وہ زخم آج بھی رستا ھے
16، December 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.
آخری وقت تک دادی جان کے لبوں پہ ایک ھی بات تھی میرا بشیر آئے گا تایا بشیر فوج میں تھے مشرقی پاکستان میں تعینات تھے 1971 کے بعد ان کا کچھ پتا نہیں چلا وہ کہاں ھیں ان کی فیملی تھی بیٹی اور بیٹا تھا کسی نے کہا وہ جنگ میں شہید ھو گئے تھے
مشرقی پاکستان بہت سے لوگوں کو مارا گیا زندہ جلایا گیا وہ اور ان کی فیلمی زندہ تھی یا نہیں مگر دادی جان نے انھیں مرنے نہیں دیا کوئ دن ایسا نہیں ھوتا تھا جب ان کا زکر نہیں ھوتا تھا مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ھوا کہ مین ان سے نہیں ملی تھی ان کے بچوں کو میں نے نہیں دیکھا تھا ایسے لگتا تھا جیسے میرا بچپن ان کے ساتھ کھیلتے ھوئے گزرا ھو رات کو جب دادی جان کے پاس سوتی تھی تو تایا بشیر کی باتیں شروع ھوجاتیں وہ بچپن میں کیسے تھے ان کو بچے کیا کرتے تھے جب وہ گئے تھے اب کے بیٹے کو بولنا بھی نہین آتا تھا دادای جان حساب لگاتیں وہ اب کتنے بڑے ھو گئے ھوں گے کون سی کلاس میں پڑھ رھے ھونگے دادی جان نے جو خاکہ بنایا تھا بچپن میں میں سڑک پہ چلتے ھوئے ان لوگوں کو کھوجا کرتی تھی
ایک بار گھر بیچنے کی بات ھوئ تو دادی جان نے یہ کہہ کہ انکار کر دیا تایا بشیر کو اس گھر کا پتا ھے انھوں نے اپنے بچوں کو اسی گھر کا پتا دیا ھو گا وہ واپس آئیں گے تو کیا کریں گے دادی جان کی آس کبھی ٹوٹی نہیں تایا جان نے جاتے ھوئے کہاں تھا اماں میں جلد ھی بچوں کے لے کر آؤں گا اور دادی جان مرتے دم تک انتظار کرتی رھیں
ان کی وفات کے بعد میں پتا چلا تایا بشیر میرے سگے تایا نہیں تھے وہ دادی جان کی مرحومہ بہن کے بیٹے تھے جنھیں مرتے وقت دادی جان کی گود میں دیا تھا اور وعدہ لیا تھا وہ انھیں اپنے بچوں کی طرح پیار کریں گی انھوں نے ااپنا وعدہ نبھایا اپنے بچوں سے بڑھ کر نہ صرف خود پیار کیا بلکہ وہ پیار اپنے آنے والی نسل میں بھی منتقل کیا
میرا سارا بچپن ان کے ساتھ گزرا دادای جان کی آنکھوں سے ھم نے انھیں شرارتیں کرتے جوان ھوتےدیکھا دادای جان کے ساتھ ھم نے بھی ان کا انتظار کیا – کسی اپنے سے بچھڑنے کا دکھ کیا ھوتا ھے وہ میں جانتی ھوں دادای جان کو میں نے گھولتے دیکھا ھے جب پاکستان سے لاپتہ افراد کے بارے میں پڑھتی ھوں تو ان کے خاندان کی حالات کا دلی کیفیت کا اندازہ لگا سکتی ھوں انسان آس کے دئیے کو بجھنے نہیں دیا یادوں کے چراغ جلائے رکھتا ھے مگر ان چراغوں کے ساتھ خود بھی جلتا ھے کچھ زخم کبھی نہیں بھرتے ان زخموں سے خون ھمیشہ رستا رھتا ھے
موضوع: بیتی باتیں
آراء
6 آراء برائے تحرير ”وہ زخم آج بھی رستا ھے“
اپني رائے ديجيے

اسلام و علیکم!
اس پر میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہوں
کیونکہ اپنوں کے کھونے کا دکھ؟؟؟؟
والسلام گمنام
سلام گمنام جی
ایک بات پوچھنی تھی آپ سے گمنام ھیں یا بے نام
اگر گمنام ھیں تو نام کہاں گما ھے ڈھونڈا کیوں نہیں
میری امی کہتی ھیں مرنے والے پہ وقت کے ساتھ انسان صبر کر لیتا ھے
مگر جو دنیا کی بھیڑ میں کھو جاتا ھے اس کی واپسی کی امید رھتی ھے انسان آس ونراس کے درمیان لٹکا رھتا ھے جو زیادہ تکیف دہ ھوتا ھے
باجی السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
باجی میں نے آج ہی آپ کا بلاک وزٹ کیا۔تایا بشیر کے بارے میںجو کچھ آپ نے لکھا ۔دادی جان کی آس نے ہمیں بھی رلا دیا۔واقعی جن کے اپنے بچھڑے انھیں ہی پتا لگتا ہے۔ابو کو بھی میں نے سنایا وہ بھی کافی رنجیدہ ہے۔سب کو سلام بچوں کوپیار
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پہلی با ر آپ کے باگ میں وزٹ کیا۔بہت خوشی ہوئی۔آپ کا انداز تحریر پسند اآیا۔تایا بشیر کے بارہ میں لکھی گئی تحریر بھی بہت اچھی تھی۔واقعی اپنوں کے بچھڑنے کا غم بہت شیدید ہوتا ہے۔خاص طور پر والدین کے لئے تو جوان اولاد کا بچھڑنا قیامت سے کم نہیں۔ایسے ہی لکھتی رہیں ۔اللہ تعالٰی آپ کے ساتھ ہو۔اآمین
سلام عامر
خوشی ھوئ تمہارا تبصرہ دیکھ کر –
پردیس میں اپنے وطن کی اور اپنوں کی زیادہ یاد آتی ھے
اپنی سوچوں کو اپنے احساسات کو الفاظ میں ڈھال دیتی ھوں اداسی کچھ کم ھو جاتی ھے – اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ دل کو کونے میں ھمیشہ رھتا ھے زندگی مین ھم کتنا بھی مصروف ھو جائیں ان کی یاد
ھمارے ساتھ رھتی ھے دعا کے لیے شکریہ اللہ تمہیں ھمیشہ خوش رکھے امین
سلام
شکریہ جواب دینے کا،آپ ایسے ہی لکھتی رہیں۔ہم آپ کا حوصلہ بڑھاتے رہے گے۔ہاں جہاں تنقید کی ضرورت محسوس ہوئی کھل کر کروں گا۔اور داد بھی کھل کر دوں گا۔اللہ تعالٰی آپ کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے۔آمین۔میرا خیال ہے کہ اب تو محاوروں کی سمجھ بوجھ آگئی ہوگی۔ساتویں کلاس تو کب کی پاس ہوچکی۔ہاہاہا