ھم خدا ھیں

30، September 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.

ایک خبر نظر سے گزری بہت سے لوگوں نے پڑھی ھوگی کچھ نے افسوس کیا ھوگا کچھ نے نظرانداز کیا ھوگا ایسی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رھتی ھیں یہ خبر آپ نے بھی دیکھی ھوگی 
بی بی سی ۔۔۔۔۔۔لاہور کے نواحی علاقے پھول نگر میں مقامی دیہاتیوں نے تین خواتین پر جسم فروشی کاالزام لگا کر سزا کے طور پرانہیں سرعام برہنہ کیا اور ان کی پٹائی کی – مقامی پولیس نے بھی الٹا خواتین کو گرفتار کرکے ان کے خلاف جسم فروشی اور اس کا دھندا کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ تھانہ پھولنگر کے ڈیوٹی افسر شوکت نے بتایا کہ تینوں خواتین اب تھانے کی حوالات میں موجود ہیں اور انہیں تھانے لانے سے پہلے دوسرے ملبوسات فراہم کردیئےگئے تھے-حملہ آوروں کی قیادت مقامی مذہبی شخصیت نے کی پولیس کے موقع پر پہنچنے پر عورتوں کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔ واضح رہے کہ تعزیرات پاکستان کے تحت کسی بھی خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کی سزا موت ہے۔

ھم پیدائشی مسلمان ھیں ھم اس رسول کے ماننے والے ھیں جو ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر آیا – ھم کلمہ گو ھیں ھم بہترین امت ھیں ھم بخشے جائیں گے ھم اسلام کے ٹھیکے دار ھیں 
حدیث کیا کہتی ھے ھمارے پاس اتنا وقت کہاں کہ اس کا مطالعہ کریں 
سنت کیا ھے ھمیں اس سے کوئ غرض نہیں 
قرآن کیا تعلیم کیا ھے عربی پڑھ لینا کافی ھے عربی کا ایک ایک لفظ پڑھنے کا ثواب ملتا ھے اس کا مطلب کون سمجھے 
خوفِ خدا کیا ھے – خدا کی ذات سے کیا ڈرنا وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ھے 
اللہ رحمان ھے وہ ستار ھے ھماری کمزوریوں کی پردہ پوشی کرتا ھے ھماری خطاؤں کو معاف کرنے والا ھے درگزر کرتا ھے معاف کرتا ھے ھمیں سمبھلنے کی مہلت دیتا ھے اگر ھم سمبھل جاتے ھیں تو پیچھلے تمام گناہوں کو معاف فرماتا ھے جو ظلم کرتا ھے زیادتی کرتا ھے اس کے لیے اسلام کے رہنما اصول ھیں جو سزا سے بچ جاتے ھیں یا گناہ کرتے ھیں ان کے لیے قیامت کے دن مقرر ھے 
مگر ھم میں اتنا حوصلہ کہاں کہ کسی کو معاف کریں اسے سدھرنے کا موقعہ دیں – قیامت نجانے کب آئے گی اس لیے ھم ھر وقت کوئ نہ کوئ قیامت برپا کرتے رھتے ھیں ھم جزا دینے والے نہیں مگر سزا دینے میں کوئ دیر نہیں کرتے ھیں جوق در جوق اپنے گھروں سے نکل پڑتے ھیں ھم سزا وہ دیتے ھیں جو ھم چاھتے ھیں مگر دنیا میں نام اسلام کا بدنام ھوتا ھے کیونکہ ھر مسلمان جو بھی عمل کرتا ھے اسے اسلام کی تعلیم سمجھا جاتا ھے یہی وجہ ھے اسلام اپنی تعلیم سے نہیں ھمارے اعمال کی وجہ سے پہچانا جاتا ھے اور ھمارے عمل کیا ھے کتنے اسلامی ھیں اس پہ بحث کرنا ابھی میرا مقصد نہیں 

وہ خواتین جن کے بارے میں شک تھا وہ برائ میں ملوث ھیں کیا کسی کے پاس ثبوت تھا ؟؟؟کوئ گواہ تھا ؟؟ اگر گواہ تھے ثبوت تھے تو کیا عدالت نہیں تھی 
کیا سزا دینے کا حق سب کو ھے ؟ اور کیا اس جرم کی ایسی سزا ھونی چاھیے وہ خواتین چھپ کر اگر برائ کرتی تھیں تو ان کو سرِعام برہنہ کرنے والوں نے ایسا کر کے کون سا ثواب کمایا ؟؟ 
ایسا سلوک ھمیشہ عورتوں کے ساتھ ھی کیوں ھوتا ھے ؟؟
کیا مرد حضرات کبھی کسی برائ میں ملوث نہیں ھوتے ؟؟
ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا ؟
عورتیں بے بس ھوتیں ھیں یا ایسی عورتیں جن کے گھر والے کمزور اور غریب ھوتے ھیں ان کو ھی ایسی سزائیں کیوں دی جاتی ہیں ؟؟
کوئ صاحب حیثیت ایسا کام کرتا ھے تو سب آنکھیں چراتے ھوئے گزر جاتے ھیں ایسی سزا دینے والوں کی گھٹیا ذہنینت کا پتا چلتا ھے ان کا مقصد برائ ختم کرنا ھرگز نہیں ھو سکتا اور جو مقامی مذہبی شخصیت ھیں ان کے پوسٹر پورے ملک میں لگانے چاھیے تمغہ امتیاز تمغہ جرات سب تمغہ جات دینے چاھیے اگر وہ یہ قدم نہ اٹھاتے تو اسلام کو کون بچاتا انھوں نے اسلام کو ایک نئ زندگی دی ھے 

ھم اپنے کسی بھی فعل کے جواب دہ نہیں ھم کسی کو بھی سزا دے سکتے ھیں ھم دنیا کے خدا ھیں قیامت کے دن ھم نے اللہ کو جواب نہیں دینا یہ دنیا یہی پہ ختم ھو جائے گی جزا سزا کا دن تو آئے گا نہیں اگر آیا بھی تو اللہ سے کہہ دیں گے ھم عالم ِ دین تھے ھم قرآن پڑھتے تھے ھمیں فتوے دینے کا حق تھا لوگوں کے ایمانوں کو تولنے کا حق تھا ھم دولت مند کے سامنے جھکنے والے کچوے اور کمزور کے سامنے اکڑ جانے والے قرآن کو چوم کہ الماریوں میں سجانے والے حقیر انسانوں کو تعویز دینے والے قبروں پہ جھکنے والے ھم نے اسلام کو زندہ رکھا ھوا ھے ھم سے کوئ سوال جواب نہ کرے

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: سیاست، کالم

آراء

8 آراء برائے تحرير ”ھم خدا ھیں“

  1. کنفیوز کامی بتاريخ September 30، 2009 بوقت 5:30 pm

    آپکی ہمت کی داد مگر یہ موضوع اس سے پہلے کافی چل چکا ہے http://letsbuildpakistan.org/blog/?p=106

  2. خرم بتاريخ September 30، 2009 بوقت 9:15 pm

    سعدیہ بہنا ۔ آپ نے بہت اچھی باتیں کی ہیں۔ یہی تو المیہ ہے کہ دین کے “دوکاندار” دین کے “ٹھیکیدار” بن کے جو جنس بیچ رہے ہیں اس کا دین سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

  3. sadiasaher بتاريخ September 30، 2009 بوقت 10:57 pm

    سلام کامی

    شکریہ ۔۔۔۔۔۔ ھم میں ھمت کہاں
    با ھمت لوگ تو وہ ھیں جو سرِ عام بڑے بڑے کام کرتے ھیں
    ھم تو کمزور لوگ ھیں جو ان کے کارناموں پہ کچھ لکھ دیتے ھیں
    میں آج کل بلاگ با قاعدگی سے نہیں دیکھتی اس لیے میں نے نہیں دیکھا تھا ابھی دیکھا ھے

    سلام خرم بھائ

    شکریہ بہت بہت
    اس بات کا دکھ ھوتا ھے ۔۔اسلام کے دشمنوں کے اسلام کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اسلام کے ماننے والوں نے پہنچایا ھے — کبھی کبھی بہت غصہ آتا ھے یہ اسلام کا نام کیوں لیتے ھیں جن باتوں کا اسلام سے کوئ تعلق ھی نہیں کوئ نیا نام کیوں نہیں دے دیتے

  4. قحط الرجال بتاريخ October 18، 2009 بوقت 12:32 pm

    [...] ہم خدا ہیں تحریر : سعدیہ سحر ۳۰ ستمبر [...]

  5. SAIMA بتاريخ January 23، 2010 بوقت 3:48 pm

    AP KA TOPIC BOHT ACHA HA BT HUM KUCH B NAI KR SKTY SIRF LIKH SKTY HAN YA KUCH LOGO K SAMANY BOL SKTY HAN IS SY KOI FARK NAI PARTA Q K JO LOG KHUDA HONY KA DAWA KRTY HAN UN K PECHAY BOHT BARI TAKAT HA JIC K SAMANY HUM BOHT KAMZOR HAN ALLAH ASY LOGO KO HADYAT DY OR HUM KO SAHI ISLAM PE CHALNY KI TOFEEQ DY AMEEN

  6. sadiasaher بتاريخ January 24، 2010 بوقت 4:59 am

    سلام صائمہ ویلکم میرے بلاگ پہ
    دعا کے لیے آمین —
    صائمہ ھمارے لکھنے یا نہ لکھنے سے کوئ خاص فرق نہیں پڑتا ھم جو دیکھتے ھیں سوچتے ھیں وہ تو دوسروں کے ساتھ شئیر کر سکتے ھیں برے کو برا کہہ سکتے ھیں ظلم کو ھاتھ سے نہ سہی زبان سے تو برا کہہ سکتے ھیں اپنے زندہ ھونے کا احساس تو دلا سکتے ھیں

  7. حافظ بتاريخ January 24، 2010 بوقت 7:40 pm

    اس مسئلہ میں بھی اصل مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ اگر یہ مقامی مذہبی قیادت کرنا والے دین کا ٹھیکیدار تھا تو ظاہر ہے امریکا کے زندانوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ننگا کرکے پیش کرنا امریکن پولیس کو جن کے ایمائ پر ہوا وہ یعنی بش، مشرف لبرٹی کے ٹھیکیدار ہیں۔ جناب من مسائل کے بارے میں اصل اسلام کی طرف رجوع کریں، عورت کو ننگا کرنا دور کی بات اسکا صرف چہرہ ہی ننگا کردینا اسلام میں ایک بھیانک جرم ہے، اگر کوئی ایسا اسلام کے نام پر کرتا ہے تو وہ ڈبل جرم ہے۔ اگر کوئی زناکار ہے تو اسلام تو کہتا ہے اول پردہ پوشی کرو، اگر حاکم وقت کے دربار میں مقدمہ پہنچ ہی جائے تو چار عینی شاھدین پیش کرو جو زنا کے ہر ہر لمحے میں ایک جیسا بیان رکھتے ہیں پھر کہیں جاکے بات ثابت ہوجائے تو کنواروں کے لئے سو کوڑے اور شادی دہوں کے لئے سنگساری کا حکم ہے، لہٰذا اپنی فلاسفی جھاڑنے سے پہلے د دیکھ لیا کیجئے کے کہیں اسلام کا استہزاء تو نہیں ہورہا ورنہ آپ اور عورتوں کو برہنہ کرنے والے ان صاحب کے درمیان وہی فرق ہے جو مُش اور بُش میں ہے

  8. sadiasaher بتاريخ January 25، 2010 بوقت 3:20 am

    محترم حافظ صاحب

    بلاگ کو ایک بار اور پڑھیں کہ بات کیا ھو رھی ھے
    اور بات بات پہ لوگ امریکہ کیوں پہنچ جاتے ھیں مقامی مسائل کو مقامی طور پہ حل کیوں نہیں کرتے مزکورہ بالا مسلہ پاکستان کا ھے
    اس میں پاکستان مین ھونے والے ایک واقعے کی بات ھو رھی ھے مسلمانوں کے عمل کی بات ھورھی ھے ایسے لوگوں کی بات ھورھی ھے جو اسلام کے نام پہ اسلامی تعلیم کی دھجیا اڑاتے ھیں
    آپ نے مش اور بش سے ملانے سے پہلے اور اپنا فلسفہ جھاڑنے سے پہلے دوسرے کی بات سمجھ لیا کرے — شکریہ

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو