دولت مند ۔۔ حکمران ۔۔۔۔۔۔ اور توکل اللہ
25، November 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.
جس امیر کبیر انسان کو دیکھو وہ دولت اکٹھا کرنے مین مصروف ھے دو سے چار کیسے اور چار سے سولہ کیسے کرنے ھیں دولت کے انبار لگا رھے ھیں کچھ لوگوں کے پاس اتنی دولت ھے جس کا انھیں خود بھی علم نہیں کس کس بنک میں کتنے اکاؤنٹ ھیں کس اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ھیں اپنے نام پہ جائداد ھے اپنے ھر بچے کے نام پہ اتنی دولت کس لیے اکٹھی کر رھے ھیں اپنی آنے والی نسل کے لیے ؟؟؟
ان کا کیا خیال ھے ان کی آنی والی نسل جسمانی طور پہ معذور ھوگی ؟
کیا ذہنی طور پہ ایب نارمل ھوگی ؟؟؟
کیا ان کے پاس خود کوئ ھنر نہیں ھوگا ؟؟
اللہ انھیں کسی صلاحیت سے نہیں نوازے گا ؟؟
وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے دولت تو چھوڑ کر جانا چاھتے ھیں مگر شرافت نیک نامی ان کی خاندانی پہچان نہیں چھوڑنا چاھتے ایسی نسل چھوڑنا چاھتے ھیں جو ان کی دولت پہ عیاشی کرے اس کے لیے وہ ھر ناجائز کام کرتے ھیں کاش وہ ایسے کام کریں کہ ان کی آنے والی نسلیں ان کے کاموں پہ فخر کریں صرف دولت اکٹھا کرنے اور دو سے چار کرنے پہ اپنی زندگی نہ گزاریں بلکہ انسانیت کے لیے کچھ کریں مگر پاکستان میں شاید ھی کوئ دولت مند ھوگا جو ایسا سوچتا ھوگا اللہ کو بھول کر صبر اور قناعت کو بھول کر اللہ پہ توکل کو چھوڑ کر خود کو خدا سمجھتے ھیں اپنی آنے والی نسلوں خود کچھ کرنا چاھتے ھیں مگر کیا دولت ھی سب کچھ ھوتی ھے ؟؟؟؟
موضوع: idhar udhar se
آراء
10 آراء برائے تحرير ”دولت مند ۔۔ حکمران ۔۔۔۔۔۔ اور توکل اللہ“
اپني رائے ديجيے

یہ کیا بات ہوئی بٹیا۔ ابھی تو حکمرانی بلاگرز کے ہاتھ لگی بھی نہیں اور آپ نے تقریریں شروع کر دیں۔ کہیں یہ آپ کا سیاسی ایجینڈہ تو نہیں؟
میں نے پڑھا تھا کہ جب پہلی بار خزانہ جو اسلام کے مطابق بیت المال ہوتا ہے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مال لانے کو کہا ۔ جواب میں عمر رضی اللہ عنہ مال لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا “عمر ۔ اپنے گھر والوں کیلئے کچھ چھوڑا ؟” جواب دیا “ہاں ۔ اللہ اور اس کا رسول”
سلام ابن سعید جی
انتخابات میں سیاسی بیانات ضروری ھیں – تقیریں نہیں ھونگی تو لوگوں کو کیسے پتا چلے گا ھم حکومت میں آنے کے بعد ملک میں کون سا انقلاب لائیں گے
سلام اجمل جی
حریص انسان کا دل عمروعیار کی زنبیل ھوتا ھے دنیا بھر کی نعمتیں بھی میسر ھوں تو دل نہیں بھرتا — آج کل کے زمانے میں انسان ملنا مشکل ھے ابو بکر اور عمر نام کے تو مل جائیں گے مگر ان جیسا کردار والا کہاں ھو گا
پاکستان کے حالات کا مرثیہ فاروق قیصر بھی پڑھ رہے ہیں!
http://ejang.jang.com.pk/11-26-2009/pic.asp?picname=07_07.gif
اجمل صاحب جیسا کہ مینے کہا کہ آپ کی یادداشت دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے کچھ دوائیں وغیرہ استعمال کریں!
اب یہی دیکھ لیں اتنا مشہور واقعہ آپ بھول گئے حضرت عمر اپنے گھر سے آدھا مال لے کر آئے اور حضرت ابوبکر صدیق تمام مال لے آئے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ گھر والوں کے لیئے بھی کچھ چھوڑا تو انہوں نے فرمایا ہاں اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم،
اور یہ مال بیت المال کے لیئے نہیں بلکہ غزوے تبوک کی تیاری کے سلسلے میں منگوایا گیا تھا!آپ دوبارہ تاریخ اسلام کا مطالعہ فرمائیں!
سلام عبداللہ
شکریہ لنک دینے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ میں آپ کی عزت کرتی ھوں آپ کے نام کی وجہ سے آپ کے نام میں اللہ آتا ھے — ھم یہاں کسی کو نہیں جانتے ھمارے الفاظ ھماری تعارف ھیں میں بلاگ کی دنیا میں اجمل جی کی بہت عزت کرتی ھوں ایسے لوگ زندگی کو زندہ دلی سے جیتے ھیں زندگی کو سمجھتے ھیں اور اپنا علم دوسروں تک پہنچاتے ھیں
ھم جب دنیا میں آتے ھیں تو کورے کاغذ ھوتے ھیں ھم سب کچھ اپنے بڑوں سے سیکھتے ھیں جب کچھ سیکھ لیتے ھیں تو اپنے آپ کو ان سے بہت اعلیٰ و ارفع سمجھنے لگتے ھیں بزرگوں کو نیچا دیکھا کر کوئ انسان دنیا میں عزت نہیں پا سکتا مناسب ھوگا اپنے سے بڑوں سے بات کرتے ھوئے ھمارے الفاظ اور لہجہ مناسب ھو
سعدیہ
پیسہ کا شمار تو دنیا کے مشہور ترین نشہ میں ہوتا ہے۔ ایک بار جس کو اس کی لت لگ جاءے وہ اپنے آپ کو کسی اور دنیا کا باسی سمجھنے لگتا ہے۔ ایسی دنیا کہ جہاں صرف وہی بادشاہ اور عقل قل ہو۔ کچھ یہی حال سیاستدانوں کا بھی ہے جو پیسہ کو آپ حیات سمجھتے ہوئے اس کے انبار لگاتے نہیں تھکتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آج کل ہر خاص و عام کو مرعوب کرنے کا سب سے موثر ہتھیار بھی پیسہ بن چکا ہے۔
سعدیہ میں بھی اجمل صاحب کی عزت کرتا تھا مگر اس میں کمی اس وقت آئی جب انہوں نے بے بنیاد پروپگینڈہ شروع کیا بڑوں کو بھی اپنی عزت کروانا آنا چاہیئے اگر بڑے جھوٹ بولتے ہیں یا غلط بیانی کرتے ہیں تو چھوٹوں کے دل سے ان کی عزت ختم نہ ہو تو کم ضرور ہو جاتی ہے،والسلام،
سلام محمد اسد جی
ٹھیک کہا آپ نے آج کل انسان کو پرکھنے کا معیار کردار نہیں پیسہ ھے ۔۔۔ کچھ لوگوں کو دیکھ کر واقعی ھی لگتا ھے انھیں پیسے کا نشہ ھے
سلام عبداللہ
مین نہیں جانتی آپ کی اور اجمل جی کی کیا بات ھوئ مگر مجھے آپ کے مخاطب کرنے کا طریقہ صیحیح نہیں لگا تھا اس لیے میں نے کہا تھا