باکمال سیاست دان——- سلمان تاثیر

6، January 2010 کو sadiasaher نے شائع کيا.

سلمان تاثر کے گورنر بننے پہ میڈیا میں ھلچل مچ گئ ان کی ذات پہ تبصرے کیے گئے تجزیہ کاروں کے درجنوں پروگرام کیے مختلف پروگراموں میں ان کو سنا ان کے بیانات سن کے بے اختیار چہرے پہ مسکرائٹ آجاتی ھے ایسے ایسے بیانات دیتے ھیں عقل حیران بلکہ پریشان رہ جاتی ھے ھر بیان میں بارہ مسالے ھوتے ھیں پہلے میں انھیں مشرف کا وفادار سمجھتی تھی حکومت بدلتے ھی وہ زرداری کے مرید بن گئے شریف برادران انھیں ایک آنکھ بھاتے ھیں یعنی ایک آنکھ نہیں بھاتے

آنے والے دنوں میں کیا ھوگا کیا ھونا چاھیے وہ ھر بات پورے یقین سے کہتے ھیں ایسی ایسی پیشگوئیاں کرتے ھیں جس کی مثال ملنا مشکل ھے ابھی ایک بیان پڑھا پڑھ کر یقین ھو گیا وہ ایک بہت بڑے نجومی ھیں انھوں نے بیان دیا ھے تیسری بار زویرِ اعظم بننے کی ضرورت تب پیش آئے گی جب کسی اور کی باری آئے گی ابھی گیلانی پانچ سال کے لیے مذید وزیرِاعظم بنے گے پھر تین بار بلاول وزیرِاعظم بنے گے تب تک اب جو امیدوار ھیں بوڑھے ھو جائینگے

چلیں جی اگلے بیس سال کا فیصلہ ھو گیا پاکستان کی سیاست مین کیا ھوگا آئندہ بیس سال تک پی پی پی کی حکومت رھے گی اور غالباً اب کو یقین ھے وہ گورنر رھے گے باقی سیاسی پارٹیوں کو چاھیے کوئ اور کام ڈھونڈ لیں جو سیاست میں آنے کا سوچ رھے ھیں وہ آکر کیا کریں گے سٹیں بک ھو چکی ھیں

اب پتا چلا مشرف کے لاڈلے کو گورنری کیوں عطا کی گئ تھی ایسے چاھنے والے ایسی اندھی محبت کرنے والے کہاں ملتے ھیں چمچے تو ھزار ھونگے مگر ایسا ——– قسمت والوں کو ملتا ھے

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: سیاست

آراء

10 آراء برائے تحرير ”باکمال سیاست دان——- سلمان تاثیر“

  1. Aniqa Naz بتاريخ January 6، 2010 بوقت 8:26 am

    ایک لطیفہ ہے جوخدا جانے ضیائالھق کے زمانے سے چلا آرہا ہے یا انکے حصے میں بھی کہیں سے آیا تھا۔
    ایک صاحب نے خواب میں دیکحا کہ ضاءالحق صاحب دوزخ میں آرام سے کرسی پہ بیٹھے ہوئے ہیں اور الزبتھ ٹیلر انکے بالوں میں کنگھا کر رہی ہیں۔ بڑے پریشان ہوئے الیہی یہ کیا ماجرا ہے۔ ساتھ کھڑے فرشتے سے پوچھا یہ ضیا الحق کو کیسی سزا ملی ہے۔ فرشتے نے کہا سزا ضیا الحق کو نہیں، الزبتھ ٹیلر کو ملی ہے۔
    تو جناب تاثیر صاحب کے بیانوں سے فی الحال تو وہ مجنوں لگتے ہیں اور اگر صحیح ہو گئے تو پاکستانی قوم مجنوں لگنے لگے گی۔ ان بیانات سے گھبرا کر میں نے جب کسی سے پوچھا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ جواب ملا وہ شریف برادران پہ خدا کا عذاب ہیں۔

  2. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ January 6، 2010 بوقت 12:22 pm

    یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور
    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اُڑ جائیں گے

  3. فرحان دانش بتاريخ January 6، 2010 بوقت 4:29 pm

    سلمان تاثرمسلم لیگ ن کیلئے ایک مصیبت بن گیا ہے

  4. آصف احمد بھٹی بتاريخ January 6، 2010 بوقت 5:21 pm

    اسلام علیکم
    عالی مرتبت گورنرصاحب کے ارشادات سن کر مجھے سابقہ صدر صاحب کے سیاسی مسخرے یاد آجاتے ہیں جو سابقہ صدر کو دس بار وردی مین منتخب کروانے کے نعرے لگاتے رہے ہیں اور عوام اُنکی مسخریوں پر ہنستے رہے ہیں ۔ شاید ایسے سیاسی مسخرے ہر حکمران کی مجبوری ہوتے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

  5. sadiasaher بتاريخ January 7، 2010 بوقت 3:21 am

    سلام عنیقہ

    یہ عذاب ساری قوم کے لیے ھے
    نئے نئے شوشے چھوڑنے کو سیاست کرنا سمجھتے ھیں
    عوام کے مسائل کون حل کرے گا

    سلام اجمل جی

    یہ جانور کب اڑے گے جب گلشن اجڑ جائے گا

    سلام فرحان

    وہ صرف مسلم لیگ سے دشمنی نہیں کر رھے سب لوگوں کے ساتھ کر رھے ھیں صوبے کے مسائل کوں حل کرے گا جب وزیرِ اعلیٰ ایک دوسرے کے ساتھ دل لگی میں مصروف رھیں گے

    سلام آصف احمد اور ویلکم

    مغلیہ حکومت جب زوال پزیر تھی تو دربار میں جگت بازوں اور
    مسغروں کو نوازہ جاتا ھے اہل علم کی اتنی قدر نہیں تھی ان کا کام شہنشاہ کا دل بہلانا ھوتا تھا آجکل بھی وہی کچھ ھو رھا ھے
    مسخرے اور لٹیرے دونوں ھاتھوں سے ملک کو لوٹنے میں مصروف ھیں  

  6. خرم شہزاد خرم بتاريخ January 7، 2010 بوقت 11:31 am

    سیاست کو سلام
    میں تو اب اس پر بحث ہی نہیں کرتا کیونکہ مجھے یہ کھیل آتا ہی نہیں

  7. شاکرالقادری بتاريخ January 7، 2010 بوقت 9:29 pm

    ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟

  8. sadiasaher بتاريخ January 9، 2010 بوقت 4:39 am

    سلام خرم

    کیا خیال ھے جو سیاست سیاست کھیل رھے ھیں انھیں سیاست آتی ھے ؟؟ انھیں بھی نہیں آتی تبھی تو یہ حال ھے

    سلام شاکر القادری جی

    الوؤں کے ساتھ گدھ بھی بیٹھے ھوئے ھیں

  9. آصف احمد بھٹی بتاريخ January 11، 2010 بوقت 5:57 pm

    السلام علیکم
    اگر بات الوؤں اور گدھوں تک ہی محدود رہتی تو بھی شاید ٹھیک تھا مگر یہان تو سانپ بھی پھنکار رہے ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

  10. sadiasaher بتاريخ January 13، 2010 بوقت 3:58 am

    وسلام اور سلام آصف جی

    سانپ بچھو سب ھیں بس انسان کوئ نظر نہیں آتا

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو