میرا بچپن ایک یاد

19، August 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.

میں کچھ دن آن لائن نہیں ھوئ جب چار پانچ دن کے بعد سب کے بلاگ دیکھے تو میں کافی حیران ھوئ یہ سب کو باجماعت اپنا بچپن کیوں یاد آرھا ھے پھر پتا چلاھفتہ بلاگستان شروع ھو گیا سوچا لیٹ ھی سہی ایک واقعہ میں بھی لکھ دیتی ھوں شہیدوں میں نام تو آجائے گا

میرا بچپن بہت خاموش سا تھا مجھے نہیں یاد میری کبھی کسی سے لڑائ ھوئ ھو میری امی کا بھی کہنا ھے میں چپ کر کے بیٹھی رہتی تھی میں اپنے اردگرد کی دنیا میں کم تصورات کی دنیا میںزیادہ رہتی تھی بچے جو سنتے ھیں اس کا ایک خاکہ اپنے ذہن میں بنا لیتے ھیں جیسے ایک فلم ھو میری دادی جان کہتی تھیں لوگ مر کر آسمان پہ روح بن کر اللہ میاں کے پاس چلے جاتے ھیں اور امی کا کہنا تھا بچے آسمان سے آتے ھیں اور میں فارغ وقت میں آسمان کی طرف منہ کر کے بیٹھی رھتی تھی  میرا خیال تھا جو سفید بادل ھیں وہ روحیں ھیں جس دن زیادہ بادل ھوتے تھے میں افسردہ ھو جاتی تھی کہ آج اتنے لوگ مر گئے
ایک دن میں اپنی دوست کے گھر گئ اس کے دادا کی طبیعیت  بہت خراب تھی بہت مشکل سے سانس لےرھے تھے ھمیں کمرے سے نکال دیا تھوری دیر بعد کسی نے کہا وہ فوت ھو گئے ھیں میں بھاگ کر باہر گئ  آسمان کی طرف دیکھا تو آسمان بالکل صاف تھا میں نے سوچا ان کی روح ابھی آسمان پہ نہیں گئ ابھی دادا زندہ ھے میں واپس بھاگ کر دادا کےکمرے میں گئ میں نے سب سے کہا دادا ابھی زندہ ھیں سب نے مجھے حیرت سے دیکھا میں نے کہا ان کی روح ابھی ان جسم میں ھےدادا ابھی زندہ ھیں میری دوست کی امی نے کہا بچی لگتا ھے ڈر گئ ھے مجھے گھر بھیج دیا امی کے ساتھ میں ان کے گھر گئ سارا وقت میں ان کی میت کو دیکھتی رھی کہ وہ ابھی اٹھ کر بیٹھ جائینگے پھر شام کو ان کو لےکر قبرستان گئے میں ساری رات جاگتی رھی اور سوچتی رھی وہ قبر میں کیا کر رھے ھونگے وہ زندہ تھے سب کوبلا رھے ھونگے اگلے دن مجھے بخار ھو گیا دو تین دن مجھے بخار رھا میں نے اپنی چھوٹی پھوپھو سے کہا دادا زندہ تھے  ان کی روح ان میں تھی بڑی پھوپھو نے کہا پتا نہیں کیا باتین کرتی ھے روز نئ کہانی سناتی ھے کسی نے میری بات کو سنجیدگی سے نہین لیا مگر یہ بات بہت عرصے تک میرے ذہن میں رھی اس وقت میری عمر چھ یا سات سال ھوگی پھر کافی عرصے کے بعد پتا چلا بادل بادل ھوتے ھیں روحیں نہیں
اور بھی بہت سے واقعات ھیں مگر اتنا ھی کافی ھے

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: بیتی باتیں

آراء

11 آراء برائے تحرير ”میرا بچپن ایک یاد“

  1. ماوراء بتاريخ August 19، 2009 بوقت 5:43 am

    شکر ہے۔۔آپ نے دیکھ لیا۔ میں دیکھ رہی تھی کہ آپ کے بلاگ پر تحریر پوسٹ نہیں ہوئی۔
    واقعہ بھی بہت اچھا ہے۔ جب انسان کسی چیز کو سمجھ نہیں سکتا تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ واقعہ پڑھتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ آپ کا کہا سچ ہو جائے گا اور دادا زندہ ہو جائیں گے۔ لیکن بعد میں خیال آیا کہ بچپن کا واقعہ لکھا گیا ہے۔

    اچھا۔۔مزید معلومات کے لیے منظر نامہ پر بھی دیکھیے گا۔ اور اپڈیٹ رہنے کے لیے فیس بک پر بھی منظر نامہ کے صفحے پر شامل ہو جائیے۔ لنک منظر نامہ پر ہی دیا ہے۔

    اس کے علاوہ آپ سے یہ کہنا تھا کہ مجھے آپ سے رابطہ کرنے کے لیے آپ کا ای میل ایڈریس چاہیے تھا۔کیا آپ منظر نامہ کے ای میل پر ایک پیغام ای میل کے ساتھ بھیج سکتی ہیں؟ پھر میں آپ سے رابطہ کر لوں گی۔

    شکریہ۔

  2. افتخار اجمل بھوپال بتاريخ August 19، 2009 بوقت 8:38 am

    کسی نے سچ ہی کہا تھا
    ہونہار بروا کے چِکنے چِکنے پات

  3. یاسر عمران مرزا بتاريخ August 19، 2009 بوقت 12:40 pm

    بہت گہرا اثر لیا اپ نے اس بات کا، بعد میں اپ کو بخار ہو جانے کا تو یہی مطلب ہے، میرے خیال سے اپ ڈر گئ تھیں، کیوں کہ موت بڑی خوفناک چیز ہے، اور اگر دیکھنے وال بچہ ہو تو اس بیچارے کے دماغ پر کسی کو مرتا دیکھ کر کتنا اثر ہو گا، ظاہر ہے بہت زیادہ
    بہت شکریہ

  4. کنفیوز کامی بتاريخ August 19، 2009 بوقت 4:55 pm

    کیا ھارر فلم جیسا واقعہ ہے ۔آپ کی تحریریں بتاتی ہیں کہ آپ بچپن میں سادھو مہاراج ہی تھے ۔

  5. ریحان بتاريخ August 19، 2009 بوقت 5:14 pm

    یوم بچپن تو ١٥ سے ١٦ اگست میں تھا ۔۔ یہ تو بڑاپن ہوگیا

    ایک ایسا بچپن ہوتا ہے کہ انسان بڑا ہو کر کہتا ہے ۔۔ ارے وہ تو میرا بچپنا تھا ۔۔ وہ میرا بچپن پن سی ۔۔ یہ ویسا تو نہیں ؟

  6. sadiasaher بتاريخ August 19، 2009 بوقت 11:21 pm

    سلام مارواء

    ویلکم میرے بلاگ پہ ۔۔ شاید پہلی بار تبصرہ کیا ھے آخری بار نہیں ھونا چاھیے –
    بچپن کا زمانہ سب سے اچھا ھوتا ھے مگر اس بات کا تب احساس ھوتا ھے جب بچپن کا زمانہ گزر جاتا ھے اس وقت تو بڑے ھونے کی جلدی ھوتی ھے
    میں منظر نامہ کی ای میل پہ ابھی میسیج کرتی ھوں —

    سلام اور شکریہ اجمل جی

    سلام یاسر

    ڈری تو شاید اتنا نہیں تھی مگر اس بات کی فکر تھی اگر دادا زندہ ھوئے تو سب کو آواز دیں گے اور رات کو قبرستان مٰن ان کی آواز کون سنے گا

    سلام کامی

    کیا ھارر مویز دیکھ کر ڈرتے ھو ؟؟
    بچپن میں سب کہتے ھیں میں بولتی بہت کم تھی سوچتی زیادہ تھی ویسے بہت معصوم سا بچپن تھا

    سلام ریحان

    بچپن میں انسان بہت معصوم شرارتیں کرتے ھے اور حماقتیں بھی —— جب میں واقعہ لکھنے لگی تو بے اختیار یہی یاد آیا کیونکہ یہ واقعہ بہت عرصے تک میرے ذہن میں رھا تھا

  7. DuFFeR - ڈفر بتاريخ August 19، 2009 بوقت 11:25 pm

    بڑی ڈراؤنی یاد ہے جی آپ کی تو
    یہ تحریر پڑھ کر کچھ تسلی ہوئی کہ بلاگ کا قصور نہیں بچپن سے بداثرات کے زیر اثر ہیں :D

  8. sadiasaher بتاريخ August 19، 2009 بوقت 11:32 pm

    سلام ڈفر

    ھاھا ——–

    کسی بھی بلاگ لکھنے والے سے پوچھ لیں کوئ ساڑ نکالنے آتا ھے کسی کی کوئ سنتا نہیں سب لوگ شروع سے ایسے ھی ھوتے ھیں
    سب کو سہنا پڑے گا ھم سب کو

  9. منظرنامہ » ہفتہ بلاگستان ایوارڈ : نامزدگیاں بتاريخ November 2، 2009 بوقت 1:20 am

    [...] میرا بچپن ، ایک یاد از سعدیہ [...]

  10. شاہدہ اکرم بتاريخ November 3، 2009 بوقت 8:30 pm

    زبردست سحر لیکِن کافی دِل ہِلا دینے والا واقعہ تھا

  11. sadiasaher بتاريخ November 4، 2009 بوقت 4:50 pm

    سلام شاہدہ

    لگتا ھے میرے بلاگ پہ پہلی بار تشریف لائیں ھیں ویلکم
    یہ واقعہ بہت عرصے تک میرے ذہن پہ چھایا رھا تھا میں اکثر بیٹھ کر سوچتی تھی دادا اس وقت کیا کر رھے ھونگے اس وقت اتنا نہیں پتا تھا اگر کسی کو زندہ دفنا بھی دیا جائے تو وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو