں انڈینز کے ساتھ پھر قدرے بہتر سلوک ھوتا ھے اور پاکستانی جو ان سے بے انتہا عقیدت رکھتے ھیں ان سے اچھوتوں کا سلوک کیا جاتا ھے

    اسماء — میں نے ایک آرٹیکل پڑھا تھا جس میں لکھا تھا پاکستان کی آبادی 2025 تک 32 کروڑ ھو جائے گی آبادی کے ساتھ مسائل بھی دگنے ھو جائینگے اس لیے آبادی کو کنٹرول کرنا چاھیے اس پہ کافی فتوے آئے تھے —-
    یہاں بھی یہی حال ھے جن کے بچے زیادہ ھیں وہ بڑے گھروں میں رھتے ھیں بچوں کے الگ پیسے ملتے ھیں بہت خوش ھیں جینیٹکلی پرابلم نہیں اللہ نے ھر نعمت دی ھے عقل دی مگر استعمال نہیں کرتے قرآن میں جتنا کہا گیا ھے زمین اور آسمان پہ غور کرو ھم اس تعلیم کو اھمیت نہیں دیتے جن اقوام نے اھمیت دی آج وہ دنیا پہ حکمران ھیں
    # کنفیوز کامی بتاريخ January 29، 2010 بوقت 2:53 am

    بہت دیر بلکہ بہت عرصے بعد آپ کو پتا چلا کہ ایسا ہو رھا ہے چلو دیر آئے درست آئے مگر ایک نقطہ یہ بھی ذھن نشین کر لیں کہ ہماری غربت اور راتوں رات امیر ہونے کا لالچ ان معصوم بچوں کو یہاں تک لاتا ہے شیخ صاحب فون کر کے نہیں بلاتے کہ صرف پاکستانی بچہ ہی چاہیے اگر بچوں کہ ہی بات ہے تو انڈیا میں ہم سے ذیادہ غربت ہے وھاں سے بچے کیوں نہیں لائے جاتے اسی طرح بنگلہ دیش ہے مگر یہ بھی ایک مافیا ہے ہیومن سمگلنگ کی طرح آپ اور دوسری بہنوں کی پاکستانی بچوں کے لیے تڑپ بجا ہے کاش پردیسی مرد حضرات کے مسائل بھی آپ کے دل کی نگاہ سے گزریں ۔
    # sadiasaher بتاريخ January 29، 2010 بوقت 3:22 am

    سلام ماموں ویلکم

    یورپ میں عرب شیخ دریا دل عیاش کے نام سے مشہور ھیں

    سلام کامی

    اس بات کا پہلے سے پتا تھا مگر چودہ کروڑ ڈالر کی امداد ملنے پہ وزیرِ داخلہ نے جو خوشی کا اظہار کیا یہ بلاگ اس وجہ سے لکھا ھے ان سب بچوں کو ان کے ماں باپ بیچتے نہیں ھیں بہت سے بچے اغوا ھوتے ھیں
    پردیس میں بسنے والے محنت کشوں پہ اگلا بلاگ ھوگا
    # عبداللہ بتاريخ January 29، 2010 بوقت 3:37 am

    سعدیہ جو لنک مینے آپکو بھیجا تھا اس میں سنگ دل ماں باپ کا ذکر ہے ایسے ماں باپ جو اولاد کو مویشیوں کے برابر سمجھتے ہیں!غربت کوئی جواز نہیں ہے ان مظالم کے لیئے!
    کنیز فاطمہ کے بقول ہر گلی محلے میں ایسے ڈیرے ہیں جہاں لڑکیاں جسم فروشی کرتی ہیں۔ کنیز کے مطابق جب سے وہ اس پیشے میں آئی ہے اس میں لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہی دیکھا ہے اور اتنی کم سن لڑکیوں کو خود ان کے ورثاء لے کر آتے ہیں کہ ’میرا بھی دل دہل جاتا ہے۔!
    اب کس کس کو اور کہاں تک روئیں:(
    # شعیب صفدر بتاريخ January 29، 2010 بوقت 8:29 am

    اس خبر پر میں‌نے بھی اپنے انداز میں‌ مذمت کی ہے۔
    افسوس اس ہی بات کا ہے کہ ہم اپمے مستقبل کا سودا کرنے میں‌ بھی شرم نہیں‌کرتے
    # ابوشامل بتاريخ January 29، 2010 بوقت 4:18 pm

    اس خبر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خصوصا جنوبی پنجاب میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سے لوگ خود اپنے بچوں کو کیمل جوکی بننے کے لیے عرب ممالک کی جانب بھیجتے ہیں۔ اب جب وہاں پابندی لگی اور بچے واپس پاکستان آنے لگے تو ان بچوں کے والدین کو پیٹ کے لالے پڑ گئے ہیں۔ اللہ خیر کرے، اب تو اماراتی امداد بھی آ گئی ہے اور نجانے کتنے لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں گے، یعنی کرپشن کا ایک نیا دروازہ۔
    ویسے مجھے حیرت ان والدین پر ہو رہی ہے جنہیں اپنے بچوں کی جان خطرے میں ڈال کر ملنے والے پیسوں سے راحت ملتی ہے۔ اس طرح کے واقعات سن کر اسماء کی باتوں پر یقین کرنے کو دل چاہتا ہے کہ واقعی ہم اخلاقی لحاظ سے دنیا کی ناقص ترین قوم ہیں۔
    # اسماء پيرس بتاريخ January 29، 2010 بوقت 4:22 pm

    کنفيوذ کامی پرديسی مردوں کے مسائل پر چچا خاور گاہے بگاہے روشنی کی کرنيں پھينکتے تو رہتے ہيں اسکے علاوہ کونسے مسائل ہيں جلدی جلدی لکھيں مزے کا ٹاپک لگ رہا ہے اور سعديہ جی کيمل جوکيز ميں زيادہ بچے وہی ہوتے ہيں جن کے ماں باپ يک مشت بھاری رقم ليکر خود اپنے بچوں کو عربوں کے حوالے کرتے ہيں عرصہ پہلے ان واپس لائے جانے والےبچوں کے انٹرويو کہيں ديکھے تھے اب ياد نہيں کہاں ، جن بچوں کو واپس لايا گيا اور انکو اپنا اتہ پتہ معلوم تھا ان ميں سے کئی نے نفرت کے مارے اپنے گھر واپس جانے سے انکار کر ديا تھا ہو سکتا ہے کچھ اغواء شدہ بچے بھی ہوں مگر اسکے پيچھے بھی اکثر ماں باپ کی لاپرواہی ديکھی ہے ميں نے اپنی زندگی ميں کوئی ايسی پاکستانی ماں نہيں ديکھی جس نے اپنے بچوں کی خاطر کوئی قربانی دی ہو ہاں اگر دوپہر اور رات کا کھانا پکا کر دينا يا نہلانا دھٹنا قربانی ہے تو ايسی بہت ديکھی ہيں ہاں البتہ ادھر فرانس ميں بہت ماؤں کو اپنے بچوں کی خاطر بہت محنت کرتے ديکھا ہے
    # عبداللہ بتاريخ January 29، 2010 بوقت 6:08 pm

    اسماء برا نہ مانیئے گا یہاں آپ تھوڑی ذیادتی کر گئی ہیں بہت سی مائیں پاکستان میں بھی ایسی ہیں جو اپنے بچون کے لیئے ہر طرح کی قربانی دیتی ہیں ہاں موازنہ کرنے پر تناسب کچھ کم ہو سکتا ہے!
    # یاسر عمران مرزا بتاريخ January 29، 2010 بوقت 11:15 pm

    بیشتر عرب اسی طرح کی غیر اخلاقی عادات میں مبتلا ہیں، عرب ممالک میں دنیا کے گھٹیا ترین قوانین بھی موجود ہیں، سعودی عرب کے حوالے سے چند مشکلات کا ذکر میں نے اپنی ایک تحریر میں کیا تھا۔
    http://yasirimran.wordpress.com/2009/10/29/saudi-arab-kay-pakistani/
    # sadiasaher بتاريخ January 31، 2010 بوقت 3:44 am

    سلام عبداللہ

    مین نے وہ لنک دیکھا تھا یقین نہیں آتا یہ سب پاکستان میں ھو رھا ھے
    طالبان کے حمایتیوں سے پوچھنا چاھونگی جہاد فرض ھے تو کیا یہ جو اسلام کی دھجیاں بکھر رھی ھیں اس کے خلاف آواز اٹھانے مولانا حضرات کے وقار مین کوئ کمی واقعہ ھو جائے گی تو معاشرے میں پھیلنے والی گندگی کے بارے میں کوئ آواز نہیں اٹھاتے نہ ھی لوگوں میں شعور بیدار کرنے میں کسئ دلچسپی دیکھاتے ھیں

    سلام شعیب صفدر جی

    جو بھی برائ دیکھیں اس کے خلاف اواز اٹھانا سب پہ فرض ھے

    سلام ابو شامل جی

    کیا کوئ ماں پیسوں کی خاطر اپنے بچے کو بیچ سکتی ھے اور وہ یہ بھی جانتی ھو اس کا حال ھوگا خود پیدا کر کے جہنم میں کیسے پھینک سکتی ھے یہ سب ھمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان مین ھو رھا ھے اگر پاکستان کی کسی معاشرتی برائ کا زکر کریں تو بہت سے لوگ ناراضگی کا اظہار کرتے ھیں جو بھی ھے ھے تو اسلامی ملک — وہ ممالک جن کا نہ کوئ دین ھے نہ ایمان اگر ان میں برائیاں پائ جاتی ھیں تو ھمیں برا کیوں لگتا ھے ھم کیوں لکھتے ھیں
    # کنفیوز کامی بتاريخ January 31، 2010 بوقت 4:06 am

    جس طرح امریکہ کو دھشت گردی انڈیا کو دراندازی فرانسی فرنگیوں کو بے پردگی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ہماری بہنوں کو اپنے آس پاس کے سوا سب برا ہی نظر آتا ہے ۔
    # sadiasaher بتاريخ January 31، 2010 بوقت 4:17 am

    سلام اسماء

    دیارِ غیر میں مرد حضرات کے جو مسائل ھیں ان پہ وہ زیادہ بہتر طور پہ لکھ سکتے ھیں کچھ لوگوں کا جو حال میں نے دیکھا ھے اس پر میں لکھونگی —-
    اسماء پاکستان جیسے ملک میں جہاں گورئمنٹ کسی کی کسی طرح کی بھی مدد نہیں کرتی تعلیم علاج رھائش کا انتظام انسان نے خود کرنا ھوتا ھے ایسے میں اپنی اولاد کو حق حلال کی کمائ سے پالنا دو وقت کی روٹی کھلانا بھی بہت بڑی قربانی ھے ھماری درزن جوانی میں بیوہ ھوگئ تھی باپ اور بھائ کےحالات ایسے نہیں تھے اس کی مدد کر سکتے اس نے کپڑے سی سی کر اپنی اولاد کو پالا تعلیم دلوائ

    عبداللہ شاید زمانے کے ساتھ ھم لوگوں کی ترجیہات بدل گئ ھیں

    سلام یاسر

    آپ کے بلاگ کی تحریر پڑھی جیسے آپ نے حلات پڑھے ھیں ایسا بہت سے لوگوں سے سنا ھے وہاں جتنے سال بھی رہ لیں اپنا کاروبار نہیں کر سکتے شہریت نہیں لے سکتے جتنی بھی محنت کر لیں رھنا ملازم ھی ھے یورپ والے جتنی چاھے جائداد بنا لیں چاھیں تو ساری زمین خرید لیبں یورپ والوں کی تو وہ عزت کریں گے تیل وہ نکال رھے ھیں زمین میں دبے تیل کی کیا قیمت ھے -
    # sadiasaher بتاريخ January 31، 2010 بوقت 4:25 am

    سلام کامی

    میرے بھائ ھمیں برا نہیں اچھا نظر آتا ھے ھم چاھتے ھیں پاکستان میں ھم جہاں بھی دیکھیں ھمیں اچھائ نظر آئے
    جب میں پاکستان کی خبریں پڑھتی ھوں تو دل دکھتا ھے جب کچرا چنتے ھوئے بچوں کو دیکھتی ھوں بھوک سے بنا علاج سےمرتے ھوئے لوگوں کو دیکھتی ھوں تو دکھ ھوتا ھے پھر سوچتی ھوں تو سسٹم ھے وہ پاکستان میں کیوں نہیں ھو سکتا اس سے مراد مذھب نہیں ھے نہ ھی یہاں کی میں آزادی کی بات کرتی ھوں پاکستان کے لوگ جتنا صدقہ زکوت دیتے ھیں اگر انصاف سے مستحق لوگوں میں تقسیم کیا جائے تو پاکستان کے حالات بدل سکتے ھیں مگر بے ایمانی ھر جگہ ھے
    مجھے پاکستان سے اور پاکستانی لوگوں سے عشق ھے اور میں اپنے ملک کو خوشحال اور ترقی کرتا ھوا دیکھنا چاھتی ھوں ھر لحاظ سے
    # کنفیوز کامی بتاريخ January 31، 2010 بوقت 4:15 pm

    میں بھی ایک پاکستانی ہوں ۔
    # حمزہ بتاريخ February 1، 2010 بوقت 2:07 am

    maine aksar dekha hay k log baatain bohat bari bari karte hain lakin karte kuch nahe, jahan bhe dekhta hon sab k sab pakistan ki burai kar rahe hote hain jab k unse zara koi yeh tu puchay k unko yeh haq kisne diya hay? afsoos is baat ka hay k hamne hamesha dusro per taankeed ki hay lakin kabhe khud apne andar nahe dekha k ham main kitni baraiya hain ham pakistani hokar bhe pakistan ko bura bhala kehne ka aik moqa bhe apne haath se jane nahe dete, ham bohat aasani se keh dete hain k pakistan main itni buraiya hain pakistan k logo main se insaaniyat khatam ho rahi hay or pakistani Qoom duniya main kahi bhe mu dikhane k qabil nahe rahi wo jahan bhe jati hay naakami pakistaniyo k qadaam chomti hay, koi keh deta hay k hakumat yeh kar rahi hay wo nahe kar rahi qk puri hakumat main choor mojud hain koi chini ko ro raha hay tu koi apni kismat pe, kici ko news dekh kar dukh hota hay tu kici ko is baat pe afsoos hay k wo pakistan k bajaye america main q peda nahe huwa, koi kehta hay k saudia arab main yeh buraiya hain tu koi pakistan ki maao se naraz hay bas kami thi tu is baat ki tu wo bhe kici ne puri kardi k ham ikhlaaq k lihas se duniya ki sabse badtareen Qoom hain, tu kici ko masahil ki fikar hay sab apni apni magaan main magaan hain, mere dosto bolne se kuch hasil nahe hota sadia ka likhna bhe aisa hay jese aik jisim jis main ru na ho tum bol bol kar taakh jao gi aik waqt aaye ga k taakh haar kar sab ko apne haal per chor do gi qk Qoomo ki taqdir badalti hay kuch karne se na k bolne se, Mujhe fakhar hay khud per k may aik PAKISTANI hon, mujhe fakhar hay Pakistani Maao per, mujhe fakhar hay Quid or Allama k Pakistan per, hamare kirdar main itni achai honi chaiyeh k duniya hamain dekh kar yeh kahe k dekho yeh pakistani hay, jab koi gair muslim mujhse yeh kehta hay k Pakistan zindabad tu mujhe sabse zada khushi hoti hay or afsoos bhe k ham khud apne haato se tor rahe hain, hakumat kuch bhe karti rahe hamain apni hesiyat k mutabiq dusro ki madad karni chaiyeh, qk jo bura hay wo kici ke kehne se kabhe sudar nahe sakta, aik din aisa aaye ga k Pakistan puri duniya pe raj kare ga
    # sadiasaher بتاريخ February 2، 2010 بوقت 3:05 am

    سلام ھمزہ

    آپ کا کیا خیال ھے پاکستان کس طرح ترقی کر سکتا ھے معاشرے میں بڑھنے والی برائیوں سے نطریں چرا کر سب اچھا ھے کا نعرہ لگا کر کیا پاکستان ترقی کرے گا ؟؟
    معاشرے مین بڑھنے والی خرابیوں کے بارے میں لکھنے سے کیا یہ ثابت ھوتا ھے کہ ھمیں پاکستان سے محبت نہیں ھے یا ھم پاکستان کے خلاف لکھ رھے اگر یہ حب الوطنی ھے تو مجھے ایسا پاکستانی نہین بننا جو شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا کر سمجھتا ھے سب کچھ ٹھیک ھو جائے گا یا کوئ خطرہ نہیں ھوگا
    مجھے پاکستان سے عشق ھے اور میں پاکستان میں ھونے والی ھر نا انصافی پہ لکھتی رھونگی چاھے وہ کسی سطح پہ بھی ھو
    آپ ھمارے سیاست دانوں کی طرح سب اچھا ھے نعرہ لگاتے رھے اور پاکستان کو خواب میں ساری دنیا پہ راج کرواتے رھیں
    # sadiasaher بتاريخ February 2، 2010 بوقت 3:06 am

    سلام کامی

    خوشی ھوئ کہ آپ بھی پاکستانی ھیں
    # جعفر بتاريخ February 2، 2010 بوقت 10:53 am

    وہ جی چودہ کروڑ نہیں بلکہ چودہ لاکھ ڈالر دئیے تھے
    تصحیح کرلیں
    # حمزہ بتاريخ February 2، 2010 بوقت 3:49 pm

    dekho may pure pakistani Qoom ki baat kabhe nahe karta or na may duniya k kici bhe Qoom ko bura bhala kehta hon qk Qoomain kabhe achi ya buri nahe hoti achi or buri tu Qoomo ki soch hoti hay jo unko acha ya bura banadeti hay, app sirf mujhe yeh batado k yaha app jo kuch bhe likhti ho bolti ho us se konsa pakistani sahi raste per a raha hay? aisa konsa insaan hay jo yeh sab soon kar sahi raste per a gaya hay? koi hamain kuch nahe de sakta jab tak us ko khud appne appse mohabbat na ho, agar hamain khud se piyar hoga tu ham kabhe bhe kici insaan ko taklif nahe pocha sakte, mere dost k Dada Khan Zada Liaquat Ali Khan kehte hain k koi kici bhe raste per chale usko kabhe apni taankeed ka nishana na banao qk hamain yeh haq hasil nahe k ham Allah ki banai huwi maqluq ko bura kahain or jo burai main duba hay wo burai he uski zindagi hay apne kirdar ko aisa banao k bura insaan bhe tumhe dekh kar apni burai chor kar tumhare raste per a jaye, jab koi gair muslim hamare blogs dekta hay tu kehta hay k dekho pakistani Qoom khud he pakistan ko bura kehti hay tu phir ham usko q na bura kahain bura samjhain, May siyasatdano ko na maanta hon or na mujhe koi shoq hay naara lagane ka, Mujhe Islam se mohabbat hay or apne pakistan se bhe lakin may pakistan ki kabhe burai nahe karta may duniya k kici bhe country ki burai nahe karta, may baato se nahe logo ko apne kirdar se sidhe raste per lane ki kosish karta hon, mujhe hamesha se is baat per afsoos raha hay k may bhe phele sochta tha k pakistan main itni buraiya hain hamara pakistan khatam ho raha hay tut raha hay maine bohat likha may likhta he raha apni awaz ko har pakistan k forum pe lekar gaya per afsoos kuch nahe huwa aik insaan bhe aisa nahe mila jo meri baat ko samjh saka ajj pakistani he pakistan ki iszaat nahe karte tu phir is se bura or kiya ho sakta hay, jab tak ham main insaniyat nahe hogi ham kuch nahe kar sakte kuch nahe badle ga, may buraiyo ko tu khatam nahe kar sakta lakin may apni taraf se burai hone nahe deta may chini ka masla tu khatam nahe kar sakta lakin apni hesiyat k mutabiq jinko zarurat hoti hay unki madad karta hon agar tum apni awaz ko pakistaniyo ki dil main le jao tu yakeen mano jo jo tumhari awaz sune ga wo dusro ki madad kare ga ham kuch nahe kar sakte lakin apni himmat k mutabiq thora he sahi apna farz tu aada kar sakte hain, jab koi insan sache dilse kici dusre ki madad karta hay tu Allah uski madad main lag jata hay, Qoom nahe badal sakti lakin ham tu badal sakte hain chahe ham do ya 4 he q na ho, sab kuch aise he thik nahe hoga jab tak ham shuruwat nahe kare gain phele khud thik hone ki, ajj mere saath duniya k takriban 2200 log hain jo pakistan se piyar karte hain logo ki madad karte hain wo gair muslim thy aik pakistani ka kirdar dekh kar musalman hogaye yeh 2200 log pakistan ki roshni ko duniya main pehla rahain hain wo log jo pakistani nahe hay lakin phir bhe wo pakistan se piyar karte hain.
    # کنفیوز کامی بتاريخ February 4، 2010 بوقت 4:55 pm

    میں نے تو آپ کی آخری لائین پڑھ کر لکھ دیا تھا
    # عبدالقدوس بتاريخ February 7، 2010 بوقت 8:14 am

    حضور اکرم صلٰی علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ دوسرے لوگ عربوں کی صرف اسی لئے عزت کریں گےاس لئے آخری خطبہ میں آپ نے یہ واضع کردیا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فوقیت نہیں۔۔ اور جہاں تک رہا معاملہ وہاں رھنے کا تو بُت کئی سو برس کعبہ کہ اندر رہے یوں تو پھر ان کی بھی عزت کرو۔۔

    اور رکھوالی۔۔۔۔ ھر گھر کا رکھوالا اس کا مالک ہوتا ہے اور اپنے گھر کا رکھوالا بھی اللہ خود ہے آپ شائد ہاتھی والیوں کا قصہ بھول گئی ہے اس گرمی میں
    # sadiasaher بتاريخ February 8، 2010 بوقت 4:25 am

    سلام حمزہ

    شکریہ تبصرے کا — آپ رومن اردو میں لکھتے ھیں پڑھنے میں مشکل ھوتی ھے اردو لکھنے کی کوشش کریں ایک دہ دن مشکل ھوگی پھر آرام سے لکھ سکتے ھیں
    آپ نے لکھا ھے اگر کوئ غیر مسلم بلاگ دیکھے تو وہ کیا سوچے گا مسلمان اپنے آپ کو برا کہہ رھے ھیں — اگر کوئ غیر مسلم بلاگ دیکھے گا بھی تو اسے سمجھ نہیں‌ائے گی ۔ کوئ انڈین بھی دیکھے تو نہیں پڑھ سکتا کیونکہ ھندی بولنے میں چاھے اردو سے ملتی ھے مگر لکھنے میں بہت فرق ھے —
    ھم لوگوں کے مسائل اس لیے حل نہیں ھوتے ھم اسے مل کر ڈسکس نہین کرتے عام عوامی سطح پہ ھو یا اعلیٰ حکومتی سطح پہ —-

    سلام کامی اچھا کیا

    سلام عبدالقدوس

    بہت عرصے کے بعد آنا ھوا ویلکم —–
    رکھوالا تو اللہ ھی ھے وہی حفاظت کرنے والا ھے ۔۔۔۔ میں نے عام سوچ کی بات کی تھی
    # عبداللہ بتاريخ February 8، 2010 بوقت 6:47 pm

    حمزہ اگر کسی کے جسم پر ناسور ہو تو کیا وہ صرف اس لیئے اس کے بارے میں نہ بتائے کہ لوگ کیا سوچیں گے؟
    مرض بتایا نہ جائے تو علاج کیسے ڈھونڈا جائے؟
    # hamza بتاريخ February 9، 2010 بوقت 1:14 am

    may roman main isliyeh likhta hon k mujhe URDU sahi se likhna nahe aati, koi gair muslim blog dekhe ga nahe bal k wo dekh rahain hain qk wo hamse zada hamari baato per research karte hain, or yeh language samjhne or likhne ki baat kar k appne yeh sabit kiya hay k sirf urdu likhne wale or samjhne wale sahi hain baki sab k sab Mashallah se pagel hain, masahil kabhe bhe aise haal nahe hote chahay koi kitna bhe bolta rahe ya likhta rahe qk masahil kuch karne se haal hote hain, 60 years guzar gaye aik bhe masahil haal nahe huwa?

    Abdullah: jo jesa aamal kare ga usko wesa he sila milta hay agar kici k jisim per nasur hay tu yeh uska kiya huwa aamal hay mera or appka nahe, app duniya ko maarz batao ge tu duniya haase gi kuch kare gi nahe jab tak ham khud thik nahe honge kuch thik nahe hota, 60 saal guzar gaye log kehte kehte thaak gaye na nasur gaya na Qoom badli, haan waqt zarur badal gaya jo log achay thy wo ajj bhe achay he hain duniya ki koi lalaaj unko badal nahe sakti, afsoos ki baat sirf itni hay k ham pakistani hokar bhe pakistan ki iszaat nahe karte, pakistan bura nahe hay pakistan ka system bura hay, pakistani khud he har forum per pakistan ko he gaaliya dete rehtain hain, istarha duniya ham per haase gi nahe tu kiya hamara sath degi?

    Pakistan duniya ki sabse azeem Qoom hay ham aise he wajood main nahe aaye is k piche bhe kudrat ka maqsad chupa hay, log kehte hain k pakistan main rakha kiya hay pakistan main bacha kiya hay, hamare pas atomic power hay ajj duniya main Islam zinda hamari waja se hay qk duniya main sabse zada Khuda or Us k Rasool se piyar karne wali Qoom pakistani Qoom hay, koi bhe takat hamain tor nahe sakti duniya janti hay hamara josh hamara gussa, ham kuch bhe kar sakte hain kuch bhe sab kuch hay hamare pas, may manta hon k masahil hain lakin in masahil k bawajud koi hamain mita nahe sakta, log Army ko galiya dete hain zara socho Army nahe hoti tu kon hamari hifazat kare ga? ache bure log har jaga har Qoom main hote hain iska matlab yeh nahe hota k sabko bura kaha jaye samjha jaye, jo bura hay usko apne haal per chor do koi kuch kare ya na kare hamain apna farz aada karna hay, ham pakistani he nahe bal k musalman bhe hain or musalman kabhe himmat nahe haarta puri duniya daarti hay hamse.

    aik chota sa kissa sunata hon, may america main jis university main parta tha waha 5 israili bhe thy wo mujhse baat nahe karte thy na may unse baat karta tha may shuru se he bohat kaam logo se baat karta hon, mere aik dost ne un israliyo se pucha k tum hamza se baat q nahe karte sirf isliyeh k wo pakistani hay? un main se aik ne kaha wo pakistani he nahe bal k musalman bhe hay, uska Mohammad kehta hay k Hind se aik Qoom uthay gi or wo ham ko taba or barbad kar degi or hamain dar k kahi iski shuruwat hamza se na ho isliyeh ham us se baat nahe karte

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو