آپ بھی سوچیں زرا

6، June 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.


ابھی بیٹھے بیٹھے مجھے ایک خیال آیا ھے

فارغ دماغ میں اکثر شیطانی خیال آتے ھیں

مگر یہ خیال اچھا ھے

آپ بھی سوچیں زرا

پاکستان دھشت گردی کا شکار ھے ھر طرف دشمن ھیں حالات قابو میں نہیں آرھے
ایسے میں کیا کرنے چاھیے

سوچیں

دماغ لڑائیں

بہت آسان ھے

پاکستان میں اتنے عامل پیر فقیر ھیں کے کا قابو میں بڑے بڑے جن ھیں
جو بڑے بڑے کام کر سکتے ھیں
حکومت کو چاھیے ان سے کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور ان سے کیہں چلہ کاٹیں جادو کے زور سے
ڈرون طیاروں کے رخ دشمنوں کی طرف موڑ دیں اپنے شاگرد جنوں سے کہیں وہ سب ملک دشمن عناصر کو اٹھا کر ملک سے باھر پھیک آئیں جو عامل محبوب کو قدموں میں ڈال سکتا ھے وہ دھشت گرد کو حکومت کے قدموں میں کیوں نہیں ڈال سکتا جو عامل پتھر دل محبوب کے دل کو موم کر سکتا وہ راکٹوں کو موم کیوں نہیں کر سکتا

اگر وہ یہ سب نہیں کر سکتے تو حکومت کو چاھیے ان کے ٹھکانوں کو بند کر دے

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: طنزومزاح

آراء

9 آراء برائے تحرير ”آپ بھی سوچیں زرا“

  1. مسٹر کنفیوز بتاريخ June 6، 2009 بوقت 3:36 am

    سعدیہ لگتا ہے آپ ڈفر کے بلاگ سے آ رہی ہیں اسی کا اثر ہے ۔
    باقی اگر ان عاملوں کے پاس واقعی جن ہوتے تو سب سے پہلے یہ اپنا فائدہ سوچتے صبح سے شام تک یہ دوکان داری نہ کرتے ۔
    فرض کرو اگر کسی کے پاس جن ہوں تو میں‌کہوں گا کہ ہمارا قبلہ اول اور کشمیر آزاد کروا دو باقی بعد میں ۔۔

  2. عبداللہ بتاريخ June 6، 2009 بوقت 5:03 am

    ہم سب کام حکومت پر ڈال دیتے ہیں یہ اڈے تو اگر علاقے کے لوگ چاہیں تو دنوں میں بند ہو سکتے ہیں،مگر مسلہ تو عوام کا ہی ہے جہالت جو نہ کروائے وہ کم ہے ،
    جو شہ رگ سے نذدیک ہے کہ جس کے نبی نے کہا کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے یا ایک چٹکی نمک بھی مانگنا ہو تو صرف اپنے رب سے مانگو اس کی امت کن خرافات میں پڑی ہے وہی مسلہ جہالت،نام کا مسلمان ہونا،

  3. جعفر بتاريخ June 6، 2009 بوقت 10:26 am

    ہاہاہاہا۔۔۔
    ٹھیک لکھا ہے آپ نے
    لیکن ان لوگوں کے پاس جو جن ہوتے ہیں وہ شاید اس جن کی طرح ہوں جو ایک آدمی کے تربوز کاٹنے پر اندر سے برآمد ہوا تھا۔۔
    اس آدمی سے کہا ”کیا حکم ہے میرے آقا“
    بندہ کہنے لگا۔۔۔ یار ایک محل بنادو میرے لئے
    تس پر جن نے کہا ”اگر محل بنا سکتا تو خود تربوز میں رہتا؟؟“

  4. تانیہ رحمان بتاريخ June 6، 2009 بوقت 8:58 pm

    سعدیہ یہ پیر فقیر ایسے میں اپنا بورڈ اٹھائے پل کے نیچھے بیٹھ جاتے ہیں ۔ تاکہ محفوظ رہ سکیں ۔ اب سب پیر فقیروں نے یہ پڑھا لیا تو مجھے لگتا ہے ۔ پڑوسی ملک نا چلے جاہیں۔میں تو یہ سوچ سوچ کر حیران ہو رہی ہوں

  5. غفران بتاريخ June 7، 2009 بوقت 3:07 pm

    اجی پیروں فقیروں کا دنیا سے کیا لینا دینا ۔

    مست رہے مستی میں ٓاگ لگے بستی میں۔

  6. sadiasaher بتاريخ June 7، 2009 بوقت 9:48 pm

    سلام مسٹر کنفیوز

    ڈفر کا بلاگ نہیں دیکھا کیا ان کے پاس اتنے عظیم آئیڈیاز ھو تے ھیں ؟؟؟ ابھی چیک کرتی ھوں

    سلام عبداللہ

    ھم کہتے ھیں اللہ ایک ھے ھم بتوں کو نہیں پوجتے مگر ھزار بت بنائے ھوئے ھیں

    سلام جعفر

    صحیح کہا جو لوگ اپنی قسمت کا حال نہیں جانتے وہ دوسروں کی قسمت نا صرف حال بتاتے ھیں بلکہ قسمت بدلنے کا دعویٰ بھی کرتے ھیں

  7. sadiasaher بتاريخ June 7، 2009 بوقت 9:51 pm

    سلام تانیہ

    سب پڑوسی ملک نہیں جائینگے انگلینڈ آجائیں گے یہاں پونڈز ملتے ھیں بہت مانگ ھے ان لوگوں کی

    سلام غفران

    حالات کیسے بھی ھوں ان لوگوں کو کوئ فرق نہیں پڑتا ان کا کام کم نہیں ھوتا چلتا رھتا ھے

  8. zulfiqarahmedkhan بتاريخ June 20، 2009 بوقت 10:07 am

    پاکستان کے تقریبآ ہر شہر مٰیں فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہوئے “عامل پروفیسر صاحب” ان گنت ہیں۔ اللہ ہی بچائے ان سے۔

  9. جون 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ بتاريخ July 4، 2009 بوقت 1:29 pm

    [...] لیکن دیکھئے، سعدیہ سحر کے دماغ میں کیا بات آئی ہے۔ ’آپ بھی سوچیں ذرا‘ کے عنوان سے لکھتی [...]

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو