سوال اب بھی وہی ھے
February 5، 2010 کو sadiasaher نے کالم کے تحت شائع کيا.
عافیہ صدیقی مجرم قرار پائ کیا یہ پہلے سے طے نہیں تھا یا لوگوں نے کچھ اور سوچا ھوا تھا کہ فیصلہ سے سے ھٹ کر ھوگا اگر کسی نے ایسا سوچا ھوگا تو وہ کافی خوش فہم ھوگا جب سے مقدمہ عدالت میں آیا میڈیا کے سامنے وہ ھی آتا رھا جتنا امریکی حکومت چاھتی تھی
مسلمان ھونے والی برطانیوی صحافی خاتون ریڈلی کے بیان کے بعد میڈیا میں طوفان آیا تھا وہ قیدی نمبر 650 کون ھے ممکن ھے وہ عافیہ صدیقی ھے جو عرصہ دراز سے لاپتہ ھے جب یہ سوال ھر طرف گونجنے لگا تو ایک دم عافیہ صدیقی میڈیا سے سامنے ایک مجرم کی صورت میں آئیں امریکی عدالت میں اس بات پہ بحث نہیں ھوئ وہ اتنے سال کہاں رھی اس سے عدالت کو کوئ غرض نہیں کیونکہ وہ پاکستانی شہری ھے وہ کہیں بھی آجا سکتی ھے امریکی عدالت صرف اس بات کا جواب چاھتی تھی عافیہ نے فوجیوں پہ حملہ کیا یا نہیں جس کو کسی نہ کسی طرح ثابت کیا گیا وہ مجرم ھے
چلیں مان لیا عافیہ صدیقی مجرم ھے مگر سوال پھر وہی ھے
اگر عافیہ صدیقی قیدی نمبر 650 نہیں تو وہ کون تھی اب کہاں ھے اور کس حال میں ھے وہ کوئ مسلمان ھے کوئ امریکن عورت نہیں ھو سکتی اس کا جرم کیا ھے زندہ ھے تو اسے اب تک میڈیا کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا
اگر عافیہ صدیقی پیچھلے سال افغانستان گئ تھی تو وہ اتنے سال اپنے بچوں سمیت کہاں تھی ایک دم وہ فوجی اڈے پہ آسمان سے نازل ھوئ تھی یا زمین سے نکلی تھی عدالت نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا مگر سوال ابھی تک ویہں ھے اس کا جواب کون دے گا
یہ عرب ھمارے کعبہ و قبلہ کے رکھوالے
January 28، 2010 کو sadiasaher نے کالم کے تحت شائع کيا.
میں ابھی کچھ لکھنا نہیں چاہ رھی تھی ابھی ایک خبر پڑھی جس نے مجھے لکھنے پہ مجبور کر دیا عرب جن کے لیے ھمارے دل میں بہت عزت ھے وہ ھمارے کعبہ و قبلہ کے رکھوالے ھیں یہ اس سر زمین پہ رھتے ھیں جہاں سرورِ کائنات ھمارے نبی نے جنم لیا اپنی زندگی بسر کی ان پہ نور برسا جس سے ساری دنیا منور ھوئ قرآن نازل ھوا جو رھتی دنیا تک سب کے لیے ھدایت کا سر چشمہ ھے وہ کعبہ اس پاک سر زمین پہ ھے جس کی طرف منہ کر کے دنیا کے مسلمان نماز پڑھتے ھیں دعائیں کرتے ھیں اپنی رھنمائ کے لیے آج بھی مسلمان عرب کے مفتیوں کی طرف دیکھتے ھیں ان کی رائے کا احترام کیا جاتا ھے
اونٹ صحرا میں سواری کا بہترین زریعہ ھے عرب شیخ اعلیٰ نسل کے اونٹ پالتے ھیں ان کی دوڑیں لگواتے ھیں جس میں بڑے عزت دار شہزادے حصہ لیتے ھیں اور لطف اندوز ھوتے ھیں اونٹوں کی ریس کوئ ایسا قبیح فعل نہیں مگر کیا آپ جانتے ھیں اونٹوں کو تیز بھگانے کے لیے کیا کیا جاتا ھے اونٹوں پہ تین چار سال کے چھوٹے چھوٹے باندھ دیئے جاتے ھیں اونٹ بھاگتے ھیں بچہ ڈر کر چینختا ھے بچے کی چینخیں سن کر اونٹ اور تیز بھاگتا ھے جسے دیکھ کر شہزادے نعرے لگاتے ھیں کبھی کبھی بھاگتے ھوئے اونٹ سے بچہ گر جاتا ھے مگر کھیل نہیں رکتا بچہ پیچھے آنے والے اونٹوں کے قدموں تلے روندھا جاتا ھے مگر خوشیوں بھرے نعرے جاری رھتے ھیں جام چلتے رھتے ھیں
ریس ختم ھو جانے کے بعد بہت سے بچے خوف سے اپنا ذہنی توازن کھو دیتے ھیں نقصان کس کا ھوتا ھے یہ بچے کس کے ھوتے ھیں ان کے وارث کہاں کے رہنے والے ھیں کیا یہ عرب کے بچے ھیں ان کا مستقبل ھیں نہیں یہ دنیا کے واحد مسلم ایٹمی طاقت کے بچے ھیں جو عرب ممالک میں اسمگل ھوتے ھیں یہ نہیں کہ عرب شیخ بے حس ھوتے ھیں انھیں ان بچوں کی جانوں کا احساس نہیں ھوتا وہ جانتے ھیں انسانی جان کی کیا قیمت ھے اور پاکستانی بھوک سے مرنے والے بچوں کی کیا قیمت ھونی چاھیے وہ پوری قیمت ادا کر رھے ھیں
زرا اس خبر پہ نظر ڈالیں یو اے ای کی حکومت نے اپنے ملک میں اونٹ دوڑ میں استعمال۔۔ ہونے والے کم سن پاکستانی بچوں کی تلافی کی خاطر حکومت پاکستان کو چودہ لاکھ ڈالر دیئے۔ یہ بات جمعہ کو وزیرداخلہ نے پاکستان میں تعینات اس ملک کے سفیر کیساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کو بتائیوزیر داخلہ نے اسی ملک کے صدر اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انکے اس اقدام سے پاکستان کے غریب عوام کی جن کے بچے اونٹ دوڑ میں’’استعمال‘‘ ہوئے دلجوئی ہو گی اور اچھے جذبات پیدا ہوں گے‘‘۔
اس خبر میں دکھ والی کیا بات ھے اگر ان میں سے کوئ بچہ ڈاکٹر عبدالقدیر بن سکتا تھا مگر بن کر بھی کیا کرنا تھا اپنے ھی ملک میں قیدی کی زندگی بسر کرنی تھی اگر فوج میں جاتا تو اپنے ھی ملک میں جنگ کرتے ھوئے شہید ھو جاتا یا اپنی زندگی کے ایک بڑا حصہ پڑھنے میں گزارتا لوڈ شیڈینگ اور دھشت گردی سے فیکٹریاں اور کام بند ھا جانے سے نوکری نہ ملتی جگہ جگہ دھکے کھاتا زندگی سے مایوس ھو کر یا تو ھتیار اٹھا لیتا یا خود کشی کر لیتا چلو اچھا ھوا اتنی تکلیفیں سہنے کے بجائے بچپن میں ھی اس دنیا سے چلے گئے جاتے جاتے چودہ کروڑ ڈالر دے گئے یہ کوئ ایسا کھاٹے کا سودا نہیں ھے
یہ کافر لوگ زمین سے خزانے ڈھونڈ رھے ھیں اسمانوں میں نئ زندگی تلاش کر رھے ھیں بیماریوں کو شکست دینے کے لیے تحقیق کر رھے ھیں ھر گزرنے والے دن میں اپنی طاقت بڑھا رھے ھیں اور مسلم ممالک میں اونٹوں کی دوڑ ھو رھی ھے باز پالے جا رھے ھیں کہیں مرغے لڑائے جا رھے ھیں کہیں کتوں اور ریچھوں کی لڑ ائ ھورھی ھے کہیں کبوتر بازی کی جا رھی ھے
تف ھے ایسے مسلمانوں پہ جو اپنا دل بہلانے انسانی زندگیوں سے کھیل جاتے ھیں
تف ھے ایسے حکمرانوں پہ جو پیسوں کے لیے اپنے ملک کے مسقتبل سودا کرتے ھیں
میں پاکستان سے دور خوش ھوں
January 25، 2010 کو sadiasaher نے idhar udhar se، بیتی باتیں کے تحت شائع کيا.
میرے چچا پاکستان سے آئے انھوں نے رات ساڑھے بارہ بجے فون کیا وہ کافی دیر سے ھمارا گھر ڈھونڈ رھے ھیں مگر ھمارے گھر کیسے پہنچنا ھے سمجھ نہیں آرھا ھمارا گھر جس سڑک پہ ھے اس کے ایک کونے پہ اولڈ ھوم ھے اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا پارک اور جھیل ھے اس کے قریب ھی فٹبال کا میدان اور اسکول ھے اس کے ساتھ سائیکل کے لیے ٹریک بنا ھوا ھے جو کھیتوں سے ھوتا ھوا ساتھ کی شہر تک جاتا ھے سارا دن بوڑھے لوگوں اسکول کے بچوں سائیکل چلانے والوں کا گزر رھتا ھے گرمیوں میں پارک جانے والے چھوٹے بچوں کے ساتھ آتے جاتے نظر آتے ھیں اس لیے یہاں پہ کسی بھی طرح کی گاڑیوں کا داخلہ منع کر دیا گیا ھے پہلے موٹر سائیکلوں کی اجازت تھی اب حادثے کے خطرے کے پیش نظر موٹر سائیکلوں کا بھی داخلہ بھی منع کر دیا گیا ھے
نئے آنے والوں کو کبھی کبھی مشکل ھوتی ھے گھر تک آنے کے رستے کی سمجھ نہیں آتی ابھی یہ نئ آبادی ھے نیوی گیشن میں بھی سب سڑکیں نہیں ھیں میں نے اپنے چچا سے کہا وہ جہاں ھیں وہیں رکیں میں دو منٹ میں پہنچ رھی ھوں گاڑی پارک کروا کر میں انھیں لے کر گھر اگئ وہ حیرت زدہ تھے ادھی رات کو میں کیسے بے ڈھرک گھر سے نکل گئ مجھے ڈر نہیں لگا پاکستان میں کوئ لڑکی ھو یا بوڑھی عورت ایسے آدھی رات کو گھر سے نہین نکل سکتی وہ جتنی دیر بھی رھے اسی بات کا زکر کرتے رھے انھیں یہاں کی یہ بات بہت پسند آئ ھے
پاکستان میں پیچھلے دو تین دنوں میں زیادتی تین مختلف واقعات لاھور گجرات اور خانیوال میں ھوئے ھیں میں زیادہ کچھ نہیں کہہ رھی اگر میں نے کچھ کہا تو شکایت ھوگی میں ھمیشہ ایسا کیوں لکھتی ھوں میں ایک ایسے ملک میں رھتی ھوں جہاں لوگ مذھب یا تو مانتے نہیں ھیں اگر مانتے بھی ھیں تو بس اتنا کرسمس پہ دس پندرہ منٹ کے لیے چرچ چلے گئے — جہاں شرم و حیا کا کوئ تصور نہیں یہاں شراب پہ کوئ پابندی نہیں ان کے مذھب میں صفائ کو نصف ایمان کا درجہ نہیں دیا گیا جب یہاں میں قانون کی پاسداری دیکھتی ھوں صفائ دیکھتی ھوں مجھے سڑکوں پہ بھکاریوں کے ھجوم نظر نہیں آتے کوئ بھوکا نہیں مرتا انصاف کے نام پہ لوگوں کو لوٹا نہیں جاتا اشیائے خوردنی میں ملاوٹ نہیں ھوتی کوئ ماں بھوک سے تنگ آکر اپنے بچوں کو برائے فروخت کے لیے کھڑا نہیں کرتی یہ سب دیکھ کر جب پاکستان سے موازنہ کرتی ھوں تو دکھ ھوتا ھے یہ سب پاکستان میں کیوں نہیں ھوتا پاکستان ایک اسلامی ملک ھے جہاں کھلاڑیوں سے لے کر سنگرز تک لوگ داڑھیوں میں نظر آتے ھیں ھر کوئ اسلام کا نعرہ بلند کرتے نظر اتا ھے مگر اسلام نظر نہیں آتا
مگر میں کیوں دل جلا رھی ھوں میں تو سکون میں ھوں مجھے تو ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑرھا
جن خواتین کے ساتھ زیادتی ھو رھی ھے وہ خود اپنے لیے آواز اٹھائینگی
سڑکوں پہ پھیلے ھوئے گند سے بیماریاں پھیل رھی ھیں میں تو اس ماحول سے دور ھوں
لوگ بھوک سے مر رھے ھیں مگر مجھے تو پیٹ بھر کے کھانے کو ملتا ھے
انسان کو اپنی زندگی جینا چاھیے دوسروں کے غم میں گھولنے سے کچھ نہیں ھوتا
اپنی خوشیوںمیں مگن رھنا چاھیے مسلمان کچھ بھی کریں آنکھیں بند رکھنی چاھیے
کچھ بولو تو اسلام کا نام بدنام ھوتا ھے
مشرقی مرد —- تسی گریٹ ھو —— برائے مہربانی یہ بلاگ ٹھنڈا پانی پی کر پڑھیں
January 19، 2010 کو sadiasaher نے idhar udhar se کے تحت شائع کيا.
ھمارے مشرق میں بہت بار اس لیے مرد دوسری شادی کرتے ھیں کہ بیٹا نہیں ھوا کبھی اس بات پہ طلاق ھو جاتی ھے کہ بیٹیاں ھی بیٹیاں پیدا ھوری ھیں جب بیٹا پیدا ھوتا ھے تو ایسے خوشیاں منائ جاتی ھیں جیسے کسی ریاست کا وارث پیدا ھو گیا ھو
جب زرا بڑا ھوتا ھے تو اچھا کھانے کا حق دار بیٹی سے پہلے بنتا ھے اچھے اسکول میں داخلہ کروایا جاتا ھے اس لیے کہ وہ بڑھاپے کا سہارا بنے گا بیٹی اگر لائق اور محنتی بھی ھو تو اسے مذید پڑھنے نہیں دیا جاتا کیونکہ گھر کے اخراجات اجازت نہیں دیتے مگر بیٹا مر مر کے بھی پاس ھو تو کچھ نہیں کہا جاتا بیٹی پہ ھزار پابندیاں لگائ جاتی ھیں اس کی عزت کا معاملہ بہت نازک ھوتا ھے مرد کو ھزار گناہ معاف ھیں ایسے ماحول میں پلنے والے مردوں کے پاس مان کرنے کے لیے صرف یہی ایک بات ھوتی ھے کہ وہ مرد ھے ایسے مرد نہ اچھے بیٹے ثابت ھوتے ھیں نہ اچھے شوھر— معاشرے کی ھر عورت انھیں کمتر لگتی ھے اور اپنا زیادہ وقت وہ اسی بات کو ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ھیں
ان کے خیال میں ماں کا کام ھے ھر خواہش پوری کرے صدقے واری جائے بہن اس پہ قربان ھو بیوی کی صورت میں ایک بے دام غلام چاھیے — عورت کا کام ھے ھر حکم سنے اور اس کی تعمیل کرے اگر کبھی پلٹ کے جواب دے تو یہ مرد سے برداشت نہیں ھوتا عورت ھو کر مرد سے زبان چلاتی ھے کسی شعبے عورت اگو بڑھ جائے تو مرد کی مردانگی خطرے میں پڑ جاتی ھے
عورت گھر سے باھر نکلے تو مرد حضرات ایسے دیکھتے ھیں جیسے پہلی بار کوئ خلائ مخلوق دھرتی پہ آئ ھے بس اسٹاپ پہ وینوں میں خواتیں ایسے بیٹھی ھوتیں ھیں جیسے انسانوں میں نہیں جنگلی بھیڑیوں میں گھری ھوئ ھیں آتے جاتے ترچھی نظروں سے دیکھنا سیٹی بجانا خوامخواہ میں ھنسنا مردانگی کی نشانی ھے
چاھے کوئ دعا کوئ حدیث یاد ھو یا نہ ھو مگر سب گھٹیا گانے ازبر ھوتے ھیں جسے سرعام گنگنا کر اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا ھیرو سمجھتے ھیں دفتروں میں عورت پہ خاص نظرِکرم کی جاتی ھے اسے ھراساں کیا جاتا ھے عورت کے حسن سے متاثر ھو کر اسے لیلیٰ اور خود کو مجنوں سمجھنے لگتے ھیں عورت کے نظر انداز کرنے پہ اس کے اس گناہ کے جرم میں تیزاب پھینکا جاتا ھے ایسے بہت سے واقعات کی اخبارات کے صفات ھر سال رنگین ھوتے ھیں بیوی اگر غلط کو غلط کہے تو اس کے ناک کان کاٹ کر مرد اپنی عظمت ثابت کرتا ھے ایسے بہت سے کام کرنے کے بعد بھی یہ مان نہیں جاتا کہ نبوت کے حقدار مرد ھیں
بھائیوں کروڑوں لوگوں سے اللہ ایک انسان کو نبوت کے لیے چنتا ھے کسی قوم میں اگر ایک نبی بنتا ھے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساری قوم قابل ِ احترام ھوگئ انسان کے کرم اسے عظیم بناتے ھیں مرد حضرات جتنی تحقیق اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کرتے ھیں کہ ان کا رتبا بڑا ھے اتنا اگر کائنات کے رازوں کو سمجھنے کے لیے کیا ھوتا چاند ستاروں سے آگے نکل گئے ھوتے مگر حسرت ———
حضرات سارے خطابات القابات آپ لے لیں دنیا کے جتنے ایوارڈ جتنے بھی تمغے ھیں آپ لے لیں مگر خدا کے لیے اپنی صلاحیتوں کو اپنے وقت کو کسی اچھے مقصد کے لیے استعمال کریں اگر نبوت کے حقدار مرد ھیں تو آپ وہ مرد نہیں جسے بنوت ملے پہلے اپنے آپ کو اس قابل بنائیں
اگر شوھر کی تا بداری کو اللہ کے بعد کہا گیا ھے تو اللہ کے بعد ماں کو کہا گیا ھے فضول کی بحث سے کسی کا رتبہ بڑھ نہیں جاتا
عورت کبھی نہیں کہتی وہ عظیم ھے وہ صرف چاھتی ھے اسے ایک انسان سمجھا جائے ایک عام انسان جسے اللہ نے دل دماغ دیا ھے اس کے اپنے احساسات ھیں جذبات ھیں اسے بھی اللہ نے صلاحتوں سے نوازا ھے جیسے استعمال کرنے سے اللہ نے نہیں روکا وہ اپنا حق چاھتی ھے جو ایک انسان ھونے کے حوالے سے اس کے ھیں
عورت کبر کا شکار ھو یا نہ ھو مگرکسی عورت کو مقابلے پہ آتا دیکھ کر بہت سے مرد احساسِ کمتری کا شکار ضرور ھو جاتے ھیں اسے نیچا دیکھانے کی بے کار کوشش کرتے ھیں قرآن و حدیث کے حوالے ڈ ھونڈے لگ جاتے ھیں
میری سمجھ میں نہیں آتا یہ مشرقی مرد اندر سے اتنے ڈرے ھوئے کمزور اور خوف زدہ کیوں ھوتے ھیں انھیں کس بات کا احساسِ کمتری ھوتا ھے
ان کی مردانگی کیا ھوتی ھے ؟؟
گھٹیا حرکتیں کرنا مردانگی ھے ؟؟
عورت پہ ظلم کرنا مردانگی ھے ؟؟
اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھنا ان کی مردانگی ھے ؟؟
عورت کو کمتر سمجھنا مردانگی ھے ؟؟
اگر کسی کے پاس جواب ھے تو ضرور دیں آخر آپ نے اپنی بڑائ بھی تو ثابت کرنی ھے
سب الو کے پٹھے ھیں
January 15، 2010 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.
اس لفظ کو میں برا سمجھتی تھی سمجھتی تھی یہ ایک گالی ھے مگر پیچھلے کچھ دنوں یہ لفظ اتنے تواتر سے سننے کو ملا تو احساس ھوا یہ تو عام بول چال میں استعمال ھونے والا لفظ ھے اسے ھم عام استعمال کر سکتے ھیں
ھمارے ایک محترم وزیر نے اس لفظ کے ساتھ ایک نہایت ھی نادر لفظ جو میں یہاں لکھنے سے قاصر ھوں کیمرے کے سامنے بولا جو پاکستان کے کروڑہا لوگوں نے سنا بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں ٹی وی اور نیٹ پہ سنا – انھوں نے کیمرے کے سامنے اپنا مقام اور اصلیت دنیا والوں کو بتا دی
انٹر ویو دیکھ کر مجھے احساس ھوا یہ منتخب ھونے والے الو کے پٹھے ھیں ان کو منتخب کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
کراچی میں بسنے والے الو کے پٹھے ھیں
جو کراچی میں نہیں بستے وہ بھی الو کے پٹھے ھیں
ڈرون حملے کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
ان حملوں میں مرنے والے الو کے پٹھے ھیں
چینی مہنگی کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
اور اتنی مہنگی چینی کے لیے مرنے والے لائینوں میں لگنے والے الو کے پٹھے ھیں
ملک کی دولت کو لوٹنے والے الو کے پٹھے ھیں
ان کو آزاد چھوڑنے والے الو کے پٹھے ھیں
برس ہا برسوں سے جھوٹے وعدے کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
ان کے جھوٹے وعدے سن کر نعرے لگانے والے الو کے پٹھے ھیں
عوام کو دھوکہ دینے والے الو کے پٹھے ھیں
بار بار دھوکہ کھانے والے الو کے پٹھے ھیں
عوام کی غربت دکھا کر دنیا سے بھیک مانگنے والے لوگوں کی عزتِ نفس کا سودا کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
سب کچھ دیکھتے ھوئے سمجھتے ھوئے نظر انداز کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
پاکستان کی معشیت پہ قبضہ کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
اپنے ھی لوگوں کو غائب کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
ایسے واقعات پہ خاموش ھونے والے صبر کرنے والے الو کے پٹھے ھیں
ملک میں ھونے والے ھر واقعے کو طالبان کے کھاتے میں ڈالنے والے الو کے پٹھے ھیں
ان دھشت گردوں کی سائیڈ لینے والے الو کے پٹھے ھیں
سپر پاروز کی ھر بات پہ سر ہلانے الو کے پٹھے ھیں
ان کی مخالفت میں اپنی ھی ملکی املاک تباہ کرنے والے جلانے والے الو کے پٹھے ھیں
بار بار پارٹی بدلے والے جھوٹے سپنے دیکھانے والے الو کے پٹھے ھیں
ان کو منتخب کرنے والے اٹھارہ کروڑ زندہ لاشیں یہ سب بھی الو کے پٹھے ھیں
نیٹ— بلاگ اور میری فرینڈز
January 14، 2010 کو sadiasaher نے idhar udhar se، میری کہانیاں کے تحت شائع کيا.
مجھے ایک سال ھو گیا بلاگ لکھتے ھوئے – وقت کتنی جلدی گزر جاتا ھے ایسے لگتا ھے جیسے ابھی کل کی بات ھے میں بلاگ بنانے کا سوچ رھی تھی – بلاگ پہ کبھی باقاعدہ لکھا کبھی نظر انداز کیا اج کل کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں کر رھا وہی سیاست وہی سیاست دان وہی ان کے بیان – دھماکہ ھوتا ھے تو بیان آتا ھے جمہوریت کو کوئ خطرہ نہیں پرا ملک خطروں میں گھرا ھوا ھے – لوگ بھوک سے مر رھے ھیں اور بیان آتا ھے ھم پانچ سال پورے کریں گے ھماری حکومت کو کوئ نہیں گرا سکتا ھم آنکھیں نوچ لینگے بھائ لوگ بھوک سے گر رھے ھیں مر رھے ھیں دشمن گھر تک آچکا ھے آپ انکھیں کب نکالیں گے
میں نے آج سیاست پہ کچھ نہیں لکھنا تھا بلاگ کے ایک سال پورا ھونے کی خوشی پہ مین نے سوچا تھا کسی منحوس انسان کا ذکر نہیں کرنا خیر میری دوست ” م ” نے خوشخبری سنائ ھے جنت میں سیاست دان نہیں ھونگے یہ عذاب صرف دنیا کے لیے ھے
مجھے کچھ دنوں سے اپنی نیٹ فرینڈز بہت یاد آرھی ھیں جن کے ساتھ میں نے بہت سا وقت ھنستے مسکراتے ھوئے اکٹھے گزارا نیٹ پہ میری بہت سے فرینڈز بنی ان سب کے نام ایک گیت کر رھی ھوں مجھے بہت اچھا لگا تھا یہ میری سب دوستوں کے نام ھے — میری کچھ دوستوں کا خیال ھے میں بے وفا ھوں بے مروت ھوں ایسی بات نہیں بس تھوڑی سی سست ھوں اور اپنی لازوال سستی کی وجہ سے اپنے کام ھی نہیں اپنا غصہ محبت اور نفرت پہ کل پہ ٹال دیتی ھوں پھر ھوتا یہ ھے کہ غصہ ٹھنڈا ھوجاتا ھے نفرت کم ھو جاتی ھے اور محبتوں پہ بھی دھند چھا جاتی ھے
تانیہ سید نے مجھ سے کہا میں اس کے بارے میں کچھ لکھوں اس کی تعریف کروں اور سچ لکھوں – دو ھفتے میں یہ ھی سوچتی رھی سچ بھی کہوں اور تعریف بھی کروں میں دو کام ایک وقت میں کیسے کر سکتی ھوں —– ھاھا مگر یہ سچ ھے تانیہ میری بہت اچھی دوست ھے اس سے ملاقات نیٹ پہ ھی ھوئ اور وہ مجھے اپنی چھوٹی بہن جیسے عزیز ھے ھم جب بھی اکٹھے آن لائن ھوتے ھیں بہت ھنستے ھیں اور وہ بہت اچھی سنگر ھے “”" یہ تعریف ھے اور سچ آہم آہم
میں وہ کس طرح سے کروں بیان جو کیے گئے ھیں ستم یہاں دیکھنے والی وڈیو ھے
January 7، 2010 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.
باکمال سیاست دان——- سلمان تاثیر
January 6، 2010 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.
سلمان تاثر کے گورنر بننے پہ میڈیا میں ھلچل مچ گئ ان کی ذات پہ تبصرے کیے گئے تجزیہ کاروں کے درجنوں پروگرام کیے مختلف پروگراموں میں ان کو سنا ان کے بیانات سن کے بے اختیار چہرے پہ مسکرائٹ آجاتی ھے ایسے ایسے بیانات دیتے ھیں عقل حیران بلکہ پریشان رہ جاتی ھے ھر بیان میں بارہ مسالے ھوتے ھیں پہلے میں انھیں مشرف کا وفادار سمجھتی تھی حکومت بدلتے ھی وہ زرداری کے مرید بن گئے شریف برادران انھیں ایک آنکھ بھاتے ھیں یعنی ایک آنکھ نہیں بھاتے
آنے والے دنوں میں کیا ھوگا کیا ھونا چاھیے وہ ھر بات پورے یقین سے کہتے ھیں ایسی ایسی پیشگوئیاں کرتے ھیں جس کی مثال ملنا مشکل ھے ابھی ایک بیان پڑھا پڑھ کر یقین ھو گیا وہ ایک بہت بڑے نجومی ھیں انھوں نے بیان دیا ھے تیسری بار زویرِ اعظم بننے کی ضرورت تب پیش آئے گی جب کسی اور کی باری آئے گی ابھی گیلانی پانچ سال کے لیے مذید وزیرِاعظم بنے گے پھر تین بار بلاول وزیرِاعظم بنے گے تب تک اب جو امیدوار ھیں بوڑھے ھو جائینگے
چلیں جی اگلے بیس سال کا فیصلہ ھو گیا پاکستان کی سیاست مین کیا ھوگا آئندہ بیس سال تک پی پی پی کی حکومت رھے گی اور غالباً اب کو یقین ھے وہ گورنر رھے گے باقی سیاسی پارٹیوں کو چاھیے کوئ اور کام ڈھونڈ لیں جو سیاست میں آنے کا سوچ رھے ھیں وہ آکر کیا کریں گے سٹیں بک ھو چکی ھیں
اب پتا چلا مشرف کے لاڈلے کو گورنری کیوں عطا کی گئ تھی ایسے چاھنے والے ایسی اندھی محبت کرنے والے کہاں ملتے ھیں چمچے تو ھزار ھونگے مگر ایسا ——– قسمت والوں کو ملتا ھے
مجھے بور قسم کے گانے سن کر بہت مزا آتا ھے ایک بور سا گانا
January 4، 2010 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.
happy new year
December 31، 2009 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.
میں نہیں کہتی عوام کہتے ھیں
December 30، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.
یہ بندی ناچیز بہت خاموش طبیعیت انسان ھے کسی کو کچھ نہیں کہتی جو بھی کہتے ھیں یہ عوام کہتے ھیں یہ عوام بھی عجیب چیز ھیں دس مرتے ھیں بیس اور پیدا ھو جاتے ھیں شروع شروع میں جب دھماکے ھوتے تھے تو رحمان ملک فوراً آکر جنت کی خوشخبری سنا دیتے تھے شہادت کا سرٹیفکیٹ دے دیتے تھے پھر پتا چلا جنت میں پاکستانیوں کا کوٹہ پورا ھو گیا ھے تو سرٹیفکیت ملنا بند ھو گئے اب بڑے عہدے دار شہید ھوتے ھیں عوام صرف مرتے ھیں
میری دوست ۔ م ۔ کہتی ھے رحمان ملک کو دیکھتے ھی وہ ٹی وی بند کر دیتی ھے کیونکہ آج تک کوئ خوشی کی خبر ان سے سننے کو نہیں ملی دل دہلانے والی خبریں سناتے ھیں
جھوٹے بے ایمان رشوت خور ضمیر فروش ارے ارے یہ مین نہیں کہہ رھی یہ عوام کہتے ھیں ھمارے حکمران ایسے ھیں اب کیا کیا جا سکتا ھے اٹھارہ کروڑ عوام ھیں اور اتنے ھی منہ اتنی ھی زبانیں ھیں ان انسان کس کس کا منہ پکڑے لوگ تو لوگ ھیں کچھ تو کہیں گے
پاکستان میں لوگ کہتے ھیں سیاست شریفوں کا کھیل نہیں حالانکہ دیکھا جائے تو سیاست سے اوہ سوری میرا مطلب ھے سیاست میں بڑے بڑے کھلاڑی بہت شریف ھیں کچھ کے تو نام کے ساتھ بھی شریف لگا ھوا ھے مگر یہ عوام کسی کو شریف سمجھتے ھی نہیں وہ تو اتنے شریف ھیں اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی اپنی شرافت دیکھاتے ھیں کسی معاملے میں کچھ نہیں بولتے چاھے سب انھیں فرینڈلی اپوزیشن کا نام دیں
محفل میں ایک عورت کہنے لگی بی بی خود تو مر گئیں ھمارے لیے عذاب چھوڑ گئیں پتا نہیں وہ کس
عذاب کا زکر کر رھی تھی مجھے سمجھ نہیں آئ ھو سکتا ھے آپ سمجھ گئے ھوں آخر آپ بھی سمجھدار ھیں سیاست پہ لکھتے ھیں سیاست کے بارے میں پڑھتے ھیں اگر سمجھ گئے ھوں تو ھمیں بھی بتا دیں مین نے سوچا تھا
آج میں سیاست کے بارے میں اپنے خیالات لکھونگی مگر آج بھی کچھ نہیں کہا کچھ کہا میں نے ؟؟ نہیں نا
اسلام اور اسرائیل
December 29، 2009 کو sadiasaher نے مذہب اور ھم کے تحت شائع کيا.
ھم کچھ لوگ بات کر رھے تھے اگر انھیں موقعہ ملا تو وہ پاکستان کے لیے کیا کریں گے ھر کوئ انقلان لانے کی بات کر رھا تھا میں نے کہا اگر مجھے پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا موقعہ ملا تو میں اسرائیل کے نظام تعلیم کا مطالعہ کرونگی ان کا تعلیم کا نظام کیسا ھے مٹھی بھر اسرائیلی انھوں 80 سے زائد نوبل پرائیز حاصل کیے ھیں دنیا کی دولت کے 60% حصے کے مالک اسرائیلی ھیں میری بات سن کے میری دوست کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ھوگئ
کہنے لگی تمہیں شرم نہیں آتی اسرائیلی ھمارے دشمن ھیں اور تم ان کے تعریف کر رھی ھو
میں نے کہا وہ ھمارے دشمن اس لیے ھیں کہ وہ فلسطینیوں پہ ظلم کر رھے ھیں میں ان کے اس فعل کی تعریف نہیں کر رھی میں انٹر نیٹ پہ ایک سائیٹ دیکھ رھی تھی جس میں لکھا تھا دنیا کی دولت کے 60% حصے کے مالک اسرائیلی ھیں
میڈیکل کی دنیا میں انھوں نے جو کام کیا ھے ان ادوائیات کی وجہ سے ھزاروں لوگوں کو نئ زندگی ملی ھے میں سوچ رھی تھی مسلمانوں کے مقابلے پہ ان کی تعداد بہت کم ھے آخر ان کی ترقی کا راز کیا ھے تو مجھے لگا صرف تعلیم کی کمی ھے اس کو نظر انداز کیا جانا ھے
مگر میری دوست کا غصہ کم نہیں ھوا وہ مجھے ایسے دیکھ رھی تھی جیسے میں اسلام کے خلاف کوئ پلان بنا رھی ھوں میں سوچ رھی تھی یہ کیسی نفرت ھے ھم دشمن کا نام لینا پسند نہیں کرتے مگر ان کی بنائ ھوئ چیزوں کے بنا جینے کا تصور نہیں کر سکتے اور اپنے مذہب سے یہ کیسی محبت ھے وہ تعلیم جو ھمارا مذہب ھمیں دیتا ھے اس پہ علم نہیں کرتے وہ تعلیم جس پہ علم کرنے سے ھمارے دشمن دنیا پہ چھا رھے ھیں
آخر ھمارا یہ دوغلا پن کب ختم ھوگا
مشرقی ماں بیوی اور سیاسی لیڈر
December 27، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.
مجھے بے نظیر سے اختلاف رھا ھے وہ دو بار اقتدار میں آئیں عوام کی اکثریت ان کے ساتھ تھی جو وہ ملک کے لیے کر سکتی تھیں انھوں نے وہ نہیں کیا آج ٹی وی پروگرام دیکھتے ھوئے میں سوچ رھی ھوں جب وہ پہلی بار وزیرِ اعظم بنی تو پنتیس سال عمر تھی بہت چھوٹی عمر میں انھوں نے دنیا میں وہ نام پیدا کر لیا تھا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ھوتا ھے وہ سیاست میں آکر سیاست کا شکار ھو گئیں
وہ ایک ماں بھی تھیں ایک مشرقی بیوی بھی ۔۔۔ ایک ایسی بیوی جو اپنے شوھر کی ھر غلطی پہ پردہ ڈالتی ھے اپنے گھر کے مسائل دوسروں کے سامنے یا کسی بھی محفل میں موضوعِ بحث بنانا پسند نہیں کرتی
آج ایک سوال جو سب کے دلوں میں ھے آخر دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان کے قاتل کیفِ کردار کیوں نیں پہنچے ان کی شہادت ےک دو دن بعد صدر زرداری کا بیان آیا تھا وہ جانتے ھیں بی بی کے قاتل کون ھیں سب لوگوں کو یقین تھا بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے صدر زرداری بی بی کے قاتلوں کو منظرِ عام پہ لائینگے مگر دو سال گزرنے کے بعد قاتل کھلی فضاؤں میں سانس لے رھے ھیں
ان کے وارث سکون سے اپنی زندگی میں مگن ھیں انھیں وراثت کا حق مل چکا ھے آج قبر میں بی بی منوں ٹن پھولوں کے ڈھیر کے نیچے اپنے قاتلوں کو سزا کا انتظار کر رھی ھیں اور ان کے وارث اس بات سے بے خبر بی بی زندہ ھیں کا مکے لہرا لہرا کر نعرے لگا رھے ھیں سچ ھے جو انسان زندہ ھو اس کے قاتلوں کو سزا کیسے ھو سکتی ھے
اگر میں صدر ھوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
December 26، 2009 کو sadiasaher نے طنزومزاح کے تحت شائع کيا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر صدر ھوتی توجو روایات ھمارے صدرور نے قائم کی ھیں انھیں آگے بڑھاتی دنیا ھر بڑے ملک میں میرا گھر ھوتا آدھی کابینہ میرے رشتے داروں سے بھری ھوتی میرے سب دوست واقفکار وزیر اور سفیر ھوتے
میں ھر تین ماہ بعد عمرہ کرتی سرکاری خرچے پہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ حج کرتی – سرکاری خزانے کو اپنا صحن سمجھ کے جھاڑو پھیر دیتی پاکستانی جھنڈا گاڑی پہ لگا کر امریکی جھنڈے کو سیلوٹ کرتی
سوکھی سڑی غریب عوام سے میلوں دور بھاگتی جب بھی کوئ مشکل وقت آتا پاکستان زندہ باد اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر عوام کو جذباتی کرتی اپنے محل میں اپنے پالتو کتوں اور گھوڑوں کے ساتھ وقت گزارتی میرا دل بہت کمزور ھے میں کٹے پھٹے انسانوں کو نہیں دیکھ سکتی اس لیے کابھی پاکستانی خبریں نہ دیکھتی ہالی وڈ کی فلموں سے دل بہلاتی ۔۔۔۔
اپنے سے متاثرہ لوگوں سے باتیں کرتی جو میری عظیم ذات سے متاثر ھوتے میری تعریف کرتے ۔۔ میری دورِ حکومت میں پاکستان کتنی ترقی کر رھا ھے سب اچھا ھے کا نعرہ لگاتے — جو کوئ منفی بات کرتا اس کی ٹرانسفر وہاں کرواتی جہاں نہ فون ھوتا نا پانی نہ بجلی —
تجزیہ کار اور دانشور لوگ مجھے زہر لگتے ھیں جو دل دہلانے والے تجزئیے کرتے ھیں کہ حکومت جانے والی ھے ان کی بات کبھی نہ سنتی جو چینل میرے خلاف بولتا اس چینل کو بند کر دیتی قصرِ صدارت میںبیٹھ کر بیان دیتی مکے لہرا لہرا کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی اپنی حکومت بچانے کے لیے کچھ بھی کرتی ۔۔۔۔ میرا وجود پاکستان کے لیے بہت ضروری ھے اس لیے زرا سی چھینک آنے پہ بھی اپنا چیک اپ کروانے کے لیے لندن بھاگتی
اگر میں صدر ھوتی تو بہت کچھ کرتی اگر کوئ نجومی ھے تو پلیز میرا ھاتھ دیکھ کر بتائے میرے ھاتھ کی کون سی لکیر قصرِ صدارت تک جارھی ھے اگر کوئ پروفیسر ھے تو فال نکال کے بتائے میرے سپنے کب پورے ھونگے میں کب پاکستان میں انقلاب لاؤں گی
اے قائد ھم شرمندہ ھیں
December 25، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.
محمد علی جناح جنھیں ھم قائد اعظم کہتے ھیں پاکستانی سب رہنماؤں کے رہنما ۔ ھمارے قائد جنھوں نے ھمیں ایک آزاد ملک کا تحفہ دیا ۔ بدلے میں ھم نے ھر نوٹ پہ ان کی تصویر لگا دی مگر رشوت لیتے یا دیتے ھوئے کبھی شرمندہ نہیں ھوتے غبن کرتے ھوئے ملکی دولت کو لوٹتے ھوئے نوٹوں پہ کبھی ان کی تصویر پہ نظر نہیں جاتی ۔ ان کی پارٹی مسلم لیگ کے ٹکڑے کر دیے اپنی سیاست چمکانے کے لیے بیان ان کے اصولوں اور نظریوں کے خلاف دیتے ھیں مگر دیوار پر ان کی تصویر لگا کر رکھتے ھیں جیسے ان کے اصولوں کے پاسبان صرف ھم ھیں
پچھلے سال سے اور نئ حکومت کے بعد قائداعظم کی تصویر کے ساتھ بے نظیر کی تصویر نے جگہ لے لی اور اب بے نظیر کی برسی پہ دس روپے کا سکہ بنایا جا رھا ھے مگر ملک میں کہیں پر نہ قائد اعظم کی سیاست نظر آرھی ھے نہ بے نظیر کی
قائداعظم کی سالگرہ پہ ان کی تقریریں ان کے اقوال دہرائے جانے چاھیے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ھورھا
اے قائد ھم شرمندہ ھیں ھم پاکستان کو وہ پاکستان نہیں بنا سکے جس کا خواب سب نے دیکھا تھا جس کے لیے سب نے قربانیاں دیں تھیں ۔ ھم اپنے مقصد کو بھول گئے اپنے اندھیرے دور کرنے کے بجائے ھر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگنے لگے آج ھماری پہچان ھماری خوداری کہاں کھو گئی ۔ اتنے سال میں ھم ایک قائد پیدا نہ کر سکے اپنے قائد کے رہنما اصولوں کی حفاظت نہ کر سکے اے قائد ھم شرمندہ ھیں
قرض دار اور خواجہ سرا
December 24، 2009 کو sadiasaher نے idhar udhar se کے تحت شائع کيا.
خواجہ سرا اور قرض دار ابھی ایک خبر پڑھی جس میں چیف جسٹس نے خیال ظاہر کیا ھے قرضے وصول کرنے کے خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کی جائیں
زرا تصور کریں خواجہ سرا ھنستے گاتے تالیاں بجاتے قرضہ وصول کرنے جا رھے ھیں بہت سے وزیروں کو تو پہچاننا مشکل ھو جائے گا وزیر کون سا ھے اور خواجہ سرا کون سا
میرے خیال میں تو یہ ایک اچھا فیصلہ ھے انڈیا میں بھی قرضہ داروں سے نمٹنے کے لیے خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کی گئ تھیں عام فیملی والوں کو دھمکیاں کی جاتی ھیں جان سے مارنے کبھی بچوں کو اٹھوانے کی ایسے لوگوں کے لیے ایسے لوگ ھی ٹھیک ھیں خواجہ سراؤں کو بھی گلی گلی ناچنے کے بجائے کوئ روزگار مل جائے گا آپ کا کیا خیال ھے
چھ سالہ بچے کی معلم کے ھاتھوں موت
December 18، 2009 کو sadiasaher نے مذہب اور ھم کے تحت شائع کيا.
ابھی ٹی وی پہ خبر دیکھی ایک چھ سالہ بچے کو معلم نے تشدد کر کے مار دیا اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنا سبق یاد نہین کیا تھا کیا یہ اتنا بڑا قصور ھے جس کی سزا میں ایک چھوٹے سے بچے کے ڈنڈے گھونسے لاتیں مار مار کر جان سے ھی مار دیا جائے
بچے کے ایک ساتھی سے کہا گھر والوں سے کہے کہ بچے کو خون کی الٹی آئی تھی جس کی وجہ سے اس کی موت ھو گئ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ھو چکے ھیں کئ بار قرآن کی تعلیم دینے والے مولوی حضرات کے بارے میں پتا چلا وہ بچوں سے زیادتی کرتے رھے ھیں بہت کم واقعات میڈیا کے سامنے آتے ھیں جو واقعات سامنے آتے ھیں انھیں بھی نظر انداز کر دیا جاتا ھے
کیا یہ واقعات اس قابل ھیں کہ انھیں نظر انداز کر دیا جائے ؟؟؟
کیا کسی غریب بچے کی جان کی کوئ حیثیت نہیں ؟؟؟
کسی معلم کی قابلیت چیک کرنے کا کیا معیار ھے اگر کسی مولوی یا کسی ملا کے بارے میں کچھ کہا جاتا ھے تو بہت سے حضرات لٹھ لے کر کھڑے ھو جاتے ھیں ان کا فرمانا ھے یہ مولوی نہ ھوتے تو کون پیدائش کے بعد کان میں آذان دیتا کون قرآن کی تعلیم دیتا کون مسجدوں میں اذان دیتا کون مرنے کے بعد جنازہ پڑھاتا پھر بھی لوگ ان کی عزت نہیں کرتے
کیا کوئ بھی قرآن پڑھانا شروع کر دے اس کو چیک کرنا ضروری نہیں اکثر ایسے لوگوں کی بہت تعظیم کی جاتی ھے اگر ان کے بارے میں کوئ بات سنیں بھی تو کہا جاتا ھے وہ تو قرآن پڑھاتے ھیں نیک انسان ھیں
کیا سب پہ آنکھیں بند کر کے اعتبار کرنا چاھیے جب کوئ ایسا واقعہ ھوتا ھے وقتی شور اٹھتا ھے مگر کیا کچھ بھی نہیں جاتا اس خبر پہ بھی ایک دن تبصرہ کیا جائے گا ٹی وی والے چند بار دیکھائینگے پھر نئ خبروں میں یہ خبر بھی گم ھو جائے گی
معذرت میں ھرمولوی یا ھر داڑھی والے کو قابل ِ احترام نہیں سمجھتی اسلام دل میں ھوتا ھے داڑھی میں نہیں
وہ زخم آج بھی رستا ھے
December 16، 2009 کو sadiasaher نے بیتی باتیں کے تحت شائع کيا.
آخری وقت تک دادی جان کے لبوں پہ ایک ھی بات تھی میرا بشیر آئے گا تایا بشیر فوج میں تھے مشرقی پاکستان میں تعینات تھے 1971 کے بعد ان کا کچھ پتا نہیں چلا وہ کہاں ھیں ان کی فیملی تھی بیٹی اور بیٹا تھا کسی نے کہا وہ جنگ میں شہید ھو گئے تھے
مشرقی پاکستان بہت سے لوگوں کو مارا گیا زندہ جلایا گیا وہ اور ان کی فیلمی زندہ تھی یا نہیں مگر دادی جان نے انھیں مرنے نہیں دیا کوئ دن ایسا نہیں ھوتا تھا جب ان کا زکر نہیں ھوتا تھا مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ھوا کہ مین ان سے نہیں ملی تھی ان کے بچوں کو میں نے نہیں دیکھا تھا ایسے لگتا تھا جیسے میرا بچپن ان کے ساتھ کھیلتے ھوئے گزرا ھو رات کو جب دادی جان کے پاس سوتی تھی تو تایا بشیر کی باتیں شروع ھوجاتیں وہ بچپن میں کیسے تھے ان کو بچے کیا کرتے تھے جب وہ گئے تھے اب کے بیٹے کو بولنا بھی نہین آتا تھا دادای جان حساب لگاتیں وہ اب کتنے بڑے ھو گئے ھوں گے کون سی کلاس میں پڑھ رھے ھونگے دادی جان نے جو خاکہ بنایا تھا بچپن میں میں سڑک پہ چلتے ھوئے ان لوگوں کو کھوجا کرتی تھی
ایک بار گھر بیچنے کی بات ھوئ تو دادی جان نے یہ کہہ کہ انکار کر دیا تایا بشیر کو اس گھر کا پتا ھے انھوں نے اپنے بچوں کو اسی گھر کا پتا دیا ھو گا وہ واپس آئیں گے تو کیا کریں گے دادی جان کی آس کبھی ٹوٹی نہیں تایا جان نے جاتے ھوئے کہاں تھا اماں میں جلد ھی بچوں کے لے کر آؤں گا اور دادی جان مرتے دم تک انتظار کرتی رھیں
ان کی وفات کے بعد میں پتا چلا تایا بشیر میرے سگے تایا نہیں تھے وہ دادی جان کی مرحومہ بہن کے بیٹے تھے جنھیں مرتے وقت دادی جان کی گود میں دیا تھا اور وعدہ لیا تھا وہ انھیں اپنے بچوں کی طرح پیار کریں گی انھوں نے ااپنا وعدہ نبھایا اپنے بچوں سے بڑھ کر نہ صرف خود پیار کیا بلکہ وہ پیار اپنے آنے والی نسل میں بھی منتقل کیا
میرا سارا بچپن ان کے ساتھ گزرا دادای جان کی آنکھوں سے ھم نے انھیں شرارتیں کرتے جوان ھوتےدیکھا دادای جان کے ساتھ ھم نے بھی ان کا انتظار کیا – کسی اپنے سے بچھڑنے کا دکھ کیا ھوتا ھے وہ میں جانتی ھوں دادای جان کو میں نے گھولتے دیکھا ھے جب پاکستان سے لاپتہ افراد کے بارے میں پڑھتی ھوں تو ان کے خاندان کی حالات کا دلی کیفیت کا اندازہ لگا سکتی ھوں انسان آس کے دئیے کو بجھنے نہیں دیا یادوں کے چراغ جلائے رکھتا ھے مگر ان چراغوں کے ساتھ خود بھی جلتا ھے کچھ زخم کبھی نہیں بھرتے ان زخموں سے خون ھمیشہ رستا رھتا ھے
ایک دل کو چھونے والا خوبصورت گیت
December 15، 2009 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.
آخر کب تک —–
December 14، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.
پیپلز پارٹی کے کسی بھی ممبر سے پوچھا جائے حالات کب سدھریں گے مسائل کب حل ھوں گے مسائل بڑھتے جا رھے ھیں تو ان کا جواب ھوتا ھے یہ مسائل ھمارے پیدا کردہ نہیں ھیں یہ ھمیں وراثت میں ملے ھیں پیچھلی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ھے
اگر سب کچھ پیچھلی حکومت کا کیا دھرا ھے تو موجودہ حکومت پیچھلے دو سال سے کیا کر رھی ھے ان کی پالیسیوں کو کوئ نتیجہ سامنے کیوں نہیں آرھا پیچھلی حکومت کی پالیسیاں چینج کیوں نہیں ھورھیں آخر کب تک موجودہ حکومت پیچھلی حکومت پہ سارا الزام دے کر اپنا آپ بچاتی رھے گی

