قرض دار اور خواجہ سرا

24، December 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.

خواجہ سرا اور قرض دار ابھی ایک خبر پڑھی جس میں چیف جسٹس نے خیال ظاہر کیا ھے قرضے وصول کرنے کے خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کی جائیں

زرا تصور کریں خواجہ سرا ھنستے گاتے تالیاں بجاتے قرضہ وصول کرنے جا رھے ھیں بہت سے وزیروں کو تو پہچاننا مشکل ھو جائے گا وزیر کون سا ھے اور خواجہ سرا کون سا

میرے خیال میں تو یہ ایک اچھا فیصلہ ھے انڈیا میں بھی قرضہ داروں سے نمٹنے کے لیے خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کی گئ تھیں عام فیملی والوں کو دھمکیاں کی جاتی ھیں جان سے مارنے کبھی بچوں کو اٹھوانے کی ایسے لوگوں کے لیے ایسے لوگ ھی ٹھیک ھیں خواجہ سراؤں کو بھی گلی گلی ناچنے کے بجائے کوئ روزگار مل جائے گا آپ کا کیا خیال ھے


Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: idhar udhar se

آراء

9 آراء برائے تحرير ”قرض دار اور خواجہ سرا“

  1. میرا پاکستان بتاريخ December 24، 2009 بوقت 5:10 am

    خیال تو اچھا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ خواجہ سراؤں کے اس مقابلے میں جیت کس کی ہوتی ہے، قرض دار کی یا قرض وصول کرنے والے کی۔

  2. جعفر بتاريخ December 24، 2009 بوقت 9:20 am

    ہاہاہاہاہا۔۔۔ وزیر اور خواجہ سرا والی پھبتی خوب ہے۔۔۔۔

  3. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ December 24، 2009 بوقت 2:27 pm

    اگر خواجہ سراؤں کا وصول کئے جانے والے قرضے سے فیصد کے حساب سے حصہ مقرر کر دیا جائے تو اُمید ہے پچاس فیصد سے زیادہ لوٹا ہوا روپیہ ایک سال می واپس مل جائے گا

  4. فرحان دانش بتاريخ December 24، 2009 بوقت 10:59 pm

    میرے خیال میں تو یہ بہت اچھا فیصلہ ھے۔ جب خواجہ سرا قرضہ وصول کرنے جائیں گے تو بہت مزے دار اور دیکھنے والا سین ہو گا۔

  5. محمداسد بتاريخ December 25، 2009 بوقت 1:13 am

    فیصلہ اچھا ہے لیکن قرض خور اوچھے ہیں۔
    خواجہ سراؤں سے اب بھی ہتک آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر وہ ‘اوپر’ والوں کے گھر قرضہ وصول کرنے پہنچ گئے تو کیا کچھ ہوگا اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔

  6. sadiasaher بتاريخ December 25، 2009 بوقت 3:47 am

    سلام پاکستان جی

    جو ملک کے قانون کو کچھ نہیں سمجھتے ان سے کیا امید کی جا سکتی ھے جیت جس کی بھی ھو نقصان عوام کا ھوگا سرکاری خزانہ ھمیشہ خالی ھوتا ھے اور جو سرکار میں ھوتے ھیں ان کے خزانے بھرے رھتے ھیں

    سلام جعفر

    میں نے تصور میں سوچ کے دیکھا ھے سچ میں کچھ وزیروں کا پتا نہیں چلے گا

    سلام اجمل جی

    چھوٹی مچھلیوں سے کچھ امید ھے کچھ مل جائے گا مگرمچھوں‌ کے منہ سے کون نوالہ چھین سکتا ھے

  7. sadiasaher بتاريخ December 25، 2009 بوقت 4:12 am

    سلام فرحان

    ایک نیا ڈرامہ تیار ھے عوام بھی عادی ھو گئے کوئ ڈرامہ دیکھنے کو نا ملے تو بے چینی ھوتی ھے دیکھتے ھیں کیا ھوتا ھے

    سلام محمد اسد

    اوچھے ” یہ لفظ ان حضرات کی ذات کی بلندی احاطہ کرنے سے قاصر ھے – قرضہ چند ھزار کا نہیں ھے کروڑں‌اربوں کا ھے
    چند ھزار کا ھو تو غریب کا سامان اٹھا لیتے ھیں ان سب کی جائدایں بھی غیر مما لک میں ھیں

  8. گمنام مسافر بتاريخ December 26، 2009 بوقت 11:21 pm

    اسلام و علیکم!
    آپ لوگ مذاق سمجھیں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ خواجہ سرائوں کا ایمان ہم لوگوں سے زیادہ مضبوط ہے
    اگر خواجہ سرائوں کو یہ ذمہ داری سونپ دی جائے تو دوسرے لوگوں کی نسبت یہ لوگ ایمانداری سے اپنے فرائض سر انجام دیں گے
    یہ لوگ بھیک تو نہین مانگتے ناچ گانے کر کے اپنا رزق کما جاتےط ہیں
    لوگ ان سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں
    گالیاں بھی دیتے ہیں
    مگر یہ لوگ پھر بھی آپ کی عزت کرتے ہیں
    کیسی قوم ہے یہ بھی کہ جس کے پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت ہی نہیں مگر ان کا اس معاشرے میں ایک اہم کردار ہے
    اگر ہم اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو معذرت کے ساتھ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ان خواجہپ سرائوں سے بھی برے ہیں مگر پوری آب و تاب کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں
    شکریہ مزید تلخ باتیں کروں گا مگر ایک بریک کے بعد

  9. sadiasaher بتاريخ December 27، 2009 بوقت 5:10 am

    وسلام اور سلام گمنام مسافر جی

    ھم نے کبھی ان لوگوں کو انسان سمجھا ھی ہیں صرف ایک تماشہ سمجھا ھے اگر ان کے حقِ وراثت اور پستقبل کی بات کی جائے تو لوگوں کو عجیب لگتا ھے
    اسلام نے جانوروں سے حسنِ سلوک کی تلقین کی ھے پیڑ پودوں کا خیال رکھنے تک کا کہا گیا ھے

    ویسے تلخ بات دل میں نہیں رکھنی چاھیے ورنہ دل میں زہر پھیل جاتا ھے یہ میرا خیال ھے اس لیے میں صرف غصے میں بولتی ھوں اور ایسا بولتی ھوں لوگوں کو مدتوں یاد رھتا ھے

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو