آخر کب تک —–
14، December 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.
پیپلز پارٹی کے کسی بھی ممبر سے پوچھا جائے حالات کب سدھریں گے مسائل کب حل ھوں گے مسائل بڑھتے جا رھے ھیں تو ان کا جواب ھوتا ھے یہ مسائل ھمارے پیدا کردہ نہیں ھیں یہ ھمیں وراثت میں ملے ھیں پیچھلی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ھے
اگر سب کچھ پیچھلی حکومت کا کیا دھرا ھے تو موجودہ حکومت پیچھلے دو سال سے کیا کر رھی ھے ان کی پالیسیوں کو کوئ نتیجہ سامنے کیوں نہیں آرھا پیچھلی حکومت کی پالیسیاں چینج کیوں نہیں ھورھیں آخر کب تک موجودہ حکومت پیچھلی حکومت پہ سارا الزام دے کر اپنا آپ بچاتی رھے گی
موضوع: سیاست
آراء
6 آراء برائے تحرير ”آخر کب تک —–“
اپني رائے ديجيے

السلام علیکم !
مجھے بہت خوشی ہوئی آپکا بلاگ دیکھ کر کہ ابھی ہمارے ملک میں با شعور عوام موجود ہے۔
مگر آپ حکومت کو ہی تو سب چیزوں کا ذمہ دار نہیںٹہرا سکتیں
یہ تو قانون فطرت ہے کہ جیسی قوم ہوتی ہے ویسے ہی ان پر حکمران عائد کیے جاتے ہیں جب تک ہم درست نہیں ہو جاتے کوئی چیز تبدیل نہیں ہو سکتی کیونکہ حکمران بھی ہم ہی میں سے ہوتے ہیں باہر سے تو نہیں آتے۔
والسلام :
حسیب
یہ تو مہربانی ہے حکومتی اراکین کے وہ مسائل کے وجود سے انکاری نہیں۔ ورنہ وزیر اطلاعات سمیت دیگر وزراء قریبآ ہر جگہ سب او کے ہے کا نعرہ بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ جو تھوڑے بہت مسائل یہ تسلیم کرتے ہیں وہ پچھلی حکومت کے شروع کردہ ہے۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ یہ روایتی گردان اگلے الیکشن تک جاری رہے گی۔
سلام حسیب اسلم
ویلکم میرے بلاگ پہ ——-
بات تو آپ کی ٹھیک ھے مگفر ھمارے حکمران ھم میں سے کب ھوتے ھیں وہ تو اکثر باھر سے برآمد کیے جاتے ھیں- گھر کاروبار غیر ممالک میں ھوتے ھیں یہاں صرف حکومت کرنے آتے ھیں – جیسے برطانیہ سے انگریز آئے تھے حکومت کی مال اکٹھا کیا اپنے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں سے نوازا جب عوام تنگ آگئے تو چلے گئے
زرا غور کریں ھمارے حکمران بھی ایسے ھیں ان کا مقصد عوام کی خدمت کرنا نہیں ھوتا اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر بنانا ھوتا ھے
سلام محمد اسد
کبھی میں سوچتی ھوں یہ لوگ ایسے بیان کیوں دیتے ھیں اگر موجودہ
مسائل پہلی حکومت کے پیدا کردہ ھیں تو کیا حل بھی پہلی حکومت آکر کرے گی جب یہ لوگ حکومت میں آئے تو کیا انھیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ پاکستان کن مشکلات سے گھیرا ھوا ھے کیا پردیس میں بیٹھ کر پاکستانی خبریں نہیں دیکھتے تھے کیا یہ چاند سے تشریف لائے ھیں یا ابھی تک وہی پہ رھائش رکھتے ھیں جو عوامی مسائل کا علم نہیں
بہت اچھے موضوع پر لکھا ہے سعدیہ۔
انشاءللہ حالات اب بدلنے لگے ہیں اور جی کا جانا ٹھہر گیا ہے
صبح گیا کہ شام گیا
سلام محب علوی جی
بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ان لوگوں میں سے ھیں جن کو دیکھ کر ھم نے لکھنا شروع کیا آج کل آپ کے بلاگ پہ کوئ نی تحریر نظر نہیں آتیں اچھے لکھنے والوں کو لکھتے رھنا چاھیے
وقت کب بدلے گا ھمیں بھی انتظار ھے اس صبح کا