میں نہیں کہتی عوام کہتے ھیں

30، December 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.

یہ بندی ناچیز بہت خاموش طبیعیت انسان ھے کسی کو کچھ نہیں کہتی جو بھی کہتے ھیں یہ عوام کہتے ھیں یہ عوام بھی عجیب چیز ھیں دس مرتے ھیں بیس اور پیدا ھو جاتے ھیں شروع شروع میں جب دھماکے ھوتے تھے تو رحمان ملک فوراً آکر جنت کی خوشخبری سنا دیتے تھے شہادت کا سرٹیفکیٹ دے دیتے تھے پھر پتا چلا جنت میں پاکستانیوں کا کوٹہ پورا ھو گیا ھے تو سرٹیفکیت ملنا بند ھو گئے اب بڑے عہدے دار شہید ھوتے ھیں عوام صرف مرتے ھیں

میری دوست ۔ م ۔ کہتی ھے رحمان ملک کو دیکھتے ھی وہ ٹی وی بند کر دیتی ھے کیونکہ آج تک کوئ خوشی کی خبر ان سے سننے کو نہیں ملی دل دہلانے والی خبریں سناتے ھیں

جھوٹے بے ایمان رشوت خور ضمیر فروش ارے ارے یہ مین نہیں کہہ رھی یہ عوام کہتے ھیں ھمارے حکمران ایسے ھیں اب کیا کیا جا سکتا ھے اٹھارہ کروڑ عوام ھیں اور اتنے ھی منہ اتنی ھی زبانیں ھیں ان انسان کس کس کا منہ پکڑے لوگ تو لوگ ھیں کچھ تو کہیں گے

پاکستان میں لوگ کہتے ھیں سیاست شریفوں کا کھیل نہیں حالانکہ دیکھا جائے تو سیاست سے اوہ سوری میرا مطلب ھے سیاست میں بڑے بڑے کھلاڑی بہت شریف ھیں کچھ کے تو نام کے ساتھ بھی شریف لگا ھوا ھے مگر یہ عوام کسی کو شریف سمجھتے ھی نہیں وہ تو اتنے شریف ھیں اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی اپنی شرافت دیکھاتے ھیں کسی معاملے میں کچھ نہیں بولتے چاھے سب انھیں فرینڈلی اپوزیشن کا نام دیں

محفل میں ایک عورت کہنے لگی بی بی خود تو مر گئیں ھمارے لیے عذاب چھوڑ گئیں پتا نہیں وہ کس

عذاب کا زکر کر رھی تھی مجھے سمجھ نہیں آئ ھو سکتا ھے آپ سمجھ گئے ھوں آخر آپ بھی سمجھدار ھیں سیاست پہ لکھتے ھیں سیاست کے بارے میں پڑھتے ھیں اگر سمجھ گئے ھوں تو ھمیں بھی بتا دیں‌ مین نے سوچا تھا

آج میں سیاست کے بارے میں اپنے خیالات لکھونگی مگر آج بھی کچھ نہیں کہا کچھ کہا میں نے ؟؟ نہیں نا

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: سیاست

آراء

10 آراء برائے تحرير ”میں نہیں کہتی عوام کہتے ھیں“

  1. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ December 30، 2009 بوقت 2:23 pm

    اب دعا کیجئے کہ کوئی بی بی نہ اس کو پڑھ لے ۔ لینے کے دینے پڑ جائیں گے

  2. مہرصغیراُلللھ سلیم پوری ۔ پیر محل بتاريخ December 30، 2009 بوقت 4:41 pm

    اسَلام وعلیکم ۔۔۔ ایک سا بقہ سیا ستدان کا اپنی محبوبہ سےسوال ۔۔ ؟ گُنگُنا کر پڑھیے زیادھ مزاھ آئےگا۔۔۔۔۔شُکریہ ۔) سوال. ( 1:جا نے کیا خطا ھو گئ کیوں بدلا ھے مُوڈ تیرا۔۔۔۔ نہ سیدھے ُمنھ تُو بات کرے ، میں مِنتیں ہزاکروں ) 2:(وہئ توھوں میں دوست تیرا سُناتی تھی تُو روز جسے ۔۔۔۔۔ تمُھی ھو محبوب میرے میں کیوں نہ تمُھیں پیار کروں ۔۔۔ ۔۔۔ ) محبوبہ کاجواب۔ــ(1:میرے محبوب تیری جب سےچھِنی ھےکُرسی۔۔۔ ۔۔مُجھکو سب با تیں تیری لگتی ھیں اوُٹ پَٹا نگ ۔۔ ) (2:اب تیرے پاس وِزارت ھےنہ، کوٹھی ھےنہ کا ر۔۔۔ مُجھ سے پہلی سی محبت میرے نہ ما نگ ۔۔————- مہر صغیر اُ للھ سلیم پوری ۔۔۔۔ پیرمحل۔۔

  3. حمزہ بتاريخ December 30، 2009 بوقت 5:15 pm

    Liaquat Ali khan ki dairy se

    ajj maine Quaid-e-Azam ko bohat he ajeeb haalat main dekha 3 din ho gaye uno ne kuch nahe khaya ajj may jab un k pas khana lekar gaya tu wo mujhe dekh kar muskuraye or kaha Khan tum phir a gaye Khana lekar, maine kaha app kuch kha le gain tu konsi qiyamat a jaye gi, wo bole tumhe pata hay Khan mere kandho per pure pakistan ka zimma hay agar may apni aawaam k liye kuch nahe kar paaya tu mujhe Khuda k samne sirf apna he hisab nahe dena bal k pure pakistan ki aawam ka hisab dena hay qk Iqbal ne ye zimmadari mujhe di hay, mujhe maloom hay k mujhe kiya karna hay or kiya nahe qk jo sarbara hota hay jo hukum deta hay wahe sari aawaam ka zimmadar bhe hota hay, may kese khana khalon khan jab meri aawaam ne kuch nahe khaya, uno ne qurbani di mere kehne pe tu may kese kuch khalon apni he nazro main kese gir jaoun main. ye son kar k may un k room se bahir a gaya. may puri raat sochta raha or phir mere dilne mujhse kaha k Khan ajj mujhe fakhar hay khud pe k ajj may aik aise insaan k sat hon jo namumkin ko mumkin kar sakta hay wo kuch bhe kar sakta hay unko bas aik janoon tha Iqbal ka khawab pura karne ka wo kehte thy k may kabhe bhe Iqbal ka bharosa tutne nahe donga may kuch bhe karu ga kuch bhe agar mar gaya tu bhe meri Ru laare gi har dam har kadam

  4. محمداسد بتاريخ December 30، 2009 بوقت 10:37 pm

    حاکم بننے کے بعد عوام کا لفظ تو بھول ہی جاتے ہیں۔
    جو تھوڑے بہت یاد رہتے ہیں، وہ کارکن کہلاتے ہیں۔

  5. sadiasaher بتاريخ December 31، 2009 بوقت 12:15 am

    سلام اجمل جی

    پارلیمنٹ کے ممبر اس لیے وہ اپنے علاقوں کے مسائل سب کے سامنے لے کر آئیں ساری قوم کو ساتھ لے کر چلیں دنیا میں ملک کا وقار بلند کریں عوام پارٹی کے منشور دیکھتے ھوئے انھیں ووٹ دیتے ھیں اگر وہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتے تو عوام کا حق ھے وہ ان سے جواب طلبی کریں قومی خزانے پہ ساری قوم کا حق ھے

    اجمل جی اگر یہ کسی نے پڑھ بھی لیا تو کیا ھوگا ھم عوام ھیں جن کے ٹیکس پہ یہ سب پلتے ھیں انھیں بہت سی باتوں کا جواب دینا ھوگا

    سلام صغیراللہ سلیم پوری جی

    یہ کون سی رام کہانی ھے

    سلام حمزہ

    قائدِ اعظم اور ان کے رفقا ء ان جیسے لوگ اب کہاں ان لوگوں کے دل میں اپنی قوم کا درد تھا ان کے لیے کچھ کرنا چاھتے تھے آج کل کے سیاست دان قومی رھنما کہلانے کا لائق ھی نہیں ان کے اقوال سن کے جو دل چاھتا ھے وہ بتا نہیں سکتی میری خواہش کبھی کسی وزیر سے ملاقات ھو – میں انھیں بتا سکوں میرے دل میں ان کی کتنی عزت ھے

  6. sadiasaher بتاريخ December 31، 2009 بوقت 12:50 am

    سلام محمد اسد جی

    حاکم بنتے ھیں حکومت کرنے کے لیے
    یہ آپ عوام کو کہاں بیچ میں لے آئے
    کارکن قربانیاں دینے کے لیے ھوتے ھیں
    نعرے لگانے کے لیے

  7. اسماء پيرس بتاريخ December 31، 2009 بوقت 11:03 pm

    آپ کو اور آپکے اہل خانہ کو نيا سال مبارک

  8. sadiasaher بتاريخ January 1، 2010 بوقت 9:02 pm

    سلام اسماء

    بہت بہت شکریہ
    آپ کو بھی نیا سال مبارک ھو
    یہ سال سب کے لیے امن و سکون اور خوشیاں لے کر آئے آمین

  9. آصف احمد بھٹی بتاريخ January 6، 2010 بوقت 5:34 pm

    السلام علیکم
    سیاست یقینا شریفوں کا ہی کام تھا مگر اب سیاست کا نام سنتے ہی شریف لوگ بدکتے ہیں ، میں آپ سب کو ایک کہانی سناتا ہوں ،
    کسی گاؤں میں کوئی شخص چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا اگلے دن جمعۃ تھا اور اتفاق سے گاؤں کے مولوی صاحب نے چوری کی برائی پر ہی واعظ دینا شروع کر دیا کسی من چلے سے رہا نہ گیا اور وہ اُٹھ کر کہنے لگا ،
    مولوی صاحب رات کو گاؤں کے فلاں گھر سے ایک مولوی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے ۔
    مولوی صاحب کچھ دیر خاموش رہے اور پھر بولے ،
    بیٹا وہ چور مولوی نہیں تھا بلکہ چوروں نے داڑھی رکھ لی ہے ۔
    ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے ، سیاست شریفوں کا کام تھا مگر اب اِس کا کیا کیا جائے کہ اکثر سیاست دان شریف لوگ نہیں ہیں ۔
    آصف احمد بھٹی

  10. مہرصغیراُللہ سلیم پوری پیرمحل ۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔پاکستان ۔ بتاريخ January 17، 2010 بوقت 3:54 am

    اسلام و علیکم ۔ سعدیہ جی اپنے بلاگ میں کُچھ جدت لا ئیں ۔ سیاست پر کچھ حقائیق اور میرا آج کا عنوان ٰٰ ٰ بچے ھما رے عہد کے ،،سیاستدان ھو گئے ۔ ،، ! لکھنے اور سُننے میں تو مزاق سا لگتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ھم اپنی اگلی نسل کو سیاست کے کیا معنی بتا کرجا رہے ہیں یًعنی ھمارےبچوں کی نظر میں سیاست کیا ھوگی ؟ آپ میری اِس تحریر سے بخوبی اندازھ لگا سکتے ہں ۔>> ایک دن سڑک پر کچھ بچوں کو کھیلتے اور جھگڑتے دیکھا وھ آپس میں بحث کر رہے تھے ایک نے دوسرے پر اِلزام لگاتے ھوئے کہا کہ تُم نے میرے ساتھ سیاست کھیلی ہے ۔یہ سُن کر میں رُکا اور بچوں کو اپنے پاس بُلانے کا اشارھ کیا اور اُن سے پوچھا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ میں سے کسی نے لفظ بولا تھا ٰٰٰ ٰ سیاست ٰٰ ٰ آپ میں سے کوئی اس کے معنی جانتا ہےتو تقرئباٰٰ ٰسبھی اِکٹھے بولے کہ سیا ست کا معنی اور مطلب ھے جھوٹ کرپشن مکروفریب اور بےایمانی ۔ اب آگے میں کیا لِکھوں آپ خوداندازہ کر سکتے ھیں ،اور اگر آپ اپنے سیاستدانوں پر غور کریں تو یقینٰا آپ بھی کہیں گے کہ ھمارے بچے ہیں سچے ؟؟؟؟؟ اسی طرح ایک دن گھر میں اپنے بچوں کیساتھ بیٹھے ٹیلیویژن پرایک سیاسی ٹاک شودیکتھے ھوئے کھانا کھا رہے تھے اور ٹاک شو میں دو سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو آپس میں ایک دوسرے پر کرپشن کے اِلزامات لگاتے ھُوئے سُن اور دیکھ رہے تھے شو کے آخر میں ایک سیاستدان ذرا دھیمے لہجے میں اقرار کرتے ھؤئے بولا ٰ ٰ کہ ھم مانتے ہیں کہ ھم میں کچھ کرپٹ سیاستدان ھیں لیکن سبھی سیاستدان کھاؤ نہیں ہیں اورپانچوں اُنگلیاں برابر نہیں ھؤتیں ٰ ٰ دوستو ٰ ٰ آپ یقین کریں کہ میرا بارہ سالا بیٹا محمدعمراُللہ جو میرے پاس بیٹھا تھا وھ فوراً ً بڑی معصو میت سے بولا کہ یہ جھوٹ ہے کھاتے وقت سبھی اُنگلیاں برابر ھوتی ہیں ۔ تو دوستو آگے آپ خود سے غور کیجئے کہ یہ فِقرہ کہاں تک درست ہے ۔ ویسے تو واقعی پانچوں اَنگلیوں کو کبھی برابر نہیں دیکھا لیکن کبھی کھانا کھاتے ھؤئیے لُقمہ بنا تے وقت غور سے دیکھئے گا تو یقینٰٰٰاً آپ میرے بیٹے کی اِس بات کو تسلیم کریں گے ۔ کہ سبھی سیاستدان پانچوں اُنگلیوں کی طرج ایک جیسے نہیں ھیں لیکن مال اور عوام کا پیسہ کھاتے وقت یہ بھی پانچوں اُنگلیوں کیطرح اِکٹھے ھوجاتےہیں۔یہ میرے مشاہدات ہیںآپکا اِن پراتفاق ضروری نہیں سمجھتا !۔ ۔۔۔ اللہ جافظ ۔۔ ۔منجانب ۔ ۔ مہرصغیر اُللہ سلیم پوری ۔ پیرمحل ۔

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو