مشرقی ماں بیوی اور سیاسی لیڈر

27، December 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.

مجھے بے نظیر سے اختلاف رھا ھے وہ دو بار اقتدار میں آئیں عوام کی اکثریت ان کے ساتھ تھی جو وہ ملک کے لیے کر سکتی تھیں انھوں‌ نے وہ نہیں کیا آج ٹی وی پروگرام دیکھتے ھوئے میں سوچ رھی ھوں جب وہ پہلی بار وزیرِ اعظم بنی تو پنتیس سال عمر تھی بہت چھوٹی عمر میں انھوں نے دنیا میں وہ نام پیدا کر لیا تھا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ھوتا ھے وہ سیاست میں آکر سیاست کا شکار ھو گئیں

وہ ایک ماں بھی تھیں ایک مشرقی بیوی بھی ۔۔۔ ایک ایسی بیوی جو اپنے شوھر کی ھر غلطی پہ پردہ ڈالتی ھے اپنے گھر کے مسائل دوسروں کے سامنے یا کسی بھی محفل میں موضوعِ بحث بنانا پسند نہیں کرتی

آج ایک سوال جو سب کے دلوں میں ھے آخر دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان کے قاتل کیفِ کردار کیوں نیں پہنچے ان کی شہادت ےک دو دن بعد صدر زرداری کا بیان آیا تھا وہ جانتے ھیں بی بی کے قاتل کون ھیں سب لوگوں کو یقین تھا بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے صدر زرداری بی بی کے قاتلوں کو منظرِ عام پہ لائینگے مگر دو سال گزرنے کے بعد قاتل کھلی فضاؤں میں سانس لے رھے ھیں

ان کے وارث سکون سے اپنی زندگی میں مگن ھیں انھیں وراثت کا حق مل چکا ھے آج قبر میں بی بی منوں ٹن پھولوں کے ڈھیر کے نیچے اپنے قاتلوں کو سزا کا انتظار کر رھی ھیں اور ان کے وارث اس بات سے بے خبر بی بی زندہ ھیں کا مکے لہرا لہرا کر نعرے لگا رھے ھیں سچ ھے جو انسان زندہ ھو اس کے قاتلوں کو سزا کیسے ھو سکتی ھے


Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: سیاست

آراء

10 آراء برائے تحرير ”مشرقی ماں بیوی اور سیاسی لیڈر“

  1. فرحان دانش بتاريخ December 27، 2009 بوقت 7:23 pm

    شوہر صدر آصف زرادری نے کہا ہے کہ وہ بینظیر کے قاتلوں کو جانتے ہیں۔

    اگر زرداری قاتلوں کو جانتے ہیں تو پھر ملک کے کروڑوں روپے خرچ کر کے اقوام متحدہ سے تفتیش کرانے کی کیا ضرورت ہے۔

    قانون کی نظر میں وہ بھی مجرم ہے جو مجرموں کو جانتے ہوئے بھی ان کی نشاندہی نہیں کرتا۔

  2. sadiasaher بتاريخ December 27، 2009 بوقت 9:32 pm

    پہلے مشرف نے سارے شواھد دھو ڈالے
    پھر جو وارث ھیں‌انھوں نے بھی دلچسپی نہیں دیکھائ
    مگر ایک بات ھے زرداری کو بی بی سے بے حد محبت تھی
    کہیں بھی جانا ھو تصویر ساتھ رکھتے ھیں
    چاھے کہیں خطاب کرنا ھو امداد کی اپیل کرنی ھو
    اتنا وہ بی بی کے ساتھ نہیں رھے ھونگے
    جتنا تصویر کے ساتھ رھتے ھیں

  3. محب علوی بتاريخ December 27، 2009 بوقت 11:54 pm

    میرا خیال ہے اسے قانون قدرت کہتے ہیں۔ جس طرف محترمہ نے اپنے باپ کے قاتلوں کو اپنی پارٹی میں شامل کر لیا اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی بلکہ اپنے دارالحکومت میں اپنے سگے بھائی کے قاتل کو سینے سے لگائے رکھا بلکہ اس شخص کا دفاع کرتی رہیں اس کا یہی انجام ہونا تھا۔
    بھٹو خاندان ہے ہی ایسا ، اقتدار کے لیے ملک توڑ سکتے ہیں تو باپ ، بھائی ، بیوی کیا چیز ہیں؟

  4. sadiasaher بتاريخ December 28، 2009 بوقت 5:11 am

    سلام محب جی

    پاکستان میں قاتلوں کو سزا دینے کا رواج نہیں ھے
    لیاقت علی خان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے کچھ نہیں کیا اصل قاتل کون تھے
    ضیاء الحق کے بعد بے نظیر کی حکومت نے کوئ کوشش نہیں کی
    کہ وہ صرف ایک حادثہ تھا یا کوئ سوچی سمجھی سکیم انھیں باپ کے قاتل کے قتل سے کیا دلچسپی ھو سکتی تھی

    مگر بینظیر کے قتل کے بعد ان کی پارٹی کی حکومت آئ ھے اور حکمران ان کا شوہر ھے حیرت ھے انھیں کوئ دلچسپی نہیں
    اصل پلان کس کا تھا ق لیگ کو قاتل لیگ کہا گیا کبھی بیعت اللہ محسور کبھی را کبھی موساد

    آج تک نہ کوئ قاتل پکڑا گیا ھے نہ کبھی سزا ھوئ ھے

  5. Aniqa Naz بتاريخ December 28، 2009 بوقت 11:11 am

    میں ذاتی طور پہ تو بی بیب کے مداحین میں کبھی نہیں رہیں۔ انکی ساری ساری حیثیت انکے مرحوم باپ کیی مرہون منت تھی۔ نہ وہ اس باپ کے گھر میں پیدا ہوتیں اور نہ اتنی بڑی لیڈربن پاتیں۔ انکے ابا نے انہیں اس مقام تک پہنچانے کے لئیے ان پہ محنت کی تھیں۔ ورنہ ذاتی طور پہ محترمہ نہ کوئ غیر معمولی تعلیمی قابلیت رکھتی تھیں۔ نہ شاندار مقرر تھیں اور نہ سیاسی طور پہ کوئ مدبر۔ انکے اس فیصلے کو کہ وہ زرداری سے شادی کریں میں انکی زندگی پہ انکی گرفت اور انکی دور اندیشی کو انتہائ شک کی نظر سے دیکھتی ہوں۔ ایسا فیصلہ کرتے وقت ایک عام ذہن کی خاتون بھی کچھ نہ کچھ تو سوچتی۔ کیا دیکھ کر انہوں نے زرداری سے شادی کی۔ دولت انکے پاس زیادہ تھی، تعلیم انکے پاس زیادہ، نام اور شہرت انکی زیادہ، اپنا سیاسی کیرئیر بنانے کے مواقع انکے پاس زیادہ تھے۔
    دراصل انہیں قدرت نے جس فیاضی سے بہترین مواقع سے نوازا تھا وہ ان میں سے کسی ایک کی بھی نگرانی صحیح سے نہ کر سکیں۔
    ابتہ جن انداز سے انکو قتل کیا گیا ہے وہ قابل افسوس ہے کہ کسطرح انہیں استعمال کیا گیا اور وہ اسے سمجھ نہ سکیں۔

  6. sadiasaher بتاريخ December 29، 2009 بوقت 2:46 am

    سلام عنیقہ

    کل میں بےنیظیر کا ایک انٹر ویو سنا سن کے لگا عوام کے لیے کچھ خواب تھے ان کے پاس کچھ کرنے کے عزم تھا اس کے بعد زرداری کی تقریر سنی ایسے لگا جیسے ایک پہلوان اکھاڑے میں کھڑا اپنے مخالفین کی آنکھیں نکالنے کی منہ توڑنے کی دھمکی دے رھا ھے عوام کا کہیں زکر نہیں تھا کوئ مستقبل کا پلان نہیں تھا اپنی مدت پوری کرنے کی باتیں تھی
    تقدیر کسی بھی انسان کو ھر بات سدھارنے کے بار بار موقعے نہیں دیتی بےنظیر کے دو موقعے ملے اگر تیسری بار بھی ملتا پتا نہیں وہ کچھ کرتیں یا نہیں مر کر وہ زندہ ھوگئیں ھیں ویسے بھی ھم مردوں کو پوجنے والی قوم ھیں زندہ لوگوں کو جینے کا حق نہیں دیتے مرنے والوں کے لیے لاکھوں کے مزار بنواتے ھیں

  7. حمزہ بتاريخ December 29، 2009 بوقت 4:50 am

    kiya mujhe koi yeh bata sakta hay k Banazir sahiba or un k father ne Allama Iqbal or Quid-e-Azam k Pakistan ko kiya diya hay

  8. sadiasaher بتاريخ December 29، 2009 بوقت 4:55 am

    سلام اور ویلکم حمزہ

    باپ نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا
    اور بیٹی نے اسے حقیقت بنانے کا وعدہ کیا تھا

  9. حمزہ بتاريخ December 29، 2009 بوقت 5:11 am

    per diya dono he ne kuch nahe

  10. sadiasaher بتاريخ December 29، 2009 بوقت 2:29 pm

    سلام حمزہ

    سیات دان دینے کے لیے نہیں کچھ لینے کے لیے سیاست میں آتے ھیں
    ھم خوش فہم ھیں یہ عوام کی خدمت کے لیے آتے ھیں

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو