پاکستان جاتے ھوئے اب ڈر لگے گا

March 6، 2010 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

اپنے وطن جانے کا احساس اپنوں سے ملنے کی خوشی الگ ھوتی ھے مہینوں پہلے تیاریاں شورع  ھو جاتی ھیں شاپنگ ھوتی ھے پاکستان میں سب رشتے داروں کو انتظار شروع ھو جاتا ھے ایک ایک دن گن کر گزرتے ھیں اب پاکستان جانے میں کتنے دن رہ گئے ھیں ملکی حالات کتنے بھی خراب ھوں پھر بھی خوشی ھوتی ھے اس سر زمین کو دیکھیں گے جہاں ھم پلے بڑے جہاں ھمارا پچبن گزرا جہاں ھمارے اپنے ھیں جیب میں چاھے کسی اور ملک کا پاسپورٹ ھو دل پاکستان کے لیے ھی ڈھرکتا ھے دل سے محبت پاسپورٹ بدل جانے سے بدل نہیں جاتی پاکستان جانے کے بعد دن پر لگا کر اڑ تے جاتے ھیں رشتے دار دوبارہ جلد آنے کا وعدہ لیتے ھیں خود کو اپنی نوکری اور گھر کی فکر بھی ھوتی ھے مگر اپنوں سے دور جانے کا احساس دکھی کرتا ھے رشتے داروں سے الوداعی ملاقات ھوتی ھے شاپنگ کچھ ادھوری کچھ مکمل ھوتی ھے کچھ اپنی یادیں کچھ اپنے کلچر اپنے وطن کی نشانیاں اکٹھی کرتے ھیں ھزاروں یادیں اپنے دل میں لے کر نم آنکھوں سے مسکراتے ھوئے گھر سے نکلتے ھیں ایسے میں کوئ آپ کو لوٹ لے آپ کے معصوم بچے کو جو دنیا کے رنگ سے بے خبر ھے جو سرف محبت کرنا جانتا ھے جو یہ بھی نہیں جانتا پیسہ کیا ھے اسے کوئ پیسوں کے لیے اغوا کر کے لے جائے ماں انتظار میں ھو اس کا بیٹا چند گھنٹوں میں اس کے سامنے ھوگا یہ خبر سن کے اس کا کیا حال ھوگا اگر یہ دشمنی ے تو کیسی دشنمنی ھے ایک بچہ جیسے دشمنی کا مطلب بھی نہیں پتا اس کو استعمال کرنا کہان تک درست ھے اگر یہ پیسے کے لیے کیا گیا ھے تو یہ کیسا لالچ ھے یہ انسانیت کا کونسا معیار ھے

اب مجھے پاکستان جاتے ھوئے ڈر لگے گا کچھ ماہ پہلے ایک ڈھائ سال کی بچی ایمانے کو غلط انجکشن لگانے کی وجہ سے اپنی جان سے ھاتھ دھونا پڑا وہ ماں باپ جو اپنے وطن کی محبت میں پاکستان گئے تھے اسی مٹی میں اپنی بیٹی کو دفنا کر آئے جس نے ابھی دنیا دیکھنی تھی ابھی دنیا سے جانے کا وقت نہیں تھا وطن کی  محبت کی قیمت چکانی پڑی

انسانیت کہاں ھے ؟؟؟ حکمران بے حس ھیں تو عام عوام میں ایمانت دیانت کتنی ھے انسان کی جان کی اب کوئ قیمت نہیں ھر کوئ اپنا سوچتا ھے اپنی خواہشوں کا سوچتا ھے اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے چاھیے کسی کو رودھنا پڑے کچل کر آگے بڑھنا پڑے کوئ پرواہ نہیں کرتا

کچھ دنوں سے خبریں دیکھ کر مجھے ڈر لگ رھا ھے اس وطن سے جس سے مجھے عشق ھے دھشت گرد پاکستان کو تباہ کر رھے ھیں تو کیا یہ دھشت گردی نہیں ھے ؟؟

Share This Post

27 آراء»

عید میلاد النبی کیسے منانی چاھیے – کیا ھم مقصد سے ھٹ رھے ھیں

February 28، 2010 کو sadiasaher نے مذہب اور ھم کے تحت شائع کيا.

ٹی وی کے ھر چینل پہ عید میلاد النبی کے پروگرام کافی دنوں سے آرھے ھیں لوگوں کی تیاریاں جلسے جلوس چراغاں ھر مسجد میں درود اور نعتیں پڑھی جا رھی ھیں

بچپن کی عید میلاد النبی جب بھی یاد آتی ھیں تو بہت اچھا لگتا ھے پر رونق بازار ھر طرف چراغاں رات کوبھی لگتا تھا جیسے دن کا سماں ھو اب سوچ رھی تھی کیا اپنے مقصد سے ھٹ نہیں رھے ھم میں دکھاوا کچھ زیادہ ھو گیا ھے ایک مسجد میں اگر چار سپیکر لگے ھیں تو ساتھ والی نے دگنے لگا لیے درود شریف پڑھنا بہت اچھی بات ھے اس کا ثواب بہت ھے مگر جو آس پاس بیمار ھیں آرام کرنا چاھتے ھیں کیا وہ تنگ نہیں ھوتے جب کوئ نماز پڑھ رھا ھو تو اس کے پاس بلند آواز میں تلاوت سے بھی منع کیا گیا ھے

تاریخ کا جتنا مطالعہ میں نے کیا ھے مجھے کہیں بھی رسولِ کریم کے زمانے اور خلفائے راشدین کے زمانے میں عید میلاد النبی کا ذکر نہیں ملتا میرا مطالعہ اتنا وسیع نہیں اگر کسی کو علم ھو تو وہ بتا دیں

میں اپنی ایک دوست سے بات کر رھی تھی ھم لوگ کچھ زیادہ دکھاوا نہیں کرنے لگے عید میلاد النبی سادگی سے منائ جا سکتی ھے تو اس نے غصے سے کہا ھم سارا سال باقی تقریبات پہ  اتنا خرچ کرتے ھیں تو اس نبی جس کی وجہ سے ساری دنیا بنی اس کی باری پہ بچت  کا سوچنا جائز نہیں

مجھے لگا شاید میں ھی غلط ھوں – وہ نبی جس کی وجہ سے یہ کائنات وجود میں آئ جس پہ قرآن کریم جیسی کتاب نازل ھوئ جس کے ماننے والے ساری دنیا میں پھیلے ھوئے ھیں جو ان ےک نام پہ اپنی جانیں لٹانے کے لیے ھر دم تیار رھتے ھیں مگر

کتنے لوگ ھیں جو عید میلاد النبی پہ وعدہ کرتے ھیں اب رسولِ خدا کے اسوہ کو اپنائیں گے ؟؟؟

ان کی تعلیم پہ زندگی کے ھر موڑ پہ عمل کرنے کی کوشش کریں گے ؟؟

درود پڑھنا باقاعدگی سے شروع کیا ھے وہ سارا سال جاری رھے گا ؟؟؟

کالے گورے امیر غریب کے فرق کو بھلا دیں گے

؟؟؟دشمنوں کو معاف کریں گے ؟؟؟

رسولِ کریم نے تو سب کچھ اپنا اللہ کی راہ میں دے دیا تھا کتنے لوگ ھیں جو صدقہ خیرات کرتے ھیں ؟؟؟

میری دوست کا خیال ھے اس موقعہ پہ ایسی باتیں نہیں سوچنی چاھیے ہاں وہ ٹھیک کہہ رھی تھی ھم مسلمان ھیں ھم آنکھیں بند کر کے اپنی جانیں قربان کر سکتے ھیں مگر ایسی باتیں نہیں کر سکتے ورنہ لوگ کمزور ایمان کا سمجھنے لگتے ھیں

Share This Post

15 آراء»

محبت کا دن بھی گزر گیا

February 16، 2010 کو sadiasaher نے Uncategorized کے تحت شائع کيا.

بلا آخر محبت کا دن گزر گیا جس نے کسی کو گلاب دینے تھے دے دیے محبت کا اظہار کرنا تھا کر دیا اب پھر سے لوگ غمِ روزگار میں مصروف ھوگئے ھو ں گے
میڈیا میں شور تھا بازاروں میں رش تھا ھر کوئ خوش تھا محبت کا دن آنے والا ھے انھیں اظہار محبت کی آزادی ھوگی مگر پاکستان پاکستان ھے ایک خبر پڑھی لڑکی سے اظہار محبت کرنے پہ ایک نوجوان کی سرِ بازار چھترول کی گئ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ھے نوجوان کے سر سے عشق کا بھوت اتارا گیا پاکستان میں جن نکالنا ھو یا بھوت اتارنا ھو جوتے کا استعمال کیا جاتا ھے بلکہ عقل ٹھکانے لگانے کے لیے بھی جوتے کا استعمال کیا جاتا ھے اس کا ایک عملی مظاہرہ دنیا نے دیکھا ھی ھوگا جب منتظر زیدی نے جوتا مار کر بش کی عقل ٹھکانے پہ لانے کی کوشش کی تھی پتا نہیں بش کی عقل ٹھکانے پہ آئ تھی یا نہیں  اور جوتے کھانے سے اس نوجوان کا عشق کا بھوت اترا تھا یا نہیں اسے جوتے کھاتا دیکھ کر بہت سے نوجوانوں کا عشق ھرن ھو گیا ھوگا وہ تو آپ نے سنا ھی ھوگا لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اس لیے کچھ لوگوں پہ باتوں کا کوئ اثر نہیں ھوتا ان کا بھوت جوتوں سے ھی اترتا ھے چاھے دولت اکٹھی کرنے کا بھوت ھو کرسی کا بھوت ھو اب آپ لوگ کہیں گے میں محبت کی بات کرتے کرتے پھر سیاست پہ آ رھی ھوں ایسی کوئ بات نہیں
بلکہ عقل ٹھکانے لگانے کے لیے بھی جوتے کا استعمال کیا جاتا ھے اس کا ایک عملی مظاہرہ دنیا نے دیکھا ھی ھوگا جب منتظر زیدی نے جوتا مار کر بش کی عقل ٹھکانے پہ لانے کی کوشش کی تھی پتا نہیں بش کی عقل ٹھکانے پہ آئ تھی یا نہیں  اور جوتے کھانے سے اس نوجوان کا عشق کا بھوت اترا تھا یا نہیں اسے جوتے کھاتا دیکھ کر بہت سے نوجوانوں کا عشق ھرن ھو گیا ھوگا وہ تو آپ نے سنا ھی ھوگا لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اس لیے کچھ لوگوں پہ باتوں کا کوئ اثر نہیں ھوتا ان کا بھوت جوتوں سے ھی اترتا ھے چاھے دولت اکٹھی کرنے کا بھوت ھو کرسی کا بھوت ھو اب آپ لوگ کہیں گے میں محبت کی بات کرتے کرتے پھر سیاست پہ آ رھی ھوں ایسی کوئ بات نہیں
یورپ میں لڑکا لڑکی آزاد ھوتے ھیں ان کی مرضی وہ بنا شادی کے رھیں یا شادی کریں انھوں نے اپنا جیون ساتھی خود ڈھونڈنا ھوتا ھے وہ برسوں ایک ساتھ رھتے ھیں سال میں ایک بار تجدیدِ محبت کرتے ھیں اگر شادی کا فیصلہ کرنا ھے تو ایسی دن کرتے ھیں اگر انھیں لگے محبت نہیں رھی تو الگ ھونے کا فیصلہ بھی ایسی دن کرتے ھیں
پاکستان میں مائیں بیٹا پیدا ھوتے ھی چاند سی بہو کے خواب دیکھنا شروع کر دیتی ھیں اور بیٹا ھوش سمبھالتے ھی آس پروس میں چاند ڈھونڈنا شروع کر دیتا ھے اور اکثر ماؤں کو بیٹے کے ڈھونڈے ھوئے چاند میں داغ نظر آتا ھے اور بیٹے کے سر سے اس لڑکا کے عشق کا بھوت اتارنے کے لیے خالص مشرقی طریقہ اخیتار کیا جاتا ھے
میرے بھائ کا کہنا ھے بس ایک خرابی ھے شادی کے بعد محبوبہ بیوی بن جاتی ھے اور اپنی بیوی کا وہی حال ھوتا ھے جو گھر کی مرغی کا ھوتا ھے
خیر بات کیا ھو رھی تھی اور بات کہاں سے کہاں نکل گئ اب محبت کا دن تو گزر گیا اب یہ بتائیں کس نے کتنے گلاب دیئے اور اگلی فروری تک کس کس کو گلاب دینے ھیں
Share This Post

1 رائے»

میرے نانا جان

February 12، 2010 کو sadiasaher نے Uncategorized کے تحت شائع کيا.

دروازے پہ کوئ زور سے آواز دے رھا تھا امی نے پوچھا تو اس نے کہا آپ کے والد وفات پا گئے ھیں — مگر وہ تو ابھی ایک گھنٹہ پہلے ھمارے گھر سے گئے ھیں آپ شاید کسی غلط گھر میں اطلاع دے رھے ھیں نہیں میں ڈاکٹر نذیر احمد کی بات کر رھا ھوں یہ ان کی بیٹی کا گھر ھے — ھاں مگر یہ کیسے ھو سکتا ہے — کسی کو اس خبر پہ یقین نہیں آیا

نانا جان کے گھر پہ گئے تو بہت سے لوگ اکٹھے ھو چکے تھے بہت سے لوگ انجان تھے کچھ رشتے دار تھے کچھ نانا جان کے جاننے والے کچھ ان کے مریض جن کے خاندان کے وہ برسوں  ڈاکٹر تھے بہت سے لوگوں کی خاموشی سے مدد کیا کرتے تھے  جن کا ان کی وفات کے بعد علم ھوا

بڑے ماموں ھائ کورٹ میں وکیل تھے چھوٹے ماموں اسلام آباد میں رہائش پزیر تھے وہ بنک منیجر تھے لوگ کہتے تھے آپ اپنے بیٹوں کے ساتھ کیوں نہیں رھتے تو وہ کہا کرتے تھے اللہ کے سواکسی کی محتاجی اچھی نہیں ھوتی اولاد فرمابردار ھو مگر اللہ اولاد کا بھی محتاج نہ کرے

ان کی زمین دو کنال تھی دس مرلے پہ گھر  تھا گھر کے سامنے  پھول لگائے ھوتے تھے  باقی پہ انھوں نے پھل سبزیاں اگائ ھوئ تھیں نانی جان کا ان سے اکثر اس بات پہ جھگڑا ھوتا تھا وہ اتنی محنت کیوں کرتے ھیں وہ صرف دو لوگ ھیں صبح شام پودوں کی پانی دینا ان کی کانٹ چھانٹ کرنا سارا وقت مصروف رھتے تھے اپنے سب رشتے داروں جاننے والوں اور مریضوں کو باری باری سبزی دیا کرتے تھے سب کو کہا کرتے تھے گھروں میں درخت لگائیں مہنگائ ھے اپنے گھر سبزیاں کیوں نہیں لگاتے لوگ پھل خرید نہیں سکتے گھر میں ایک دو درخت تو لگا سکتے تھے انھیں پھول پودوں سے عشق تھا کچھ لوگوں ان کے کہنے پہ اپنے گھروں میں پودے لگائے تھے

ایک بار مجھے یاد ھے امی نے ان کے سامنے کہا لڑکیوں نے زیادہ پڑھ کر کیا کرنا کون سا نوکری کرنی ھوتی ھے نانا جان کو اس بات پہ بہت غصہ آیا تھا یہ کہا لکھا ھے نوکری  کرنی ھو تو پڑھائ کی جائے اگر باپ یا بھائیوں کو کچھ ھو جائے تو گھر کی عورتیں کیا کریں گی اگر شوہر کو کچھ ھو جائے تو کیا بچے پالنے کے لیے ماں بھیک مانگے گی میرے بچوں نے پاکستان میں تعلیم حاصل کی ھے میری خواہش ھے میرے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں دوسرے ممالک میں جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کریں  ان کی دعائیں ھی تھیں بڑے ماموں کے بیٹے نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا اور مذید تعلیم کے لیے ملک سے باہر گئے ان کے بعد کئ اور کزن اور میرے بھائ نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا

اپنے ھر ملنے والے کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے کہتے تھے اگر پڑھ نہیں سکتے تو کچھ سیکھو اپنے ھاتھ سے کام کرنے میں برکت ھوتی ھے ان کا کہنا تھا انسان کے ھاتھ میں ھنر ھونا چاھیے وہ کبھی ضائع نہیں ھوتا زندگی میں کام آتا ھے آخری وقت تک اپنے کام خود کرتے رھے گھر گئے چھوٹی خالہ ان کے پاس تھیں کہنے لگے آج کچھ طبعیت دل گھبرا رھا ھے متلی ھوئ نہ ھسپتال جانے کا وقت ملا نہ کسی کو بلانے کا چند لمحوں  میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے میں اکثر دعا کرتی ھوں میری موت بھی ایسے ھو نہ کسی کو تکلیف دی نہ انھیں تکلیف ھوئ وہ بہت ایکٹو اور سمارٹ تھے رنگ صاف تھا مجھے ان کی آنکھیں اچھی لگتی تھیں کسی کی ویسی نہیں تھیں گرے رنگ کی چمکتی ھوئ واقعات تو بہت سے ھیں مگر اتنا کافی ھے اپنے بزرگوں کو یاد رکھنا چاھیے اللہ ان کے درجات بلند کرے آمین

Share This Post

1 رائے»

اب سیاست پہ نہیں لکھنا

February 10، 2010 کو sadiasaher نے Uncategorized کے تحت شائع کيا.

میں نے کبھی سوچا نہیں تھا میں سیاست پہ لکھونگی سیاست اور سیاست دانوں سے مجھے الرجی ھے نہ ان کی باتوں میں حقیقت ھوتی ھے نہ وعدوں میں کوئ سچائ ۔

مگر کیا کیا جائے اب جب بھی ٹی وی آن کرو دل دہلانے والی خبریں سننے کو ملتی ھیں مجال ھے کبھی کوئ خوشی کی خبر بنے سنورے نیوز کاسٹر کے منہ سے نکلی ھو جب بھی سنائ دھماکے جلنے مرنے کی ھی خبر سنائ کہیں دھماکہ کہیں ٹرین پٹری سے اتر گئ تو کہیں بس کسی پہ چڑھ گئ

چینل بدلو تو بحث و مباحثہ چل رھا ھوتا ھے بات کم ھو رھی ھوتی ھے سیاسی کشتی زیادہ لگ رھی ھوتی ھے کبھی اینکر پرسن تیلی لگا کر مزے لے رھا ھوتا ھے بلکہ کبھی کبھی تیل بھی بوقت ضروت چھڑکتا جاتا ھے کہیں میزبان اپنا سارا علم ایک ھی پروگرام میں سنانے کے لیے بے چین ھوتا ھے مہمان بیچارا سارا  وقت اپنی بات کہنے کے انتظار میں ھی بیٹھا رھتا ھے کوئ بھی ٹی وی کا پروگرام لگاؤ ھمارے نامی گرامی سیاسی نمائندے چونچیں لڑا رھے ھوتے ھیں ایک دوسرے پہ الزام لگاتے ھوئے چینختے چلاتے ھوئے سیاست سے نکل کر ذاتیات پہ آ جاتے ھیں عوام طنزو مزاح کے پروگرام چھوڑ کر نئے نئے انکشافات سن رھے ھوتے ھیں اگر یہ پراگرام بند ھو گئے تو ان سیاست دانوں کا کیا ھوگا جو اپنے ملک کی خدمت کا زبانی اظہار کرتے نظر آتے ھیں عمل کرنے کے موقعہ نہیں ملتا کیونکہ اگلے پروگرام میں انوائیٹ کر دیا جاتا ھے

پاکستانی فلمی گانے سننے کا ایک بار اتفاق ھوا ھیرت ذدہ ھوگی  کیا اعلیٰ پائے کی شاعری تھی نجانے ایسے عالم شاعروں کے دماغ میں ایسے خیالات کیسے آتے ھیں اس پر نصیبو لال کی آواز — اللہ نصیبو لال کے نصیب میں اچھے گانے گانا کرے ان گانوں پر ہدایت کار کی ہدایات اور ہیروئن کی قاتلانہ ادائیں چار چاند لگا دیتی ھیں ہیرو گنڈاسا پکڑے مونچھوں کو تاؤاور لوگوں کو تڑیاں دینے میں مصروف رھتا ھے یہ دیکھ کر لوگ سوچتے ھیں یہ مخلوق پاکستان کے کس حصے میں بستی ھے یہ کس ملک  کا کلچر ھے مگر ایسی فلمیں کافی چلتی ھیں

آج میں نے سوچا ھے سیاست پہ کچھ نہیں لکھنا اللہ مجھے اچھا لکھنے کی توفیق دے اور مجھے ھدایت دے بار بار توبہ کر کے پھر سے سیاست پہ لکھنے لگتی ھوں اب یہ توبہ کتنے دن چلتی ھے دیکھتے ھیں

Share This Post

2 آراء»

سوال اب بھی وہی ھے

February 5، 2010 کو sadiasaher نے Uncategorized کے تحت شائع کيا.

عافیہ صدیقی مجرم قرار پائ کیا یہ پہلے سے طے نہیں تھا یا لوگوں نے کچھ اور سوچا ھوا تھا کہ فیصلہ سے سے ھٹ کر ھوگا اگر کسی نے ایسا سوچا ھوگا تو وہ کافی خوش فہم ھوگا جب سے مقدمہ عدالت میں آیا میڈیا کے سامنے وہ ھی آتا رھا جتنا امریکی حکومت چاھتی تھی

مسلمان ھونے والی برطانیوی صحافی خاتون ریڈلی کے بیان کے بعد میڈیا میں طوفان آیا تھا وہ قیدی نمبر 650 کون ھے ممکن ھے وہ عافیہ صدیقی ھے جو عرصہ دراز سے لاپتہ ھے جب یہ سوال ھر طرف گونجنے لگا تو ایک دم عافیہ صدیقی میڈیا سے سامنے ایک مجرم کی صورت میں آئیں امریکی عدالت میں اس بات پہ بحث نہیں ھوئ وہ اتنے سال کہاں رھی اس سے عدالت کو کوئ غرض نہیں کیونکہ وہ پاکستانی شہری ھے وہ کہیں بھی آجا سکتی ھے امریکی عدالت  صرف اس بات کا جواب چاھتی تھی عافیہ نے فوجیوں پہ حملہ کیا یا نہیں جس کو کسی نہ کسی طرح ثابت کیا گیا وہ مجرم ھے

چلیں مان لیا عافیہ صدیقی مجرم ھے مگر سوال پھر وہی ھے

اگر عافیہ صدیقی قیدی نمبر 650 نہیں تو وہ کون تھی اب کہاں ھے اور کس حال میں ھے وہ کوئ مسلمان ھے کوئ امریکن عورت نہیں ھو سکتی اس کا جرم کیا ھے زندہ ھے تو اسے اب تک  میڈیا کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا

اگر عافیہ صدیقی پیچھلے سال افغانستان گئ تھی تو وہ اتنے سال اپنے بچوں سمیت کہاں تھی ایک دم وہ فوجی اڈے پہ آسمان سے نازل ھوئ تھی یا زمین سے نکلی تھی  عدالت نے تو اپنا فیصلہ سنا دیا مگر سوال ابھی تک ویہں ھے اس کا جواب کون دے گا

Share This Post

1 رائے»

یہ عرب ھمارے کعبہ و قبلہ کے رکھوالے

January 28، 2010 کو sadiasaher نے Uncategorized کے تحت شائع کيا.

میں ابھی کچھ لکھنا نہیں چاہ رھی تھی ابھی ایک خبر پڑھی جس نے مجھے لکھنے پہ مجبور کر دیا عرب جن کے لیے ھمارے دل میں بہت عزت ھے وہ ھمارے کعبہ و قبلہ کے رکھوالے ھیں یہ اس سر زمین پہ رھتے ھیں جہاں سرورِ کائنات ھمارے نبی نے جنم لیا اپنی زندگی بسر کی ان پہ نور برسا جس سے ساری دنیا منور ھوئ قرآن نازل ھوا جو رھتی دنیا تک سب کے لیے ھدایت کا سر چشمہ ھے وہ کعبہ اس پاک سر زمین پہ ھے جس کی طرف منہ کر کے دنیا کے مسلمان نماز پڑھتے ھیں دعائیں کرتے ھیں اپنی رھنمائ کے لیے آج بھی مسلمان عرب کے مفتیوں کی طرف دیکھتے ھیں ان کی رائے کا احترام کیا جاتا ھے

اونٹ صحرا میں سواری کا بہترین زریعہ ھے عرب شیخ اعلیٰ نسل کے اونٹ پالتے ھیں ان کی دوڑیں لگواتے ھیں جس میں بڑے عزت دار شہزادے حصہ لیتے ھیں اور لطف اندوز ھوتے ھیں اونٹوں کی ریس کوئ ایسا قبیح فعل نہیں مگر کیا آپ جانتے ھیں اونٹوں کو تیز بھگانے کے لیے کیا کیا جاتا ھے اونٹوں پہ تین چار سال کے چھوٹے چھوٹے باندھ دیئے جاتے ھیں اونٹ بھاگتے ھیں بچہ ڈر کر چینختا ھے بچے کی چینخیں‌ سن کر اونٹ اور تیز بھاگتا ھے جسے دیکھ کر شہزادے نعرے لگاتے ھیں کبھی کبھی بھاگتے ھوئے اونٹ سے بچہ گر جاتا ھے مگر کھیل نہیں رکتا بچہ پیچھے آنے والے اونٹوں کے قدموں تلے روندھا جاتا ھے مگر خوشیوں بھرے نعرے جاری رھتے ھیں جام چلتے رھتے ھیں‌

ریس ختم ھو جانے کے بعد بہت سے بچے خوف سے اپنا ذہنی توازن کھو دیتے ھیں نقصان کس کا ھوتا ھے یہ بچے کس کے ھوتے ھیں ان کے وارث کہاں کے رہنے والے ھیں کیا یہ عرب کے بچے ھیں ان کا مستقبل ھیں نہیں یہ دنیا کے واحد مسلم ایٹمی طاقت کے بچے ھیں جو عرب ممالک میں اسمگل ھوتے ھیں یہ نہیں کہ عرب شیخ‌ بے حس ھوتے ھیں انھیں ان بچوں کی جانوں کا احساس نہیں ھوتا وہ جانتے ھیں انسانی جان کی کیا قیمت ھے اور پاکستانی بھوک سے مرنے والے بچوں کی کیا قیمت ھونی چاھیے وہ پوری قیمت ادا کر رھے ھیں

زرا اس خبر پہ نظر ڈالیں یو اے ای کی حکومت نے اپنے ملک میں اونٹ دوڑ میں استعمال۔۔ ہونے والے کم سن پاکستانی بچوں کی تلافی کی خاطر حکومت پاکستان کو چودہ لاکھ ڈالر دیئے۔ یہ بات جمعہ کو وزیرداخلہ نے پاکستان میں تعینات اس ملک کے سفیر کیساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کو بتائیوزیر داخلہ نے اسی ملک کے صدر اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انکے اس اقدام سے پاکستان کے غریب عوام کی جن کے بچے اونٹ دوڑ میں’’استعمال‘‘ ہوئے دلجوئی ہو گی اور اچھے جذبات پیدا ہوں گے‘‘۔

اس خبر میں دکھ والی کیا بات ھے اگر ان میں سے کوئ بچہ ڈاکٹر عبدالقدیر بن سکتا تھا مگر بن کر بھی کیا کرنا تھا اپنے ھی ملک میں قیدی کی زندگی بسر کرنی تھی اگر فوج میں جاتا تو اپنے ھی ملک میں جنگ کرتے ھوئے شہید ھو جاتا یا اپنی زندگی کے ایک بڑا حصہ پڑھنے میں گزارتا لوڈ شیڈینگ اور دھشت گردی سے فیکٹریاں اور کام بند ھا جانے سے نوکری نہ ملتی جگہ جگہ دھکے کھاتا زندگی سے مایوس ھو کر یا تو ھتیار اٹھا لیتا یا خود کشی کر لیتا چلو اچھا ھوا اتنی تکلیفیں سہنے کے بجائے بچپن میں ھی اس دنیا سے چلے گئے جاتے جاتے چودہ کروڑ ڈالر دے گئے یہ کوئ ایسا کھاٹے کا سودا نہیں ھے

یہ کافر لوگ زمین سے خزانے ڈھونڈ رھے ھیں اسمانوں میں نئ زندگی تلاش کر رھے ھیں بیماریوں کو شکست دینے کے لیے تحقیق کر رھے ھیں ھر گزرنے والے دن میں اپنی طاقت بڑھا رھے ھیں اور مسلم ممالک میں اونٹوں کی دوڑ ھو رھی ھے باز پالے جا رھے ھیں کہیں مرغے لڑائے جا رھے ھیں کہیں کتوں اور ریچھوں کی لڑ ائ ھورھی ھے کہیں کبوتر بازی کی جا رھی ھے

تف ھے ایسے مسلمانوں پہ جو اپنا دل بہلانے انسانی زندگیوں سے کھیل جاتے ھیں

تف ھے ایسے حکمرانوں پہ جو پیسوں کے لیے اپنے ملک کے مسقتبل سودا کرتے ھیں

Share This Post

1 رائے»

میں پاکستان سے دور خوش ھوں

January 25، 2010 کو sadiasaher نے Uncategorized کے تحت شائع کيا.

میرے چچا پاکستان سے آئے انھوں نے رات ساڑھے بارہ بجے فون کیا وہ کافی دیر سے ھمارا گھر ڈھونڈ رھے ھیں مگر ھمارے گھر کیسے پہنچنا ھے سمجھ نہیں آرھا ھمارا گھر جس سڑک پہ ھے اس کے ایک کونے پہ اولڈ ھوم ھے اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا پارک اور جھیل ھے اس کے قریب ھی فٹبال کا میدان اور اسکول ھے اس کے ساتھ سائیکل کے لیے ٹریک بنا ھوا ھے جو کھیتوں سے ھوتا ھوا ساتھ کی شہر تک جاتا ھے سارا دن بوڑھے لوگوں اسکول کے بچوں سائیکل چلانے والوں کا گزر رھتا ھے گرمیوں میں پارک جانے والے چھوٹے بچوں کے ساتھ آتے جاتے نظر آتے ھیں اس لیے یہاں پہ کسی بھی طرح کی گاڑیوں کا داخلہ منع کر دیا گیا ھے پہلے موٹر سائیکلوں کی اجازت تھی اب حادثے کے خطرے کے پیش نظر موٹر سائیکلوں‌ کا بھی داخلہ بھی منع کر دیا گیا ھے

نئے آنے والوں کو کبھی کبھی مشکل ھوتی ھے گھر تک آنے کے رستے کی سمجھ نہیں آتی ابھی یہ نئ آبادی ھے نیوی گیشن میں بھی سب سڑکیں نہیں ھیں میں نے اپنے چچا سے کہا وہ جہاں ھیں وہیں رکیں میں دو منٹ میں پہنچ رھی ھوں گاڑی پارک کروا کر میں انھیں لے کر گھر اگئ وہ حیرت زدہ تھے ادھی رات کو میں کیسے بے ڈھرک گھر سے نکل گئ مجھے ڈر نہیں لگا پاکستان میں کوئ لڑکی ھو یا بوڑھی عورت ایسے آدھی رات کو گھر سے نہین نکل سکتی وہ جتنی دیر بھی رھے اسی بات کا زکر کرتے رھے انھیں یہاں کی یہ بات بہت پسند آئ ھے

پاکستان میں پیچھلے دو تین دنوں میں زیادتی تین مختلف واقعات لاھور گجرات اور خانیوال میں ھوئے ھیں میں زیادہ کچھ نہیں کہہ رھی اگر میں نے کچھ کہا تو شکایت ھوگی میں ھمیشہ ایسا کیوں لکھتی ھوں میں ایک ایسے ملک میں رھتی ھوں جہاں لوگ مذھب یا تو مانتے نہیں ھیں اگر مانتے بھی ھیں تو بس اتنا کرسمس پہ دس پندرہ منٹ کے لیے چرچ چلے گئے — جہاں شرم و حیا کا کوئ تصور نہیں یہاں شراب پہ کوئ پابندی نہیں ان کے مذھب میں صفائ کو نصف ایمان کا درجہ نہیں دیا گیا جب یہاں میں قانون کی پاسداری دیکھتی ھوں صفائ دیکھتی ھوں مجھے سڑکوں پہ بھکاریوں کے ھجوم نظر نہیں آتے کوئ بھوکا نہیں مرتا انصاف کے نام پہ لوگوں کو لوٹا نہیں جاتا اشیائے خوردنی میں ملاوٹ نہیں ھوتی کوئ ماں بھوک سے تنگ آکر اپنے بچوں کو برائے فروخت کے لیے کھڑا نہیں کرتی یہ سب دیکھ کر جب پاکستان سے موازنہ کرتی ھوں تو دکھ ھوتا ھے یہ سب پاکستان میں کیوں نہیں ھوتا پاکستان ایک اسلامی ملک ھے جہاں کھلاڑیوں سے لے کر سنگرز تک لوگ داڑھیوں میں نظر آتے ھیں ھر کوئ اسلام کا نعرہ بلند کرتے نظر اتا ھے مگر اسلام نظر نہیں آتا

مگر میں کیوں دل جلا رھی ھوں میں تو سکون میں ھوں مجھے تو ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑرھا

جن خواتین کے ساتھ زیادتی ھو رھی ھے وہ خود اپنے لیے آواز اٹھائینگی

سڑکوں پہ پھیلے ھوئے گند سے بیماریاں پھیل رھی ھیں میں تو اس ماحول سے دور ھوں

لوگ بھوک سے مر رھے ھیں مگر مجھے تو پیٹ بھر کے کھانے کو ملتا ھے

انسان کو اپنی زندگی جینا چاھیے دوسروں کے غم میں گھولنے سے کچھ نہیں ھوتا

اپنی خوشیوں‌میں مگن رھنا چاھیے مسلمان کچھ بھی کریں آنکھیں بند رکھنی چاھیے

کچھ بولو تو اسلام کا نام بدنام ھوتا ھے

Share This Post

1 رائے»

مشرقی مرد —- تسی گریٹ ھو —— برائے مہربانی یہ بلاگ ٹھنڈا پانی پی کر پڑھیں

January 19، 2010 کو sadiasaher نے Uncategorized کے تحت شائع کيا.

ھمارے مشرق میں بہت بار اس لیے مرد دوسری شادی کرتے ھیں کہ بیٹا نہیں ھوا کبھی اس بات پہ طلاق ھو جاتی ھے کہ بیٹیاں ھی بیٹیاں پیدا ھوری ھیں جب بیٹا پیدا ھوتا ھے تو ایسے خوشیاں منائ جاتی ھیں جیسے کسی ریاست کا وارث پیدا ھو گیا ھو

جب زرا بڑا ھوتا ھے تو اچھا کھانے کا حق دار بیٹی سے پہلے بنتا ھے اچھے اسکول میں داخلہ کروایا جاتا ھے اس لیے کہ وہ بڑھاپے کا سہارا بنے گا بیٹی اگر لائق اور محنتی بھی ھو تو اسے مذید پڑھنے نہیں دیا جاتا کیونکہ گھر کے اخراجات اجازت نہیں دیتے مگر بیٹا مر مر کے بھی پاس ھو تو کچھ نہیں کہا جاتا بیٹی پہ ھزار پابندیاں لگائ جاتی ھیں اس کی عزت کا معاملہ بہت نازک ھوتا ھے مرد کو ھزار گناہ معاف ھیں ایسے ماحول میں پلنے والے مردوں کے پاس مان کرنے کے لیے صرف یہی ایک بات ھوتی ھے کہ وہ مرد ھے ایسے مرد نہ اچھے بیٹے ثابت ھوتے ھیں نہ اچھے شوھر— معاشرے کی ھر عورت انھیں کمتر لگتی ھے اور اپنا زیادہ وقت وہ اسی بات کو ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ھیں

ان کے خیال میں ماں کا کام ھے ھر خواہش پوری کرے صدقے واری جائے بہن اس پہ قربان ھو بیوی کی صورت میں ایک بے دام غلام چاھیے — عورت کا کام ھے ھر حکم سنے اور اس کی تعمیل کرے اگر کبھی پلٹ کے جواب دے تو یہ مرد سے برداشت نہیں ھوتا عورت ھو کر مرد سے زبان چلاتی ھے کسی شعبے عورت اگو بڑھ جائے تو مرد کی مردانگی خطرے میں پڑ جاتی ھے

عورت گھر سے باھر نکلے تو مرد حضرات ایسے دیکھتے ھیں جیسے پہلی بار کوئ خلائ مخلوق دھرتی پہ آئ ھے بس اسٹاپ پہ وینوں میں خواتیں ایسے بیٹھی ھوتیں ھیں جیسے انسانوں میں نہیں جنگلی بھیڑیوں میں گھری ھوئ ھیں آتے جاتے ترچھی نظروں سے دیکھنا سیٹی بجانا خوامخواہ میں ھنسنا مردانگی کی نشانی ھے

چاھے کوئ دعا کوئ حدیث یاد ھو یا نہ ھو مگر سب گھٹیا گانے ازبر ھوتے ھیں جسے سرعام گنگنا کر اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا ھیرو سمجھتے ھیں دفتروں میں عورت پہ خاص نظرِکرم کی جاتی ھے اسے ھراساں کیا جاتا ھے عورت کے حسن سے متاثر ھو کر اسے لیلیٰ اور خود کو مجنوں سمجھنے لگتے ھیں عورت کے نظر انداز کرنے پہ اس کے اس گناہ کے جرم میں تیزاب پھینکا جاتا ھے ایسے بہت سے واقعات کی اخبارات کے صفات ھر سال رنگین ھوتے ھیں بیوی اگر غلط کو غلط کہے تو اس کے ناک کان کاٹ کر مرد اپنی عظمت ثابت کرتا ھے ایسے بہت سے کام کرنے کے بعد بھی یہ مان نہیں جاتا کہ نبوت کے حقدار مرد ھیں

بھائیوں کروڑوں لوگوں سے اللہ ایک انسان کو نبوت کے لیے چنتا ھے کسی قوم میں اگر ایک نبی بنتا ھے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساری قوم قابل ِ احترام ھوگئ انسان کے کرم اسے عظیم بناتے ھیں مرد حضرات جتنی تحقیق اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کرتے ھیں کہ ان کا رتبا بڑا ھے اتنا اگر کائنات کے رازوں کو سمجھنے کے لیے کیا ھوتا چاند ستاروں سے آگے نکل گئے ھوتے مگر حسرت ———

حضرات سارے خطابات القابات آپ لے لیں دنیا کے جتنے ایوارڈ جتنے بھی تمغے ھیں آپ لے لیں مگر خدا کے لیے اپنی صلاحیتوں کو اپنے وقت کو کسی اچھے مقصد کے لیے استعمال کریں اگر نبوت کے حقدار مرد ھیں تو آپ وہ مرد نہیں جسے بنوت ملے پہلے اپنے آپ کو اس قابل بنائیں

اگر شوھر کی تا بداری کو اللہ کے بعد کہا گیا ھے تو اللہ کے بعد ماں کو کہا گیا ھے فضول کی بحث سے کسی کا رتبہ بڑھ نہیں جاتا

عورت کبھی نہیں کہتی وہ عظیم ھے وہ صرف چاھتی ھے اسے ایک انسان سمجھا جائے ایک عام انسان جسے اللہ نے دل دماغ دیا ھے اس کے اپنے احساسات ھیں جذبات ھیں اسے بھی اللہ نے صلاحتوں سے نوازا ھے جیسے استعمال کرنے سے اللہ نے نہیں روکا وہ اپنا حق چاھتی ھے جو ایک انسان ھونے کے حوالے سے اس کے ھیں

عورت کبر کا شکار ھو یا نہ ھو مگرکسی عورت کو مقابلے پہ آتا دیکھ کر بہت سے مرد احساسِ کمتری کا شکار ضرور ھو جاتے ھیں اسے نیچا دیکھانے کی بے کار کوشش کرتے ھیں قرآن و حدیث کے حوالے ڈ ھونڈے لگ جاتے ھیں

میری سمجھ میں نہیں آتا یہ مشرقی مرد اندر سے اتنے ڈرے ھوئے کمزور اور خوف زدہ کیوں ھوتے ھیں انھیں کس بات کا احساسِ کمتری ھوتا ھے

ان کی مردانگی کیا ھوتی ھے ؟؟

گھٹیا حرکتیں کرنا مردانگی ھے ؟؟

عورت پہ ظلم کرنا مردانگی ھے ؟؟

اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھنا ان کی مردانگی ھے ؟؟

عورت کو کمتر سمجھنا مردانگی ھے ؟؟

اگر کسی کے پاس جواب ھے تو ضرور دیں آخر آپ نے اپنی بڑائ بھی تو ثابت کرنی ھے

Share This Post

1 رائے»

سب الو کے پٹھے ھیں

January 15، 2010 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

اس لفظ کو میں برا سمجھتی تھی سمجھتی تھی یہ ایک گالی ھے مگر پیچھلے کچھ دنوں یہ لفظ اتنے تواتر سے سننے کو ملا تو احساس ھوا یہ تو عام بول چال میں استعمال ھونے والا لفظ ھے اسے ھم عام استعمال کر سکتے ھیں

ھمارے ایک محترم وزیر نے اس لفظ کے ساتھ ایک نہایت ھی نادر لفظ جو میں یہاں لکھنے سے قاصر ھوں کیمرے کے سامنے بولا جو پاکستان کے کروڑہا لوگوں نے سنا بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں ٹی وی اور نیٹ پہ سنا – انھوں نے کیمرے کے سامنے اپنا مقام اور اصلیت دنیا والوں کو بتا دی

انٹر ویو دیکھ کر مجھے احساس ھوا یہ منتخب ھونے والے الو کے پٹھے ھیں ان کو منتخب کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

کراچی میں بسنے والے الو کے پٹھے ھیں

جو کراچی میں نہیں بستے وہ بھی الو کے پٹھے ھیں

ڈرون حملے کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

ان حملوں میں مرنے والے الو کے پٹھے ھیں

چینی مہنگی کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

اور اتنی مہنگی چینی کے لیے مرنے والے لائینوں میں لگنے والے الو کے پٹھے ھیں

ملک کی دولت کو لوٹنے والے الو کے پٹھے ھیں

ان کو آزاد چھوڑنے والے الو کے پٹھے ھیں

برس ہا برسوں سے جھوٹے وعدے کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

ان کے جھوٹے وعدے سن کر نعرے لگانے والے الو کے پٹھے ھیں

عوام کو دھوکہ دینے والے الو کے پٹھے ھیں

بار بار دھوکہ کھانے والے الو کے پٹھے ھیں

عوام کی غربت دکھا کر دنیا سے بھیک مانگنے والے لوگوں کی عزتِ نفس کا سودا کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

سب کچھ دیکھتے ھوئے سمجھتے ھوئے نظر انداز کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

پاکستان کی معشیت پہ قبضہ کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

اپنے ھی لوگوں کو غائب کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

ایسے واقعات پہ خاموش ھونے والے صبر کرنے والے الو کے پٹھے ھیں

ملک میں ھونے والے ھر واقعے کو طالبان کے کھاتے میں ڈالنے والے الو کے پٹھے ھیں

ان دھشت گردوں کی سائیڈ لینے والے الو کے پٹھے ھیں

سپر پاروز کی ھر بات پہ سر ہلانے الو کے پٹھے ھیں

ان کی مخالفت میں اپنی ھی ملکی املاک تباہ کرنے والے جلانے والے الو کے پٹھے ھیں

بار بار پارٹی بدلے والے جھوٹے سپنے دیکھانے والے الو کے پٹھے ھیں

ان کو منتخب کرنے والے اٹھارہ کروڑ زندہ لاشیں یہ سب بھی الو کے پٹھے ھیں

Share This Post

17 آراء»

نیٹ— بلاگ اور میری فرینڈز

January 14، 2010 کو sadiasaher نے idhar udhar se، میری کہانیاں کے تحت شائع کيا.

مجھے ایک سال ھو گیا بلاگ لکھتے ھوئے – وقت کتنی جلدی گزر جاتا ھے ایسے لگتا ھے جیسے ابھی کل کی بات ھے میں بلاگ بنانے کا سوچ رھی تھی – بلاگ پہ کبھی باقاعدہ لکھا کبھی نظر انداز کیا اج کل کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں کر رھا وہی سیاست وہی سیاست دان وہی ان کے بیان – دھماکہ ھوتا ھے تو بیان آتا ھے جمہوریت کو کوئ خطرہ نہیں پرا ملک خطروں میں گھرا ھوا ھے – لوگ بھوک سے مر رھے ھیں اور بیان آتا ھے ھم پانچ سال پورے کریں گے ھماری حکومت کو کوئ نہیں گرا سکتا ھم آنکھیں نوچ لینگے بھائ لوگ بھوک سے گر رھے ھیں مر رھے ھیں دشمن گھر تک آچکا ھے آپ انکھیں کب نکالیں گے

میں نے آج سیاست پہ کچھ نہیں لکھنا تھا بلاگ کے ایک سال پورا ھونے کی خوشی پہ مین نے سوچا تھا کسی منحوس انسان کا ذکر نہیں کرنا خیر میری دوست ” م ” نے خوشخبری سنائ ھے جنت میں سیاست دان نہیں ھونگے یہ عذاب صرف دنیا کے لیے ھے

مجھے کچھ دنوں سے اپنی نیٹ فرینڈز بہت یاد آرھی ھیں جن کے ساتھ میں نے بہت سا وقت ھنستے مسکراتے ھوئے اکٹھے گزارا نیٹ پہ میری بہت سے فرینڈز بنی ان سب کے نام ایک گیت کر رھی ھوں مجھے بہت اچھا لگا تھا یہ میری سب دوستوں کے نام ھے — میری کچھ دوستوں کا خیال ھے میں بے وفا ھوں بے مروت ھوں ایسی بات نہیں بس تھوڑی سی سست ھوں اور اپنی لازوال سستی کی وجہ سے اپنے کام ھی نہیں اپنا غصہ محبت اور نفرت پہ کل پہ ٹال دیتی ھوں پھر ھوتا یہ ھے کہ غصہ ٹھنڈا ھوجاتا ھے نفرت کم ھو جاتی ھے اور محبتوں پہ بھی دھند چھا جاتی ھے

تانیہ سید نے مجھ سے کہا میں اس کے بارے میں کچھ لکھوں اس کی تعریف کروں اور سچ لکھوں – دو ھفتے میں یہ ھی سوچتی رھی سچ بھی کہوں اور تعریف بھی کروں میں دو کام ایک وقت میں کیسے کر سکتی ھوں —– ھاھا مگر یہ سچ ھے تانیہ میری بہت اچھی دوست ھے اس سے ملاقات نیٹ پہ ھی ھوئ اور وہ مجھے اپنی چھوٹی بہن جیسے عزیز ھے ھم جب بھی اکٹھے آن لائن ھوتے ھیں بہت ھنستے ھیں اور وہ بہت اچھی سنگر ھے “”" یہ تعریف ھے اور سچ آہم آہم

YouTube Preview Image“”"”

Share This Post

21 آراء»

میں وہ کس طرح سے کروں بیان جو کیے گئے ھیں ستم یہاں دیکھنے والی وڈیو ھے

January 7، 2010 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.

YouTube Preview Image Share This Post

2 آراء»

باکمال سیاست دان——- سلمان تاثیر

January 6، 2010 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

سلمان تاثر کے گورنر بننے پہ میڈیا میں ھلچل مچ گئ ان کی ذات پہ تبصرے کیے گئے تجزیہ کاروں کے درجنوں پروگرام کیے مختلف پروگراموں میں ان کو سنا ان کے بیانات سن کے بے اختیار چہرے پہ مسکرائٹ آجاتی ھے ایسے ایسے بیانات دیتے ھیں عقل حیران بلکہ پریشان رہ جاتی ھے ھر بیان میں بارہ مسالے ھوتے ھیں پہلے میں انھیں مشرف کا وفادار سمجھتی تھی حکومت بدلتے ھی وہ زرداری کے مرید بن گئے شریف برادران انھیں ایک آنکھ بھاتے ھیں یعنی ایک آنکھ نہیں بھاتے

آنے والے دنوں میں کیا ھوگا کیا ھونا چاھیے وہ ھر بات پورے یقین سے کہتے ھیں ایسی ایسی پیشگوئیاں کرتے ھیں جس کی مثال ملنا مشکل ھے ابھی ایک بیان پڑھا پڑھ کر یقین ھو گیا وہ ایک بہت بڑے نجومی ھیں انھوں نے بیان دیا ھے تیسری بار زویرِ اعظم بننے کی ضرورت تب پیش آئے گی جب کسی اور کی باری آئے گی ابھی گیلانی پانچ سال کے لیے مذید وزیرِاعظم بنے گے پھر تین بار بلاول وزیرِاعظم بنے گے تب تک اب جو امیدوار ھیں بوڑھے ھو جائینگے

چلیں جی اگلے بیس سال کا فیصلہ ھو گیا پاکستان کی سیاست مین کیا ھوگا آئندہ بیس سال تک پی پی پی کی حکومت رھے گی اور غالباً اب کو یقین ھے وہ گورنر رھے گے باقی سیاسی پارٹیوں کو چاھیے کوئ اور کام ڈھونڈ لیں جو سیاست میں آنے کا سوچ رھے ھیں وہ آکر کیا کریں گے سٹیں بک ھو چکی ھیں

اب پتا چلا مشرف کے لاڈلے کو گورنری کیوں عطا کی گئ تھی ایسے چاھنے والے ایسی اندھی محبت کرنے والے کہاں ملتے ھیں چمچے تو ھزار ھونگے مگر ایسا ——– قسمت والوں کو ملتا ھے

Share This Post

10 آراء»

مجھے بور قسم کے گانے سن کر بہت مزا آتا ھے ایک بور سا گانا

January 4، 2010 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.

YouTube Preview Image Share This Post

4 آراء»

happy new year

December 31، 2009 کو sadiasaher نے میری پسند کے تحت شائع کيا.

YouTube Preview Image Share This Post

2 آراء»

میں نہیں کہتی عوام کہتے ھیں

December 30، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

یہ بندی ناچیز بہت خاموش طبیعیت انسان ھے کسی کو کچھ نہیں کہتی جو بھی کہتے ھیں یہ عوام کہتے ھیں یہ عوام بھی عجیب چیز ھیں دس مرتے ھیں بیس اور پیدا ھو جاتے ھیں شروع شروع میں جب دھماکے ھوتے تھے تو رحمان ملک فوراً آکر جنت کی خوشخبری سنا دیتے تھے شہادت کا سرٹیفکیٹ دے دیتے تھے پھر پتا چلا جنت میں پاکستانیوں کا کوٹہ پورا ھو گیا ھے تو سرٹیفکیت ملنا بند ھو گئے اب بڑے عہدے دار شہید ھوتے ھیں عوام صرف مرتے ھیں

میری دوست ۔ م ۔ کہتی ھے رحمان ملک کو دیکھتے ھی وہ ٹی وی بند کر دیتی ھے کیونکہ آج تک کوئ خوشی کی خبر ان سے سننے کو نہیں ملی دل دہلانے والی خبریں سناتے ھیں

جھوٹے بے ایمان رشوت خور ضمیر فروش ارے ارے یہ مین نہیں کہہ رھی یہ عوام کہتے ھیں ھمارے حکمران ایسے ھیں اب کیا کیا جا سکتا ھے اٹھارہ کروڑ عوام ھیں اور اتنے ھی منہ اتنی ھی زبانیں ھیں ان انسان کس کس کا منہ پکڑے لوگ تو لوگ ھیں کچھ تو کہیں گے

پاکستان میں لوگ کہتے ھیں سیاست شریفوں کا کھیل نہیں حالانکہ دیکھا جائے تو سیاست سے اوہ سوری میرا مطلب ھے سیاست میں بڑے بڑے کھلاڑی بہت شریف ھیں کچھ کے تو نام کے ساتھ بھی شریف لگا ھوا ھے مگر یہ عوام کسی کو شریف سمجھتے ھی نہیں وہ تو اتنے شریف ھیں اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی اپنی شرافت دیکھاتے ھیں کسی معاملے میں کچھ نہیں بولتے چاھے سب انھیں فرینڈلی اپوزیشن کا نام دیں

محفل میں ایک عورت کہنے لگی بی بی خود تو مر گئیں ھمارے لیے عذاب چھوڑ گئیں پتا نہیں وہ کس

عذاب کا زکر کر رھی تھی مجھے سمجھ نہیں آئ ھو سکتا ھے آپ سمجھ گئے ھوں آخر آپ بھی سمجھدار ھیں سیاست پہ لکھتے ھیں سیاست کے بارے میں پڑھتے ھیں اگر سمجھ گئے ھوں تو ھمیں بھی بتا دیں‌ مین نے سوچا تھا

آج میں سیاست کے بارے میں اپنے خیالات لکھونگی مگر آج بھی کچھ نہیں کہا کچھ کہا میں نے ؟؟ نہیں نا

Share This Post

10 آراء»

اسلام اور اسرائیل

December 29، 2009 کو sadiasaher نے مذہب اور ھم کے تحت شائع کيا.

ھم کچھ لوگ بات کر رھے تھے اگر انھیں موقعہ ملا تو وہ پاکستان کے لیے کیا کریں گے ھر کوئ انقلان لانے کی بات کر رھا تھا میں نے کہا اگر مجھے پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا موقعہ ملا تو میں اسرائیل کے نظام تعلیم کا مطالعہ کرونگی ان کا تعلیم کا نظام کیسا ھے مٹھی بھر اسرائیلی انھوں 80 سے زائد نوبل پرائیز حاصل کیے ھیں دنیا کی دولت کے 60% حصے کے مالک اسرائیلی ھیں میری بات سن کے میری دوست کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ھوگئ

کہنے لگی تمہیں شرم نہیں آتی اسرائیلی ھمارے دشمن ھیں اور تم ان کے تعریف کر رھی ھو

میں نے کہا وہ ھمارے دشمن اس لیے ھیں کہ وہ فلسطینیوں پہ ظلم کر رھے ھیں میں ان کے اس فعل کی تعریف نہیں کر رھی میں انٹر نیٹ پہ ایک سائیٹ دیکھ رھی تھی جس میں لکھا تھا دنیا کی دولت کے 60% حصے کے مالک اسرائیلی ھیں

میڈیکل کی دنیا میں انھوں نے جو کام کیا ھے ان ادوائیات کی وجہ سے ھزاروں لوگوں کو نئ زندگی ملی ھے میں سوچ رھی تھی مسلمانوں کے مقابلے پہ ان کی تعداد بہت کم ھے آخر ان کی ترقی کا راز کیا ھے تو مجھے لگا صرف تعلیم کی کمی ھے اس کو نظر انداز کیا جانا ھے

مگر میری دوست کا غصہ کم نہیں ھوا وہ مجھے ایسے دیکھ رھی تھی جیسے میں اسلام کے خلاف کوئ پلان بنا رھی ھوں میں سوچ رھی تھی یہ کیسی نفرت ھے ھم دشمن کا نام لینا پسند نہیں کرتے مگر ان کی بنائ ھوئ چیزوں کے بنا جینے کا تصور نہیں کر سکتے اور اپنے مذہب سے یہ کیسی محبت ھے وہ تعلیم جو ھمارا مذہب ھمیں دیتا ھے اس پہ علم نہیں کرتے وہ تعلیم جس پہ علم کرنے سے ھمارے دشمن دنیا پہ چھا رھے ھیں

آخر ھمارا یہ دوغلا پن کب ختم ھوگا


Share This Post

16 آراء»

مشرقی ماں بیوی اور سیاسی لیڈر

December 27، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

مجھے بے نظیر سے اختلاف رھا ھے وہ دو بار اقتدار میں آئیں عوام کی اکثریت ان کے ساتھ تھی جو وہ ملک کے لیے کر سکتی تھیں انھوں‌ نے وہ نہیں کیا آج ٹی وی پروگرام دیکھتے ھوئے میں سوچ رھی ھوں جب وہ پہلی بار وزیرِ اعظم بنی تو پنتیس سال عمر تھی بہت چھوٹی عمر میں انھوں نے دنیا میں وہ نام پیدا کر لیا تھا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ھوتا ھے وہ سیاست میں آکر سیاست کا شکار ھو گئیں

وہ ایک ماں بھی تھیں ایک مشرقی بیوی بھی ۔۔۔ ایک ایسی بیوی جو اپنے شوھر کی ھر غلطی پہ پردہ ڈالتی ھے اپنے گھر کے مسائل دوسروں کے سامنے یا کسی بھی محفل میں موضوعِ بحث بنانا پسند نہیں کرتی

آج ایک سوال جو سب کے دلوں میں ھے آخر دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان کے قاتل کیفِ کردار کیوں نیں پہنچے ان کی شہادت ےک دو دن بعد صدر زرداری کا بیان آیا تھا وہ جانتے ھیں بی بی کے قاتل کون ھیں سب لوگوں کو یقین تھا بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے صدر زرداری بی بی کے قاتلوں کو منظرِ عام پہ لائینگے مگر دو سال گزرنے کے بعد قاتل کھلی فضاؤں میں سانس لے رھے ھیں

ان کے وارث سکون سے اپنی زندگی میں مگن ھیں انھیں وراثت کا حق مل چکا ھے آج قبر میں بی بی منوں ٹن پھولوں کے ڈھیر کے نیچے اپنے قاتلوں کو سزا کا انتظار کر رھی ھیں اور ان کے وارث اس بات سے بے خبر بی بی زندہ ھیں کا مکے لہرا لہرا کر نعرے لگا رھے ھیں سچ ھے جو انسان زندہ ھو اس کے قاتلوں کو سزا کیسے ھو سکتی ھے


Share This Post

10 آراء»

اگر میں صدر ھوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

December 26، 2009 کو sadiasaher نے طنزومزاح کے تحت شائع کيا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر صدر ھوتی توجو روایات ھمارے صدرور نے قائم کی ھیں انھیں آگے بڑھاتی دنیا ھر بڑے ملک میں میرا گھر ھوتا آدھی کابینہ میرے رشتے داروں سے بھری ھوتی میرے سب دوست واقفکار وزیر اور سفیر ھوتے

میں ھر تین ماہ بعد عمرہ کرتی سرکاری خرچے پہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ حج کرتی – سرکاری خزانے کو اپنا صحن سمجھ کے جھاڑو پھیر دیتی پاکستانی جھنڈا گاڑی پہ لگا کر امریکی جھنڈے کو سیلوٹ کرتی

سوکھی سڑی غریب عوام سے میلوں دور بھاگتی جب بھی کوئ مشکل وقت آتا پاکستان زندہ باد اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر عوام کو جذباتی کرتی اپنے محل میں اپنے پالتو کتوں اور گھوڑوں کے ساتھ وقت گزارتی میرا دل بہت کمزور ھے میں کٹے پھٹے انسانوں کو نہیں دیکھ سکتی اس لیے کابھی پاکستانی خبریں نہ دیکھتی ہالی وڈ کی فلموں سے دل بہلاتی ۔۔۔۔

اپنے سے متاثرہ لوگوں سے باتیں کرتی جو میری عظیم ذات سے متاثر ھوتے میری تعریف کرتے ۔۔ میری دورِ حکومت میں پاکستان کتنی ترقی کر رھا ھے سب اچھا ھے کا نعرہ لگاتے — جو کوئ منفی بات کرتا اس کی ٹرانسفر وہاں کرواتی جہاں نہ فون ھوتا نا پانی نہ بجلی —

تجزیہ کار اور دانشور لوگ مجھے زہر لگتے ھیں جو دل دہلانے والے تجزئیے کرتے ھیں کہ حکومت جانے والی ھے ان کی بات کبھی نہ سنتی جو چینل میرے خلاف بولتا اس چینل کو بند کر دیتی قصرِ صدارت میں‌بیٹھ کر بیان دیتی مکے لہرا لہرا کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی اپنی حکومت بچانے کے لیے کچھ بھی کرتی ۔۔۔۔ میرا وجود پاکستان کے لیے بہت ضروری ھے اس لیے زرا سی چھینک آنے پہ بھی اپنا چیک اپ کروانے کے لیے لندن بھاگتی

اگر میں صدر ھوتی تو بہت کچھ کرتی اگر کوئ نجومی ھے تو پلیز میرا ھاتھ دیکھ کر بتائے میرے ھاتھ کی کون سی لکیر قصرِ صدارت تک جارھی ھے اگر کوئ پروفیسر ھے تو فال نکال کے بتائے میرے سپنے کب پورے ھونگے میں کب پاکستان میں انقلاب لاؤں گی

Share This Post

11 آراء»

اے قائد ھم شرمندہ ھیں

December 25، 2009 کو sadiasaher نے سیاست کے تحت شائع کيا.

محمد علی جناح جنھیں ھم قائد اعظم کہتے ھیں پاکستانی سب رہنماؤں کے رہنما ۔ ھمارے قائد جنھوں نے ھمیں ایک آزاد ملک کا تحفہ دیا ۔ بدلے میں ھم نے ھر نوٹ پہ ان کی تصویر لگا دی مگر رشوت لیتے یا دیتے ھوئے کبھی شرمندہ نہیں ھوتے غبن کرتے ھوئے ملکی دولت کو لوٹتے ھوئے نوٹوں پہ کبھی ان کی تصویر پہ نظر نہیں جاتی ۔ ان کی پارٹی مسلم لیگ کے ٹکڑے کر دیے اپنی سیاست چمکانے کے لیے بیان ان کے اصولوں اور نظریوں کے خلاف دیتے ھیں مگر دیوار پر ان کی تصویر لگا کر رکھتے ھیں جیسے ان کے اصولوں کے پاسبان صرف ھم ھیں
پچھلے سال سے اور نئ حکومت کے بعد قائداعظم کی تصویر کے ساتھ بے نظیر کی تصویر نے جگہ لے لی اور اب بے نظیر کی برسی پہ دس روپے کا سکہ بنایا جا رھا ھے مگر ملک میں کہیں پر نہ قائد اعظم کی سیاست نظر آرھی ھے نہ بے نظیر کی
قائداعظم کی سالگرہ پہ ان کی تقریریں ان کے اقوال دہرائے جانے چاھیے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ھورھا
اے قائد ھم شرمندہ ھیں ھم پاکستان کو وہ پاکستان نہیں بنا سکے جس کا خواب سب نے دیکھا تھا جس کے لیے سب نے قربانیاں دیں تھیں ۔ ھم اپنے مقصد کو بھول گئے اپنے اندھیرے دور کرنے کے بجائے ھر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگنے لگے آج ھماری پہچان ھماری خوداری کہاں کھو گئی ۔ اتنے سال میں ھم ایک قائد پیدا نہ کر سکے اپنے قائد کے رہنما اصولوں کی حفاظت نہ کر سکے اے قائد ھم شرمندہ ھیں

Share This Post

4 آراء»

نئي تحارير »