میں پاکستان سے دور خوش ھوں

25، January 2010 کو sadiasaher نے شائع کيا.

میرے چچا پاکستان سے آئے انھوں نے رات ساڑھے بارہ بجے فون کیا وہ کافی دیر سے ھمارا گھر ڈھونڈ رھے ھیں مگر ھمارے گھر کیسے پہنچنا ھے سمجھ نہیں آرھا ھمارا گھر جس سڑک پہ ھے اس کے ایک کونے پہ اولڈ ھوم ھے اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا پارک اور جھیل ھے اس کے قریب ھی فٹبال کا میدان اور اسکول ھے اس کے ساتھ سائیکل کے لیے ٹریک بنا ھوا ھے جو کھیتوں سے ھوتا ھوا ساتھ کی شہر تک جاتا ھے سارا دن بوڑھے لوگوں اسکول کے بچوں سائیکل چلانے والوں کا گزر رھتا ھے گرمیوں میں پارک جانے والے چھوٹے بچوں کے ساتھ آتے جاتے نظر آتے ھیں اس لیے یہاں پہ کسی بھی طرح کی گاڑیوں کا داخلہ منع کر دیا گیا ھے پہلے موٹر سائیکلوں کی اجازت تھی اب حادثے کے خطرے کے پیش نظر موٹر سائیکلوں‌ کا بھی داخلہ بھی منع کر دیا گیا ھے

نئے آنے والوں کو کبھی کبھی مشکل ھوتی ھے گھر تک آنے کے رستے کی سمجھ نہیں آتی ابھی یہ نئ آبادی ھے نیوی گیشن میں بھی سب سڑکیں نہیں ھیں میں نے اپنے چچا سے کہا وہ جہاں ھیں وہیں رکیں میں دو منٹ میں پہنچ رھی ھوں گاڑی پارک کروا کر میں انھیں لے کر گھر اگئ وہ حیرت زدہ تھے ادھی رات کو میں کیسے بے ڈھرک گھر سے نکل گئ مجھے ڈر نہیں لگا پاکستان میں کوئ لڑکی ھو یا بوڑھی عورت ایسے آدھی رات کو گھر سے نہین نکل سکتی وہ جتنی دیر بھی رھے اسی بات کا زکر کرتے رھے انھیں یہاں کی یہ بات بہت پسند آئ ھے

پاکستان میں پیچھلے دو تین دنوں میں زیادتی تین مختلف واقعات لاھور گجرات اور خانیوال میں ھوئے ھیں میں زیادہ کچھ نہیں کہہ رھی اگر میں نے کچھ کہا تو شکایت ھوگی میں ھمیشہ ایسا کیوں لکھتی ھوں میں ایک ایسے ملک میں رھتی ھوں جہاں لوگ مذھب یا تو مانتے نہیں ھیں اگر مانتے بھی ھیں تو بس اتنا کرسمس پہ دس پندرہ منٹ کے لیے چرچ چلے گئے — جہاں شرم و حیا کا کوئ تصور نہیں یہاں شراب پہ کوئ پابندی نہیں ان کے مذھب میں صفائ کو نصف ایمان کا درجہ نہیں دیا گیا جب یہاں میں قانون کی پاسداری دیکھتی ھوں صفائ دیکھتی ھوں مجھے سڑکوں پہ بھکاریوں کے ھجوم نظر نہیں آتے کوئ بھوکا نہیں مرتا انصاف کے نام پہ لوگوں کو لوٹا نہیں جاتا اشیائے خوردنی میں ملاوٹ نہیں ھوتی کوئ ماں بھوک سے تنگ آکر اپنے بچوں کو برائے فروخت کے لیے کھڑا نہیں کرتی یہ سب دیکھ کر جب پاکستان سے موازنہ کرتی ھوں تو دکھ ھوتا ھے یہ سب پاکستان میں کیوں نہیں ھوتا پاکستان ایک اسلامی ملک ھے جہاں کھلاڑیوں سے لے کر سنگرز تک لوگ داڑھیوں میں نظر آتے ھیں ھر کوئ اسلام کا نعرہ بلند کرتے نظر اتا ھے مگر اسلام نظر نہیں آتا

مگر میں کیوں دل جلا رھی ھوں میں تو سکون میں ھوں مجھے تو ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑرھا

جن خواتین کے ساتھ زیادتی ھو رھی ھے وہ خود اپنے لیے آواز اٹھائینگی

سڑکوں پہ پھیلے ھوئے گند سے بیماریاں پھیل رھی ھیں میں تو اس ماحول سے دور ھوں

لوگ بھوک سے مر رھے ھیں مگر مجھے تو پیٹ بھر کے کھانے کو ملتا ھے

انسان کو اپنی زندگی جینا چاھیے دوسروں کے غم میں گھولنے سے کچھ نہیں ھوتا

اپنی خوشیوں‌میں مگن رھنا چاھیے مسلمان کچھ بھی کریں آنکھیں بند رکھنی چاھیے

کچھ بولو تو اسلام کا نام بدنام ھوتا ھے

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: Uncategorized

آراء

1 رائے برائے تحرير ”میں پاکستان سے دور خوش ھوں“

  1. admin بتاريخ February 28، 2010 بوقت 7:26 am

    1. ذوالفقار احمد بتاريخ January 25، 2010 بوقت 8:30 pm

    محترمہ آپ کی کسی بات سے انکار نہیں ۔ پاکستان میں ھالات کافی بگڑ گئے ہیں۔ مگر میں پھر بھی دعوے سے کہتا ہوں کہ جن ممالک کے آپ گن گا رہی ہیں وہاں ایسے وقعات اوسطآ ذیا دہ ہوتے ہیں ۔

    اس بات کے برعکس اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپنے اعمال کی وجہ سے اجتماعی طور پر اللہ جی کی ناراضگی کا شکار ہیں۔ اللہ جی ہمیں اپنے گناہوں کی طوبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور ہمیں اتنی اخلاقی جرات سے نوازے کے ایسے واقعات جنم نہ لے پائیں
    2. محمد ریاض شاہد بتاريخ January 25، 2010 بوقت 8:38 pm

    مگر مغربی ممالک یہ تحفظ محض اپنے شہریوں کو دیتے ہیں اور باقی دنیا کے ممالک میں جنگ و جدل کی آگ بھڑکاتے ہیں چاہے وہ مسلمان ممالک ہوں یا افریقہ کے عیساءی ممالک ۔
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
    مگر یہ صناعی جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

    محض اپنے تحفظ کا سوچنا حیوانی جبلت ہے کچھ اور چاہیے اس سے اوپر اٹھنے کو
    3. محمداسد بتاريخ January 25، 2010 بوقت 10:18 pm

    میرا نہیں خیال کہ ان اعتراضات سے اسلام کے نام پر حرف آئے۔ اسلامی تعلیمات اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں، ہاں اس پر عمل نہ کرنے والے پر ضرور تنقید کی جاسکتی ہے۔ اخلاقیات کی تعلیم ہر مذہب ہی دیتا ہے۔ لہٰذا ان خرابیوں کو مذہبی کے بجائے معاشرتی سمجھا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اگر کوئی مسلمان یا پاکستانی ہی خراب ہوتا تو وہ دنیا کے ہر خطہ میں خرابیاں پیدا کرتا، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہاں یہ درست ہے کہ اپنے ہی ملک کو گندہ کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔
    4. عبداللہ بتاريخ January 25، 2010 بوقت 11:34 pm

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090090724_call_girls_as.shtml
    5. عبداللہ بتاريخ January 25، 2010 بوقت 11:36 pm

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/07/090724_call_girls_as.shtml
    6. عبداللہ بتاريخ January 25، 2010 بوقت 11:37 pm

    پہلا لنک درست نہیں ہےسعدیہ آپ مناسب سمجھیں تو اسے ڈلیٹ کردیں!
    7. Aniqa Naz بتاريخ January 25، 2010 بوقت 11:45 pm

    اگر بس اسٹاپ کھڑے ہوں تو کوئ بھی صاحب آپکو دھکا دیتے ہوئے یا جسم پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے چلے جائں گے۔ اگر بس کے اندر اپنی سیٹ پہ بیٹھے ہوں تو پچھلی سیٹ سے ایک پیر سیٹ کے درمیانی خلاء میں پاءووں گھسا کر آپکو کھجانے لگے گا۔ اگر آپ غلطی سے بس میں رش کی وجہ سے مردانے حصے کی طرف کی جالی پہ اپنا ہاتھ رکھ دیں تو محض چند سیکنڈز کے اندر آپکے ہاتھ پہ کسی مرد کا ہاتھ ضرور پڑیگا۔ کنڈیکٹر آئے گا اور دیوانہ وار ہاتھ مار کے آپ سے ٹکٹ کا پوچھے گا اور ایکبار نہیں بار بار ایسا کریگا۔ اگر خواتین اپنی جگہ سے آگے پیچھے نہ ہو رہی ہوں تو کنڈیکٹر صاحب فرمائیں گے اندر ہو رہی ہو یا لگاءوں ہاتھ۔ جو مرد آپکو فاصلون میں ٹیکنکل خرابی کی وجہ سے ہاتھ لگانے سے معذور ہوں وہ کھڑے ہو کر اپنے جسم کے مخصوص حصے کو کھجانے لگیں گے۔ ڈرائیور حضرات فحش گانوں کا مجموعہ سنبھال کر رکھیں گے اور ہمہ وقت چلاتے رہیں گے۔ بس میں اگر آپکی نظر غلطی سے مردانہ حصے کی طرف اٹھ جائے تو کوئ نہ کوئ آپکو گھور رہا ہوگا، کوئ صاحب اپنی زبان اپنے ہونٹوں پہ پھیریں گے اور کسی صاحب کی آنکھ میں فنی خرابی پیدا ہو جائے گی۔
    ان ساری باتوں کا ایک جواب آپ گھر سے نکلتی کیوں ہیں؟
    مجھے بھی باہر کے ممالک میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے اوران میں سے کوئ ایک واقعہ آج تک میرے ساتھ وہاں پیش نہیں آیا۔ وہاں مجھے بالکل اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ کوئ ہاتھ مارتا ہوا گذر جائے گا۔ اور مجھے کسی مرد سے احتیاطاً دو میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہئیے۔ یعنی اسکے ہاتھ کی لمبائ سے ایک میٹرزیادہ اور کوشش کرنی چاہئیے کہ اسکی طرف غلطی سے بھی اپنی نظر نہ اٹھنے دوں۔ میں گاڑی ڈرائیو کر رہی ہونگی تو آس پاس سے کے کار چلانے والے حضرات مجھے جھانک جھانک کر دیکھیں گے حالانکہ میں کوئ ایشوریا رائےنہیں۔ لیکن ایک خاتون تو ہوں۔ یہ ہے ساری بات۔
    کراچی میں جو آسودہ حال علاقے ہیں وہاں آپ ارت کو بھی اکیلے کار چلا سکتی ہیں۔ اور چھوتے موٹے بد تمیزی کے واقعات کو نظر انداز کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔ جہاں تک زیادتی کے کیسز کا حوالہ ہے۔ ایک دفعہ نادیہ خان نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ پاکستان کے اندر نوے فیصد بچے کسی نہ کسی طرح سے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔
    8. اسماء پيرس بتاريخ January 26، 2010 بوقت 12:09 am

    راول ڈيم بس سٹاپ پر يونيورسٹی کی بس پکڑنے کے ليے ايکدن کھڑی ہوئی تو ہر گاڑی ميرے پاس سے رفتار ہلکی کر کے اور ہارن بجا کر گزرے صورت حال ديکھ کر ميں نے مارے خوف کے نقاب لے ليا تو اب تو ہارن پر ہارن صرف دس منٹ ميں اتنی گاڑياں اور ہارن کہ ميں حيران يہ لوگ ايسا کيوں کر رہے ہيں وجہ جلد سمجھ آ گئی جب سائيڈ پر کھڑی ٹريفک کنٹرول گاڑی ميں سے ايک يونيفارم ميں ملبوس صاحب ميرے پاس آ کر کہنے لگے آپ نے يہ کام کرنا ہی ہے تو سائيڈ پر کھڑی ہو جائيں اسطرح کھلے عام ہم بھی پکڑے جائيں گے بس پھر جو مجھے آگ لگی اور جو کچھ ميں نے اسکو اور اسکے گاڑی والے سب بھائيوں کو سنايا وہ خالص پنجابی گالياں ہيں جو ميں يہاں لکھ کر اپنی ثقافت کو فروغ دينا نہيں چاہتی
    9. اسماء پيرس بتاريخ January 26، 2010 بوقت 12:16 am

    ابھی آج ايک نئی بات ميرے ابا جان نے بتائی جو دو تين دن پہلے ميرے ليے پرائز بانڈ لينے قومی بچت گئے وہاں ہر بڑے پرائز بانڈ کے ساتھ دو سو سے تين سو رشوت لی گئی تو ميری تو ہنسی اور افسردگی کے ملے جلے تاثرات تھےافسردگی پيسوں پر نہيں چھ سات سو سے کيا فرق پڑتا ہے مگر اسپر کہ کہاں جا رہا ہے وطن عزيز اور ہنسی اسليے کيا دماغ پايا ہے ہمارے پاکستانی مردوں نے کمائی کے ليے ابو فالتو رقم ساتھ نہيں ليکر گئے تھے نئے ُقانون ` کا پتہ جو نہيں تھا آپ لوگ جائيں تو ہر دو سو روپے والے بانڈ کے ليے بھی احتياطا دس روپے ايکسٹرا ليتے جائيے گا
    10. ابن سعید بتاريخ January 26، 2010 بوقت 2:54 am

    پاکستان کا تو مجھے تجربہ نہیں۔ ہاں ہندوستان اور امریکہ میں میں نے کافی واضح فرق محسوس کیا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ نازیبا واقعات یہاں بھی کم نہیں ہوتے پر شخصی آزادی کے تحت لوگوں اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ والدین بھی بچوں اور بچیوں کے کسی کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے دیر رات تک گھومنے پھرنے کسی کے یہاں قیام کرنے وغیرہ پر عموماً کوئی پابندی نہیں لگاتے۔ لہٰذا یہ چیز آسودگی اور بے نیازی عطا کرتی ہے اور راہ چلتی عورتیں یا مرد ایک دوسرے کے لئے معمہ نہیں ہوتے اور اتنی کشش نہیں رکھتے جتنا ہند میں۔ یہاں جنسی جرائم میں جب تک جبر شامل نہ ہو تب تک جرم شمار نہیں ہوتا۔

    اس کے علاوہ دوسری برائیوں میں چوری چکاری کے واقعات کبھی کبھار سننے میں آتے ہیں گو کہ پولیس کی گشتی گاڑیاں ہمیشہ گھومتی رہتی ہیں۔ پولیس کا برتاؤ بھی شہریوں سے بہت ہی اچھا ہوتا ہے۔ کسی محکمے میں رشوت خوری نظر نہیں آتی۔ کاموں میں بلا سبب تاخیر نہیں کی جاتی۔ ملازمین سمیت سبھی وقت کے خاصے پابند ہوتے ہیں۔ صفائی ستھرائی کا خیال فرداً فرداً ہر شہری رکھتا ہے۔ آج تک اپنے اطراف میں کسی کو سگریٹ پی کر ٹوٹا زمین پر پھینکتے نہیں دیکھا۔ اور نہ ہی کار کی کھڑکیوں سے تھوکنے یا چیونگم کا لفافہ پھینکتے دیکھا۔ اس کے علاوہ کچھ اور بھی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ مثلاً راہ چلتے ہوئے بے نیازی سے گزرنے کے بجائے اکثر دو اجنبی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے اور ہائے ہیلو کہتے ہیں نیز اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے خود کار بند ہونے والے دروازے کھول کر ان کے گذرنے کا انتظار کرتے ہیں۔
    11. خرم ابنِ شبیر بتاريخ January 26، 2010 بوقت 4:52 am

    اگر آج پاکستان میں ایسے حالات ہیں کہ ہم پاکستان سے دور رہے کر اپنے آپ کو خوش محسوس کرتے ہیں آپ کون سے ملک میں ہیں میں نہیں‌ جانتا اسماء آپی پیرس میں ہیں سعود بھائی امریکہ میں ہیں میں ابوظہبی میں ہوں ہم سب اپنے اپنے وطن سے دور ہیں لیکن ہم یہاں کے قانون کی بات کرتے ہیں۔ سچ ہے یہ سب سچ ہیں یہاں قانون کا راج ہے لیکن یہاں کا قانون کس وجہ سے ہے۔ یہاں کوئی رشوت اس لیے نہیں لیتا کہ یہاں کوئی رشوت دیتا نہیں ہے
    پاکستان کے حالات اگر آج ایسے ہیں تو اس میں ہمارا بھی بہت ہاتھ ہے۔ خاص کر سرکاری اداروں کا۔
    یہاں ابوظہبی میں بھی عورت کو کوئی مسئلہ نہیں‌ہوتا وہ چاہے رات کو جتنے بجے مرضی جہاں چاہے جائے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے کہ ہم اپنے ملک کو بھی ایسے ہی سمجھے جیسے اپنے گھر جو سمجھتے ہیں۔ تمام لڑکیوں کو ایسے سمجھے جیسے اپنی بہنوں کو سمجھتے ہیں۔ اگر پاکستان کی عوام خود ٹھیک ہو جائے تو پاکستان خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔
    12. خرم ابنِ شبیر بتاريخ January 26، 2010 بوقت 4:53 am

    لیکن میں پاکستان کو پھر بھی غلط نہیں کہتا بس پاکستان کو حکمران ٹھیکن نہیں ملتے بلکے جیسی عوام ہے ویسے حکمران ہیں
    13. جعفر بتاريخ January 26، 2010 بوقت 10:07 am

    جس دن قانون سب کے لئے برابر ہوجائے گا یہ سارے مسئلے حل تو نہیں لیکن بہت کم ہو جائیں گے
    تب تک انتظار کریں!
    14. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ January 26، 2010 بوقت 10:51 am

    آج اپنے مُلک پاکستان کی جو حالت ہے اور جس کا حوالہ دے کر اس مُلک سے دُور رہنے کی بات کی جاتی ہے ۔ اس مُلک کو اِس حالت میں کس نے پہنچایا ہے ؟
    وہ جو رشوت دیتے ہیں ۔ اگر رشوت نہ دی جائے تو رشوت لینے والے کیسے پیدا ہوں گے ؟
    وہ جو سچ کا ساتھ نہیں دیتے اور جھوٹ سُن کر اُس کی تردید نہیں کرتے
    وہ جو ملازمت اور دوسرے کاموں میں کامیابی کیلئے سفارش کرتے ہیں
    وہ جو اپنی ضروریات کو اپنا حق کہتے ہیں اور دوسرے کے حق کو نہیں پہچانتے
    وہ جن کی زندگی کا مقصد آسودگی ہے جو کسی طرح بھی حاصل ہو جائے
    وہ والدین جو اپنے بچوں کی غلط حرکت پر اُن کی سرزنش کرنے کی بجائے خوش ہوتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں
    وہ جو چاہتے ہیں کہ دوسرے اچھے کام کریں مگر خود اچھا ہونے کی کوشش نہیں کرتے
    وہ جن کو دوسرے کی آنکھ میں تِنکا نظر آتا ہے مگر اپنی آنکھ میں شہتیر نظر نہیں آتا
    پنجابی کی ایک کہاوت ہے “رَنڈی تے بہندی اے مَشٹنڈے نئیں بہن دیندے” یعنی طوئف جسم فروشی بند کر دے اگر اُس کا جسم خریدنے والے اُس کے پاس نہ جائیں
    آپ کے بزرگوار کی جگہ میں ہوتا تو انعانی بانڈ نہ لیتا اور اُس دفتر کے خلاف ڈائریکٹوریٹ میں تحریری درخواست دیتا
    [ویسے میں نے کبھی انعامی بانڈز نہیں خریدے کیونکہ یہ جُوا ہے]
    15. sadiasaher بتاريخ January 26، 2010 بوقت 12:57 pm

    سلام ذوالفقار احمد

    ویلکم میرے بلاگ پہ ——-
    میں جن باتوں کے گن گا رھی ھوں وہ حقیقت ھے
    یہاں چودہ سال کی عمر کے بعد بہت سے فیصلوں میں بچے آزاد ھوتے ھیں وہ جو بھی کریں لڑکا لڑکی شادی کے بنا شادی ایک ساتھ رہ سکتے ھیں ان کا رھن سہن اب ایسا ھی ھے وہ میں نے پہلے ھی کہا شرم و حیا کا جو تصور اسلام میں ھے وہ یہاں نہیں ھے مگر اس کا مطلب یہ نہیں یہاں انسانیت نہیں انصاف ، قانون اور صفائ نہیں

    سلام محمد ریاض شاہد

    ویلکم میرے بلاگ پہ ——
    یہ سب ممالک کم از کم اپنے ملک والوں کو تو تحفظ دیتے ھیں
    اپنے ملک سے تو غداری نہیں کرتے ان کا مفاد ان کے ملک سے وابسطہ ھے پاکستان میں کون منع کرتا ھے دوسرے ممالک کے لوگ اپنے ملک کے لیے سوچتے ھیں ان کے فائدے کے لیے سوچتے ھیں پاکستان بھی پہلے اپنے ملک کے مفاد کو دیکھے

    سلام محمد اسد

    ایک فورم پہ میں نے مسلمانوں کے بارے میں کچھ لکھا تو مجھ سے کسی نے کہا کیا آپ مسلمان نہیں ھیں‌جو مسلمانوں کو برا کہہ رھی ھیں اور قوموں اور مذاہب کے لوگوں میں بھی کمزوریاں ھیں گویا مسلمان پہ فرض ھے وہ اپنا محاسبہ نہ کرے بلکہ دوسروں میں سے کمزوریاں ڈھونڈتے رھیں اور انھیں دیکھ دیکھ کر خوش ھوتے رھے

    سلام عبداللہ

    میں نے ابھی لنک نہیں دیکھا دیکھ کر بتاؤں گی
    16. sadiasaher بتاريخ January 26، 2010 بوقت 1:39 pm

    سلام عنیقہ

    یہاں آکر بھی کچھ حضرات کی عادات نہیں بدلتیں کسی شاپنگ مال میں کسی پارک میں اگر آپ کو احساس ھو کوئ آپ کو دیکھ رھا ھے رو وہاں کوئ پاکستانی ھی ھوگا یورپ میں حسن سر ِ عام نظر آتا ھے مگر پاکستانی خواتیں کو بطورِ خاص دیکھیں گے

    سلام اسماء

    توبہ ھے اب اس پہ میں کیا کہوں —- ھمارا پاکستان ماہان ۔۔۔
    پاکستان میں کوئ کام چائے پانی کے بنا نہیں ھوتا یہاں کی ایک فیملی پاکستان مین گھر بنوا رھی ھیں وہ بتا رھیں تھی زمین نام لگوانے سے لے کر سیمنٹ خریدنے تک سب کام چائے پانی کے خرچے کے ساتھ ھوئے ھیں ناجائز کام ھی نہیں جائز کاموں کے لیے بھی پیسے دینے پڑتے ھیں ورنہ فائل برسوں ڈھیر میں دبی رھے گی

    سلام ابن ِ سعید

    یہاں بھی ایسے ھی ھے ان کا فیملی اسٹائل ھی ایسا ھے وہ اس کو گناہ نہیں سمجھتے مگر باقی سب باتوں کا بہت دھیان رکھتے ھیں
    شروع میں اگر کہیں جانا ھوتا تھا تو آرام سے گھر سے نکلنا خیال یہی ھوتا تھا بس اپنے وقت سے پانچ دس منٹ لیٹ ھی آئے گی ایک منٹ‌ بس اسٹاپ پہ لیٹ پہنچے پہ پتا چلتا تاھ بس اپنے وقت پہ جا چکی ھے یہاں چوریاں بہت کم ھوتی ھیں صفائ ھے انصاف ھے یہ لوگ مسلمان نہیں مسلم ممالک میں ان باتوں پہ زیادہ دھیان دینا چاھیے

    سلام خرم

    یہ بلاگ بہت دکھی دل سے لکھا ھے ۔۔۔ ھم یہاں خوشحال ھیں پاکستان سے جب کوئ ایسی خبر آتی ھے تو بہت دکھ ھوتا ھے یہاں رشوت کا رواج اس لیے عام نہیں یہاں کے حکمران رشوت خور نہیں ھیں پاکستان میں پہلے صرف ناجائز کام کے لیے رشوت لیتے تھے اب کسی ریٹائر انسان کو پینشن لینے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ھے ۔۔۔ بھوک اور غربت اپنی جگہ پہ انسانیت تو ھونی چاھیے

    سلام جعفر

    100% صحیح کہا ۔ جب پاکستان میں کمزور کی فریاد سنی جانے لگے گی عدالت کے کٹہرے میں مالک اور ملازم ایک برابر ھونگے بہت سے مسائل ختم ھو جائینگے
    17. یاسر عمران مرزا بتاريخ January 26، 2010 بوقت 1:50 pm

    چاہے جو بھی مثال دیں، بیرون ملک ہمارا کلچر نہیں، وہ ہماری مٹی نہیں ہے، اپنے ملک کی تباہی کے ہم سب ذمہ دار ہیں، باہر جاکر بس جانے والے جو اپنا گھر سنوارنے کی بجائے کسی اور کے گھر میں جا بیٹھتے ہیں اور ملک میں رہنے والے جو اس جگہ تھوک دیتے ہیں جہاں انہوں نے روز بیٹھنایا گزرنا ہوتا ہے۔۔۔۔
    جس کلچر کے آپ فائدے گنوا رہی ہیں یہ وہی کلچر ہے جہاں مان باپ کو اپنے بال بچوں کو کسی بات سے منع کرنے پر پولیس انہیں اٹھا کر لے جاتی ہے، جہاں پر لڑکیاں اپنے ماں باپ کے بغیر اپنا رشتہ ڈھونڈ لیتی ہیں۔
    اس کلچر کی فائدے گنواتی ہیں تو نقصان بھی گنوائیے۔۔۔۔جو یقینن فائدوں سے زیادہ ہوں گے۔۔۔۔ اور ایک بات
    کوا جب ہنس کی چال چلتا ہے تو اپنی چال بھی بھول جاتے ہے۔۔۔
    امریکہ و یورپ میں رہنے والے پاکستانی کیا ہیں ؟
    گورے ؟
    نہیں
    پاکستانی ؟
    نہیں
    18. اسماء پيرس بتاريخ January 26، 2010 بوقت 1:55 pm

    خرم بھائي مانا کہ رشوت دينے والے نے بھي غلط کيا مگر کسی ايک بندے کے ٹھيک ہونے سے پاکستان بھر تو ٹھيک ہونے سے رہا ؛ جب وہ کہيں کہ بانڈز نہيں ہيں چکر لگاتے رہيے اور پتہ کرتے رہيے تو ايک بڈھے بندے نے چکر پر چکر لگانے کی بجائے رشوت والا راستہ چن ليا اور اجمل انکل شکايت ليکر تو ڈائيريکٹوريٹ تو جائيں مگر وہاں شنوائی کی کيا اميد؟ جانے وہ کتنے پيسے ليکر شکايت درج کريں يا کتنے چکر لگوائيں يہ جو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے اسکو ٹھيک کرنے کے ليے کسی باوے کی ضرورت ہے اور ہاں بانڈز پيسے محفوظ کرنے کی غرض سے خريدنا جوا نہيں اخبار جہاں والے مولوی صاحب تو يہی بتاتے ہيں
    19. اظہرالحق بتاريخ January 26، 2010 بوقت 3:09 pm

    میں بھی باہر رہتا ہوں ، اور باہر رہنے والوں سے صرف ایک سوال ہے ، کہ جو قانون کی پابندی ہم باہر کے ممالک میں کرتے ہیں ، وہ اپنے ملک میں کیوں نہیں!

    اصل وجہ ہے کہ پاکستان چھوڑ دو کی تحریک میں جو لوگ شامل ہو رہے ہیں ، وہ اپنی پہچان کھو رہے ہیں

    میں آج بارہ سالوں سے باہر ہوں ، مگر آج دن تک مجھے پاکستان بُرا نہیں لگا ۔ ۔ ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اصل پاکستان وہ نہیں جو دکھائی دیتا ہے اصل پاکستان وہ ہے جو ہمارے دلوں میں ہے

    اپنے دیس کا ہر اک موسم ، ہم کو پیارا لگتا ہے
    لو بھی اچھی لگتی ہے ، بادل بھی اچھا لگتا ہے

    باہر جتنی رنگینی ہو جتنا سونا چاندی ہو
    اپنا گھر پھر اپنا گھر ہے امن جزیرہ لگتا ہے
    20. آصف احمد بھٹی بتاريخ January 26، 2010 بوقت 3:41 pm

    السلام علیکم
    جن واقعات کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ یقینا قابل مذمت ہیں ، مگر خدا لگتی کہیے گا ، اگر ہم لوگ آج بھوک ، افلاس کا شکار ہیں تو اِس کا سبب کیا ہے ؟ اگر ہمارے بچےگندے پانی سے بیمار ہو رہے ہیں تو کیوں ؟ کیا یہ درست نہیں کہ اہل مغرب نے پوری دُنیا کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے ، کیا یہ درست نہیں کہ اہل مغرب اچھی چیز اپنے لیے اور بچ رہی تیسری دُنیا کے لیے جیسے اصول پر عمل پیرا ہیں ، مین جانتا ہون کہ یہ توجیہات درست نہیں ہیں مگر میں ہمیشہ ہر بات مثبت لیتا ہوں بے شک ہم لوگ بھوک افلاس کا شکار ہیں مگر ہمارے دل بہت بڑے ہیں ، بے شک ہم اپنے بچوں کو صاف ستھرا ماحول اور پینے کو صاف پانی نہیں دے سکے مگر ہم نے کسی کے دریاؤں کو لہو رنگ بھی نہیں کیا ، اور دُنیا میں کسی بھی عورت سے ہونے والی زیادتی یقینا قابل مذمت ہے چاہے وہ پاکستان مین ہو یا پھر امریکہ میں ، اور ہاں یاد آیا تو بر سبیل تذکرہ ذکر کرتا چلوں کہ ایف بی آئی کی ایک رپورٹ کہیں پڑھی تھی جس کے مطابق امریکہ مین اوسطا ہر بتیس سیکنڈ کے بعد ایک عورت یا لڑکی زیادتی کا شکار ہو رہی ہے ۔ یہ کوئی جواز نہیں ہے یقینا پاکستان میں خواتین اور عورتوں پر ہونے والے مظالم نہایت ہی افسوسناک ہیں اور خصوصا جبکہ ہم خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی
    21. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ January 26، 2010 بوقت 5:02 pm

    اسماء صاحبہ
    یہ جواز جو پیش کئے گئے ہیں یہی سب خرابی کی بنیاد ہیں
    آپ نے لکھا ہے کہ ایک بوڑھا شخص بانڈز خریدنے کیلئے چکر لگا کر رشوت دینے پر مجبور ہوا ۔ میرا سوال ہے کہ کیا بانڈز میں روپیہ لگانا گناہ نہیں ہے ؟ اور کیا رشوت دینا گناہ نہیں ؟ اگر ہمیں اللہ ہی کا خوف نہیں تو پھر اللہ کے قہر کا شکوہ کیوں ؟

    آپ نے لکھا کہ ایک کے کرنے سے کیا ہو گا ؟ جب ہر کوئی یہی سوچے کہ ایک کے کرنے سے کیا ہو گا اس لئے غلط کام کر لے تو پھر جس کے جو جی میں آئے سو کرے شکوہ کیسا ؟

    شکائت درج نہ کرانے کا بھی آپ نے بغیر عمل کئے جواز پیش کر دیا ۔ حق یہ ہے کہ کوئی نہیں سُنتا تو نہ سُنے مگر انسان اپنا فرض تو پورا کرے ۔ ویسے عرض کر دوں کہ شکائت درج کرنے کیلئے مال نہیں دینا پڑتا صرف چند روپے ڈاک کے رجسٹری لفافوں پر خرچ کرنا پڑتے ہیں ۔

    پیسے محفوظ رکھنے کی آپ نے بات کی ہے ۔ پیسے محفوظ رکھنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں ۔ کیا ضروری ہے کہ پیسے محفوظ رکھنے کیلئے لاٹری ڈالی جائے ؟

    سیدھی سی بات ہے کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ جو چاہے سو کرے اور دوسرے سب اچھے بن جائیں ۔ عملی صورت یہ ہے کہ ہر شخص دوسروں کی شکائت کرنے سے پہلے اپنے آپ کو راہِ راست پر لائے تاکہ دوسرے اس کے نیک عمل کو دیکھ کر متاءثر ہوں پھر تبلیغ کا مزا بھی آئے گا اور اس کا اثر بھی ہو گا

    آپ نے اخبار خواتین کے جس آدمی کو عالمِ دین بنا دیا ہے مجھے اس کا نام پتہ تو بتایئے تاکہ میں اس سے پوچھوں کہ کون سی آیت یا کون سی حدیث سے اُنہوں نے استفادہ کیا ہے ؟

    سعدیہ سحر صاحبہ ۔ عنیقہ ناز صاحبہ ۔ اسماء صاحبہ اور عبداللہ صاحب
    آپ کی خدمت میں عرض کر دوں کہ پاکستان کے لوگ اتنے بھی بُرے نہیں ہیں اور امریکہ اور یورپ کے لوگ اتنے بھی اچھے نہیں ہیں جتنا آپ لوگ اُنہیں بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ یہ میں اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنا پر کہہ رہا ہوں ۔ میں جانتا ہوں کہ ہمارے ہاں بدچلن لڑکوں یا مردوں کی تعداد پچھلے چالیس سال میں کئی گنا ہو گئی ہے جس کی وجوہات میں اُوپر بیان کر چکا ہوں ۔ لیکن صرف لڑکوں یا مردوں کو ہی الزام دینا درست نہیں ۔ بدچلن لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد بھی اسی تناسب سے بڑھی ہے
    22. اسماء پيرس بتاريخ January 26، 2010 بوقت 5:47 pm

    ميں مانتی ہوں ابو نے غلط کيا ميں انکی جگہ ہوتی تو ايسا رپھڑا ڈالنا تھا قومی بچت کی اسکيم ميں کہ ان کو لينے کے دينے پڑ جاتے مگر ابو ڈھيلے پڑ جاتے ہيں عاتيں ميری ملتی جلتی نہيں ہيں ميرے ابا سے ميري، مجھے تو بعض اوقات شک پڑ جاتا ہے رہی بات کہ اللہ کے قہر کا شکوہ کيوں؟ جناب اللہ سے شکوہ شکايت کرنے والوں ميں سے ميں نہيں ميرے اوپر اللہ پاک کی بے پناہ عنايات ہيں جن ميں سے ايک کو بھی حاصل کرنے ميں ميرا کمال نہيں بس اللہ کی مہربانی ہے لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس ملک کا يہ حال ہے اسميں ہم سب ہی کسی نہ کسی طرح شامل ہيں ابو شامل سميت؛ اور جنگ اخبار کے ہفتہ وار ميگزين اخبار جہاں کے مسئلے مسائل والے مولوی صاحب کہتے ہيں پيسے محفوظ کرنے کے ليے بانڈ خريدنا جائز ہے مگر انعام جائز نہيں حالانکہ مولويوں کا اپنا بانڈ نکل آئے تو پھر يہ کسی طور جائز بھی کر ليں گے اور انکل جی مان جائيں يورپ کے لوگ اتنا ہی اچھے ہيں جتنا ميں انہيں سمجھتی ہوں آخر کوئی يہاں آ کر واپس جانا کيوں پسند نہيں کرتا بھلا جنت سے کون نکلنا پسند کرے گا رہی بد چلنی والی بات تو وہ انکيذات تک محدود ہے ايسا کوئي کام نہيں کرتے جس سے دوسروں کو تکليف ہو مجھے گھورتے نہيں ستاتے نہيں بدچلني پر مجبور نہيں کرتے اور انکی بدچلنی ميرے چلن ميں بدنامی کا سبب نہيں بنتی تو ميں تو انکو اچھا ہی کہوں گی فرانس زندہ باد فرينچ قوم زندہ باد بھلے چچا خاور کھوکھر سے پوچھ ليں ميں غلط نہيں کہہ رہی اور ہاں تبليغ نہيں کرتی ہوں ميں ايک يہ عادت ميرے اور ميرے ابا ميں مشترکہ پائی جاتی ہے دونوں برقعے واليوں اور تبليغيوں کو ديکھ کر بھاگ نکلتے ہيں
    23. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ January 26، 2010 بوقت 7:15 pm

    اسماء صاحبہ
    اللہ کی مجھ پر جتنی کرم نوازی ہے وہ میں ہی جانتا ہوں ۔ اگر نہ ہوتی تو شاید میں آج یہ تحریر نہ لکھ رہا ہوتا اور نہ میرے پاس کمپیوٹر ہوتا ۔ میں جانتا ہوں کہ ہمارے ملک کو کچھ لُٹروں نے ایسا بنا دیا ہے کہ یہاں باعزت طریقہ سے رزقِ حلال کمانا مشکل ہو گیا ہے لیکن ناممکن نہیں ہےمیں اس کے حق میں ہوں کہ جسے اپنے ملک میں باعزت روزگار نہ ملے تو وہ کہیں بھی چلا جائے ۔ وطن کی محبت ایک الگ معاملہ ہے ۔ بدقسمتی ہے کہ نہ ہمارے حکمرانوں نے اور نہ نئی نسل کے اساتذہ نے بتایا کہ وطن کیا ہوتا ہے قوم کیا ہوتی ہے اور بحثیت قوم کے فرد کے کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں ؟ اسلئے اکثریت اپنا اُلو سیدھا کرنے میں لگی رہتی ہے ۔ نہ اُنہیں قوم کی پرواہ ہے نہ وطن کی ۔
    میں برطانیہ کے علاوہ یورپ کے آدھی درجن ممالک میں رہ چکا ہوں اور امریکہ بھی جا چکا ہوں ۔ میں اُن لوگوں کی اچھی اور بُری عادات سے واقف ہوں ۔
    24. اسماء پيرس بتاريخ January 26، 2010 بوقت 9:52 pm

    انکل جی جب آپ انہيں(يورپينز کو) جانتے ہيں تو مانتے کيوں نہيں
    25. sadiasaher بتاريخ January 26، 2010 بوقت 10:17 pm

    سلام اجمل جی

    مانتی ھوں ھر کسی کو اپنی جگہ بدلنے کی ضرورت ھے ایک مچھلی سارے پانی کو گندہ کر سکتی ھے مگر ایک مچھلی سارے جل کو صاف نہیں کر سکتی کسی بھی کام کو بگاڑنے میں کوئ زیادہ وقت نہیں لگتا بگڑے ھوئے کو ٹھیک کرنے میں وقت چاھیے ھوتا ھے پاکستان میں کتنے کام میرٹ پر ھوتے ھیں ؟؟ ایک نوجوان دو سال نوکری کے لیے ٹھوکریں کھاتا ھے مگر کہیں نوکری نہیں ملتی اگر سفارش سے یا کچھ رشوت دے کر کام بن سکتا ھے تو وہ کیا کرے گا اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو کب تک بھوکا رکھے گا پاکستان میں بہت سے لوگ رشوت کا لینا پسند کرتے ھیں نہ دیا مگر کبھی کبھی مجبور ھو جاتے ھیں

    سلام یاسر

    میں نے کہیں پہ بھی یہاں کے کلچر کی تعریف نہیں کی جو قانون کی پاسداری ھے اس کی بات کی ھے آپ ایک بار اور بلاگ پڑھیں
    میں ایک ایسے ملک میں رھتی ھوں جہاں لوگ مذھب یا تو مانتے نہیں ھیں اگر مانتے بھی ھیں تو بس اتنا کرسمس پہ دس پندرہ منٹ کے لیے چرچ چلے گئے — جہاں شرم و حیا کا کوئ تصور نہیں یہاں شراب پہ کوئ پابندی نہیں ان کے مذھب میں صفائ کو نصف ایمان کا درجہ نہیں دیا گیا جب یہاں میں قانون کی پاسداری دیکھتی ھوں صفائ دیکھتی ھوں مجھے سڑکوں پہ بھکاریوں کے ھجوم نظر نہیں آتے کوئ بھوکا نہیں مرتا انصاف کے نام پہ لوگوں کو لوٹا نہیں جاتا اشیائے خوردنی میں ملاوٹ نہیں ھوتی کوئ ماں بھوک سے تنگ آکر اپنے بچوں کو برائے فروخت کے لیے کھڑا نہیں کرتی یہ سب دیکھ کر جب پاکستان سے موازنہ کرتی ھوں تو دکھ ھوتا ھے یہ سب پاکستان میں کیوں نہیں ھوتا پاکستان ایک اسلامی ملک ھے جہاں کھلاڑیوں سے لے کر سنگرز تک لوگ داڑھیوں میں نظر آتے ھیں ھر کوئ اسلام کا نعرہ بلند کرتے نظر اتا ھے مگر اسلام نظر نہیں آتا

    اسماء —- ھم لوگ بھی پاکستان میں پرائز بانڈ ز خریدتے تھے کبھی کوئ انعام نہیں نکلا میں کہیں پڑھا تھا یہ جوا نہیں ھے پیسے
    جمع کرنے کا ایک طریقہ ھے اس میں نقسان نہیں ھوتا جب چاھو واپس کر سکتے ھیں اگر یہ جوا ھے تو شیئرز خریدنا بھی جوا ھوا اس کا بھی پتا نہیں ھوتا نفع ھوگا یا پیسہ ڈوبے گا
    26. sadiasaher بتاريخ January 26، 2010 بوقت 11:56 pm

    سلام اظہر الحق

    پاکستان سے جو پاکستانی دور ھیں وہ پاکستان سے زیادہ محبت کرتے ھیں بہت کچھ کرنا بھی چاھتے ھیں مگر وہ کر نہیں پاتے ایک فیملی یہاں سے پاکستان گئ وہی سیٹیل ھونا چاہ رھے تھے ایک پلاٹ لیا ساٹھ لاکھ کا نقشہ منظور ھو گیا بچوں کا اسکول داخلہ ھو گیا انھوں نے سارا پیسہ پاکستان ٹراسفر کر لیا بعد میں پتا چلا وہ پلاٹ کسی اور کی ملکیت تھی قانونی طور پہ وہ اس کے مالک نہیں ھیں اس پہ وہ کوئ تعمیر نہیں کر سکتے کورٹ کچہریوں کے چکر لگا کر بھی کچھ حاصل نہیں ھوا لاکھوں روپے ضائع کر کے وہ واپس یہاں آگئے اگر پاکستان میں صرف سیکورٹی بہتر ھو جائے تو بہت سے پاکستانی آج ھی پاکستان آجائینگے میں پاکستانی ھوں اور مجھے پاکستان سے عشق ھے اور فخر ھے کہ میں پاکستانی ھوں پاکسان برا نہیں وہاں کا سسٹم میں خرابی ھے جو ھم سب کی پیدا کی ھوئ ھے اسے چینج کرنے کی ضرورت ھے

    سلام آصف احمد بھٹی

    مانا سپر پاورز دنیا کے وسائل پہ قبضہ کر رھے ھیں
    کیا دودھ میں پانی سپر پاروز ملا رھے ھیں ؟؟
    پاکستان میں دو نمبر کی دوائیاں کون بیچ رھا ھے ؟؟
    قبضۃ گروپ لینڈ مافیا اسرائیلی ھیں یا امریکی ؟؟
    سراِ عام عورتوں کے ساتھ زیادتی کون کر رھا ھے ؟؟
    گلی میں کوڑے کے ڈھیر کس نے لگائے ھیں ؟؟
    جو یہ عام مسائل ھیں یہ ھمارے اپنے پیدا کردہ ھیں انھیں کوئ اور حل کرنے نہیں آئے گا انھیں ھم لوگوں نے ھی حل کرنے ھیں
    یہ سیاسی بیان ھر جگہ نہیں چل سکتا اس مسلے میں کسی تیسری طاقت کا ھاتھ ھے

    اجمل جی —- آپ یہ مان لیں جو اخلاقیات کا جنازہ پاکستان مین نکلا ھوا ھے وہ کسی مسلمان ملک کے لیے باعثِ شرم ھے اور جو باتیں اسلام نے ھمیں سیکھائ ھیں انھیں یورپیئن لوگوں نے اپنایا ھے ان سب باتوں کو اپنانے کی ضرورت ھے
    27. غفران بتاريخ January 27، 2010 بوقت 6:21 am

    یہ تو بہت برا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    28. sadiasaher بتاريخ January 27، 2010 بوقت 4:19 pm

    سلام غفران

    بلاگ کی دنیا میں واپسی مبارک ھو —-
    29. عامر رشید بتاريخ January 27، 2010 بوقت 7:03 pm

    سلام سعدیہ باجی
    بہت خوب کہا۔پاکستان کے حالات واقعی خراب ہیں کوئی مانے یا نہ مانے۔حالات کی‌خرابی کی وجہ سے ہم آزادی سے کہیں آجا نہیں سکتے۔گھوم نہیں سکتے۔آدھی رات تو دور کی بات دن میں‌خواتین آزادی سے نہیں جاسکتی۔ڈر اس قدر پھیلا ہو اکہ گھرآنے میں تھوڑی سی دیر ہو جائےتو گھر والے پریشان ہوجاتے ہیں۔کل ہی میری والدہ اپنے چھ سالہ بھتیجے سے پوچھ رہی تھی جو کہ جرمنی میں مقیم ہیں کہ آپ نے کب آنا ہے پاکستان تو اس ن چھ سالہ بچے نے کہا کہ پاکستان میں چور ہوتے ہیں ۔وہاں کی پولیس بھی چور ہے۔تو میں اس بچے کا یہ جواب سن کر بہت حیران ہوا۔کہ یہاں کی پولیس بھی چور ہے۔واقعی یہاں پر بہت سے ایسے واقعات رونما ہو تے ہیں کہ پولیس کی بدنیتی فورا ظاہر ہوجاتی ہے ۔حال ہی میں چیف سیکرٹری پنجاب کی کار نے ایک رٹیائرڈ کرنل کو ٹکر مار کر ہلاک کردیا اور پولیہس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیااور جب مقدمہ درج کیا تو قانونی تقاضے پورے نہیں کیے ۔بات یہ ہے کہ پوار ملک ایسا نہیں چند افراد کے ہاتھوں ہمارا وطن یرغمال بنا ہو اہے۔کس کا دل کرتا کہ اپنے عزیزوں ،رشتہ داروں اور بہن ،بھائیوں سے دور ہو۔ایسے واقعات دیکھ کر اور اپنے ملک کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ہبعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ ہماری نئی نسل جوکہ دیار غیر میں پرورش پارہے ہیں وہ کیوں وطن سے دور ہورہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں۔اللہ تعالٰی ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے۔
    والسلام
    عامر رشید
    30. خرم بتاريخ January 27، 2010 بوقت 11:37 pm

    اسی لئے تو کہتے ہیں۔ آؤ سنواریں پاکستان۔ کسی اور نے یہ کام نہیں کرنا۔ اس بھاری پتھر کو ہمیں نے اٹھانا ہے۔ خرابیاں مٹی میں نہیں اس پر بسنے والوں میں ہیں اور انہی نے ٹھیک کرنا ہیں۔
    31. کنفیوز کامی بتاريخ January 28، 2010 بوقت 1:51 am

    اولڈ ھوم ھے اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا پارک اور جھیل ھے اس کے قریب ھی فٹبال کا میدان اور اسکول ھے اس کے ساتھ سائیکل کے لیے ٹریک بنا ھوا ھے جو کھیتوں سے ھوتا ھوا۔۔۔۔۔۔۔
    واہ سعدیہ واہ اتنی زبردست لوکیشن میں رہتی ہو اور تحریر سے لگتا ہے لیاری میں رہتی ہو ۔ ایسے ماحول میں ویسا کیوں سوچتی ہو ۔مزے کرو سائیکل چلاو چاہے فٹبال کھیلو جھیل سے مچھلیاں پکڑو اور ہو سکے تو باقی دو نوں خواتین کو بھی ساتھ لے لو اچھا ٹائم پاس ہو جائے گا۔
    32. شاہدہ اکرم بتاريخ January 28، 2010 بوقت 2:27 am

    http://shahi.urdutech.net/2008/07/10/kaisay-hain-hum-log/
    ذرا ايک نظر اِدھر بھی ڈال ليں چھيڑنے کے لِۓ ہمارے بھائ بندوں کو مُخالِف جِنس کو ديکھنا کوئ خاص ضرُوری نہيں ٹھہرتا ملفُوف اور سامنے نا نظر آنے واليوں کو بھی نِشانہ بنايا جا سکتا ہے ليکِن بات وُہی ہے کہ نا سب مرد اور نا ہی سبی خواتين ايک جيسی ہوتی ہيں يہ بھی ايک مانی ہُوئ حقيقت ہے
    33. sadiasaher بتاريخ January 28، 2010 بوقت 4:31 am

    سلام عامر

    پاکستان کی خبریں دیکھ کر لگتا ھے ھر طرف دھشت گرد ھیں بھوک سے لوگ مر رھے ھیں ھر جگہ دھماکے ھو رھے ایک عام راہ گیر سے لے کر وزیر تک سب چور ھیں ایک عبیب سی دنیا کا نقشہ سامنے آتا ھے –ایک پروگرام میں لاھور کی فوڈ اسٹریٹ اور شاپینگ مال کا دیکھا رھے تھے لگ نہیں رھا تھا یہ وہ ھی پاکستان ھے جہاں آٹا لیتے ھوئے کئ لوگ اپنی جان سے ھاتھ دھو بیٹھے تھے کتنا تضاد ھے ایک ملک کے لوگوں کی زندگی میں
    میری ایک دوست نے پاکستان جانا تھا اس کا بیٹا کہتا ماما وہاں روز دھماکے ھوتے ھیں وہاں ھم بھی مر جائینگے

    سلام خرم

    سولہ کروڑ میں سے چند ھزار برے ھیں اور ان ھی چند ھزار لوگوں کی وجہ سے ملک کے نظام کا ستیاناس کیا ھوا ھے

    سلام کامی

    میں لیاری میں نہیں رھتی لیاری کی خبریں پڑھ کر ایسا لکھتی ھوں -باقیوں کو ساتھ کیوں لے جاؤں ھم یہاں بھی ساتھ ھیں ھم یہاں بہت مزے میں ھیں جو سوچتے ھیں محسوس کرتے ھیں بے ڈھرک لکھتے ھیں میں تو دعا کرتی ھوں ھم جیسی اور بیس تیس اور آجائیں بلاگ کی دنیا کہکشاں کی طرح جگمگانے لگے گی

    سلام شاھدہ

    ویلکم —- ھمارے بھائ بندوں کی کیا بات ھے —-
    میں ابھی لنک دیکھتی ھوں اس کے بعد مذید تبصرہ کرونگی
    34. عبداللہ بتاريخ January 29، 2010 بوقت 7:15 pm

    لیجیئے سعدیہ باسٹھ سال میں قانون تو بن گیا ب عمل شائد اگلی نسلوں تک ہوجائے!
    خواتین کوہراساں کرنے کا قانون نافذالعمل
    شرمیلا فاروقی کا کہنا ہے کہ خواتین کو تحفظ دینے کے اس قانون پر عمل درآمد کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور اس کی پاسداری ہر ادارے پر لازم ہے

    عائشہ حان | کراچی 29.01.10

    صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو وزیراعلیٰ ہاوٴس کراچی میں خواتین کو ان کے مقام کار پر ہراساں کرنے سے متعلق بل پر دستخط کردیے جس کے بعد یہ بل اب قانون بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد خواتین کو کام کے دوران بہتر ماحول فراہم کرنا اور اُنھیں جنسی طور پر ہراساں ہونے سے بچانا ہے اور اسے سینٹ اور قومی اسمبلی میں پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی نے بل کی تفصیلات سے وائس آف امریکہ کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بل میں ضابطہ فوجداری کے قانون میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت خواتین کو دفتر یا کام کرنے کے دیگر مقامات پر جنسی طور پر ہراساں کرنے یا ان کی حیا کی توہین کی سزا کی مدت ایک سال سے بڑھا کر تین سال کردی گئی ہے اور جرم ثابت ہونے پرجرمانہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔

    شرمیلا فاروقی کا کہنا ہے اس سے نہ صرف خواتین کے روزگار کی شرح بڑھے گی بلکہ غربت میں بھی کمی واقع ہوگی۔ تاہم اُن کے بقول اس قانون سے صرف خواتین ہی نہیں مرد بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ” تھوڑی سی جو غلط فہمی اس بل کے حوالے سے ہے کہ شاید خواتین اس کا غلط استعمال کریں لیکن یہ مردوں کے لیے بھی ہے اگر کسی مرد کو ہراساں کیا جاتا ہے تو وہ بھی شکایت کر سکتے ہیں اور اس میں چھوٹی بڑی تمام سزائیں ہیں۔ “

    اگرچہ صدر کے دستخط کے بعد یہ بل پاکستان کے قانون کا حصہ بن گیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے حوالے سے حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے تحفظات برقرار ہیں۔ اس حوالے سے شرمیلا فاروقی کا کہنا ہے خواتین کو تحفظ دینے کے اس قانون پرعمل درآمد کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور اس کی پاسداری ہر ادارے پر لازم ہے۔

    اُنھوں نے کہا ” آج یہ بل سائن ہوگیا ہے اور 30 دنوں کے اندر ہر ادارے کو انکوائری کمیٹی تشکیل دینی ہے۔ اگرکوئی ادارہ کمیٹی تشکیل نہیں دینا تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ انکوائری کمیٹی پابند ہے کہ اگر کوئی شکایت ان کے پاس آتی ہے تو وہ پابند ہیں کہ تین دنوں کے اندر وہ ملزم کو ایک نوٹس دیں اور سات دن میں ملزم نے جواب دینا ہے۔ اس کے بعد پوری ایک کارروائی شروع ہوگی اور تیس دن کے اندر انھوں نے اس کا فیصلہ سنانا ہے“۔

    ان کے بقول اس پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے طریقہ کار بہت سخت ہے اور ”اس کے بعد یقیناً حکومت اور باشعور میڈیا موجود ہیں، ہم اس پر سختی سے عمل درآمد کرائیں ۔“

    واضح رہے کہ گذشتہ حکومت نے بھی خواتین کے خلاف تشدد کی حوصلہ شکنی کے لیے کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل جیسے قوانین میں تبدیلیاں کی تھیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی حال ہی میں مرتب کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں گذشتہ سال مختلف واقعات میں خوتین کے قتل میں 11.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
    35. sadiasaher بتاريخ January 31، 2010 بوقت 4:28 am

    سلام عبداللہ

    بہت بہت شکریہ انفارمیشن شئیر کرنے کا
    دیکھتے ھیں کیا تبدیلی اتی ھے اور کتنا عمل ھوتا ھے اس قانون پہ —- امید اچھی رکھنی چاھیے
    یہاں ایک واقعہ ھوا ھے وقت ملا تو ضورو لکھونگی

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو