اسلام اور اسرائیل

29، December 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.

ھم کچھ لوگ بات کر رھے تھے اگر انھیں موقعہ ملا تو وہ پاکستان کے لیے کیا کریں گے ھر کوئ انقلان لانے کی بات کر رھا تھا میں نے کہا اگر مجھے پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا موقعہ ملا تو میں اسرائیل کے نظام تعلیم کا مطالعہ کرونگی ان کا تعلیم کا نظام کیسا ھے مٹھی بھر اسرائیلی انھوں 80 سے زائد نوبل پرائیز حاصل کیے ھیں دنیا کی دولت کے 60% حصے کے مالک اسرائیلی ھیں میری بات سن کے میری دوست کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ھوگئ

کہنے لگی تمہیں شرم نہیں آتی اسرائیلی ھمارے دشمن ھیں اور تم ان کے تعریف کر رھی ھو

میں نے کہا وہ ھمارے دشمن اس لیے ھیں کہ وہ فلسطینیوں پہ ظلم کر رھے ھیں میں ان کے اس فعل کی تعریف نہیں کر رھی میں انٹر نیٹ پہ ایک سائیٹ دیکھ رھی تھی جس میں لکھا تھا دنیا کی دولت کے 60% حصے کے مالک اسرائیلی ھیں

میڈیکل کی دنیا میں انھوں نے جو کام کیا ھے ان ادوائیات کی وجہ سے ھزاروں لوگوں کو نئ زندگی ملی ھے میں سوچ رھی تھی مسلمانوں کے مقابلے پہ ان کی تعداد بہت کم ھے آخر ان کی ترقی کا راز کیا ھے تو مجھے لگا صرف تعلیم کی کمی ھے اس کو نظر انداز کیا جانا ھے

مگر میری دوست کا غصہ کم نہیں ھوا وہ مجھے ایسے دیکھ رھی تھی جیسے میں اسلام کے خلاف کوئ پلان بنا رھی ھوں میں سوچ رھی تھی یہ کیسی نفرت ھے ھم دشمن کا نام لینا پسند نہیں کرتے مگر ان کی بنائ ھوئ چیزوں کے بنا جینے کا تصور نہیں کر سکتے اور اپنے مذہب سے یہ کیسی محبت ھے وہ تعلیم جو ھمارا مذہب ھمیں دیتا ھے اس پہ علم نہیں کرتے وہ تعلیم جس پہ علم کرنے سے ھمارے دشمن دنیا پہ چھا رھے ھیں

آخر ھمارا یہ دوغلا پن کب ختم ھوگا


Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: مذہب اور ھم

آراء

16 آراء برائے تحرير ”اسلام اور اسرائیل“

  1. ابن سعید بتاريخ December 29، 2009 بوقت 4:28 am

    مجھے کچھ عرصہ قبل ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں عالم اسلام اور عالم یہود کا تقابلی جائزہ تھا۔ یہ موازنہ علماء و دانشوران، علمی و رفاہی ادارے، آبادی اور ایسے ہی کئی باتوں کے اعداد و شمار پر مشتمل تھا۔

  2. sadiasaher بتاريخ December 29، 2009 بوقت 4:58 am

    سلام ابنِ سعید جی

    بہت دن کے بعدع آپ کا کوئ تبصرہ آیا
    ایسی ای میلز شئیڑ کیا کریں
    ھم لوگ کبوتر ھیں آنکھیں بند کے سمجھتے ھیں حقیقت چھپ گئ

  3. ابن سعید بتاريخ December 29، 2009 بوقت 7:22 am

    سعدیہ بٹیا اتنے دنوں سے تبصرہ نہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ آپ کے بلاگ پر زیادہ تر مراسلے کسی نہ کسی طور پاکستانی سیاست سے جڑے ہوئے تھے۔ حالانکہ کہ آپ کے بلاگ کی ایک ایک حرکت ماورائی فیڈر کے توسط سے میری نظروں میں‌رہی ہے لیکن میں سیاسی موضوعات پر ہو رہی گفتگو میں شریک ہونا اپنے لئے وقت کا ضیاع سمجتا ہوں چہ جائیکہ پاکستانی سیاست۔ کیوں کہ سیاست میری دلچسپی کی چیز نہیں اور دوم یہ کہ میں پاکستانی نہیں ہوں۔

    مذکورہ ای میل اردو محفل میں درج ذیل ربط پر محفوظ ہے۔ آپ کا جی کرے تو اسے اردو مین تحریر کر کے ای عدد بلاگ پوسٹ کر دیں۔

    http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=18710

    اور ہاں ایک بات پوچھنی تھی کہ سعدیہ بٹیا جیسی فعال اردو بلاگر ابھی تک منظرنامہ ووٹنگ میں شریک کیوں نہیں ہوئیں؟ حالانکہ ووٹنگ کی مدت ختم ہونے کو ہے۔

  4. Hussein بتاريخ December 29، 2009 بوقت 8:03 am

    wesay isarael kay nizam ka mutaala zaruree nahain..kisee bhee nizam ka mutaala kar lain sub hum say behtar hain

  5. راشد کامران بتاريخ December 29، 2009 بوقت 8:48 am

    آخر آپ بھی یہودی ایجنٹ نکلیں نا (:

  6. جعفر بتاريخ December 29، 2009 بوقت 10:26 am

    ہم سیاسی اور مذہبی جلوسوں‌سے فارغ ہولیں تو اس طرف بھی جلد ہی توجہ دیں‌گے انشاءاللہ۔۔۔ یعنی یہی کوئی چھ سات سو سال تک۔۔۔
    تب تک کے لئے ٹھنڈ رکھیں ۔۔۔

  7. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ December 29، 2009 بوقت 11:08 am

    ہمارے ہموطنوں کو آج کے دور میں یہی معلوم نہیں کہ ہم ہیں کیا ۔ رہی تعلیم تو جو زیادہ تعلیم حاصل کر لیتا ہے وہ اپنے ملک کیلئے کام کرنا اپنی توہیں خیال کرتا ہے ۔ اگر کوئی اپنے ملک کیلئے کام کرے تو اس کے ساتھ وہی کچھ حکمران کرتے ہیں جو ڈاکٹر عبدالقدیر اور دیگر دس انجنیئروں کے ساتھ پرویز مشرف نے کیا اور اب تک ہو رہا ہے ۔ اگر بُرا نہ منائیں تو بندہ نے بھی حکمرانوں کی مہربانیوں کا شکار ہو کر وقت سے آٹھ سال پہلے ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور ہوا ۔اور میرا بڑا بیٹا بھی شکار ہوا

  8. Aniqa Naz بتاريخ December 29، 2009 بوقت 11:42 am

    سعدیہ، مجھے لگتا ہے راشد کامران صاحب کا اندازہ صحیح ہے۔ میں تو نعرہ لگا رہی ہوں اسرائیل مردہ باد۔
    جہاں تک علم کی کمی کی بات ہے۔ تو مجھ سے ایک صاحب نے ایکدفعہ کہا کہ کیا ضرورت ہے پی ایچ ڈی کرنے کی، کواتین کو تو ویسے بھی بہت سے بہت میٹرک کرنا چاہئیے انکے لئیے کافی ہے۔ اور پھر انہوں نے مزید انکشاف فرمایا کہ اگر ہم قرآن پاک کو صحیح سے پڑھیں تو ہمارے اندر ایسی قوت پیدا ہوجائیگی کہ نہ ہمیں ہوائ جہاز کی ضرورت رہے گی اور نہ بیماریوں کے لئے دوا کھانے کی۔
    تو سمجھ میں آیا کہ دراصل یہ سب کچھ قرآن صحیح سے نہ پڑھنے کی وجہ سے ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اب اسے صحیح سے پڑھ رہے ہیں یا نہیں۔ یہ ہمارے درمیان آخری ملاقات تھی۔

  9. sadiasaher بتاريخ December 29، 2009 بوقت 2:03 pm

    سلام ابنِ سعید جی

    مجھے سیات سے نفرت ھے مگر جو حالات ھیں دل جلے دھواں تو نکلتا ھی ھے مجھے شاعری طنزومزاح میں دلچسپی ھے میرا نہیں خیال تھا کہ میں کبھی سیات پہ لکھونگی
    سیاست نے ھم کو نکما کر دیا
    ورنہ ھم بھی آدمی تھے کام کے

    اب شعر میں لفظ‌ آدمی کی وجہ سے کوئ شک سے مجھے نہ دیکھے
    شعر شعر ھوتا ھے
    منظر نامہ پہ ووٹینگ کا کافی شور سنا تھا مگر میں نے ابھی تک دھیان نہیں دیا

    سلام حسین جی ویلکم میرے بلاگ پہ

    یہ سب سے بہتر ھونے کا خیال ھمیں کچھ سیکھنے نہیں دیتا
    جو بنا کچھ سیکھے ھی سب سے اعلیٰ ھو اسے ھاتھ پاؤں ہلانے
    یا عقل کو استمعال کرنے کی کیا ضرورت ھے

    سلام کامران

    آپ بھی سے آپ کی کیا مراد ھے
    کیا آپ بھی ؟؟؟

  10. sadiasaher بتاريخ December 29، 2009 بوقت 2:16 pm

    سلام جعفر

    ھم پیچھلے سات سو سال سے ایسے ھیں مجھے تو ابھی اگلے سات سو سال میں بھی حالات بدلتے نظر نہیں آرھے اللہ ھمارا ھے یہ ھی کافی ھے اس دنیا پہ غور کرنے کے لیے کافر ھیں نہ

    سلام اجمل جی

    یہ غلط ھے جو زیادہ تعلیم حاصل کر لیتا ہے وہ اپنے ملک کیلئے کام کرنا اپنی توہیں خیال کرتا ہے ۔ بہت سے لوگ بلکہ اکثریت پاکستان میں رھنا چاھتی ھے مگر حالات ایسے ھیں انسان کب تک مقابلہ کر سکتا ھے میٹرک فیل افسر ھوتا ھے اور ایم بی اے چپراسی کا کام کر رھا ھوتا ھے
    میرے بھائ نے کینیڈا سے پی ایچ ڈی کی اب lums میں پڑھا رھا ھے میرے خاندان کے بہت سے لڑکے جنھوں نے مختلف ممالک سے تعلیم حاصل کی واپس پاکستان آئے مگر یہاں نہ میرٹ پہ نوکری ملتی ھے نہ سیکورٹی کا کوئ انتظام ھے پاکستان میں کچھ ھوتا ھے تو ڈرتے ھیں کہیں پاکستان سے کوئ فون نا آجائے آدھی فیمیلی وھاں ھے – پاکستان کے دفاتر میں بھی سیاست چلتی ھے جس سے انسان دلبرداشتہ ھو جاتا ھے

  11. sadiasaher بتاريخ December 29، 2009 بوقت 2:26 pm

    سلام عنیقہ

    کچھ لوگ تعلیم کو تو اھم سمجھتے ھیں مگر لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ھیں میری سمجھ میں نہیں آتا 50% آبادی کو ھم تعلیم سے دور رکھ کر کیسے ترقی کر سکتے ھیں تعلیم یافتہ معاشرے کے لیے کیا پڑھی لکھی ماؤں‌کی ضرورت نہیں ھمارا مذھب ھمیں تعلیم کا حق دیا ھے حکم بھی — لڑکیوں کو تعلیم نہ دلانے کی سوچ ھماری جان کیوں نہیں چھوڑتی – کچھ لوگوں کا خیال ھے آجکل یہ جو لڑکیاں پٹر پٹر بولتی ھیں سب تعلیم کا قصور ھے
    ورنہ اللہ میاں کی گائے جیسی معصوم لڑکیاں ھوتی تھیں
    ھمارے ایک جاننے والے ھیں جنھیں لوگ عالم قرآن سمجھتے ھیں ان کا خیال ھے ھر بیماری کا علاج قرآن سے ممکن ھے ان کے گھر میں کوئ تکلیف سے مر بھی رھا ھو وہ سورتیں پڑھ کر دم کرتے ھیں کسی بھی دوائ کا استعمال کرنا گنا ہ سمجھتے ھیں

  12. حمزہ بتاريخ December 29، 2009 بوقت 8:54 pm

    Khuda ka qanoon kuch aisa hay k Khuda ye nahe dekhta k kon mujhe maanta hay or kon nahe kon kafir hay or kon musalman qk Khuda har kici ko apni mehnat ka sila deta hay agar kici Israili k dil k kone main Allah ka aqida mojud hay tu ham usko kiya kahain gain. Musalman ya kafir

    tarakki kici ki miraj nahe hoti qk tarakki k piche mehnat chupi hoti hay phir chahe ye mehnat koi bhe kare baat sirf itni hay k ham musalmano ne kabhe kici bhe chiz k piche mehnat nahe ki Allah kehta hay k tum mehnat karo may sila dene wala hon wo mehnat karte hain tu mehnat ka sila bhe un logo ko mil raha hay

    ham musalman fake kaamo main or aik dusre ki kaat main mehnat kar rahain hain hamain is ka sila mil raha hay

    Islam ne hamain jo Nizaam diya hay wo ajj Israili qoom istimal kar rahi hay isliye wo hamse itna agay hain un logo ne ye sab kuch khud nahe sikha bal k unlogo ne ye sab jana hay Quran se bas afsoos ye hay k ham logo ne he Quran ko thik se samjha nahe us per amaal kiya nahe tu hamara yahi hashar hona hay jo ho raha hay

  13. حمزہ بتاريخ December 29، 2009 بوقت 9:05 pm

    Islam kehta hay k larka or larki dono barabar hain tu larkiyo ko parhai se rokhna unse unka buniyadi haq chinne k barabar hay

  14. راشد کامران بتاريخ December 29، 2009 بوقت 11:33 pm
  15. sadiasaher بتاريخ December 30، 2009 بوقت 2:12 am

    سلام ھمزہ

    ھم خدا کو مانتے ھیں خدا کی نہیں مانتے
    ھم قرآن پڑھتے ھیں اس پہ عمل نہیں کرتے
    ھمارے لیے اتنا کافی ھے ھمارا مذھب سب سے بہتر ھے
    ھمارے نبی کی شان سب سے بڑھ کر ھے
    ھم خود کیا ھے
    کبھی اپنے حالات بدلنے کا نہیں سوچتے
    گندگی کے ڈھیر بھی یقینا یہودیوں کی سازش ھے
    آٹا چینی بھی انھوں نے ھی غائب کیا ھے
    پینے کا گندہ پانی بھی وہی فراھم کرتے ھیں
    لڑکیوں کو زندہ درگور بھی وہی کرتے ھیں
    تعلیم حاصل کرنے سے بھی وہی منع کرتے ھیں

    سلام راشد کامران

    میں نے دیکھا ھے آپ کا بلاگ
    ٹھیک لکھا مجھے لگ رھا ھے آپ ایجنٹ ھیں

  16. یاسرعمران مرزا بتاريخ December 30، 2009 بوقت 6:21 pm

    جی درست فرمایا آپ نے، جتنی تحقیق اور ترقی اسرائیل میں ہو رہی ہے شایدہی کسی اور ملک میں ہو رہی ہو۔ اور مسلمان تو علم سے کب سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اس لیے آپ اسرائیل کے نظام تعلیم کا معائنہ ضرور کریں
    لیکن ایک اور بات بھی ہے، جتنی نفرتیں اور سازشیں یہودی ذہن کر رہا ہے شاید ہی کوئی اور قوم کر رہی ہو۔ یہ اسی گھمنڈی بنی اسرائیل میں سے ہیں جو اللہ تعالی کی ناپسندیدہ ترین قوم ہیں۔

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو