میں اپنی ذات کا کبھی اظہار نہیں کرتی

3، February 2009 کو sadiasaher نے شائع کيا.

میں اپنی ذات کا کبھی اظہار نہیں کرتی
شاید میں خود سے بھی پیار نہیں کرتی

کیا کھویا کیا پایا چھوڑو اب اس کو
میں تقدیر سے کبھی تکرار نہیں کرتی

دنیا کی عدالت میں خاموش رھتی ھوں
میں لفظوں سے کسی کو سنسار نہیں کرتی

اپنے جذبوں کو چھپا رکھا ھے تہہ دل میں
میں اپنے جذبوں کا بیوپار نہیں کرتی

ھاتھوں کی لکیروں میں کیا لکھا سوچا نہیں
میں اب ان باتوں پر اعتبار نہیں کرتی

زندگی کا سفر گزر رھا ھے دھیرے دھیرے
میں دن مہینوں کا شمار نہیں کرتی

نہ دنیا سے شکوہ نہ کسی سے شکایت ھے
میں کسی سے بھی گلہ سرکار نہیں کرتی

Share and Enjoy:
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
Share This Post

موضوع: poetry

آراء

10 آراء برائے تحرير ”میں اپنی ذات کا کبھی اظہار نہیں کرتی“

  1. tanyarehman بتاريخ February 4، 2009 بوقت 11:17 pm

    بہت خوبصورت لکھا ھے اب مجھے یقین ہو گیا تم بہت اچھی شاعری کر لیتی ہو ۔ اس کے بعد کون سا بورڈ آئے گا

  2. sadiasaher بتاريخ February 4، 2009 بوقت 11:26 pm

    بہت بہت شکریہ تانیہ ایک تمہارے آسرے پہ شاعری کرتی ھوں ورنہ کچھ شاعر ھمیں شاعر نہیں مانتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کے بعد کون سا بورڈ آئے گا۔۔۔۔۔ ہاہا ۔۔۔۔ آج سب چیک کیے ھیں مجھے دھمیے دھمیے رنگ اچھے لگتے ھیں آج یہ کیا کل دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. tanyarehman بتاريخ February 5، 2009 بوقت 3:29 am

    بس بچی شاعری کرتی جاو ۔ کسی نے نا بھی مانا میں ہوں نا ۔جب کتاب چھپے گی تو ایک تمھاری اور ایک میری ، اللہ زور قلم اور زیادہ

  4. sadiasaher بتاريخ February 5، 2009 بوقت 5:24 pm

    تانیہ دو کتابیں کس لیے مجھے لگتا ھے ایک ھی کتاب چھاپوانی پڑے گی اپنے لیے تم نے کہنا ھے نیٹ پہ بھی تمہاری شاعری میں پڑھتی تھی اب کتاب بھی میں پڑھوں

  5. tanyarehman بتاريخ February 5، 2009 بوقت 11:32 pm

    تو پھر سعدیہ ایک کتاب بھی رہنے دو ، مجھے سوچ کر ھی تکلیف ہو رہی ہے

  6. ڈفر بتاريخ February 18، 2009 بوقت 11:53 am

    اچھا لکھتی ہیں آپ
    یہ نظم بہت اچھی ہے
    اگر کتاب کے لیے پہلے سے رجسٹریشن ہو رہی ہے تو میرا نام بھ فہرست میں شامل کر لیں

  7. sadiasaher بتاريخ February 18، 2009 بوقت 4:56 pm

    سلام ڈفر
    ولکم میرے بلاگ پہ ۔ شکریہ تعریف کا ۔ آپ کو کتاب چاھیے لگتا ھے اب کتاب چھاپوانی پڑے گی
    تانیہ تم نے دل توڑ دیا تھا ۔۔۔

  8. تانیہ رحمان بتاريخ February 24، 2009 بوقت 11:26 pm

    ارے سعدیہ دل کہاں توڑا ھے تم نے کہا تھا کہ ایک کتاب تومیں نے جوابَ کہا کہ ایک بھی رہنے دو ۔ اپنے لیے کیا کرتی ہو کتاب چھپوا کر۔ڈفر کا نام سروق پر ہونا چاہے ،

  9. sadiasaher بتاريخ February 26، 2009 بوقت 11:12 pm

    تانیہ دل توڑنا اور کس کو کہتے ھیں ؟؟؟ دل توڑا ھے اور بہت بے دردی سے توڑا ھے بلکہ ٹوٹے ٹوٹے کر دیا ھے

  10. تانیہ رحمان بتاريخ March 4، 2009 بوقت 12:30 am

    اچھا وہ تمھارا دل تھا ،جس کی آواز دور دور تک سنائی دی ۔ اور پھر غزلبھی کہی گئی اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوے ۔ کچھ یہاں گرے کچھ وہاں گرے۔ اگر توٹے جمح کرنے میں دشواری ہو تو بتا دنیا مدد کو آجاوں گی آخر کار دوست کس کام آہیں گے

اپني رائے ديجيے


Englishاردو



Englishاردو