چھ سالہ بچے کی معلم کے ھاتھوں موت
18، December 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.
ابھی ٹی وی پہ خبر دیکھی ایک چھ سالہ بچے کو معلم نے تشدد کر کے مار دیا اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنا سبق یاد نہین کیا تھا کیا یہ اتنا بڑا قصور ھے جس کی سزا میں ایک چھوٹے سے بچے کے ڈنڈے گھونسے لاتیں مار مار کر جان سے ھی مار دیا جائے
بچے کے ایک ساتھی سے کہا گھر والوں سے کہے کہ بچے کو خون کی الٹی آئی تھی جس کی وجہ سے اس کی موت ھو گئ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ھو چکے ھیں کئ بار قرآن کی تعلیم دینے والے مولوی حضرات کے بارے میں پتا چلا وہ بچوں سے زیادتی کرتے رھے ھیں بہت کم واقعات میڈیا کے سامنے آتے ھیں جو واقعات سامنے آتے ھیں انھیں بھی نظر انداز کر دیا جاتا ھے
کیا یہ واقعات اس قابل ھیں کہ انھیں نظر انداز کر دیا جائے ؟؟؟
کیا کسی غریب بچے کی جان کی کوئ حیثیت نہیں ؟؟؟
کسی معلم کی قابلیت چیک کرنے کا کیا معیار ھے اگر کسی مولوی یا کسی ملا کے بارے میں کچھ کہا جاتا ھے تو بہت سے حضرات لٹھ لے کر کھڑے ھو جاتے ھیں ان کا فرمانا ھے یہ مولوی نہ ھوتے تو کون پیدائش کے بعد کان میں آذان دیتا کون قرآن کی تعلیم دیتا کون مسجدوں میں اذان دیتا کون مرنے کے بعد جنازہ پڑھاتا پھر بھی لوگ ان کی عزت نہیں کرتے
کیا کوئ بھی قرآن پڑھانا شروع کر دے اس کو چیک کرنا ضروری نہیں اکثر ایسے لوگوں کی بہت تعظیم کی جاتی ھے اگر ان کے بارے میں کوئ بات سنیں بھی تو کہا جاتا ھے وہ تو قرآن پڑھاتے ھیں نیک انسان ھیں
کیا سب پہ آنکھیں بند کر کے اعتبار کرنا چاھیے جب کوئ ایسا واقعہ ھوتا ھے وقتی شور اٹھتا ھے مگر کیا کچھ بھی نہیں جاتا اس خبر پہ بھی ایک دن تبصرہ کیا جائے گا ٹی وی والے چند بار دیکھائینگے پھر نئ خبروں میں یہ خبر بھی گم ھو جائے گی
معذرت میں ھرمولوی یا ھر داڑھی والے کو قابل ِ احترام نہیں سمجھتی اسلام دل میں ھوتا ھے داڑھی میں نہیں
موضوع: مذہب اور ھم
آراء
6 آراء برائے تحرير ”چھ سالہ بچے کی معلم کے ھاتھوں موت“
اپني رائے ديجيے

آپکی اس پوسٹ میں دو اہم موضوعات ہیں۔ نمبر ایک، بچوں کے ساتھ عمومی طور پہ رکھا جانیوالا رویہ۔
اور مولوی صاحبان کا اپنے شاگرد بچوں پہ تشدد۔ دراصل مدارس بچوں پہ تششد کے لئے ہی بدنام نہیں ہے بلکہ بعض محلے یا گائوں کی حدوں میں واقع مدارس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا گھنائونا کام بھی کیا جاتا ہے۔
محلوں میں واقع ان مدارس کو عام طور پہ چیک نہیں کیا جاتا اس لئے جزا و سزا سے بے نیاز یہ صاحبان اپنے روائتی طریقے چلاتے رہتے ہیں۔ وہ مدارس جہاں ان اساتذہ پہ چیک رکھا جاتا ہے۔ اور انکی قابلیت کو بھی جانچا جاتا ہے وہاں اس طرح کے واقعات کم سامنے آتے ہیں۔
لیکن ہمارے تعلیمی ادارے چاہے وہ دینی ہوں یا دنیاوی ان میں اساتذہ کے طور پہ کام کرنے والے لوگوں کی اکثریت وہ ہوتی ہے جوناکام ہوتے ہیں۔ مولوی صاحبان اس لئے زیادہ فرسٹریٹد ہوتے ہیں کہ یہ وہ لوگ زیادہ ہوتے ہیں جو مقابلے کی دنیا سے بھاگ کر ظاہری طور پہ دین میں پناہ لیتے ہیں۔ کہ انہیں یہاں صرف قرآن پاک کو لفظی پڑھنا آنا چاہءیے اور چند ابتدائ باتیں اسلام کے متعلق۔ باقی باتیں تو اس پردے میں چھپ جاتی ہیں کہ تمہیں دین کی سمجھ نہیں۔
دوسری طرف، ہم بچوں کے معاملے میں قدرے سخت دل واقع ہوئے ہیں۔ایمان ملک کا قصہ ابھی پرانا نہیں ہوا۔ یقینآ وہ ایک با اثر خاندان کی بچی تھی کہ اتنا شور اٹھنے بھی کمیابی ہوئ۔ غریب تو اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ ابھی آج ہی کے اخبار میں، میں نے یہ خبر پڑھی کہ دو نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملیں۔ آجکل رات میں اتنی ٹھنڈ ہوتی ہیں کہ میرے تو اس خبر کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کس طرح ان بچوں نے زندگی کی جنگ ہاری ہوگی۔ انکا قصور، ہر انسان کی طرح انہیں بھی جینے کا حق تھا۔ اور جب میں اپنے گرم بستر میں گرم کمبل اوڑھے پری بے فکر نیند سو رہی تھی تو وہ بچے چیخ چیخ کر رو رہے ہونگے کہ ہمیں بھی یہ گرمی چاہئیے۔ کوئ بھی انکی یہ آواز سننے سے معذور رہا۔
یہ سارے واقعات اپنی نوعت کے پہلے اور آخری واقعات نہیں ہیں۔ بس اس سے ہمیں یتہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرتی رجحانات کیا ہیں۔
اور اگر ہم یہ کہیں کہ اسلام کو ہمارے اعمال میں جھلکنا چاہئیے نہ کہ ظاہری طور پہ ہمارے لباس، یا چہرے سے تو ابھی لوگ آپ پہ لاحول بھیج کر ایک لمبی چوڑی تقریر کریں گے کہ یہ کس قدر اسلام مخالف بات کہی آپ نے۔لیکن یہ بات تو آپ بھی سمجھتی ہونگیں کہ جہالت اور دوغلیت اور ظاہر پرستی اور منافقت کے خلافہوتے ہوئے ہمیں ان ساری چیزوں کو اتنا خاطر میں نہیں لانا چاہئیے۔
ایک ماں ہونے کے ناطے میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ اس معاشرے کو ہمیں ہی اس بہتری کی طرف لیجانا ہے جہاں ہم اپنے بچوں کو انکی پوری توانائیوں کے ساتھ آباد ہوتے دیکھ سکیں۔
مدرسہ ہو یا سکول بات ایک ہی ہے ۔ دونوں میں منتظمین اور مدرس یا ٹیچر ایک ہی قوم کے افراد ہیں ۔ وہ قوم جو صرف دوسرے پر تنقید کرتی ہے اور دوسرے کو اچھا بننے کی نصیحت کرتی ہے مگر اپنے کردار کا محاسبہ جُرم تصور کرتی ہے ۔ جسمانی تشدد ہو یا جنسی مدرسوں اور سکولوں میں یکساں ہے ۔
یہاں ایک رائے دی جارہی ہے کہ مدرسہ ہو یا اسکول جنسی اور جسمانی تشدد یکساں ہےہ اصل رجحان یا تناسب کا موازنہ کیا جائے جو بنیادی طور پر ان کیسس کی بنیاد پر ہے جو رپورٹ ہوجاتے ہیں مدرسوں میں تشدد کا تناسب کہیں زیادہ ہے۔ سرکاری اسکولوں میں بھی مرد ٹیچرز کے پڑھانے کے طریقہ کار خواتین ٹیچرز سے بہت مختلف اور تشدد آمیز ہے مثلا کراچی میں سرکاری اسکولوں میں سندھی اور عربی پڑھانے پر مامور اکثر مرد ٹیچر حضرات کسی جلاد سے کم نہیں۔ عام اسکول جانے والے بچے چار سے چھ گھنٹے کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور والدین بھی عموما نظر رکھتے ہیں لیکن چند ایک مدارس کو چھوڑ کر باقی فل ٹائم یا ہوسٹل طرز مدارس ہیں اور کئی طالب علموں کے والدین مختلف وجوہات کی بنا پر جن میں غربت سر فہرست ہے انہیں مدرسوں میں داخل کروا دیتے ہیں جہاں طالب علم حالات یا ٹیچرز کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ ان حالات میں تعلیمی نظام میں ریفارمز کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور مدراس کو خصوصی طور پر چندہ سسٹم سے نکال کر مین اسٹریم میں لانا ہوگا ورنہ ہم اسی بحث میں الجھے رہیں گے کہ مدرسوں میں تشدد عام اسکولوں میں ہونے والے تشدد کے برابر ہے۔
سلام عنیقہ اور ویلکم
پاکستان میں کئ طرح کے نظامِ تعلیم رائج ھیں اور ان سب میں زمین آسمان کا فرق ھے سرکاری اسکول اردو پرائیویٹ اسکول میڈیم انگلش میڈیم اسکول — جہاں ان کی فیسوں میں فرق ھے وہیں پہ تعلیم کے معیار کا میں بھی بہت فرق ھے پرائیویٹ اسکولوں میں والدین دیکھتے ھیں ان ےک بچے کو کیا پڑھایا جا رھا ھے کوئ ان کے بچے کے ھاتھ بھی نہیں لگا سکتا سرکاری اسکولوں میں والدین کے لیے اتنا کافی ھوتا ھے ان کا بچہ اسکول جا رھا ھے کیا پڑھ رھا ھے کیسا پڑھ رھا ھے وہ بھی زیادہ دھیان نہیں رکھتے اور مدارس کی تو بات ھی الگ ھے کبھی کسی عام مدرسے میں کسی جاگیر دار یا صعنتکار کا بچہ نظر نہیں آئے گا مدراس میں کوئ فیس نہیں لی جاتی پھر لوگوں کا خیال ھوتا ھے بچہ دین کی تعلیم حاصل کر رھا ھے نہ حکومت چیک کرتی ھے نہ والدین ۔۔۔ کچے ذھنوں میں کیا بیٹھایا جا رھا ھے مار مار کھا کھا کر کتنے ڈھیٹ اور بے حس ھو رھے ھیں مدراس میں تعلیم کا مقصد ھے ایک بچہ ایک اچھا انسان بنے اور ایک سچا مسلمان —- مگر کیا یہ ھوتا ھے ؟؟
عنیقہ اگر لوگوں کی منافقت اور دوغلے پن کی بات کی جائے تو لوگ ایسے دیکھتے ھیں ھم انسانوں کے متعلق نہیں اسلام کے متعلق بات کر رھے ھیں اور شاید ھمارا ایمان مضبوط نہیں ھے لوگ یہ نہیں سمجھتے اللہ اور اس کے نبی پہ ایمان لانا ضروری ھے ھر مسلمان پہ نہیں — برے کو برے کہنا اور سمجھنا کوئ برائ نہیں میرا ایمان کہتا ھے کوئ بظاھر کتنا باعزت ھو یا رئیس اگر وہ برائ کرے تو اسے برا کہوں
سلام اجمل جی
اسکول میں بچے جاتے ھیں کہ انھیں ڈگری ملے جس سے اچھی جاب مل سکے آج کل یہی سوچ ھے ۔۔۔
مگر مدرسے میں بچہ جاتا ھے کہ وہ اچھا مسلمان اور مکمل انسان بنے — جب مدرسے میں کوئ ایسا واقعہ ھو تو دکھ زیادہ ھوتا ھے یہ کیسے ھو سکتا ھے وہ معلم جس نے دین کا علم سیکھا اور سمجھا — اور ان وہ خود ایسے مرتبے پہ فائز ھے کہ دوسروں انسان بنا سکے وہ ایسے کام کیسے کر سکتا ھے جو انسان خود وحشی ھو وہ کسی کو کیا انسان بنائے گا مدارس میں اگر ایسا ھوتا ھے تو اس کو معاف یا نظر انداز نہیں کرنا چاھے
اسکولوں کے ٹیچر چلیں دنیا دار ھوتے ھیں مگر مدراس کے معلم تو دین کا علم حاصل کر چکے ھوتے ھیں ان کو تو بہت نرم خو ھونا چاھیے
سلام راشد کامران
لوگوں سے سنا ھے لڑکوں کے اسکولوں میں استاتذہ زیادہ سخت سزائیں دیتے ھیں اور مارتے بھی زیادہ ھیں گاؤں کے اسکولوں میں تو ٹیچر مارتے ھی نہیں اپنے گھر کے کام بھی کرواتے ھیں
جہاں تک فل ٹائم یا ہوسٹل طرز مدارس کی بات ھے ان مدراس میں بچہ فل ٹائم رہتا ھے اگر اس کے ساتھ زیادتی ھو بھی نہ بچے میں ھمت ھوتی ھے کہ وہ اپنی ماں یا باپ کو کچھ بتا سکے اور والدین بھی توجہ نہیں دیتے ان کے لیے اتنا ھی کافی ھوتا ھے ان کا بچہ بھوکا نہیں مر رھا دو وقت کی روٹی کے ساتھ جیسے تیسے تعلیم بھی مل رھی ھے
تعلیمی نظام ایک سا ھونا چاھیے کم سے کم مڈل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بچوں کو مدارس میں بھیجا جائے تاکہ وہ صیحیح طریقے سے اسلام کو سمجھ سکیں مجھے یاد ھے پرائمری اسکول میں ھمیں کوئ بات سمجھ آئے نہ آئے صرف سبق رٹتے تھے