سب الو کے پٹھے ھیں

15، January 2010 کو sadiasaher نے شائع کيا.

اس لفظ کو میں برا سمجھتی تھی سمجھتی تھی یہ ایک گالی ھے مگر پیچھلے کچھ دنوں یہ لفظ اتنے تواتر سے سننے کو ملا تو احساس ھوا یہ تو عام بول چال میں استعمال ھونے والا لفظ ھے اسے ھم عام استعمال کر سکتے ھیں

ھمارے ایک محترم وزیر نے اس لفظ کے ساتھ ایک نہایت ھی نادر لفظ جو میں یہاں لکھنے سے قاصر ھوں کیمرے کے سامنے بولا جو پاکستان کے کروڑہا لوگوں نے سنا بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں ٹی وی اور نیٹ پہ سنا – انھوں نے کیمرے کے سامنے اپنا مقام اور اصلیت دنیا والوں کو بتا دی

انٹر ویو دیکھ کر مجھے احساس ھوا یہ منتخب ھونے والے الو کے پٹھے ھیں ان کو منتخب کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

کراچی میں بسنے والے الو کے پٹھے ھیں

جو کراچی میں نہیں بستے وہ بھی الو کے پٹھے ھیں

ڈرون حملے کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

ان حملوں میں مرنے والے الو کے پٹھے ھیں

چینی مہنگی کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

اور اتنی مہنگی چینی کے لیے مرنے والے لائینوں میں لگنے والے الو کے پٹھے ھیں

ملک کی دولت کو لوٹنے والے الو کے پٹھے ھیں

ان کو آزاد چھوڑنے والے الو کے پٹھے ھیں

برس ہا برسوں سے جھوٹے وعدے کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

ان کے جھوٹے وعدے سن کر نعرے لگانے والے الو کے پٹھے ھیں

عوام کو دھوکہ دینے والے الو کے پٹھے ھیں

بار بار دھوکہ کھانے والے الو کے پٹھے ھیں

عوام کی غربت دکھا کر دنیا سے بھیک مانگنے والے لوگوں کی عزتِ نفس کا سودا کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

سب کچھ دیکھتے ھوئے سمجھتے ھوئے نظر انداز کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

پاکستان کی معشیت پہ قبضہ کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

اپنے ھی لوگوں کو غائب کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

ایسے واقعات پہ خاموش ھونے والے صبر کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

ملک میں ھونے والے ھر واقعے کو طالبان کے کھاتے میں ڈالنے والے الو کے پٹھے ھیں

ان دھشت گردوں کی سائیڈ لینے والے الو کے پٹھے ھیں

سپر پاروز کی ھر بات پہ سر ہلانے الو کے پٹھے ھیں

ان کی مخالفت میں اپنی ھی ملکی املاک تباہ کرنے والے جلانے والے الو کے پٹھے ھیں

بار بار پارٹی بدلے والے جھوٹے سپنے دیکھانے والے الو کے پٹھے ھیں

ان کو منتخب کرنے والے اٹھارہ کروڑ زندہ لاشیں یہ سب بھی الو کے پٹھے ھیں

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: سیاست

آراء

17 آراء برائے تحرير ”سب الو کے پٹھے ھیں“

  1. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ January 15، 2010 بوقت 7:13 pm

    بی بی ۔ آپ سب کو جو کہہ رہی ہیں ۔ میں وہ نہیں ہوں ۔ میں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی ۔ یہ بات صرف میرا خاندان ہی نہیں پوری برادری اور مجھے جاننے والے سب جانتے ہیں

  2. sadiasaher بتاريخ January 15، 2010 بوقت 7:18 pm

    سلام اجمل جی

    میں بھی اس لفظ کو برا سمجھتی تھی
    مگر جیسے حکمران ویسے عوام
    حکمران چور لٹیرے ھونگے تو رعایا سے کیا امید کی جا سکتی ھے

  3. عبداللہ بتاريخ January 15، 2010 بوقت 8:33 pm

    :):):):0
    سعدیہ آپ نے تو حد ہی مکا دی!
    ویسے جو لکھا ہے سچ ہی لکھا ہے چاہے کوئی کتنا ہی صفائی پیش کرے!:)

  4. میرا پاکستان بتاريخ January 15، 2010 بوقت 9:53 pm

    یعنی سب الو کے پٹھے ہیں کیونکہ الو کے پٹھے کوئی گالی نہیں ہے اسلیے آپ کی باتوں کا کوئی برا کیوں منائے گا۔

  5. sadiasaher بتاريخ January 15، 2010 بوقت 11:26 pm

    سلام عبداللہ

    حد کیا مکا دی — کبھی ان سیاست دان اپنے ملک کے نام نہاد لیڈرز ان ملک کے چلانے والوں کی زبان سنیں کسی بازاری زبان استعمال کر رھے ھیں کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون وزیر نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو مناسب نہیں تھے آج ایک کلپ دیکھا تو غصہ آیا یہ ھم کن لوگوں کو منتخب کر رھے ھیں

    سلام پاکستان جی

    آپ نے بھی وہ انٹرویو دیکھا ھو گا جس کا میں زکر کیا ھے اس کے بعد بہت سے لوگوں نے ٹی وی پہ اور مختلف فورمز پہ اتنی صفائیاں پیش کیں مجھے لگنے لگا یہ تو عام سا لفظ ھے میں ایسے ھی اسے غلط سمجھ رھی تھی
    ھم اب کس بات کا برامناتے ھیں ڈرون حملوں میں بے گناہ مارے جا رھے ملکی خزانہ لوٹا جاتا ھے دنیا میں ھم دھشت گرد سمجھے جاتے ھیں ھم کسی بات کا برانہیں مناتے

  6. اسماء پيرس بتاريخ January 16، 2010 بوقت 1:15 am

    سب بلاگر بھي الو کے پٹھے ہيں اور انکو پڑھنے والے بھي
    يہ لکھنا شايد آپ بھول گئيں ميں نے سوچا ياد دلا دوں

  7. عبداللہ بتاريخ January 16، 2010 بوقت 1:40 am

    اسماءlolz :D
    Its Hilarious!

  8. ابن سعید بتاريخ January 16، 2010 بوقت 1:40 am

    جی بٹیا ہم اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں یعنی ہم بھی ہیں۔

  9. محمد احمد بتاريخ January 16، 2010 بوقت 2:50 pm

    اسماء !

    آپ نے یاد دلایا تو ہمیں یاد آیا۔

  10. عامر رشید بتاريخ January 16، 2010 بوقت 10:11 pm

    السالم علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    واہ باجی واہ کیا کالم لکھا ہے ۔بالکل درست کہا آپ نے اسی طرح سے لکھتی جائیں ۔اللہ تعالٰی آپ کا حافظ و ناصر ہو۔آمین

  11. الو بتاريخ January 17، 2010 بوقت 12:41 pm

    سب انسانوں سے گزارش ہے کہ ھم کو بدنام مت کریں-

    الو کے پٹھے

  12. فرحان دانش بتاريخ January 17، 2010 بوقت 9:01 pm

    الو بھی الو کے پٹھے ہیں۔ :(

  13. آصف احمد بھٹی بتاريخ January 18، 2010 بوقت 2:34 pm

    سب کے سب ؟ یعنی آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ، خوب ، ویسے کوئی اُلو سے بھی پوچھ لے کہ اُسے اتنے سارے پٹھے قبول ہیں بھی کہ نہیں ؟
    آصف احمد بھٹی

  14. الو بتاريخ January 18، 2010 بوقت 2:48 pm

    فرحان الو کے تو الو کے پٹھے ھی ھو گا-
    ھم کو سولہ کروڑ الو کے پٹھے نہیں چاہیے-

  15. sadiasaher بتاريخ January 18، 2010 بوقت 7:48 pm

    ہاہا اسماء شکریہ یاد کروانے کا – یہ بات کسی کو یاد نہیں آئ تھی
    بہت بہت شکریہ

    سلام اور شکریہ عامر

    روزانہ ٹی وی پہ کچھ ایسے بیان سننے کو مل رھے تھے یہ ایسے ھی لکھ دیا پاکستان میں سب الو ھیں یا تو الو بن رھے ھیں یا دوسرے الو بنا رھے ھیں

    سلام اور ویلکم الو

    معذرت چاھتی ھوں سب الوؤں سے – ایسے بیانات سے ان کی دل آزاری ھوئ –

    سلام فرحان

    کسی نے کہا تھا انسان انسان ھیں الو گدھے کیوں کہا جاتا ھے گدھے بہت محنتی ھوتے ھیں اور الو کو عقل مند سمجھا جاتا ھے

  16. sadiasaher بتاريخ January 18، 2010 بوقت 8:07 pm

    سلام آصف احمد بھٹی

    میں تو جس شعبے کی طرف دیکھوں مجھے تو بگڑا ھوا ھی نظر آتا ھے نظام بدلنے میں وقت لگتا ھے مگر شروعات تو ھونی چاھیے
    آپ کا نہین خیال کہ اوے کا آوا بگڑا ھوا ھے ؟؟؟
    صدر زرداری کھلی کچہری لگانے لگے ھیں دیکھتے ھیں کتنے حالات بدلتے ھیں

    سلام الو

    دو سال پہلے آبادی سولہ کروڑ تھی ایک رپورٹ پڑھی تھی جس میں آبادی اٹھارہ کروڑ بتائ گئ تھی
    انسانوں کو الو کہنے پہ آپ ھتکِ عزت اور دل آزاری کا مقدمہ کر سکتے ھیں

  17. محب علوی بتاريخ January 19، 2010 بوقت 7:26 am

    سلام سعدیہ،
    بڑی روانی میں ہو ویسے واقعی وہ انٹرویو دیکھ کر بہت دکھ ہوا مجھے اور یقین نہیں آیا کہ اتنی لعنتین بھیج کر پھر الو کے پٹھے کہنے کی کیا ضرورت تھی۔

    اب جلدی سے کوئی اور پوسٹ کر دو ویسے میری پوسٹ پر بھی ایک تبصرہ کر دینا کافی ہاہاہا کار مچی ہوئی ہے۔

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو